’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘
خلاصہ
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
جمعے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اسرائیلی حکام
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کی نیشنل ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ تازہ ایرانی میزائل حملوں میں رات کے وقت چار افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد جمعے سے جاری حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 19 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا کہ جمعے سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک ملک بھر میں 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی اس حوالے سے اسرائیل اور ایران دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
بریکنگ, ایران کے تازہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق پیر کی صبح اسرائیل پر ایران کے تازہ حملوں میں ایک اور شخص کی ہلاکت ہو گئی ہے۔
جس کے بعد آج ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار ہو چکی ہے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں جن کی عمریں 70 کے قریب تھیں۔
اس کے علاوہ 87 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک 30 سالہ خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایمرجنسی سروس کے مطابق دو مقامات پر امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
گذشتہ چند گھنٹوں میں پیش آنے والے اہم واقعات کا خلاصہ
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی شہر تل ابیب کی ایک عمارت میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے
اس وقت اسرائیل میں صبح کے سات بجے ہیں اور تہران میں 7:30۔
اگر آپ ابھی ہمارے لائیو پیج پر آئے ہیں تو گذشتہ چند گھنٹوں میں پیش آنے والی اہم پیش رفت یہ ہے:
ایران نے اسرائیل کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق یہ حملے اب تک کے ’سب سے بڑے حملے‘ محسوس ہوئے۔
وسطی اسرائیل میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
تل ابیب اور ساحلی شہر حیفا سمیت کئی بڑے اسرائیلی شہروں میں زور دار دھماکے سنے گئے، حیفا میں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے۔
یہ ایرانی حملے اسرائیل کے اتوار کو کیے گئے ان حملوں کا جواب ہیں جن میں ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا اور ایرانی مسلح افواج کے انٹیلیجنس چیف کو ہلاک کر دیا گیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق جمعے سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 224 ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 90 فیصد عام شہری تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جائے لیکن بعض اوقات ممالک کو ’لڑ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے‘۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا ایک اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کینیڈا میں جی سیون ممالک کا سربراہی اجلاس جاری ہے اور دنیا بھر کی نظریں اس وقت اسرائیل اور ایران پر لگی ہوئی ہیں۔
ایران کو ہر حال میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے: یورپی کمیشن کی صدر
،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لائن نے کہا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر بات کی جس میں دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ سفارتی راستہ سب سے بہتر حل ہے لیکن ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
فان ڈیر لائن، جنھوں نے ماضی میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی تھی، اس وقت کینیڈا میں جی سیون اجلاس میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور یوکرین پر روس کے حملے کو ایک ساتھ زیرِ بحث لایا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا: ’ایران کے ڈیزائن اور تیار کردہ ڈرونز اور بیلسٹک میزائل یوکرین اور اسرائیل دونوں کی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘
بریکنگ, پیر کی صبح ایران کے تازہ حملوں میں اسرائیل میں تین افراد ہلاک، 74 زخمی
اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس کے مطابق پیر کی صبح ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں وسطی اسرائیل میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں، تینوں کی عمریں 70 کے قریب تھیں۔
اس کے علاوہ 74 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایمرجنسی سروس کے مطابق دو مقامات پر امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
ایرانی حملوں کے بعد درجنوں افراد اسرائیل کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل
،تصویر کا ذریعہgettyimages
اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس کے مطابق کم از کم 67 زخمی افراد کو وسطی اسرائیل کے چار مختلف مقامات پر واقع ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔
تل ابیب کی فضاؤں میں ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹر راکٹس فائر کیے گئے
بی بی سی کی جانب سے کچھ دیر قبل تل ابیب میں لی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہر کی فضاؤں میں آنے والے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹر راکٹس فائر کیے۔
ایران کے تازہ حملے میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیل کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ایران کے تازہ میزائل حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں:
اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کی صبح ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے تازہ حملے میں ملک کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں بحیرہ روم کے ساحلی علاقے میں واقع ایک رہائشی عمارت بھی شامل ہے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے ’ہوم فرنٹ کمانڈ کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو ایران کے تازہ حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔‘
یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا ہے جب عوام کو محفوظ پناہ گاہیں چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
فائر بریگیڈ کے مطابق ساحلی علاقے کی ایک عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے جہاں امدادی ٹیمیں روانہ ہو چکی ہیں۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس نے حیفا سے جاری کی گئی فوٹیج میں جلتی ہوئی گاڑیاں اور ایک رہائشی عمارت کو دکھایا ہے جس کا اگلا حصہ دھماکے سے اڑ چکا ہے۔
ایمرجنسی سروس کے مطابق ان حملوں میں سات افراد زخمی ہوئے جن میں ایک 72 سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔
پیرا میڈک شیرا گور نے بتایا ہے کہ انھیں شمالی اسرائیل کے ایک شہر بھیجا گیا ہے جہاں ’ایک عمارت اور کئی گاڑیوں میں راکٹ حملے کے باعث آگ لگنے‘ کی اطلاع ملی تھی۔
اسرائیل پر تازہ حملے کی ویڈیو میں عمارتوں کے اگلے حصے تباہ، سڑک پر ملبہ اور جلتی گاڑیاں نظر آ رہی ہیں, جو فلوٹو، مڈل ایسٹ بیورو چیف - یروشلم
،تصویر کا ذریعہgettyimages
مجھے ابھی ابھی حملے کی جگہ سے موصول ہونے والی ویڈیوز دیکھنے کا موقع ملا ہے جن میں عمارتوں کے اگلے حصے مکمل طور پر تباہ نظر آ رہے ہیں۔
سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے اور کچھ گاڑیاں جلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
ایران کے تازہ میزائل حملوں کے بعد تل ابیب میں تباہی کے مناظر
تل ابیب سے موصول ہونے والی تصاویر میں ریسکیو اہلکار پیر 16 جون کی صبح سویرے ایرانی میزائل حملے کی جگہ پر تلاش اور امدادی کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس وقت تل ابیب میں صبح کے 5:30 اور تہران میں 6:00 بجے کا وقت ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل میں رات بھر میزائل حملوں کا خدشہ رہا, جو فلوٹو، مڈل ایسٹ بیورو چیف - یروشلم
پوری رات اسرائیل کے شہری ممکنہ میزائل حملوں کے لیے الرٹ رہے۔ تقریباً رات ایک بجے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ایران میں میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور شہریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں کے قریب چلے جائیں۔
چار گھنٹے بعد ایران کی جانب سے شدید ردِعمل آیا جو اب تک کے سب سے بڑے حملے جیسا محسوس ہوا۔
ملک کے بیشتر حصوں میں سائرن بجنے لگے جس کے فوراً بعد کئی منٹ تک دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جو اتنی شدید تھیں کہ جس عمارت میں، میں موجود تھا وہ لرز گئی۔
تل ابیب پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کی تصاویر
ہمیں ابھی ابھی تل ابیب میں رات کے وقت داغے گئے ایرانی میزائلوں کی تصاویر موصول ہوئی ہیں۔
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغنے کے ایک اور مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی حملوں کے بعد حیفا میں متعدد افراد زخمی، اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق ایران کے تازہ حملوں کے بعد اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ شہر تل ابیب سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے مقام پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔
بی بی سی اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے بعد ’متعدد متاثرہ مقامات‘ پر امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
12 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا: اسرائیلی ایمبولینس سروس
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ ایران کے تازہ میزائل حملوں کے بعد 12 زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
بی بی سی اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں تل ابیب کے مختلف مقامات پر تفتیش اور تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کے میزائل حملوں کے بعد تل ابیب میں زوردار دھماکوں اور سائرن کی آوازیں, آکریتی تھپر، بی بی سی ورلڈ
،تصویر کا ذریعہReuters
کچھ دیر قبل تل ابیب میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ 15 سے 30 منٹ میں سائرن بجنے کا امکان ہے، جس کے بعد ہم نے حفاظتی جگہ کے قریب پناہ لی۔ تاہم چند ہی دیر بعد سائرن بجنے لگے اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اب مختلف نوعیت کی سائرن کی آواز مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ ایمبولینس متاثرہ مقام کی جانب دوڑ رہی ہیں۔ فضا میں دھوئیں اور جلن کی بو محسوس ہو رہی ہے۔
دور سے جنوب کی جانب دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
بریکنگ, ایران کا اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔‘
عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور اگلی اطلاع تک وہیں رہیں۔
اسرائیل ایران کشیدگی: عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اسرائیل
اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد پیر کے روز عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں
اضافہ ہوا ہے۔
ایشیا میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت دو ڈالر سے زیادہ یعنی 2.8 فیصد بڑھ کر 76.37 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً دو ڈالر بڑھ کر 75.01 ڈالر ہو گئی۔
یہ اضافہ جمعے کے روز سات فیصد قیمت بڑھنے کے بعد ہوا۔
تاجروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کی لڑائی سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
خیال رہے تیل مہنگا ہونے سے گاڑی میں پیٹرول بھروانے سے لے کر کھانے پینے کی چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں بھی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
اوگراہ کی جانب سے اتوار کی رات جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں چار روپے 80 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں سات روپے 95 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ایران اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے جاری: اب تک کی خبروں کا خلاصہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار اب سے دوپہر دو بجے تک آپ کے ساتھ ہیں اور تازہ ترین معلومات سے آپ کو باخبر رکھیں گی۔
گذشتہ چند گھنٹوں میں ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیل نے ایرانی مسلح افواج کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ایرانی حملوں میں اسرائیل میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رات بھر کی خبروں کا خلاصہ اور اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
ایران میں:
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق جمعے سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تہران میں شدید ٹریفک دیکھی جا رہی ہے کیونکہ لوگ شہر چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کے روز آئی جی آر سی کے انٹیلیجنس یونٹ کے سربراہ ہلاک ہو گئے۔
اسرائیل میں:
ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل داغے ہیں۔ حیفا، تل ابیب اور یروشلم جیسے شہروں میں دھماکوں اور زور دار آوازوں کی اطلاع ملی ہے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک بھر میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی تاحال اس حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
دیگر مقامات پر کیا ہو رہا ہے؟
امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے ایک اسرائیلی منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران میں حکومت کی تبدیلی اس تنازعے کا ممکنہ نتیجہ ہو سکتی ہے۔‘
اسرائیلی حملوں کے دوران جنگ بندی پر بات چیت کے لیے تیار نہیں: ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں
ادارے روئٹرز کے مطابق ایران نے قطر اور عمان کو بتایا ہے کہ وہ اسرائیل کے حملوں کے
دوران جنگ بندی پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
نام ظاہر
نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ ’ایرانیوں نے قطری اور عمانی ثالثوں کو مطلع
کیا ہے کہ وہ ایران پر اسرائیل کے پہلے کیے جانے والے حملوں پر اپنا ردعمل مکمل کرنے
کے بعد سنجیدہ مذاکرات شروع کریں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایران کے میزائلوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
ان کے بقول ایران ان مقامات سے زمین یا سمندر سے میزائل داغ سکتا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’آئی ڈی ایف اس وقت وسطی ایران میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘
انھوں نے لکھا ’ہم اپنی اور ایرانی فضاؤں میں اس خطرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔‘
بلوچستان میں ایران سے ملحق سرحدی علاقوں پر کراسنگ پوائنٹس کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے حکام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں سے آمد و رفت کے لیے کراسنگ پوائنٹس کو تاحکم ثانی بند کیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ کراسنگ پوائنٹس بند کیے جانے کے بعد ایران کے حالات کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخلے پر پابندی ہے جبکہ ان سے ایران سے پاکستانی شہریوں کے واپس آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
اگرچہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار اور وہاں سے آنے والی اشیاء پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے تاہم سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایرانی اشیاء بالخصوص تیل اور گیس کی آمد بند ہوگئی ہے جس سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر دور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ شہر میں بھی پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے لیکن کوئٹہ میں شہر میں ایرانی تیل کی فروخت پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے پابندی عائد کی گئی تھی۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’کوئٹہ شہر میں تیل کی کوئی قلت نہیں ہے اور ایسی افواہیں ایرانی تیل سے وابستہ سمگلرز کی جانب سے پھیلائی جا رہی۔‘
سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بارے میں سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
ایران سے متصل ضلع گوادر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق، حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ گوادر نے گبد-کلاتو 250 بارڈر پر راہداری کو تا حکمِ ثانی بند کر دیا ہے۔
اعلامیے میں عوام سے درخواست کی گئی کہ وہ تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی معلومات یا رہنمائی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
دریں اثناء ایران سے متصل دوسرے ضلع پنجگور کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر چیدگی اور جیرک پروم بارڈر کے تمام پیدل آمد و رفت کے راستے تا حکم ثانی بند رہیں گے۔
بلوچستان کے ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں گوادر اور پنجگور کے علاوہ کیچ ، واشک اور چاغی شامل ہیں۔ باقی اضلاع کے حکام کی جانب سے بھی پاکستان کی جانب سے لوگوں کی ایران میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
جب اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد زہری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی صرف پاکستان سے ایران جانے کے لیے تاحکم ثانی عائد کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستانی شہری ایران سے آرہے ہیں ان کے پاکستان میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ ایران کے ساتھ جو کاروبار ہورہا ہے اس پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔‘
ایرانی پیٹرول اور گیس کی بندش
ایران سے متصل ضلع واشک کے سرحد شہر ماشکیل میں انجمن تاجران کے صدر کبیرریکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہاں سے گُزر کے نام سے تیل اور گیس لانے کے لیے جو کراسنگ پوائنٹ تھا اس کو بھی بند کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن گاڑیوں کو تیل اور گیس لانے کے لیے جو پرمٹس جاری کیے گئے تھے ان کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔
کبیر ریکی کا کہنا تھا کہ ماشکیل سمیت بلوچستان کے دیگر سرحدی شہروں میں ایران سے آنے والی خوراکی اشیاء پر پہلے سے پابندی عائد تھی لیکن تیل اور گیس کی بندش کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں تیل اور گیس کا ایک بڑا بحران پیدا ہوگا۔
انھوں نے ضلع واشک کی انتظامیہ سے اپیل کی وہ ایرانی تیل اور گیس کی آمد پر پابندی کو فوری طور پر ختم کریں تاکہ لوگوں کو ایندھن کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی یار جان بادینی کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی بندش سے نوشکی میں ایرانی تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جبکہ وہاں پاکستانی کمپنیوں کا تیل دستیاب نہیں۔
بلوچستان کے سرحدی اضلاع اور ان سے متصل دیگر اضلاع میں طویل عرصے سے پاکستانی کمپینوں کے پیٹرول پمپس بند ہیں جس کی وجہ سے وہاں سرکاری گاڑیوں کا انحصار بھی ایرانی تیل پر ہے۔
جہاں بلوچستان کے سرحدی شہروں کے علاوہ دیگر علاقوں کا انحصار ایرانی تیل اور ایل پی جی گیس پر ہے وہاں بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں روزانہ ایرانی ایل پی جی لیکر ٹینکرز پنجاب اور سندھ کے لیے جاتے ہیں۔
بلوچستان میں مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ ایرانی تیل کی بندش یا اس کی آمد میں کمی سے ان کی قیمتوں میں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دیگر علاقوں کی طرح کوئٹہ شہر میں بھی سستا ہونے کی وجہ سے لوگوں بالخصوص کم آمدنی والے طبقات کا انحصار ایرانی پیٹرول پر تھا۔