ایران اور اسرائیل کشیدگی کا تیسرا روز، ہم اب تک اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران اور اسرائیل کے درمیان رات بھر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یوں دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں اور ایسا کیا ہے کہ جس کے بارے میں ابھی ہمیں معلومات حاصل نہیں ہیں۔
وہ جو ہم جانتے ہیں
رات بھر ایرانی میزائل حملوں سے متعدد اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کم از کم دس اسرائیلی شہری ایرانی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں۔
چند روز قبل اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں۔
گذشتہ روز ایران کے سرکاری ٹی وی پر یہ خبر بھی نشر ہو رہی تھی کہ تہران میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 20 بچوں سمیت 60 شہری مارے گئے ہیں۔
ایران کے دارالحکومت تہران کی تیل کی وزارت کا کہنا ہے کہ شہران آئل ڈپو کو اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔
اس کے باوجود ایران کے مطابق یہ آئل ریفائنری ابھی فعال ہے۔
اسرائیل کے شہر بیت یام میں ہمارے نمائندے نے ہمیں بتایا ہے کہ ابھی بھی ایک دس منزلہ عمارت کے ملبے میں سات افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہم تک یہ خبر پہنچی تھی کہ ایران کے اس عمارت پر میزائل حملے میں چھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
وہ باتیں جن کے بارے میں ابھی ہمیں معلومات نہیں
ہمیں ابھی اس بارے میں درست معلومات حاصل نہیں ہیں کہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں کتنا نقصان ہوا ہے۔ تہران میں آئل ڈپو کے علاوہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان حملوں میں ایران کے انفراسٹرکچر کو ان حملوں میں کتنا نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی حکومت کی پابندیوں کا وجہ سے بی بی سی کے صحافیوں کو ایران نہیں بھیجا جا سکا جس وجہ سے وہاں سے مکمل حقائق تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
بی بی سی مانیٹرنگ کی سارہ جلالی کی خبر کے مطابق ایرانی میڈیا اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کی خوب خبریں نشر کرتا ہے مگر اسرائیل کے ایران پر حملوں سے متعلق بہت کم کوریج ہو رہی ہے۔
اس کا صاف مطلب تو یہی ہے کہ ابھی تک ہمیں ایران کی طرف سے اسرائیل پر جو حملے کیے گئے ہیں ان کے بارے میں باقاعدگی سے معلومات مل رہی ہیں مگر جو اسرائیلی حملوں میں ایران میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان کے بارے میں کچھ واضح نہیں بتایا جا رہا ہے۔




















