’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

خلاصہ

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
  • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
  • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
  • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا ایران کے دو ایف 14 ٹام کیٹ فائٹر جیٹس تباہ کرنے کا دعویٰ

    f14 tomcat

    ،تصویر کا ذریعہIAF

    اسرائیلی ایئرفورس (آئی اے ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دو لڑاکا طیارے ایف 14 ٹام کیٹس تہران کے ایئرپورٹ پر تباہ کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی ایئر فورس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انھیں مبینہ طور پر انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے والے مخصوص ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی ایئرفورس کا کہنا ہے کہ یہ لڑاکا طیارے اسرائیلی طیاروں کو روکنے کے لیے تیار کھڑے تھے تاہم ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان طیاروں کے ’پر‘ (ونگز) کی سیٹنگز ایسی نہیں تھیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ فوری اڑان بھرنے کے لیے تیار ہوں۔

    f-14 tomcat

    ،تصویر کا ذریعہIAF

    خیال رہے کہ جدید اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے سامنے ایرانی ایئرفورس کے پاس دہائیوں پرانے لڑاکا طیارے ہیں جن میں ایف 4 فینٹمز، کچھ ایف 14 ٹام کیٹس یہ دونوں طیارے سرد جنگ کے زمانے کے ہیں اور امریکہ کی جانب سے اب انھیں استعمال ہی نہیں کیا جاتا۔ اس کے لیے سوویت یونین کے ایس یو 24، ایس یو 22 اور مگ 29 بھی ایران کی ایئرفورس میں شامل ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے آج یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے تہران کی فضاؤں میں مکمل برتری حاصل ہے جس کے باعث اسے روایتی میزائلوں سے حملے کرنے کا موقع مل رہا ہے نہ کہ لانگ رینج میزائلوں سے۔

    فضاؤں پر برتری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسرائیل اب ہدف کو قریب سے بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ایران کی فضائی دفاع سے زیادہ خطرہ نہیں۔

    ایف 14 ٹام کیٹس کو ٹاپ گن فلمز سے پذیرائی ملی تھی اور یہ امریکی بحریہ کی جانب سے کافی عرصے سے ریٹائر کیے جا چکے ہیں۔

  2. نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    iraqchi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو ’ایک مطلوب جنگی مجرم‘ اور ’دھوکے باز‘ قرار دیا ہے جس نے تقریباً تین دہائیوں سے ’امریکی صدور کو اپنے مقاصد کے لیے جنگوں میں گھسیٹنے کا دھوکہ کیا۔‘

    انگریزی میں لکھے گئے اس پیغام میں عباسی عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اسرائیل کی جارحیت بند ہونے تک اپنے میزائل حملے جاری رکھے گا تاہم انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں تو وہ اسرائیل سے جلد از جلد اپنی جارحیت روکنے کے لیے کہیں۔

    عباس عراقچی نے لکھا کہ ’نتن یاہو جیسے شخص کو خاموش کرنے کے لیے صرف واشنگٹن سے ایک فون کال کی ضرورت ہے۔ یہ سفارت کاری کی طرف واپسی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘

    انھوں نے جنگ میں امریکہ کی شمولیت کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مذاکرات کے ذریعے حل کے کسی بھی امکان کو ختم کر دے گا اور اس کے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک، غیر متوقع اور ممکنہ طور پر ناقابل تصور نتائج ہوں گے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا کہ ایران کو بات کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ ’بہت دیر ہو جائے۔‘

  3. ’ایک عمارت پر ہمارے سامنے ڈرون حملہ ہوا‘: تہران میں میزائلوں کے سائے میں پاکستانی شہریوں نے کیا دیکھا؟

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اسرائیل کشیدگی چوتھے روز میں داخل ہو گئی ہے اور اس دوران ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ جمعے سے جاری حملوں میں اب تک ایران میں کم از کم 224 شہری ہلاک جبکہ اسرائیل میں از کم 24 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    تہران میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور بی بی سی نے ایران میں موجود پاکستانی شہریوں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ لوگ وہاں اسرائیل کے حملوں کے بعد کیا سوچ رہے ہیں، کیا تہران میں خوف کی فضا ہے اور ملک میں معمولات زندگی کیسے ہیں۔

    ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود ایک پاکستانی طالب علم سخی عون محمد بتاتے ہیں کہ کسی بھی مقام پر بمباری کے بعد پورے شہر میں خاموشی چھا جاتی ہے۔

    تہران یونیورسٹی آف سائنسز میں فائنل ایئر کے طالبعلم سخی کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تہران میں ’دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں مگر لوگوں میں خوف کم ہی دیکھا ہے۔‘

  4. اگر آج تل ابیب پر حملہ ہوا ہے تو کل نیویارک پر بھی ہو سکتا ہے، مجھے امریکہ فرسٹ سمجھ آتا ہے، امریکہ ڈیڈ نہیں: اسرائیلی وزیرِ اعظم

    netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ ’تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘

    جب ان پر زور دیا گیا کہ آیا اسرائیل رہبرِ اعلیٰ کو نشانہ بنائے گا تو نتن یاہو نے کہا کہ ’ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے ان کے نمایاں جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، ہمیں اب بھی ان کی دیگر سائٹس کو نشانہ بنانے کے لیے کام کرنا ہو گی۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ ’انسانیت کے لیے ایک سروس‘ ہے اور اس سے ایران کے جوہری خطرے سے بچا جا سکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج اگر تل ابیب (پر حملے ہوئے ہیں) تو کل کل نیویارک پر بھی ہو سکتے ہیں۔ میں امریکہ فرسٹ کی بات سمجھتا ہوں لیکن مجھے ’امریکہ ڈیڈ‘ سمجھ نہیں آتا۔‘

  5. وہ لمحہ جب اسرائیل نے ایرانی سرکاری ٹی وی کی عمارت پر حملہ کیا

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

    براڈکاسٹر کی جانب سے سکرین پر نشر ہونے والے الفاظ کے مطابق اس کے تمام پروگرام ’کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے کسی بھی خلل کے بغیر۔‘

    ایک اور نیوز ٹکر کے مطابق اسرائیل نے ’شدید خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سرکاری ٹی وی کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    براڈکاسٹر کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل ’سچ کی آواز‘ کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔

  6. ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر اسرائیلی حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران میں اس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے میں اس کے عملے کے ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری ٹی وی چینل کے ایک رپورٹر کا کہنا تھا کہ وہ ’حملے سے قبل آخری لمحے تک کام کر رہے تھے۔‘

    چینل کے ہیڈ آف براڈکاسٹنگ پیمان جبیلی کچھ دیر قبل ٹی وی سکرین پر ایک خون آلود کاغذ لے کر سامنے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی اور اس کے ملازمیں ’آخری وقت تک ثابت قدم رہیں گے۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائیہ نے تہران میں ’ایک مواصلاتی مرکز کو نشانہ بنایا ہے جو کہ ایرانی فوج عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔‘

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ عمارت ’سویلینز کی آڑ میں‘ استعمال کی جا رہی تھی اور اسرائیلی حملے نے ’ایرانی افواج کی عسکری صلاحیتوں کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔‘

  7. اسرائیل کی ایرانی سرکاری ٹی وی چینل پر حملے کی تصدیق

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہYounes Shadlou

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایک بیان میں وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز یہ حملہ ’بڑے پیمانے پر مقامی افراد کے علاقے سے انخلا‘ کے بعد کیا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ’ایرانی آمر کو ہر جگہ نشانہ بنائے گا۔‘

    کچھ دیر قبل ایرانی کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے ٹی وی چینل کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کے بعد کچھ دیر کے لیے سرکاری ٹی وی کی نشریات معطل ہوئی تھیں، تاہم کچھ ہی منٹوں بعد اسے بحال کر دیا گیا تھا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا سے منسلک ایک رپورٹر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ بھی شیئر کی تھی جس میں اسرائیلی حملے کے بعد ایک عمارت میں لگی آگ کو دیکھا جا سکتا تھا۔

    اس ویڈیو کلپ میں ایرانی رپورٹر کہہ رہے تھے کہ انھیں نہیں معلوم کہ اس حملے میں ان کے کتنے ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

  8. ایران ’جنگ نہیں جیت رہا‘، کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہے: امریکی صدر

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران یہ ’جنگ نہیں جیت رہا‘ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کام کرنا چاہتا ہے۔

    کینیڈا میں جی سیون کانفرنس کے موقع پر کینیڈین وزیرِ اعظم مائیک کارنے کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کو ’قریقین کے لیے تکلیف دہ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے ایرانی حکام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں مزید تاخیر کیے بغیر فوری طور پر بات چیت کرنی چاہیے۔‘

    جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ان ملک عسکری طور پر اس تنازع میں شامل ہوگا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔

  9. اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کی نشریات بحال, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    اسرائیلی حملے کے سبب کچھ منٹوں کے تعطل کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کی نشریات ایک بار پھر بحال ہو گئی ہیں۔

    ٹی وی سکرین پر نظر آنے والی تحریر میں پڑھا جا سکتا تھا کہ ٹی وی چینل کے تمام پروگرامز ’بغیر کسی بندش کے دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔‘

    ٹی وی چینل پر نظر آنے والے ایک نیوز ٹکر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ’سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس حملے کے ذریعے ’سچ کی آواز کو خاموش‘ کرنا چاہتا ہے۔

  10. اسرائیل کا ایران کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو ہیڈکوارٹر پر حملہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہThe Islamic Republic of Iran News Network

    اسرائیل نے تہران پر اپنے تازہ حملے میں اسلامک رپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق اسرائیل نے تہران میں آئی آر آئی بی کے سٹوڈیوز کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیل نے تہران میں سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو نشانہ بنایا ہے جس کے سبب براہ راست خبروں کی نشریات معطل ہوگئی ہے۔

    سرکاری ٹی وی چینل کی براہ راست نشریات کے دوران ایک دھماکے کی آواز سُنی گئی تھی اور میزبان نے اسی وقت ناظرین کو مطلع کیا کہ ان کے سٹوڈیو پر حملہ کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ ایران کا سرکاری ٹی وی اور ریڈیو ’غائب ہونے والے‘ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کا کا پروپیگنڈا اور ماؤتھ پیس غائب ہونے والا ہے۔ قریب موجود رہائش پزیر افراد کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل اسرائیلی فوج نے تہران کے مقامی افراد کو وارننگ جاری کی تھی کہ وہ شہر کا ڈسٹرکٹ تھری فوری طور پر چھوڑ دیں۔

    اس ضلع میں اسلامک رپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔

  11. ’فوری طور پر‘ تہران کا ڈسٹرکٹ تھری چھوڑ دیں: اسرائیلی فوج کی ایرانی عوام کو ’وارننگ‘

    اسرائیلی فوج نے ایران کے شہریوں کو ’وارننگ‘ جاری کی ہے کہ وہ ’فوری طور پر‘ دارالحکومت تہران کا ایک بڑا حصہ خالی کر دیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچے ادرائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آنے والے گھنٹوں میں اسرائیلی فوج اس علاقے میں آپریٹ کرے گے بالکل ویسے ہی جیسے اس نے حالیہ دنوں میں کیا ہے اور ایرانی حکومت کے عسکری انفراسٹرکچر کو ہدف بنائے گی۔‘

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنی پوسٹ میں ایک نقشہ بھی شیئر کیا ہے جس کے مطابق لوگوں کو تہران شہر کا ڈسٹرکٹ تھری چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

    ’اس علاقے موجودگی کے سبب آپ کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

    ایرانی دارالحکومت تہران 22 اضلاع پر مشتمل ہے اور ڈسٹرکٹ تھری شمال مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ اس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس ضلع میں تین لاکھ 30 ہزار شہری آباد ہیں۔

    اس ضلع میں اسلامک رپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔

  12. ایرانی جنرل سے منسوب ’اسرائیل پر ایٹمی حملے‘ کا بیان فیک نیوز ہے: پاکستانی وزیرِ خارجہ

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران کے ایک جنرل سے منسوب اسرائیل پر ایٹمی حملے سے متعلق بیان اور خبر جھوٹ پر مبنی اور ’فیک نیوز‘ ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور میڈیا پر ایک ایرانی فوجی افسر سے منسوب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ایران پر کسی ایٹمی حملے کی صورت میں پاکستان اسرائیل پر ایٹمی حملہ کر دے گا۔

    پیر کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک فیک نیوز ہے۔‘

    ’پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہماری قوم کی امانت ہے۔ یہ پروگرام پاکستانی قوم نے بہت قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔‘

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک سنجیدہ نوعیت کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔

    ’بات چیت کے حوالے سے ہماری پوری کوشش جاری ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ سے ہونے والے مذاکرات پر انھیں اعتماد میں لیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اس پر ایران نے بھی ان کے کردار کو سراہا ہے۔

    ’ایران سے وزیرِ خارجہ سے رابطہ ہوا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کو بھرپور جواب دیں گے۔‘

  13. ’ہم فتح کی راہ پر گامزن ہیں‘: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا ایران میں دونوں اہداف حاصل کرنے تک نہ رُکنے کا اعلان

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’ہم فتح کی راہ پر گامزن ہیں۔‘

    ایک اسرائیل فضائی اڈے کے دورے کے دوران انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا ملک ’تہران کی فضائی حدود کا کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے دونوں مقاصد کے حصول کے راستے پر گامزن ہیں: جوہری خطرے کا خاتمہ اور میزائلوں سے خطرے کا خاتمہ۔‘

    نتن یاہو نے اس موقع پر ایرانی اور اسرائیلی حملوں کے درمیان فرق بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل عسکری جبکہ ایران سویلین اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    ’ہم تہران کے شہریوں کو کہتے ہیں کہ شہر چھوڑ دیں اور اس کے بعد ایکشن میں آتے ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نے فضائی اڈے پر موجود افراد کو کہا کہ: ’آپ کا بہت شکریہ اور خدا کی مدد سے ہم کامیابی حاصل کریں گے اور فتح حاصل کرنے تک رُکیں گے نہیں۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جمعے سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ملک کے 224 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایرانی حکومت کی پابندیوں کے سبب بی بی سی ایران کے اندر سے رپورٹنگ نہیں کر پا رہا ہے۔

  14. ’ہم بھاگ رہے ہیں‘: ایران میں نو سالہ بچی کے ہاتھ سے لکھی گئی سُرخ تحریر, ٹوم جوئنر

    ایران

    یہ تحریر سُرخ قلم سے کسی کتاب سے پھاڑے گئے ایک صفحے پر لکھی گئی ہے۔ جب فرہاد کو یہ تحریر ملی تو وہ حیران رہ گئے۔

    ان کی نو سالہ بیٹی نے لکھا تھا کہ: ’ہم بھاگ رہے ہیں۔ یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان دوسری جنگ ہے۔‘

    فرہاد نے مجھے بتایا کہ وہ کئی دنوں تک اپنے دونوں بچوں کو اس جنگ کی خبروں سے بچانے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ وہ انھیں کارٹون دکھاتے رہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ ان کے بچے اس تنازع کے اثرات سے بچے رہیں گے۔

    لیکن صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب دو بچوں کے والد نے ٹیلی گرام ایپ پر اسرائیل کا ایک پیغام دیکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی شہری اپنے اپنے شہر چھوڑ دیں۔

    فرہاد ایرانی سکیورٹی ایجنسیوں کے ڈر سے اپنی اصل شناخت نہیں ظاہر کرنا چاہتے۔

    اس پیغام کو پڑھنے کے بعد فرہاد نے اصفہان میں اپنے خاندان کو جمع کیا اور اپنے والد کے اپارٹمنٹ منتقل ہوگئے۔

    اس کے بعد انھیں اصفہان میں دن، رات دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اصفہان میں ایک جوہری پلانٹ موجود ہے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ بھی اس کے اہداف میں شامل تھا۔

    فرہاد ابھی خوفزدہ ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خاندان کو لے کر ترکی کی سرحد تک جائیں اور وہاں سے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس ملک سے فرار ہونا چاہتا ہوں۔‘

  15. مغربی ایران میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی اطلاعات

    اس سے قبل ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ ایران کا سرکاری میڈیا ملک میں تازہ اسرائیلی حملوں کی خبریں دے رہا ہے۔

    اب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایرانی شہر کرمانشاہ کے فارابی ہسپتال کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے اس حملے کو ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ اور ’جنگی جُرم‘ قرار دیا ہے۔

    بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسلح تنازعات کے دوران ہسپتالوں پر حملے نہیں کیے جا سکتے اور اس کی خلاف ورزی کو جنگی جُرم سمجھا جاتا ہے۔

    بی بی سی کے پاس تصدیق شدہ فوٹیج موجود ہے جس میں ہسپتال کو ہونے والا نقصان دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ براہ راست کسی اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہوا ہے یا نہیں۔

    ایرانی نیوز ایجنسی اِرنا کی خبر میں اس حملے میں زخمی یا ہلاک ہونے والوں کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو ہسپتال کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہسپتال کا انتہائی نگہداشت کا وارڈ سب سے زیادہ نقصان کا شکار ہوا ہے۔ فارابی ہسپتال ایرانی صوبے کرمانشاہ میں نیورولوجی کا مرکزی ہسپتال ہے۔

  16. ایرانی عوام کو شہر چھوڑنے کے مشورے اسرائیلی ’نفسیاتی آپریشنز‘ کا حصہ ہیں: ایران, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کو شہروں کو چھوڑنے کے اسرائیلی پیغامات ’دشمن کے نفسیاتی آپریشنز‘ کا حصہ ہیں۔

    فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایران میں ’سائبر حملوں‘ کے سبب ملک میں انٹرنیٹ کی ’رفتار سُست ہو گئی ہے۔‘

    اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع تہران کے رہائشیوں کو وارننگ جاری کر چکے ہیں کہ انھیں ایران کے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی ’قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ اور یہ کہ ایرانی شہری تہران چھوڑ دیں۔

    گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے بھی ایک وارننگ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران میں ہتھیار بنانے والے مقامات سے ایرانی شہری دور چلے جائیں۔

    دوسری جانب میں نے تہران کے لوگوں سے سُنا ہے کہ وہاں شہر سے باہر جانے والی سڑکوں پر بہت رش ہے اور گذشتہ روز سے ہی فیول پمپس پر لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

    ایک شہری نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ تہران میں ہی رہیں گے کیونکہ ’دیگر صوبوں میں ان کے کوئی دوست یا رشتہ دار رہائِش پزیر نہیں ہیں۔‘

  17. اسرائیل، ایران تنازع: فضائی برتری کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرا فریق شکست کھا گیا ہے, جوناتھن بیل، نامہ نگار برائے دفاع

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران کے اوپر فضا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ گذشتہ کچھ دنوں میں تہران پر متعدد اسرائیلی حملوں سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ اسرائیلی دعویٰ درست ہے۔

    اسرائیلی لڑاکا طیارے ایرانی علاقوں پر کم فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں سے حملے کر رہے ہیں۔ عام الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل تازہ حملوں میں دور تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا سہارا نہیں لے رہا ہے۔

    ایران کے پُرانے لڑاکا طیارے اسرائیل کے لیے زیادہ بڑا خطرہ نہیں ہیں۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں سے قبل بھی اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کے بڑے حصوں کو تباہ کر چکا ہے۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل نے ایران میں اپنے حملوں میں روسی ساختہ ایس 300 دفاعی نظام کو نشانہ بنایا تھا۔ تازہ حملوں میں بھی اسرائیل نے ایران کے ڈیفینس ریڈاروں اور لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران

    تاہم تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹٹیوٹ (روسی) سے منسلک جسٹن برونک کہتے ہیں کہ اسرائیل کو فضائی اعتبار سے ایران پر برتری ضرور حاصل ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اسرائیل مکمل طور پر ایران پر فضائی سبقت رکھتا ہے۔

    ایران کے پاس شارٹ رینج ڈیفینس سسٹمز موجود ہیں جنھیں کندھے پر رکھ کر فائر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس زمین سے آسمان تک مار کرنے والے میزائل بھی موجود ہیں جو کہ اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    ماضی میں امریکی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی برتری حاصل کر لی تھی لیکن بعد میں حوثیوں نے متعدد امریکی ڈرونز کو تباہ بھی کیا تھا۔

    اس کے علاوہ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں متعدد فوجی مہمات کے دوران فضائی طاقت کی حدود و قیود نظر آئی تھیں۔

    فضا سے تباہی کا مطلب یہ نہیں کے دوسرا فریق شکست کھا گیا ہے۔

  18. اسرائیل، ایران تنازع: تہران کے رہائشی کیا کہتے ہیں؟, آزادہ مشیری، نمائندہ برائے پاکستان

    تہران میں جن ایرانی شہریوں سے میری بات ہوئی ہے وہ ابھی بھی صدمے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کچھ دوست اور اہلخانہ پہلے ہی دارالحکومت سے ترکی اور آرمینیا کی سرحد کی طرف جا چکے ہیں۔

    تہران میں ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو دو دنوں سے اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ انھوں نے گذشتہ رات بھی دھماکوں کی آوازیں سنیں اور وہ اپنی بزرگ والدہ کو تنہا گھر میں چھوڑنے سے گھبرا رہی ہیں۔

    وہ ہر قسم کی معلومات کے لیے میڈیا اور دوستوں کے پیغامات پر انحصار کر رہی ہیں۔ لیکن جب انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے تو ان کی بیروںی دنیا تک رسائی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تہران کے مختلف حصوں میں دھماکے ہو رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ یہ سب جلد ختم ہو جائے گا۔‘

    ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی تہران کو اتنا سُنسان نہیں دیکھا۔ شمالی تہران میں واقع ان کی عمارت میں دیگر رہائشیوں نے پانی کا ذخیرہ جمع کر لیا ہے اور وہ فکرمند ہیں کہ انھیں بجلی کی تعطلی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

  19. اسرائیل میں رہائشی علاقوں پر ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں کی سوچ میں تبدیلی, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    اسرائیل

    گذشتہ رات فتح تقوہ میں ایرانی میزائل حملے کا ہدف بننے والی اسرائیلی عمارت کے باہر آج صبح سرکاری ٹیمیں ملبے ہٹاتے ہوئے نظر آئیں۔

    اس میزائل حملے کے سبب 20 منزلہ عمارت میں ایک بڑا سوراخ ہو گیا ہے اور چار افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    مرنے والے افراد میں سے دو لوگ حملے کے وقت ایک بم شیلٹر میں موجود تھے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایرانی میزائل حملے سے دو بم شیلٹرز کے بیچ موجود دیوار کو نقصان پہنچا اور وہ گِر گئی۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والا تیسرا شخص بم شیلٹر سے ایک منزل اوپر موجود تھا۔

    اس کمپلیکس میں تین مزید عمارتیں موجود ہیں جنھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان عمارتوں کے رہائشی وہاں اپنے فلیٹوں کے چکر کاٹ رہے ہیں تاکہ ضروری اشیا حاصل کر سکیں اور انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔

    ان عمارتوں میں ابھی تقریباً 300 سے زیادہ فلیٹس خالی پڑے ہیں اور ان کے رہائشی بےگھر ہو چکے ہیں۔

    ایران کا میزائل حملہ گذشتہ رات تقریباً چار بجے ہوا تھا اور تاحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ اس حملے کا ہدف کیا تھا۔ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے اور یہاں کوئی بھی ایسی جگہ موجود نہیں جسے تعزویراتی طور پر اہم کہا جا سکے۔

    اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران نے اس کے حملوں کے ردِعمل میں جان بوجھ کر سویلین آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کے تازہ حملوں کے بعد اسرائیل کے شہریوں کے موڈ میں تبدیلی آئی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے ملک کا فضائی دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر ہے تاہم ایران کے حملوں کے بعد ان کے خیالات تبدیل ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی دفائی نظام اب بھی متحرک ہے لیکن اسے بالکل پرفیکٹ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

  20. تہران کے رہائشیوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس سے قبل اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے وارننگ جاری کی تھی کہ تہران کے رہائشیوں کو اسرائیل پر ایرانی حملوں کی ’قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘

    تاہم اب اسرائیل وزیرِ دفاع کی جانب سے ایک وضاحت سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کا ’تہران کے رہائشیوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’تہران کے رہائشی آمرانہ طرزِ حکومت کی قیمت ادا کریں گے اور انھیں ان علاقوں سے اپنے گھر چھوڑنے پڑیں گے جہاں اسرائیل کے لیے تہران میں حکومتی اہداف اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ضروری ہوگا۔‘

    ’ہم اسرائیل کے شہریوں کا تحفظ جاری رکھیں گے۔‘