’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

خلاصہ

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
  • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
  • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
  • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران اور اسرائیل کشیدگی کا تیسرا روز، ہم اب تک اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    Iran, Israel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران اور اسرائیل کے درمیان رات بھر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یوں دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں اور ایسا کیا ہے کہ جس کے بارے میں ابھی ہمیں معلومات حاصل نہیں ہیں۔

    وہ جو ہم جانتے ہیں

    رات بھر ایرانی میزائل حملوں سے متعدد اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کم از کم دس اسرائیلی شہری ایرانی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    چند روز قبل اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ روز ایران کے سرکاری ٹی وی پر یہ خبر بھی نشر ہو رہی تھی کہ تہران میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 20 بچوں سمیت 60 شہری مارے گئے ہیں۔

    ایران کے دارالحکومت تہران کی تیل کی وزارت کا کہنا ہے کہ شہران آئل ڈپو کو اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔

    اس کے باوجود ایران کے مطابق یہ آئل ریفائنری ابھی فعال ہے۔

    اسرائیل کے شہر بیت یام میں ہمارے نمائندے نے ہمیں بتایا ہے کہ ابھی بھی ایک دس منزلہ عمارت کے ملبے میں سات افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہم تک یہ خبر پہنچی تھی کہ ایران کے اس عمارت پر میزائل حملے میں چھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    وہ باتیں جن کے بارے میں ابھی ہمیں معلومات نہیں

    ہمیں ابھی اس بارے میں درست معلومات حاصل نہیں ہیں کہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں کتنا نقصان ہوا ہے۔ تہران میں آئل ڈپو کے علاوہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان حملوں میں ایران کے انفراسٹرکچر کو ان حملوں میں کتنا نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی حکومت کی پابندیوں کا وجہ سے بی بی سی کے صحافیوں کو ایران نہیں بھیجا جا سکا جس وجہ سے وہاں سے مکمل حقائق تک رسائی ممکن نہیں رہی۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کی سارہ جلالی کی خبر کے مطابق ایرانی میڈیا اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کی خوب خبریں نشر کرتا ہے مگر اسرائیل کے ایران پر حملوں سے متعلق بہت کم کوریج ہو رہی ہے۔

    اس کا صاف مطلب تو یہی ہے کہ ابھی تک ہمیں ایران کی طرف سے اسرائیل پر جو حملے کیے گئے ہیں ان کے بارے میں باقاعدگی سے معلومات مل رہی ہیں مگر جو اسرائیلی حملوں میں ایران میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان کے بارے میں کچھ واضح نہیں بتایا جا رہا ہے۔

  2. اب تک ہماری ساتھی منزہ انوار ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر آپ کو تازہ ترین معلومات پہنچا رہی تھیں۔

    یہاں سے آگے ہمارے ساتھی اعظم خان آپ تک تازہ ترین خبریں پہنچائیں گے۔

  3. ایران اسرائیل تنازع میں برطانوی لڑاکا طیاروں کی شمولیت برطانیہ کو ’جائز ہدف‘ بنا دے گی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی تھنک ٹینک ’ڈپلو ہاؤس‘ کے ڈائریکٹر حامد رضا غلام زادہ کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ کا خطے میں لڑاکا طیارے بھیجنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مداخلت کر رہے ہیں لیکن لڑائی میں شامل ہونے کی صورت میں وہ یقیناً ایران کے لیے ایک جائز ہدف ہوں گے۔ ایران کا مؤقف اس بار بالکل واضح ہے۔‘

    حامد رضا غلام زادہ نے لورا کوئنسبرگ کے سنڈے پروگرام میں گفتگو کی ہے۔

    وہ کوئنسبرگ کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا برطانیہ کی جانب سے خطے میں لڑاکا طیارے بھیجنے کا فیصلہ اسے ایران کا ہدف بنا سکتا ہے؟

    کوئنسبرگ نے پھر پوچھا کہ کیا ایران برطانیہ کو دھمکی دے رہا ہے؟ جس پر غلام زادہ نے کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا۔

    انھوں نے کہا: ’اگر برطانیہ جنگ میں شامل ہونے کا انتخاب کرتا ہے تو پھر یہ وہ قیمت ہے جو اسے ادا کرنا ہوگی۔‘

  4. اسرائیلی حملے کے بعد تہران کا ’آئل ڈپو‘ ابھی بھی فعال ہے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہران کے جس آئل ڈپو کو ہدف بنایا گیا تھا وہ ابھی فعال ہے اور وہاں آئل کی پیداوار اور ترسیل جاری ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد اس ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    اس کے علاوہ اسرائیلی حملوں میں تہران کے فیول ٹینک بھی نشانہ بنے، تاہم وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔

    ایران کے خبر رساں ادارے اثنا کے مطابق ایران کی تیل کی پیداوار اور ترسیل کی ذمہ دار کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس آگ کو دیگر فیول ٹینکوں تک پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے۔

    اثنا نے تصدیق کی ہے کہ ریفائنری میں آپریشن متاثر نہیں ہوئے اور فیول کی سپلائی ابھی معمول کے مطابق کی جا رہی ہے۔

  5. ریسکیو کارکن ملبے تلے پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے وقت سے لڑ رہے ہیں, ٹام بینٹ، بیت یام

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    میں اس وقت بیت یام میں موجود ہوں جہاں چند گھنٹے قبل اس 10 منزلہ فلیٹوں کی عمارت کو ایک ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً سات افراد اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں جن کی تعداد پہلے 35 تھی۔

    انھیں نکالنے کے لیے اب وہ وقت کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔

    عمارت کا ایک پورا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی دیواروں سے ٹیڑھی دھاتیں اور ٹوٹا ہوا کنکریٹ باہر کو نکلا ہوا ہے۔ خاندان اور صحافیوں کے گروہ پولیس ٹیپ کے پیچھے جمع ہیں۔ ریسکیو کی بڑی ٹیمیں ملبے پر مصروف نظر آ رہی ہیں۔

    دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 100 میٹر (328 فٹ) دور واقع اپارٹمنٹ بلاکس کی کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں اور شٹر اکھڑ چکے ہیں۔

    یہ ایرانی حملہ ڈھائی دن کی جنگ میں اسرائیل پر سب سے ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔ لیکن ایران میں جہاں اسرائیل مسلسل حملے کر رہا ہے، ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔

    BBC
  6. یہ حملے کبھی نہ ہوتے اگر امریکہ نے اسرائیل کو اس کی اجازت اور حمایت نہ دی ہوتی: ایرانی وزیر خارجہ کا الزام

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ ان اسرائیلی حملوں میں شراکت دار ہے‘ جو ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے اور کہا کہ امریکہ ’اپنی ذمہ داری خود قبول کرے۔‘

    انھوں نے امریکہ سے اسرائیلی حملوں کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کبھی نہ ہوتے اگر امریکہ نے اسرائیل کو اس کی اجازت اور حمایت نہ دی ہوتی۔

    انہوں نے ٹیلیگرام پر لکھا ’ہمیں مختلف ذرائع سے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ امریکہ کا اس حملے میں کوئی کردار نہیں تاہم ہم اس دعوے پر یقین نہیں رکھتے اور ہمارے پاس اس کے برخلاف شواہد موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کا اگلا دور ایک معاہدے کی راہ ہموار کر سکتا تھا لیکن انھوں نے اسرائیل پر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔

  7. مسلسل تین راتوں کے حملوں کے بعد جوہری معاہدے کی امیدیں ختم ہوتی نظر آتی ہیں, سبیسچین آشر، مشرقِ وسطیٰ ریجنل ایڈیٹر

    آج امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے سے متعلق مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد آج ہونا تھا۔

    اس کے برعکس، تیسری رات بھی اسرائیل نے ایران کے کئی کلومیٹر اندر جا کر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے اسرائیل پر دو بار بیلسٹک میزائل داغے۔

    ایران کی جانب سے جانی نقصان کے تازہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے جا رہے لیکن اسرائیل ایرانی حملوں میں مارے جانے اور زخمی ہونے والوں کی گنتی کر رہا ہے۔

    جانی نقصان اسرائیلی حکومت کے اس عزم کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے کہ وہ ایران اور اس کی قیادت کو سہارا دینے والے عسکری اور اقتصادی ڈھانچے پر مزید سخت حملے کرے۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران میں ہر طرف آگ لگی ہو گی جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا حملہ امریکہ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

    یہ بات ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اہداف پر حملوں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران نے کسی بھی شکل میں امریکہ پر حملہ کیا تو امریکی مسلح افواج ایسی مکمل طاقت اور زور سے ان پر حملہ کرے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا‘ اور انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ’آسانی سے‘ ہو سکتا ہے۔

    محض تین روز قبل تک امریکہ اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری عزائم پر کسی معاہدے کی پیش رفت کا امکان موجود تھا۔ اب اسرائیل اور ایران میں رات کے وقت گونجنے والے دھماکے اور سائرن اس امید کو ختم کرتے نظر آ رہے ہیں۔

  8. ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل میں تباہی کے مناظر

    اسرائیل میں صبح کا وقت ہے اور اب ایران کے میزائل حملوں کے بعد کی تازہ تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔

    رات بھر تہران کی جانب سے جوابی کارروائی میں داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے شمالی اور وسطی اسرائیل کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  9. آئی ڈی ایف کی ایرانیوں کو وارننگ: فوجی تنصیبات کے قریبی علاقوں سے فوراً نکل جائیں

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی تنصیبات اور اس سے منسلک علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔

    ایکس پر اپنی فارسی زبان میں کی گئی پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے کہا ’ایسے تمام افراد جو فوجی اسلحہ بنانے والی فیکٹریوں اور ان کی معاون تنصیبات کے اندر یا آس پاس موجود ہیں، وہ فوراً ان علاقوں کو چھوڑ دیں اور اگلے حکم تک واپس نہ آئیں۔‘

    ’آپ کی ان تنصیبات کے قریب موجودگی آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. اسرائیلی کارروائیوں کا حتمی مقصد تاحال غیر واضح مگر 10 ہلاکتوں کے بعد آج صبح اسرائیل میں بہت سے لوگ صدمے کی کیفیت میں ہیں, ہوگو بچیگا، مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آج صبح اسرائیل میں بہت سے لوگ صدمے کی کیفیت میں ہیں۔۔۔ گذشتہ رات ایرانی میزائل حملوں کے دو مرحلوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں طمرہ شہر میں ایک ہی خاندان کی چار خواتین، بیت یام میں 10 سالہ لڑکا اور آٹھ سالہ لڑکی شامل ہیں۔

    اسرائیلی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ملک کو مشکل دنوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ ایران پر حملوں کی ایک غیر معمولی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ یہ کارروائیاں چند دنوں نہیں بلکہ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں لیکن اس مہم کا حتمی مقصد تاحال واضح نہیں۔

    گذشتہ شب وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اب تک کے حملے اُن کارروائیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جو ایران آئندہ دنوں میں دیکھے گا۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے اس مرحلے تک پہنچ گیا ہے جہاں سے ’واپسی ناممکن‘ ہے اس لیے اسرائیلی کارروائی ناگزیر تھی۔

    تاہم بہت سے مبصرین اس مؤقف پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ایران کئی بار کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے مگر اسرائیل اس دعوے کو ہمیشہ سے مسترد کرتا رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ’وار آف چوائس‘ ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا حل صرف سفارتکاری سے ممکن ہے۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ قبول کرنے کی اپیل کی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی پیشکش کیا ہے۔

    یاد رہے کہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طور پر علیحدگی کا فیصلہ بھی ٹرمپ نے ہی کیا تھا حالانکہ اُس وقت ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا تھا۔

    آج ہونے والے امریکہ ایران جوہری مذاکرات کا نیا دور منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اپنے ’وحشیانہ حملے‘ جاری رکھے گا، کسی بھی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔

  11. ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے قریب شہر بیت یام میں چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ سات افراد لاپتہ ہیں اور امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ایمرجنسی سروسز اور مقامی ہسپتال کے مطابق شمالی عرب شہر طمرہ میں بھی چار افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

  12. ’یہ ایک انتہائی افسوسناک اور مشکل صبح ہے‘ اسرائیلی صدر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ایران کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’یہ ایک انتہائی افسوسناک اور مشکل صبح ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایرانی حملوں‘ میں یہودی اور عرب، اسرائیلی شہری اور نئے آنے والے تارکینِ وطن، بچوں، خواتین، بزرگوں اور مردوں سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    انھوں نے مزید کہا ’میں سوگوار خاندانوں کے غم میں شریک ہوں اور اس المناک نقصان پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لاپتہ افراد کے ملنے کے لیے دعا گو ہوں۔ ہم مل کر سوگ منائیں گے اور مل کر اس پر قابو پائیں گے۔‘

  13. اسرائیل پر حملہ ایران کے ساتھ مشاورت سے کیا گیا: حوثیوں کا دعویٰ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے ’حساس اہداف‘ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ’فوجی آپریشن‘ شروع کیا ہے۔

    اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے حوثی کئی بار اسرائیل پر حملے کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل نے بھی یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    اتوار کو ایک ٹی وی بیان میں حوثی ترجمان نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر کیا گیا حملہ ایران سے ’رابطے‘ کے تحت انجام دیا گیا۔

  14. ایران اسرائیل کشیدگی کا تیسرا روز، دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر فضائی حملے جاری

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تیسرے روز میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں جانب سے رات بھر ایک دوسرے پر حملے کیے گئے۔

    ایران نے وسطی اور شمالی اسرائیل پر میزائل داغے جبکہ اسرائیلی فوج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر کئی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ان حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    تہران کی وزارتِ تیل نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت میں واقع شہران آئل ڈپو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنا۔

    ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل حملے نہ رکے تو ایران کی جوابی کارروائی ’مزید سنگین‘ ہو گی۔

  15. آئی ڈی ایف کا گذشتہ ایک گھنٹے میں سات ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    gettygett

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران اسرائیلی حدود کی جانب سات بنا پائلٹ والے ڈرون بھیجے گئے۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام ڈرونز اسرائیلی فضائیہ اور بحریہ نے کامیابی سے مار گرائے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں آسمان پر ایک دھماکہ دیکھا جا سکتا ہے جسے وہ ایک ڈرون کی تباہی قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  16. ایران اور اسرائیل رات بھر ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے، تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    REuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی ہے اور دونوں ممالک نے رات بھر ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے۔

    اگر آپ ابھی ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں تو گذشتہ چند گھنٹوں میں پیش آنے والے اہم واقعات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • اسرائیلی فوج نے تہران میں مزید حملے کیے ہیں جن میں مبینہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات اور وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایا گیا
    • جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل کے وسطی اور شمالی علاقوں پر ایک اور حملہ کیا ہے
    • اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق وسطی اسرائیل میں حملے کے مقام پر چار افراد ہلاک ہوئے
    • اسرائیلی میڈیا کے مطابق حیفا کے قریب رہائشی علاقے پر میزائل گرنے سے کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’آج رات ایران پر حملے سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے‘
    • ایرانی وزارتِ تیل کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تہران کا شہران آئل ڈپو نشانہ بنا تاہم صورتحال قابو میں ہے
    • بی بی سی کی تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں اسرائیل میں حیفا کی آئل ریفائنری کے قریب آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے جو ایرانی میزائل حملوں کے بعد بھڑک اٹھی
  17. بریکنگ, اسرائیلی فضائیہ کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ: مغربی ایران میں میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

    اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران مغربی ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ تازہ حملے ’اسلحہ ذخیرہ کرنے اور میزائل لانچ کرنے والی تنصیبات‘ پر کیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے یہ خبر ٹیلیگرام پر شیئر کی ہے جس کے ساتھ مبینہ حملوں کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے۔ تاہم بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  18. اسرائیل نے تازہ حملوں کے دوران ایران میں کون سے اہداف کو نشانہ بنایا ہے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنیچر کی رات ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے نئے سلسلے میں ایران کے متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی وزارتِ تیل کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تہران میں شہران آئل ڈپو اور ایک فیول ٹینک کو نشانہ بنایا گیا تاہم دونوں مقامات پر صورتحال قابو میں ہے۔

    وزارتِ تیل نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی صوبے بوشہر میں دو بڑے گیس فیلڈز پر بھی حملے کیے گئے۔

    ایرانی میڈیا اور اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تہران میں وزارتِ دفاع کی ایک عمارت اور اس سے منسلک ’آرگنائزیشن آف ڈیفینسو انوویشن اینڈ ریسرچ‘ کو بھی ہدف بنایا گیا جس سے ایک دفتر کو جزوی نقصان پہنچا۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق ان تمام اہداف کو ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے منصوبے سے وابستگی کے باعث نشانہ بنایا گیا۔

    سنیچر کی رات آئی ڈی ایف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی ایران میں ایک زیرِ زمین مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل اور کروز میزائل ذخیرہ اور لانچ کیے جاتے تھے۔

    آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں اس مقام کا دورہ کرنے والی اعلیٰ شخصیات کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

  19. ’ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے معاہدہ کروا سکتے ہیں‘ ٹرمپ کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تازہ ترین تنازع میں شامل نہیں ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے لکھا ’امریکہ کا آج رات ایران پر حملے سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی مدد کرتے ہیں تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا ’اگر ایران نے کسی بھی شکل میں امریکہ پر حملہ کیا تو امریکی مسلح افواج ایسی مکمل طاقت اور زور سے ان پر حملہ کرے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہو گا۔‘

    تاہم انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے ایک معاہدہ کروا سکتے ہیں اور اس تنازع کا خاتمہ ممکن ہے۔

  20. اسرائیل کا ایران میں ’ریجیم چینج‘ کا ممکنہ آخری داؤ جو ایک جُوا ہو سکتا ہے, عامر اعظمی، بی بی سی فارسی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کا یہ حملہ ایرانی قیادت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

    ان حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور پاسدارانِ انقلاب کے کئی دیگر اعلیٰ سربراہان ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیلی حملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

    ایران نے جوابی کارروائی کی اور پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے 'درجنوں اہداف، فوجی مراکز اور ہوائی اڈوں' پر حملے کیے ہیں۔

    صورتحال تیزی سے خراب ہوئی اور ایران کے جوابی میزائل حملوں کے بعد نتن یاہو نے کہا کہ ’مزید حملے ہونے کو ہیں۔‘

    اس دوران ایران کے مزید رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل اندازہ لگا سکتا ہے کہ حملے اور ہلاکتیں حکومت کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں اور عوامی بغاوت کی راہ کھول سکتی ہیں۔ کم از کم نتن یاہو کو یہی امید ہے۔

    لیکن یہ ایک جوا ہے۔۔۔ ایک بڑا جُوا۔ مکمل تحریر پڑھیے >>