ٹرمپ کی مشرق وسطی کے دورے کی تیاری، اسرائیل کو پیر کی صبح تک تمام یرغمالیوں کی رہائی کی توقع

جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ پیر کی صبح تک حماس کی قید سے تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کی صورت میں اسرائیل نے عمر قید کی سزا کا سامنے کرنے والے 250 فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ غزہ سے 1,722 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان قیدیوں میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج یعنی پیر کے روز مصر کا دورہ کریں گے
  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سنیچر کی شب افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
  • اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
  • افغان طالبان کا سرحدی جھڑپوں میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ، شہباز شریف کا 'اشتعال انگیزی' کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
  • پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں واقع بابِ دوستی کو آمدورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
  • تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور سے اسلام آباد تک ’فلسطین ملین مارچ‘ اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ مذہبی جماعت کا کہنا ہے کہ مارچ روکنے کا کہہ کر ابھی تک حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا۔

لائیو کوریج

  1. ٹی ایل پی کا احتجاج، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کون کون سے راستے بند ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک لبیک پاکستان کے اسلام آباد کی جانب مارچ کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند رکھا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری کے مطابق مری روڈ کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں جبکہ زیرو پوائنٹ سے اسلام آباد ایکسپریس وے کی طرف آنے والے راستے بھی بند ہیں۔ فیض آباد انٹر چینج بھی مکمل طور پر بند ہے۔

    مارگلہ روڈ سے ایران ایونیو اور مارگلہ ایونیو آنے والے راستے بھی بند ہیں۔ بھارہ کہو، سرینا چوک، مری روڈ، موتی محل چوک، شمس آباد، اڈیالہ روڈ فلائی اوور، پشاور روڈ، ڈھوک کالا خان، آئی جے پی روڈ، کھنہ پل اور چک مدد بھی بند ہے۔

    اگر موٹرویز کی بات کی جائے تو اسلام آباد سے پشاور موٹروے کھلی ہے جبکہ اسلام آباد سے کوٹ مومن تک کا راستہ بھی کھلا ہے۔ تاہم پنڈی بھٹیاں، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان-فتح جنگ بند ہے۔

    ایم-16 سوات موٹر وے بند ہے جبکہ اسلام آباد-پشاور جی ٹی روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ بھی مکمل طور پر بند ہے۔

  2. ٹی ایل پی کا احتجاج، لاہور میں کیا صورتحال ہے؟, ترہب اصغر، بی بی سی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نکالی جانے والی ریلی کے شرکا لاہور میں موجود ہیں۔

    بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ٹی ایل پی کی ریلی اس وقت لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر ہے، جہاں پولیس اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

    تحریک لبیک کے ترجمان اور دیگر کارکنان نے یہ دعوی کیا کہ ان کی ریلی میں شریک درجنوں افراد شیلنگ اور گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کو آزاد ذرائع نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم بی بی سی کی جانب سے پولیس اور انتظامیہ سے متعدد بار اس الزام کی تصدیق یا تردید کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ٹی ایل پی کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاملے پر باضابطہ طور پر پولیس کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں گیا ہے۔

    جمعے کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ٹی ایل پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ایل پی والے ہلاکتوں کے دعوے کر رہے ہیں تو لاشیں سامنے لے آئیں۔

    طلال چوہدری نے دعوی کیا کہ ٹی ایل پی کی ریلی میں صرف دو ہزار کارکن موجود ہیں، جنھیں منتشر کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اُن کے بقول اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت رابطے میں ہیں۔

  3. امیر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ برس لاہور میں قتل ہونے والے امیر بالاج ٹیپو کے قتل میں ملوث ملزم خواجہ تعریف بٹ عرف طیفی مبینہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔

    سی سی ڈی کے مطابق ملزم کو جمعے کو دبئی سے کراچی لایا گیا تھا جس کے بعد کراچی اِیئر پورٹ حکام نے انھیں سی سی ڈی کی تحویل میں دے دیا تھا۔

    سی سی ڈی نے دعویٰ کیا کہ ملزم کو بذریعہ سڑک کراچی سے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ جمعے کو علی الصبح رحیم یار خان کے قریب سی سی ڈی کی گاڑی پر طیفی بٹ کے مسلح ساتھیوں نے حملہ کر دیا۔

    سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں اس کا ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیا جسے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مسلح افراد طیفی بٹ کو سی سی ڈی کی حراست سے چھڑا کر لے گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فرار ملزمان اور طیفی بٹ کی تلاش کے لیے مقامی پولیس کی بھی مدد لی گئی اور صبح پانچ بجے دو مشتبہ گاڑیوں کو روکا گیا اور اس دوران پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا حو 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا۔

    سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے بعد جب سی سی ڈی پولیس گاڑیوں کے قریب پہنچی تو طیفی بٹ شدید زخمی حالت میں موجود تھے، انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    سی سی ڈی کے مطابق فائرنگ کے دوسرے تبادلے میں بھی سی سی ڈی کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    طیفی بٹ کو لاہور کا بڑا انڈر ورلڈ ڈان سمجھا جاتا تھا اور ان کے کزن گوگی بٹ کی لاہور کے ٹرکاں والا خاندان کے ساتھ دیرینہ دُشمنی تھی۔

    گذشتہ برس فروری میں ٹرکاں والا خاندان کے امیر بالاج ٹیپو کو شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل میں طیفی بٹ کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ مفرور تھے۔

    چند روز قبل طیفی بٹ کو دبئی میں انٹر پول کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اُنھیں جمعے کو کراچی پہنچایا گیا تھا۔

  4. تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں راستے بدستور بند

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کی کال کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف مقامات پر راستے مسلسل دوسرے روز بھی بند ہیں۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل انٹرنیٹ بند ہے جبکہ میٹرو بس سروس بھی معطل ہے۔ جی ٹی روڈ، موٹروے اور مری روڈ بھی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔

    راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے مقامات کو بھی کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے۔ لاہور میں ٹی ایل پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان شاہدرہ کے مقام پر جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

    اس سے قبل جمعے کو رات گئے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے فیض آباد کا دورہ کیا۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کسی جتھے کو اسلام آباد یا کسی اور شہر پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  5. دلی میں متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو نہ بلانے پر تنازع، ’طالبان کے قدیم رسم و رواج کو قبول کرنا مضحکہ خیز ہے‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@HafizZiaAhmad

    انڈیا کے دورے پر موجود افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو مدعو نہ کرنے پر خواتین صحافیوں نے احتجاج کیا ہے۔

    متقی کی پریس کانفرنس جمعے کی شام نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں ہوئی۔ کئی خواتین صحافیوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ اُنھیں پریس کانفرنس سے باہر رکھا گیا۔

    افغان وزارت خارجہ کے پبلک کمیونیکیشنز کے ڈائریکٹر حافظ ضیا احمد کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کی گئی پریس کانفرنس کی تصویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی خاتون صحافی وہاں موجود نہیں تھی۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت پر پہلے بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، جسے طالبان غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔

    انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    کانگریس کے رُکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم نے انسٹا گرام پر لکھا کہ ’میں ان جغرافیائی سیاسی مجبوریوں کو سمجھتا ہوں جو ہمیں طالبان کے ساتھ منسلک ہونے پر مجبور کر رہی ہیں، لیکن ان کے امتیازی اور قدیم رسم و رواج کو قبول کرنا مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔‘

    کارتی چدمبرم نے اپنی پوسٹ میں انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کو بھی ٹیگ کیا ہے۔

    ترنمول کانگریس کی رکن اسمبلی مہوا موئترا نے انسٹاگرام پر لکھا ’ہماری حکومت کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی کو خواتین صحافیوں کو نیوز کانفرنس سے باہر کرنے کی اجازت دے؟ پورے پروٹوکول کے ساتھ ہندوستانی سرزمین پر ایسا کیسے ہونے دیا جا سکتا ہے؟ جے شنکر اس سے کیسے اتفاق کر سکتے ہیں؟‘

    کئی خواتین صحافیوں نے اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور کہا کہ پریس کانفرنس میں صنفی امتیاز جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

    کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ اگر طالبان، انڈیا آنے کے بعد بھی خواتین کو نظر انداز کر سکتے ہیں تو اس سے افغانستان میں خواتین کی حالت کے بارے میں ان کی سوچ مزید واضح ہوتی ہے۔

    خارجہ امور کی کوریج کرنے والی صحافی سمیتا شرما نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ متقی کی پریس کانفرنس میں کسی خاتون صحافی کو مدعو نہیں کیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ جے شنکر اور متقی کے درمیان بات چیت کے بعد ابتدائی بیان میں افغانستان میں لڑکیوں اور خواتین کی حالت زار کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

  6. ڈیرہ اسماعیل خان حملے میں سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہVideo screengrab

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل میں پولیس ٹریننگ سکول حملے میں سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    ایک بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جان دے کر ’خوارجی دہشتگردوں‘ کا حملہ ناکام بنایا اور تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

    واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سکول پر جمعے کی شب حملہ کیا گیا تھا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس افسر سجاد احمد صاحبزادہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا تھا کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    اس ٹریننگ سکول کا افتتاح اس برس جنوری میں کیا گیا تھا جہاں پولیس اہلکاروں کو بنیادی ترببیت دی جاتی ہے۔

  7. تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ، لاہور سے راولپنڈی جی ٹی روڈ بند, احتشام شامی، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

    تحریک لبیک پاکستان کے ممکنہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر کالا شاہ کاکو کے قریب جی ٹی روڈ مکمل طور پر بند کردی گئی ہے جس سے لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کا رابطہ عملاً معطل ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان کے شرکا نے رات شاہدرہ پل پر قیام کیا تھا اور کالا شاہ کاکو سے شاہدرہ پل کا فاصلہ بارہ سے پندرہ کلو میٹر ہے۔ احتجاجی مارچ کے شرکا آج شاہدرہ پل سے آگے کالا شاہ کاکو کی طرف بڑھیں گے۔

    اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے ممکنہ احتجاجی مارچ کی کال کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں انتظامیہ اور پولیس نے سکیورٹی اقدامات سخت کردیے ہیں جس وجہ سے مسافروں اور راہگیروں کو آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    کالا شاہ کاکو کے مقام نالہ ڈیک پر جی ٹی روڈ کو دونوں اطراف سے بڑے بڑے کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کوبرقراررکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری بھی موقع پر تعینات ہے۔

    سڑک بند ہونے سے لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے درمیان ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جبکہ شہری، مسافر اور طلبہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    جی ٹی روڈ پر واقع پنجاب کے شہر جہلم اور کھاریاں میں مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج کے پیش نظر رات گئے خندقیں کھود دی گئی ہیں۔

    دریائے جہلم کے دونوں پلوں پر 30 فٹ گہری اور 20 فٹ چوڑی خندقیں کھودی گئی ہیں، موقع پر موجود سرکاری اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ دن کو کنٹینر لگا کر تمام راستے سیل کیے گئے اور اب خندقیں کھود دی گئی ہیں۔

    کھاریاں میں جی ٹی روڈ پر بھی خندقیں کھود دی گئی ہیں، پولیس کی بھاری نفری ان خندقوں کے دونوں اطراف پر تعینات ہے اور یہاں ٹرک اور گاڑیاں بھی کھڑی کردی گئی ہیں۔

  8. صدر ٹرمپ کا چین پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے ماہ سے چینی درآمدات پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اہم سافٹ ویئرز کی ایکسپورٹ پر بھی کنٹرول رکھے گا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات سے متعلق اپنے قوانین سخت کرنے کا جواب ہے۔

    امریکی صدر نے الزام لگایا کہ چین ’دُشمنی کا راستہ اختیار کر رہا ہے‘ اور دنیا کو ’یرغمال‘ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے بھی دستبرداری کی بھی دھمکی دی اور ساتھ ہی کہا کہ وہ ابھی یہ ملاقات منسوخ نہیں کر رہے۔

    چین نایاب معدنیات اور بعض دیگر اہم مواد کی پیداوار پر غلبہ رکھتا ہے، جو کاروں، سمارٹ فونز اور دیگر بہت سی اشیا میں کلیدی اجزا ہیں۔

    رواں برس کے اوائل میں امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد چین نے بھی ان معدنیات کی برآمدات پر کنٹرول سخت کیا تھا۔ اس کی وجہ سے اس مواد پر انحصار کرنے والی امریکی فرمز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امریکی کار ساز کمپنی فورڈ کو بھی اپنی پیداوار روکنا پڑی تھی۔

    امریکہ اس وقت چینی مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف وصول کرتا ہے جبکہ چین نے امریکی مصنوعات کی درآمد پر 10 فیصد ٹِیرف عائد کر رکھا ہے۔

  9. غزہ میں جنگ بندی نافذ العمل؛ کئی علاقوں سے اسرائیلی فورسز کا جزوی انخلا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد کئی علاقوں سے اسرائیلی فورسز کا جزوی انخلا شروع ہو گیا ہے۔

    اسرائیلی افواج نے کہا کہ وہ علاقے کے اندر ایک متفقہ پوزیشن پر واپس آ گئے ہیں- حالانکہ فوجی ابھی بھی پٹی کے نصف حصے پر قابض ہیں۔

    ویڈیوز میں ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ کے شمال کی طرف جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے شدید بمباری کی گئی ہے۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔ اگلے مرحلے پر ابھی بات چیت جاری ہے۔

    معاہدے کے تحت حماس کو پیر کو مقامی وقت 12 بجے تک تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہے۔ 20 یرغمالیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں جبکہ 28 یرغمالیوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔

    اسرائیل کو اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے تقریباً 250 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرنا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق 100 قیدیوں کو مغربی کنارے جبکہ پانچ کو مشرقی یروشلم میں رہا کیا جائے گا جبکہ کچھ افراد کو ملک بدر کرنے کا بھی امکان ہے۔

    معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ سے تعلق رکھنے والے 1700 فلسطینیوں کو بھی رہا کرے گی۔ معاہدے کی شرائط کے تحت امدادی ٹرکوں کو بغیر کسی روک ٹوک کے غزہ آنے کی اجازت دی جائے گی۔

    یومیہ 600 ٹرکوں کے غزہ میں داخل ہونے کی توقع ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جنگ بندی کے بعد کتنی امداد لوگوں تک پہنچی ہے۔

  10. ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سکول پر حملے میں تین حملہ آور مارے گئے: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہVideo screengrab

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سکول پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا ہے اور پولیس حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں ابھی واضح علم نہیں ہے اور ان کی صحیح تعداد کلیئرنس آپریشن کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

    ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس افسر سجاد احمد صاحبزادہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی حملہ آور اس علاقے میں موجود ہیں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق اس حملے میں دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔

    ڈی پی او سجاد احمد کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    پولیس کے مطابق اب تک 90 فیصد علاقہ کلیئر کردیا گیا ہے۔

    پولیس ٹریننگ سکول حال ہی میں علی امین گنڈہ پور کی کوششوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیا گیا تھا۔

    اس سکول کا افتتاح اس برس جنوری میں کیا گیا تھا جہاں پولیس اہلکاروں کو بنیادی ترببیت دی جاتی ہے۔

  11. ٹی ایل پی کی احتجاجی ریلی کا قیام آزادی چوک کے بجائے اب شاہدرہ کے پل پر ہو گا: اعلامیہ, عمر درازننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ٹی ایل پی مارچ

    تحریکِ لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کے منتظمین نے آج رات اپنے قیام کے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تحریک لبیک کے مارچ کا قیام اب شاہدرہ پل پر ہوگا۔ اس سے قبل ٹی ایل پی نے آج رات آزادی چوک لاہور میں قیام کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں کے ہجوم کے اطراف میں پولیس بھی موجود ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال کی صورت میں کنٹرول کیا جا سکے۔

    ٹی ایل پی کی جانب سے ایسے بیانات اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے پرامن مارچ کے قیام کےاعلان کے بعد سے ان پر فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ مینار پاکستان پل کے اوپر سے ان کے کارکنان پر سیدھی گولیاں فائر کی جارہی ہیں۔

    تاہم ان الزامات کی بی بی سی آزادانہ تحقیق نہیں کر سکا۔

    دوسری جانب وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ’کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس کر کے پولیس اور رینجرز پر ٹی ایل پی کی جانب سے حملے کیے جس میں ایک درجن سے زیادہ پولیس والے اور رینجرز زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ رات کے قیام کے بعد صبح وہ امریکن ایمبیسی کی جانب احتجاجی مارچ کے لیے دوبارہ اپنا سفر شروع کریں گے۔

  12. تحریکِ لبیک کے احتجاجی مارچ کا آج رات لاہور کے آزادی چوک میں قیام کا اعلان

    تحریکِ لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ

    تحریکِ لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ ان کا قیام آج رات آزادی چوک لاہور میں ہو گا۔

    یاد رہے کہ یاد رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    اس احتجاجی مارچ کا آغاز انھوں نے جمعے کی نماز کے بعد لاہور میں اپنے مرکز سے نکل کرراوی روڈ کا رخ کیا تھا۔

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق ’پرسوں رات تحریک لبیک نے فائرنگ کی جس کی فوٹیج موجود ہے۔ دوہزار لوگوں کو کنٹرول کرنا کوئی مسئلہ نہیں لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ کم سے کم طاقت کا استعمال کیا جائے۔‘

  13. ’انڈیا اور افغانستان مل کر چابہار بندرگاہ پر حائل رکاوٹیں دور کریں‘

    انڈیا، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہIndian Ministry of External Affairs / Handout /Anadolu via Getty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے جمعے کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران میں موجود چابہار بندرگاہ ایک بہترین تجارتی راستہ ہے اور انڈیا اور افغانستان کو مل کر اس راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہییں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی پابندیوں کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں اس لیے دونوں ممالک کو مل کر اس پر بات کرنی ہوگی۔‘

    متقی نے کہا کہ ’یہ راستہ دونوں ملکوں کے لیے بہت اہم ہے۔ ہماری تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہمیں تمام تجارتی راستے کھلے رکھنے ہوں گے ورنہ اس کا براہ راست اثر انڈیا افغانستان تجارت پر پڑے گا۔‘

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’افغانستان کی ایک انچ زمین بھی کسی اور کے کنٹرول میں نہیں ہے۔‘

    ’گذشتہ چار سالوں میں تمام تنظیموں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اگر ہر ملک اپنے ملک میں ویسا ہی امن لے آئے جیسا کہ ہم نے کیا تھا تو پوری دنیا پرامن ہو جائے گی۔‘

    متقی نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں گذشتہ آٹھ مہینوں میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا اور ملک نے ’کسی اور کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔‘

  14. خیبر پختونخوا میں ایسی قیادت لائی جائے جو ریاست کے خلاف ہو، ایسا نہیں ہو سکتا: پاکستانی فوج کے ترجمان

    ترجمان پاکستانی فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسی قیادت لائی جائے جو ریاست کے خلاف ہو کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے بقول ’گمراہ سیاسی بیانیے‘ والے لوگوں کو اس صوبے میں قیادت سونپی جا رہی ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ریاست کا ادارہ ہے۔ کیا (خیبر پختونخوا میں) ایسی قیادت لائی جا رہی ہے جو ریاست کے خلاف ہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ریاست پاکستان انتہائی مضبوط ہے۔ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘

    ایک دوسرے سوال کے جواب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ یہ افواج پاکستان کا نہیں قوم کا مقدمہ ہے۔ کوئی بھی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ان واقعات کو کرنے والے اور کروانے والے، ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جس ملک کے اندر آپ افواج، ان کے شہدا اور ان کے مقامات کو جلائیں، گھیراؤ کریں۔۔۔ تو اس پر نظام انصاف کے لیے سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔‘

    ’پاکستان کے عوام نو مئی کے مقدمات کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ ریاست اس کی ضامن ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’نو مئی میں ملوث لوگ اپنے کیفر کردار تک پہنچ رہے ہیں کیونکہ ہم نے قانون کو مضبوط کرنا ہے۔۔۔ کسی کو اجازت نہیں کہ لیگل پراسس سے بچ سکے۔‘

  15. تحریک لبیک کا احتجاج، ریاست کسی جتھے کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

    تحریک لبیک کا احتجاج

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست کسی جتھے کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی، کوشش کی جا رہی ہے کہ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ غزا کے نام پر ہونے والے مظاہرے کا مقصد کچھ اور ہے جس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    یاد رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور جمعے کی دوپہر وہ لاہور میں اپنے مرکز سے نکل کرراوی روڈ پر اس وقت موجود ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس مارچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، انتہا پسندی اور ذاتی مقاصد کے لیے جتھوں کی سیاست اور احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ احتجاج کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت اور شہریوں کا حق ہے تاہم اس کے لیے کچھ شرائط ہوتی ہیں۔

    ’تحریک لبیک کے احتجاج کے حوالے سے ان کا ماضی گواہ ہے جنھوں نے ماضی میں بھی سول اور فوجی املاک پر حملے کیے اور اس میں کافی لوگ جان سے گئے۔

    طلال چوہدری کے مطابق ’جتھوں کی سیاست کی پاکستان میں کہیں گنجائش نہیں۔ پوری دنیا میں جہاں جہاں فلسطین کے لیے احتجاج کیا گیا وہاں آج خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔

    ’ایک بڑے المیے کے بعد اب امن کی امید پیدا ہو رہی ہے۔ اگر غزہ کے تمام سٹیک ہولڈر خوش ہیں تو یہاں اس احتجاج کی کیا وجہ ہے۔ ان کے نام پر احتجاج کیوں ہو رہا ہے اس کی وجہ کچھ اور ہے۔‘

    ’کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس کر کے پولیس اور رینجرز پر حملے کیے‘

    طلال چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’مسجد کو سیاسی دفتر بنا کر مسجد کا تقدس خراب کیا جا رہا ہے۔

    ’سنت کا نام لینے والوں نے کیمیکل، شیشے کی گولیاں، ٹینس کی بال کو کیلوں سے لیس کر کے پولیس اور رینجرز پر حملے کیے اور ایک درجن سے زیادہ پولیس والے اور رینجرز زخمی ہو گئے ہیں۔ ‘

    ان کے مطابق ’پولیس نے ان پر طاقت کا استعمال نہیں کیا جب ہی دو ہزار کے قریب لوگ مسجد سے نکل کر وہاں سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ اپنے مرکزی دفتر سے نکل کر راوی روڈ پر پہنچ گئے ہیں۔ پورے پنجاب میں سوائے ایک روڈ جہاں ان کا مرکز ہے اس کے سوا کوئی روڈ بند نہیں۔ پورا پنجاب اور لاہور کھلا ہوا ہے۔‘

    اسلام آباد میں راستے بند
    ،تصویر کا کیپشنٹی ایل پی کے احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے راستوں کو مختلف مقامات سے بند کردیا گیا

    تشدد ٹی ایل پی کی جانب سے ہوا ہے: طلال چوہدری

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں سوائے ایک جگہ کے جہاں سے پنڈی کا راستہ آتا ہے تمام جگہ میں معمول کے مطابق لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارا اس پر پورا کنٹرول ہے۔‘

    ’جتنی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے وہاں تعینات ہیں، اگر طاقت کا استعمال کیا ہوتا تو پنجاب پولیس سے کیا یہ بچ پاتے۔ پہلے سیف سٹی کے کیمرے توڑے ۔ اب دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوگوں کی جان گئی۔ تشدد ٹی ایل پی کی جانب سے ہوا ہے جس کی فوٹیج جمع کی جا رہی ہے۔‘

    وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق ’پرسوں رات تحریک لبیک نے فائرنگ کی جس کی فوٹیج موجود ہے۔ دوہزار لوگوں کو کنٹرول کرنا کوئی مسئلہ نہیں لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ کم سے کم طاقت کا استعمال کیا جائے۔‘

  16. جھوٹ اور منفی سیاست کا نقصان خیبر پختونخوا کو ہو رہا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جھوٹ اور ابہام پر مبنی بیانیے کے لیے سوشل سوشل میڈیا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سرحد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر حفاظت کی ذمہ داری دونوں ملکوں پر عائد ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سرحد سے چرس اور دیگر سامان سمگل کیا جاتا ہے اور جب بھی اس پر ہاتھ ڈالا جائے تو اسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ ’2911 کلو میٹر کی سرحد پر فوج کی پوسٹوں میں کم از کم فاصلہ 15، 20 کلو میٹر کا ہے۔ کیا آپ کے پاس اتنی فوج اور ایف سی ہے کہ ساری سرحد کو کوور کریں؟‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’یہ دنیا کا واحد بارڈر ہے جہاں سے دہشتگردوں، سمگلروں اور سہولت کاروں کو پار کرایا جاتا ہے۔ دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس تمام تر وسائل ہونے کے باوجود وہاں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ہے۔ ’مگر وہاں کوئی نہیں کہتا کہ سمگلنگ کے پیچھے وردی ہے۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جھوٹ اور منفی سیاست کا نقصان خیبر پختونخوا کو ہو رہا ہے۔

  17. فیض حمید کے کورٹ مارشل کا لیگل پراسس جاری ہے: ترجمان پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کا قانونی عمل منصفانہ ہے۔ اس پر بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ فوج میں کسی کو سنوائی کا موقع نہیں دیا جاتا۔ (مگر) یہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل آپ کے سامنے ہو رہا ہے یہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ فوج میں کسی کے خلاف قانونی کارروائی میں استغاثہ، دفاع، گواہان، جرح، شواہد کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، وہ اپنے لیے سول وکیل کر سکتے ہیں۔ ’یہ لیگل پراسس جاری ہے۔ یہ اپنے حتمی اور منصفانہ انجام تک پہنچے گا۔‘

  18. اگر کوئی پارٹی یا شخص سمجھتا ہے اس کی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو پھر ہمیں یہ قبول نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کی بڑھتی کارروائیوں کی ایک وجہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے مگر ’کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اپنی ذات اور مفاد کے لیے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کا سودا کرے۔‘

    کور کمانڈر ہاؤس پشاور سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ فوج صوبے میں آئین و قانون کے تحت سکیورٹی ذمہ داری نبھا رہی ہے جس کی بنیادی ذمہ داری صوبائی و مقامی انتظامیہ کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی پارٹی یا شخص یہ سمجھتا ہے اس کی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو پھر ہمیں یہ قبول نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان یہ امید کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے سیاستدان ’بجائے منفی سیاست، الزام تراشی اور خوارجی کریمینل مافیا کی سہولت کاری کے، آپ اپنی بنیادی ذمہ داری پر توجہ دیں گے۔۔۔ امید کرتے ہیں صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کی سلامتی کے لیے افغانستان سے سکیورٹی کی بھیک مانگنے کی بجائے اس صوبے کے ذمہ داران ہوتے ہوئے آپ خود اس کی حفاظت کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے خوارجی دہشتگرد اور ان کے سہولت کاری چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔‘

    ’جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خوارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے پاس تین راستے ہیں: اول کہ وہ خود ان خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کرے یا پھر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کے خلاف مل جائے۔۔۔ ورنہ سہولت کار ریاست کے بھرپور ایکشن کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

    دریں اثنا پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ شدت پسندوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی اور اس کا مطالبہ کرنے والے عناصر قوم کو کنفیوز کر رہے ہیں۔

    پشاور میں پاکستانی فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا کے نئے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کے طالبان کے ساتھ روابط ہیں اور وہ ان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’آپریشن نہ کریں بات چیت کریں، یہ کون کہہ رہا ہے؟ وہ شخص جو کہہ رہا ہے کہ ایسی صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کے خلاف کھڑی نہ ہو۔ یہ سب کے لیے واضح ہے کہ وہ کون سی سیاسی شخصیت ہے جو دہشتگردوں سے بات چیت کرنے کا کہتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت وہ ریاست کے ذمہ دار تھے۔ آج وہ ریاست کا حصہ نہیں پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ کہہ کر ’کنفیوز کیا جاتا ہے کہ جنھوں نے آپ کے بچوں کو مارا، ان سے بات چیت کر لو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دہشتگرد یہ کہتے ہیں کہ ہماری بچیوں کے وہ حقوق نہیں جو اسلام نے دیے ہیں، ان سے بات چیت کرنے کا کہا جاتا ہے۔۔۔ کون یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی کی گارنٹی کابل دے گا؟ یہ سب کے لیے واضح ہے۔ اس سوچ اور مجرمانہ بیانیہ کی قیمت قوم ادا کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس نے بات چیت کی بھی لیکن آپ نے اس بات چیت کا حال دیکھ لیا؟۔۔۔ کیا خوارجی نور ولی محسود سے بات چیت کریں؟‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے سوال کیا کہ ’کیا آپ ان سے بات چیت کر بھی سکتے ہیں؟‘

  19. لاہور: ٹی ایل پی کارکنان سعد رضوی کی قیادت میں مسجد رحمت العالمین سے روانہ

    سعد رضوی

    تحریک لبیک کے کارکنان اور رہنما لاہور میں اپنے مرکز مسجد رحمت العالمین سے جلوس کی صورت میں سعد حسین رضوی کی قیادت میں روانہ ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ ٹی ایل پی کے امیر سعد حسین رضوی نے لاہور کی جامع مسجدِ رحمۃ العالمین میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت لاہور سے امریکی سفارتخانے تک لانگ مارچ کرے گی۔

    بی بی سی نامہ نگار عمر دراز کے مطابق اس ریلی میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو تحریک لبیک کے کارکنوں نے پولیس کے پاؤں اکھاڑ دیے جس کے بعد پولیس پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    تحریک لبیک کے کارکنان

    خیال رہے کہ مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    عمر دراز کے مطابق ریلی کی صورت میں ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنان اپنے مرکز سے نکل کر تھوڑی دور آگے جا کر ابھی عارضی پڑاؤ ڈال کررک گئے ہیں اور ان کے ساتھ مزید لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ کا آغاز جامعہ مسجد رحمت العالمین لاہور سے کردیا گیا۔

    ترجمان تحریک لبیک کے بیان کے مطابق مارچ کا آغاز ہوتے ہی پورا لاہور قافلوں کی صورت میں مارچ کے اندر شریک ہو گیا ہے۔ ترجمان تحریک لبیک کے بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک کے نہتے اور پرامن کارکنان پر شدید شیلنگ اور سٹریٹ فائر کیے جا رہے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق لاہور میں جگہ جگہ مٹی سے بھرے کنٹینرز لگا کر پورے لاہور کو بند کر دیا گیا ہے، حکومت ہمارے پرامن مارچ کو پرتشدد بنانا چاہ رہی ہے۔

  20. کابل میں فضائی حملوں سے متعلق سوال، پاکستانی فوج کا ردعمل: ’عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رہیں گے‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران دو مرتبہ یہ پوچھا گیا کہ آیا پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغانستان میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

    پہلی مرتبہ اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس کی تصدیق یا تردید کیے بغیر کہا کہ ’یہ جو آپ نے سٹرائیک کی بات کی اس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور افغان (طالبان حکومت کے) ترجمان کے بیان کو نوٹ کیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ لاکھوں افغان پناہ گزین کی مہمان نوازی کی ہے۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’افغان ٹرانزیٹ ٹریڈ بھی چل رہا ہے، ان سے ہماری تجارت جاری ہے۔ لوگ یہاں علاج کرانے آتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کو بتایا گیا ہے کہ وہاں ٹی ٹی پی کے رہنما موجود ہیں اور یہ ان کے ٹھکانے ہیں۔ ’مگر پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور علاقائی سالمیت کے لیے ہم جو بھی ضروری اقدام ہے وہ پہلے بھی لیتے تھے اور اب بھی لیں گے۔‘

    جب دوسری بار ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی فورسز نے گذشتہ شب کابل میں چار مقامات پر فضائی کارروائیاں کی ہیں اور اس میں ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود کو اس میں نشانہ بنایا گیا ہے؟

    ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’میں آپ کو یہ واضح کر چکا ہوں کہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے شواہد موجود ہیں۔ پاکستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں، وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔‘