’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

خلاصہ

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
  • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
  • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
  • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران، اسرائیل تنازع روس کو کس طرح فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے؟, سٹیو روزنبرگ، ایڈیٹر برائے روس

    روس

    مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع روسی اخبارات کی بھی شہ سرخیوں میں ہے۔

    روسی اخبار موسكوفسكی كومسوموليتس کی ایک تحریر میں درج تھا کہ ’یہ شاید سُننے میں تُرش لگے لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے سبب روس کو کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘

    ان مبینہ ’فوائد‘ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور یوکرین میں روس کی جنگ سے بین الاقوامی توجہ ہٹنا شامل ہے۔

    روسی اخبار کا دعویٰ ہے کہ ’کیئو کو فراموش کر دیا گیا ہے۔‘

    اس کے علاوہ ایک اور روسی اخبار کومیرسانت کی ایک تحریر میں لکھا گیا ہے کہ ’روس اصولی طور پر بطور مصالحت کار اپنا کردار نبھا سکتا ہے، شاید وہ یہ بحران حل نہیں کروا سکے لیکن وہ کشیدگی کم کرنے میں ضرور مدد کر سکتا ہے۔ اس سے خطے میں روس کا اثر و رسوخ بھی بڑھے گا۔‘

    لیکن اس اخبار کے ایک مضمون میں وارننگ بھی موجود ہے۔

    ’مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب ماسکو کو خطرات بھی لاحق ہیں اور شاید روس کو اس کی قیمت بھی چُکانی پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس ایک ایسے ملک پر اسرائیلی حملوں کو روکنے میں ناکام رہا جس کے ساتھ صرف پانچ مہینے قبل اس نے سٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔‘

  2. اسرائیل کا ’تہران کی فضا کے مکمل کنٹرول‘ اور ایک تہائی میزائل لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے شروع کیے گئے حملوں کے دوران ایران میں 120 سے زیادہ میزائل لانچرز تباہ کر دیے ہیں جو کہ ایک تہائی بنتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایئر فورس نے 20 سے زیادہ گذشتہ شب تباہ کیے اور یہ چند منٹ قبل ہوا جب وہ اسرائیل پر میزائل داغنے والے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے اصفہان میں 100 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے قریب 50 جنگی طیارے استعمال کیے گئے جنھوں نے میزائل کے ذخائر کی تنصیبات، لانچرز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے پاس تہران کی فضا کا مکمل کنٹرول ہے۔

  3. اب تک ہماری ساتھی منزہ انوار ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر آپ کو تازہ ترین معلومات پہنچا رہی تھیں۔

    اب سے رات دس بجے تک ہمارے ساتھی عمیر سلیمی اور روحان احمد آپ کو باخبر رکھیں گے۔

  4. بریکنگ, اسرائیل کا مغربی ایران پر تازہ حملہ

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے مغربی ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

    پاسداران انقلاب اسلامی (آئی جی آر سی) سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے صوبہ ایلام میں عراق کی سرحد کے قریب موسیان میونسپلٹی کی فائر بریگیڈ کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔

    ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔

    دوسری جانب آئی جی آر سی سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایک ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ بی بی سی کے صحافیوں کو ایرانی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے اندر سے براہِ راست رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔

  5. اسرائیل پر ایران کے تازہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل نے کہا ہے کہ تل ابیب، حیفا اور دیگر شہروں کے رہائشی علاقوں پر رات بھر جاری رہنے والے ایرانی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور میڈیا کے مطابق جمعہ سے اب تک ہلاک ہوانے والوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے۔

    محکمہ صحت حکام کے مطابق تقریباً 300 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جمعہ سے شروع ہونے والے تنازعے میں وہاں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بی بی سی اس حوالے سے اسرائیل اور ایران دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  6. ’ثابت قدم رہیں اور مل کر ایران پر ہونے والی مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کریں‘ مسعود پزشکیان کا ایرانیوں کو پیغام

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانیوں سے کہا ہے کہ وہ ’ثابت قدم رہیں اور مل کر ایران پر ہونے والی مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کریں۔‘

    پیر کو ایرانی پارلیمنٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پزشیان نے کہا کہ ایران نے ’سفارتی کوششوں کو موقع دیا اور مذاکرات و بات چیت کا دروازہ کھولا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دشمن قتل و دہشت گردی کے ذریعے ایران اور اس کے عوام کو تباہ نہیں کر سکتا۔ ہر حملے کے بعد سینکڑوں اور ہیرو سامنے آئیں گے جو اس مشن کو آگے بڑھائیں گے۔‘

    پزشکیان نے دوبارہ کہا کہ ایران ’جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن اپنے عوام کے فائدے کے لیے جوہری توانائی اور تحقیق کا حق رکھتا ہے۔‘

  7. اسرائیلی فوج کا تہران میں القدس فورس کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں القدس فورس کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے: ’ان کمانڈ سینٹروں میں القدس فورس کے اہلکار مشرق وسطیٰ میں ایرانی حکومت کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے اسرائیل پر حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات دے رہے تھے۔‘

    اسرائیل نے میزائل لانچرز کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

  8. کرمانشاه میں چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق کرمانشاہ میں چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ کرمانشاہ کے علاقے ڈیزل آباد میں ٹرکوں کی نمائش کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں کم از کم ایک شہری زخمی ہوا۔

  9. اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی: ایران

    ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نے اطلاع دی ہے کہ ایک شخص کو ’انٹیلی جنس تعاون اور اسرائیلی حکومت کے حق میں جاسوسی‘ کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے۔

    میزان نے رپورٹ کیا کہ اسماعیل فکری ولد خدانظر کو 2023 میں ایک پیچیدہ تکنیکی اور انٹیلیجنس کارروائی کے دوران اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ’اسرائیلی حکومت کی جاسوسی اور دہشتگردی سے متعلق سروس‘ سے رابطے میں تھے۔

  10. پاسدارانِ انقلاب کا تازہ حملوں میں اسرائیل کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل پر میزائل حملوں کی تازہ لہر سے متعلق ایک بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی جی آر سی) نے کہا ہے کہ اس کارروائی میں ’نئے طریقۂ کار اور انٹیلیجنس و تکنیکی صلاحیتوں کے استعمال سے دشمن کے کئی تہوں والے دفاعی نظام کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک دوسرے کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔‘

    بیان کے مطابق ’اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیلی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ میزائل اپنے اہداف پر لگنے میں کامیاب رہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ’آئندہ کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدید، مؤثر، درست نشانہ لگانے والی اور تباہ کن ہوں گی۔‘

  11. چین کی اسرائیل اور ایران سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین نے ایک بار پھر اسرائیل اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے پیر کے روز کہا: ’ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کریں جن سے کشیدگی میں کمی آئے، خطے کو مزید بدامنی سے بچایا جا سکے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے صحیح راستے پر واپس آیا جا سکے۔‘

    یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب اتوار کو ایک اور چینی ترجمان نے کہا تھا کہ ’چین کشیدگی کم کرنے کے عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

  12. ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا ہنگامی اجلاس طلب, شبنم شبانی، ویانا

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    آج ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی فوجی حملوں کے اثرات پر غور کیا جائے گا۔

    یہ اجلاس ایران کی درخواست پر بلایا گیا ہے جسے روس، چین اور وینزویلا کی حمایت حاصل ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر اسرائیلی حملوں کی مذمت پر مبنی ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کو اکثریتی حمایت حاصل ہونے کا امکان کم تھا لہذا اب ایران ایک ایسا عمومی بیان چاہتا ہے جس میں اسرائیلی حملوں کی مذمت شامل ہو۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حملے جاری ہیں اور اسرائیل نے نطنز اور فردو میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت جوہری خدشات حل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کو کبھی بھی جائز ذریعہ نہیں سمجھا گیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو ان حملوں کی مذمت کرنی چاہیے۔ تاہم موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

    یہ بھی واضح نہیں کہ اس اجلاس کے کسی ممکنہ نتیجے سے ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کی کوئی راہ نکل سکے گی یا نہیں کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  13. اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ بند، ایران کے تازہ حملوں میں تل ابیب برانچ کو نقصان پہنچا

    U.S. Embassy

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Embassy

    امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے ایران کے تازہ حملوں کے دوران تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کی برانچ کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا ہے۔

    سفیر مائیک ہکابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں کے دھماکوں سے تل ابیب میں سفارتخانے کی عمارت متاثر ہوئی۔

    یروشلم میں واقع مرکزی امریکی سفارتخانہ بھی تاحال بند رہے گا کیونکہ وہاں اب بھی شہریوں کو محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت برقرار ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

  14. ٹرمپ کے پاس اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کی طاقت ہے: سابق اسرائیلی سفارتکار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے سابق سفارتکار الان پنکاس، جو دو اسرائیلی وزرائے اعظم کے مشیر رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

    پنکاس نے ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے میں بتایا کہ ٹرمپ اس پوزیشن میں ہیں کہ تہران کو ایک ایسا معاہدہ پیش کر سکیں جس سے ایران اپنی عزت بچاتے ہوئے امن کی پیشکش قبول کر لے۔ تاہم ’چونکہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اس لیے وہ جنگ جاری رکھنے اور اسرائیل کو زیادہ نقصان پہنچانے پر آمادہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا دوسری طرف صدر ٹرمپ فون اٹھا کر نیتن یاہو سے کہہ سکتے ہیں کہ ’بس بہت ہو گیا، آپ کے پاس اسے ختم کرنے کے لیے 24 گھنٹے ہیں۔‘

    لیکن تاحال معلوم نہیں ہے کہ ٹرمپ ان دونوں میں سے کونسا کام کرنے پر راضی ہوں گے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. اسرائیل کے ایران پر حملے: جوہری و فوجی اہداف کے علاوہ حکومتی عمارتوں، توانائی کے مراکز اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا, ہوگو بچیگا، یروشلم میں مشرق وسطیٰ کے رپورٹر

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آج صبح تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی اسرائیلی شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔۔ اس دوران اسرائیلی فضائی دفاع نے کئی ایرانی میزائل مار گرائے۔

    آج صبح بھی ریسکیو ٹیمیں مرکزی اسرائیل میں ایک عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ شمالی شہر حیفا جو ایک بڑا ساحلی شہر اور تیل کی ریفائنری کا مقام ہے، یہ بھی حملوں کی زد میں آیا۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں تہران میں القُدس فورس کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    لیکن اسرائیل نے ایران پر تازہ ترین حملوں میں جوہری اور فوجی اہداف کے علاوہ حکومتی عمارتوں اور توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے جس سے یہ حکومتی نظام کو کمزور کرنے کی ایک حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔ ایران کے رہائشی علاقے بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

    اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ یہ کارروائی طویل عرصے تک جاری رہے گی جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور یہ کہ وہ حملوں کے دوران مذاکرات نہیں کرے گا۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایران کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ سے اسرائیلی حملوں میں وہاں 220 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. ایران اپنی ’400 کلوگرام سے زائد‘ انتہائی افزودہ یورینیم کہاں محفوظ کر رہا ہے؟ سابق آئی اے ای اے عہدے دار کا سوال

    NurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق نائب ڈائریکٹر جنرل برائے سیف گارڈز اولی ہینو نین نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال واضح نہیں ہے۔

    ہینو نین نے ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ اسرائیل نے تہران کی جوہری صلاحیت کو ممکنہ طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نطنز کے جوہری مرکز کو بحال ہونے میں ’کم از کم چند سال لگیں گے۔‘

    انھوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ فورڈو پلانٹ کی حالت بھی خراب ہے، یہ بمباری کے بعد بہت بری حالت میں ہے۔‘

    لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایران اپنی ’400 کلوگرام سے زائد‘ انتہائی افزودہ یورینیم کہاں محفوظ کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ’اگر ان کے پاس کوئی خفیہ جگہ ہے جو بہت بڑی بھی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ اور وہ وہاں آئی اے ای اے کی نگرانی کے بغیر ہتھیار بنانے کے قابل یورینیم خفیہ طور پر تیار کر سکتے ہیں تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  17. اسرائیل پر حملوں کی قیمت تہران کے شہری چکائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر ایرانی حملوں کی قیمت تہران کے شہری چکائیں گے۔

    اسرائیل پر پیر کی صبح ایرانی حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر شہری علاقوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا ’تاکہ آئی ڈی ایف کو حملہ روکنے پر مجبور کیا جائے جو ان کی صلاحیتوں کو تباہ کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل جلد ہی جوابی کارروائی کرے گا۔

  18. تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد کے مناظر: زخمی بچوں کو اٹھائے شہری سڑکوں پر

    اتوار کو ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں دھواں اٹھتا نظر آیا جس کے باعث شہری سڑکوں پر جمع ہو گئے۔

    اسرائیلی حملوں کے دوران کئی شہری اپنے زخمی بچوں کو اٹھائے سڑکوں پر دوڑتے نظر آئے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  19. ایران میں پھنسے کشمیری طلبا کو محفوظ مقامات کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو - سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے تعلیم کے سلسلے میں ایران گئے ہوئے متعدد طلبہ و طالبات کے لیے آج صبح تہران میں انڈین سفارتخانے سے کئی بسیں بھیجی گئیں ہیں۔

    ایران میں زیرتعلیم طلبا سے کہا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنی یونیورسٹی اور میڈیکل کیمپس سے نکل جائیں۔

    کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اتوار کو انڈین وزیرخارجہ جے شنکر سے ایران میں پھنسے طالب علموں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کے حوالے سے بات کی۔

    تاہم فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے انڈین طالب علم جن میں سے اکثریت کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے، فی الحال واپس نہیں آسکتے۔

    دفتر خارجہ نے تہران میں انڈین ایمبیسی کو ہدایات دیں کہ طالب علموں کو حالات بہتر ہونے تک ہوسٹلز سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

    شہید بہشتی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ایک طلبہ کے والد پروفیسر افروز بساطی نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین کی بڑی تعداد آج صبح تک تشویش میں تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا اپنی بیٹی سے مسلسل رابطہ ہے لیکن تہران میں میزائل حملوں کے بعد کئی علاقوں میں نیٹ ورک بھی معطل ہے۔ ہمارے بچے خطرے سے تو باہر آگئے ہیں اور امید ہے کہ حکومت انھیں جلد ہی واپس لانے کے لیے مناسب اقدامات اُٹھائے گی۔‘

    اتوار کو ہی رکن پارلیمان آغا رُوح اللہ نے ایکس پر یہ انکشاف کیا کہ ان سے ایک ہوسٹل میں پھنسے ایسے چند طالب علموں نے رابطہ کیا تھا جو میزائل حملوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمرفاروق نے بھی ایکس پر لکھا ’تہران سے تکلیف دہ خبر آرہی ہے کہ وہاں ایک ہوسٹل میں کشمیری طالب علم بھی میزائل حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم شکر ہے بچوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔‘

    کئی کشمیری طالب علموں نے سوشل میڈیا پر متعدد اپیلیں بھی کی تھیں کہ انھیں تہران سے نکالا جائے۔

  20. بریکنگ, پیر کے روز ایرانی حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ تک جا پہنچی

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایران کے تازہ میزائل حملوں میں ایک اور شخص ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد گزشتہ رات کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں جن کی عمریں 70 سال کے لگ بھگ تھیں۔

    ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ اس نے 92 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جن میں ایک 30 سالہ خاتون شامل ہیں جن کے چہرے پر شدید زخم ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    چھ افراد کی حالت زیادہ سنگین نہیں اور 85 کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔