’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

خلاصہ

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
  • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
  • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
  • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل بھر میں دوسری رات بھی مسلسل سائرن بجتے رہے, ہوگو بچیگا، مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے جو بیروت سے رپورٹ کر رہے ہیں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری رات بھی اسرائیل بھر میں سائرن بجتے رہے اور اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔

    ملک کے شمالی حصے میں واقع فلسطینی اکثریتی شہر طمرہ میں ایک مکان میزائل لگنے سے جزوی طور پر منہدم ہو گیا۔

    چند گھنٹے بعد دوسرے مرحلے کے حملوں میں وسطی شہر بیت یام کی ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ صبح ہونے تک ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔

    دوسری جانب ایران میں اسرائیلی فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا، جن میں تہران میں وزارتِ دفاع کا ہیڈکوارٹر اور وہ مقامات نشانہ بنے جنھیں اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام سے منسلک قرار دیتا ہے۔

    ان میں ایک آئل ڈپو بھی شامل ہے۔ یہ ایران کی توانائی تنصیبات پر پہلا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

  2. شمالی اسرائیل میں دشمن طیارے کی دراندازی کے بعد سائرن بجائے جا رہے ہیں: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی اسرائیل میں دشمن طیارے کی دراندازی پر سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

    @IDF

    ،تصویر کا ذریعہ@IDF

  3. ایران اور اسرائیل کے تعلقات جو بد سے بدتر ہو چکے ہیں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کوئی حیران کن واقعہ نہیں کیونکہ خطے کی دونوں طاقتیں برسوں سے ایک دوسرے کے اثاثوں پر خفیہ حملے کرتی رہی ہیں جن کی کھلے عام ذمہ داری نہیں لی جاتی۔

    غزہ کی جنگ کے بعد ان حملوں میں تیزی آئی۔ اسرائیل نے ستمبر 2023 میں حزب اللہ کے رہنما اور رواں ماہ حماس کے سربراہ کو نشانہ بنایا۔

    جواباً ایران نے اکتوبر میں اسرائیل پر 180 سے زائد میزائل داغے جن میں سے بیشتر کو روکا گیا۔

    اسرائیل نے جوابی فضائی حملے کیے لیکن حالیہ مہینوں میں کارروائیاں نسبتاً کم ہو گئی تھیں۔

    اسرائیل مسلسل یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ ایران اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے جبکہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ اسرائیل کو ’کینسر‘ جیسے الفاظ سے مخاطب کرتے رہے ہیں۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور موجودہ حملوں کا ہدف ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات ہیں۔

    ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے مگر کئی مغربی ممالک مطمئن نہیں ہیں۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے ایران کو معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

    واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات اتوار کو ہونے تھے مگر ثالث عمان کے مطابق وہ اب منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

  4. ایرانی میزائل حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے تازہ ترین بیان کے مطابق وسطی اسرائیل میں حملے کے مقام پر چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔

    ہلاک ہونے والوں میں ایک 60 سالہ خاتون، ایک 80 سالہ خاتون، تقریباً 10 سالہ لڑکا اور ایک کم عمر لڑکی شامل ہیں۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ 99 زخمیوں کا علاج جاری ہے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔

    بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کیے ہیں تاہم وہاں ہلاکتوں کے اعداد و شمار تاحال سامنے نہیں آئے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

  5. اسرائیل کو برطانوی جنگی طیاروں کی معاونت دینے کے سوال پر برطانوی وزیرِ اعظم کا محتاط مؤقف, کرس میسن، بی بی سی پولیٹیکل ایڈیٹر

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی وزیرِ اعظم سر کئیر سٹارمر نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پر واضح پیغام دیا ہے اور وہ ہے ’کشیدگی کم کی جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کو برطانوی جنگی طیاروں کی معاونت دینے کے امکان کو نہ مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور نہ ہی فی الحال اس کی منظوری دے رہے ہیں، جیسا کہ اپریل اور اکتوبر 2024 میں کیا گیا تھا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ، فرانس یا امریکہ نے اسرائیل کی حمایت کی تو خطے میں ان کے بحری جہاز اور اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    سر کئیر سٹارمر نے گذشتہ رات کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی سے سیکیورٹی اور تجارت پر بات چیت کی۔ دونوں رہنما جی سیون سربراہی اجلاس کے لیے کینیڈا کے صوبے البرٹا روانہ ہوں گے جہاں مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اہم ایجنڈا ہو گا۔

    جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز، فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تین روزہ اجلاس کے لیے کینیڈا پہنچ ہو رہے ہیں۔

  6. بیت یام اور رحوفوت شہروں پر حملے کے بعد کی تازہ ترین تصاویر

    ایران نے وسطی اسرائیل پر حملے کیے ہیں جن میں اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    یہ بیت یام اور رحوفوت شہروں پر حملے کے بعد کی تازہ ترین تصاویر ہیں۔

    Sinai Koren

    ،تصویر کا ذریعہSinai Koren

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  7. اسرائیل نے اصفہان کو نشانہ کیوں بنایا؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کی خبریں آ رہی ہیں لیکن اس سے پہلے اسرائیل نے ایران کی سرزمین میں کئی کلومیٹر اندر جا کر حملے کیے اور اس کا مرکزی ہدف تھا اصفہان۔

    مرکزی ایران میں واقع اصفہان کا کنورژن پلانٹ ایرانی جوہری ڈھانچے کا اہم حصہ ہے جس کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں کانیں اور پلانٹس بھی موجود ہیں۔

    اصفہان کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات بھی ہیں جن میں ایک بڑا ایئربیس اور میزائل بنانے کا ایک اہم کمپلیکس شامل ہے۔

    اپریل 2024 میں اسرائیل نے اصفہان کے ایک ہوائی اڈے پر ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچایا تھا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اصفہان کی یہ تنصیبات پرامن مقاصد کے لیے ہیں لیکن اسرائیل اور مغربی ممالک طویل عرصے سے تہران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

    BBC
  8. جی سیون کا مرکزی ایجنڈا ایران اسرائیل تنازع ہو گا

    اس ہفتے کینیڈا میں ہونے والی جی سیون سربراہی کانفرنس کا محور جنگ ہو گی مگر وہ جنگ نہیں جس کی عالمی رہنماؤں کو توقع تھی۔

    ایجنڈے میں سرفہرست روس یوکرین تنازعہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے جڑے تنازعات تھے۔

    مگر اب البرٹا کی راکی پہاڑیوں میں ہونے والا یہ تین روزہ اجلاس مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر مرکوز ہو گیا ہے۔

    بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز لینڈیل البرٹا سے رپورٹ کر رہے ہیں۔

  9. اسرائیلی شہر طمرہ کی صورتحال تصاویر میں

    ایران کے تازہ میزائل حملوں کے دوران وسطی اور شمالی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    یہ تصاویر شمالی اسرائیل کے ضلع میں واقع شہر طمرہ سے سامنے آئی ہیں۔

    Sinai Koren

    ،تصویر کا ذریعہSinai Koren

    Sinai Koren

    ،تصویر کا ذریعہSinai Koren

    Sinai Koren

    ،تصویر کا ذریعہSinai Koren

  10. بیت یام میں ایرانی میزائل حملے کے بعد تباہی کے مناظر

  11. تل ابیب میٹروپولیٹن علاقے کے مرکزی شہر بیت یام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تل ابیب میٹروپولیٹن علاقے کے مرکزی شہر بیت یام پر ایرانی حملے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    ایک عمارت پر میزائل حملہ براہِ راست ہوا ہے اور بی بی سی کو ملنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی کارکن ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی ایمرجنسی سروسز ایم ڈی اے نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے ہیں۔

  12. بیت یام میں ایک عمارت پر ایرانی میزائل حملے میں کم سے کم تین افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی

    اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق تل ابیب کے جنوب میں واقع بیت یام میں ایک عمارت پر ایرانی میزائل حملے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  13. اسرائیلی فوج کا عوام کو انتباہ: ’ہمارا فضائی دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر نہیں‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حیفا بندرگاہ سے جاری کردہ تصاویر میں ایران کی طرف سے داغے گئے میزائل حملوں کے بعد وسیع پیمانے پر تباہی دکھائی دے رہی ہے۔

    اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ وہ ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والے مقامات پر موجود ہیں اور زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اس سے قبل ملک کے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

    اسرائیلی فوج کے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ’ناقابل تسخیر نہیں ہے‘ اور عوام کو جاری کردہ وارننگز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

  14. ایران کے اسرائیل پر حملوں میں مزید چھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر گذشتہ رات دو مرتبہ میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی خبررساں اداروں کے مطابق ایک حملے کے باعث کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوئے جب اسرائیل کے شمال میں حیفا کے قریب میزائل ایک رہائشی علاقے میں گرے۔

    تل ابیب میں ہونے والے میزائل حملوں میں اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایک 60 سالہ خاتون ہلاک ہوئیں۔ ایمرجنسی سروس کے ترجمان کے مطابق مزید 20 افراد اسی علاقے میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ جبال الخلیل میں 24 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی کی جانب سے ان رپورٹس کو آزادانہ طور پر ویریفائی نہیں کیا جا سکا ہے۔

  15. تازہ ترین صورتحال: ایران اور اسرائیل کے درمیان رات بھر میزائلوں اور فضائی حملوں کا تبادلہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور اسرائیل کے درمیان رات بھر میزائلوں اور فضائی حملوں کا تبادلہ جاری رہا ہے۔ رات بھر کی خبروں کا خلاصہ اور اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے گذشتہ رات گئے یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے تہران پر فضائی حملے کیے ہیں اور وہاں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں وزارتِ دفاع بھی شامل ہے۔
    • ایران کی جانب سے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائل حملے کیے گئے ہیں اور ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس نے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔ وسطی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔
    • ایران کی وزارتِ تیل نے کہا ہے کہ اسرائیل نے شہران کا آئل ڈپو اور تہران میں فیول ٹینک اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے تاہم ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’اب صورتحال قابو میں ہے۔‘
    • بی بی سی کی جانب سے ایک ایسی ویڈیو کی تصدیق کی گئی ہے جس میں ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے شہر حیفا میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے
    • اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل پر 100 سے زیادہ میزائل لانچ کیے گئے ہیں جن کا ہدف تل ابیب اور حیفا ہے۔
    • اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے ایک خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اب تک سات افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار اب سے دوپہر دو بجے تک آپ کے ساتھ ہیں۔

    گذشتہ دو روز میں کیا ہوتا رہا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔