بشار الاسد اور ان کی فیملی شام سے ماسکو پہنچ چکے ہیں جہاں انھیں پناہ دی جائے گی: روسی سرکاری میڈیا
روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔ بی بی سی تاحال ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔
خلاصہ
روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بشارالاسد نے اپنا عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل تنازع میں شریک تمام مسلح گروہوں سے بات چیت کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد اپنا ملک چھوڑ کر کہیں کسی اور ملک جا چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم کے آخر وہ کس ملک گئے ہیں؟
باغی گروہ ہیئت تحریر شام کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی صورت میں‘ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ باغی گروہ ہیئت تحریر شام کے عسکری آپریشن کی ’منصوبہ بندی لمبے عرصے پہلے کی گئی تھی۔‘
اقوامِ متحدہ کے نمائندہ برائے شام گیئر پیڈرسن نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت ’فوری سیاسی مذاکرات‘ ہونے چاہییں۔
لائیو کوریج
پیشکش: محمد صہیب اور اعظم خان
باغیوں کا حمص پر قبضے کے بعد دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام میں بشارالاسد مخالف باغیوں نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر
دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوجیں دارالحکومت دمشق میں داخل ہو رہی ہیں دوسری جانب باغیوں
کے شام کے تیسرے بڑے شہر حمص پر قبضے کی بھی اطلاعات ہیں۔
باغیوں کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے ملک کے تیسرے بڑے شہر حمص کا کنٹرول سنبھال
لیا ہے۔
ابو محمد الجولانی نے اسے ایک تاریخی وفتح قرار دیتے ہوئے اپنے
حامیوں کو کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کو نقصان کو نہ پہنچائیں جو ہتھیار ڈال دے۔
بی بی سی تاحال ان کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا
ہے۔
شام کی وزارتِ دفاع نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے
ہوئے کہا ہے کہ حمص کی صورتحال ’مستحکم اور محفوظ‘ ہے۔
شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن
رائٹس کے مطابق بشارالسد مخالف باغی حمص میں داخل ہو چکے ہیں اور شہر کے کئی
علاقوں کا کنٹرول اب ان کے ہاتھ میں ہے۔
باغی کمانڈر حسن عبدالغنی کا کہنا ہے کہ شام کی بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل سے تقریباً ساڑھے تین ہزار قیدیوں کو رہا کروایا جا چکا ہے۔
اگر حمص باغیوں کے کنٹرول میں چلا گیا ہے تو اس سے دمشق کا
ساحلی علاقے سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔
کسی صورت میں بھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے: شامی باغی گروہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلامی باغی گروہ ہیئت
تحریر شام کا کہنا ہے کہ ان کا شامی حکام کے پاس موجود ’کیمیائی ہتھیار‘ استعمال
کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے
مطابق باغی گروہ کا کہنا تھا کہ وہ ’کسی بھی صورت میں‘ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال
نہیں کریں گے۔
خیال رہے ہیئت تحریر شام ملک
میں حکومت مخالف کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے اور یہ گروہ حلب، حماہ اور درعا
شہروں پر قبضہ کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق باغی فورسز
دارالحکومت دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں اور شام کے تیسرے بڑے شہر حمص میں بھی داخل
ہوچکی ہیں۔
ہیئت تحریر شام کو اقوام
متحدہ، امریکہ اور ترکی سمیت متعدد مالک نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
ماضی میں اس کا نام جبھہ النصرہ تھا اور یہ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم تھی، تاہم
بعد میں اس گروہ نے القاعدہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس کا نام تبدیل کر کے
ہیئت تحریر شام رکھ دیا گیا۔
روس کسی دہشتگرد گروہ کو شام کا کنٹرول نہیں سنبھالنے دے گا: وزیر خارجہ
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس کسی دہشتگرد گروہ کو شام
کا کنٹرول حاصل نہیں کرنے دے گا۔
روسی وزیرِ خارجہ نے قطر
میں ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باغی
گروہ ہیئت تحریر شام کے عسکری آپریشن کی ’منصوبہ بندی لمبے عرصے پہلے کی گئی تھی
اور یہ طاقت کا توازن بگاڑنے اور گراؤنڈ پر صورتحال تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ روس
باغی گروہ کی پیش قدمی کی ’ہر ممکن اقدام کے ذریعے مخالفت کرے گا۔‘
خیال رہے روس صدر بشار
الاسد کا قریبی اتحادی ہے اور برسوں سے شامی حکومت کی مدد کرتا آیا ہے۔
شام کے صدر بشار الاسد کہاں ہیں؟, سبیسٹین اُشر، ایڈیٹر برائے عرب امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے دارالحکومت دمشق پر
اس وقت خوف اور غیریقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں، باغی فورسز قریب پہنچتی جا رہی
ہیں اور ایسے میں لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہاں آخر ہو کیا رہا ہے۔
دمشق کے نواحی علاقوں میں
اسد خاندان کی طاقت کی نشانی سمجھی جانے والی علامات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ ملک
کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت کے اطراف میں ’آہنی دیوار‘
کھڑی کردی ہے۔
لیکن اب تک سرکاری افواج
دیگر شہروں اور قصبوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہوئی ہیں اور کئی علاقے متعدد باغی
گروہوں کے کنٹرول میں جا چکے ہیں۔
دوسری جانب صدر بشار الاسد
کہاں ہیں اس حوالے سے بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لوگ ملک میں آنے اور جانے والی
پروازوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کہیں ملک کے صدر دمشق چھوڑ کر
تو نہیں چلے گئے۔
تاہم ان صدر کے دفتر سے
جاری بیان میں بشار الاسد کے دمشق چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا
ہے کہ وہ دارالحکومت میں ہی اپنے کام میں مصروف ہیں۔
تاہم صدر بشار الاسد ابھی
تک کہیں نظر نہیں آئے ہیں۔
شام کی صورتحال: اقوامِ متحدہ کے نمائندے کا ’فوری سیاسی مذاکرات‘ کا مطالبہ
اقوامِ متحدہ کے نمائندہ
برائے شام گیئر پیڈرسن نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار
کی منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت ’فوری سیاسی مذاکرات‘ ہونے
چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی
ایران، روس، ترکی، امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین کے نمائندوں سے
گفتگو ہوئی ہے اور سب ہی نے ’ان کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھیں
امید ہے کہ وہ ’بہت جلد‘ ان مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی: شام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ ابھی ابھی شام کی
صورتحال کے بارے میں پڑھنے بیٹھے ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ:
شام میں باغی گروہ شمال
اور جنوب کے اطراف سے ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
صدر بشار الاسد کے دفتر سے
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دمشق میں ہی موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے
والی ویڈیوز میں دمشق کے نواحی علاقے میں مظاہرین کو صدر بشار الاسد کے والد کا
مجسمہ توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے امریکہ
میں بی بی سی کے پارٹنر میڈیا ادارے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ دمشق کے ’نواحی
علاقے باغیوں کے کنٹرول میں آ رہے ہیں۔‘
شام کے وزیرِ داخلہ کا
کہنا ہے کہ دمشق کے گرد ’انتہائی مضبوط فوجی حصار‘ قائم کیا گیا ہے اور کوئی بھی
اسے عبور نہیں کر پائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج
کا کہنا ہے کہ وہ شام میں حملے کی زد میں آنے والی اقوامِ متحدہ کی فوج کی ’حملہ
پسپا کرنے میں مدد کر رہا ہے۔‘
دمشق کے گرد قائم ’بہت مضبوط‘ سکیورٹی حصار کو کوئی عبور نہیں کرسکتا: شامی وزیرِ داخلہ
شام میں باغی جنگجو ملک کے
اہم شہر حمص میں داخل ہو چکے ہیں اور اس وقت وہاں ان کے اور سرکاری فوج کے درمیان
شدید لڑائیاں جاری ہیں۔
ایسے میں یہ اطلاعات بھی
گردش کر رہی ہیں کہ باغی جلد ہی ملک کے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا ارادہ
رکھتے ہیں۔ شام کے وزیرِ داخلہ محمد الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز
نے دمشق کے گرد ’بہت مضبوط‘ حصار بنا رکھا ہے اور کوئی بھی اسے پار نہیں کر پائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے
مطابق شام کے سرکاری ٹی وی چینل کے ذریعے بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محمد الرحمان
کا کہنا تھا کہ ’دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں انتہائی مضبوط سکیورٹی اور عسکری
حصار بنایا گیا ہے اور کوئی بھی اس دفاعی لائن اور فوج کو عبور کرکے کسی عمارت میں
داخل نہیں ہوسکتا۔‘
شام میں باغی ’انسانہ مذبح خانہ‘ کے نام سے مشہور صیدنایا جیل کے قریب پہنچ گئے: رپورٹ, ڈیوڈ گرٹن، بی بی سی نیوز
اطلاعات کے مطابق شام میں
باغی ملک کے بدنام زمانہ جیل صیدنایا کے قریب پہنچ گئے ہیں جہاں صدر بشار الاسد کے
مخالفین پر مبینہ طور پر بدترین تشدد اور انھیں موت کے گھاٹ اُتارا جاتا رہا ہے، ممکن
ہے کہ وہاں اب بھی ہزاروں افراد قید ہوں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے
والی تصاویر میں باغی جنگجوؤں کو جیل کے قریب دیکھا جا سکتا ہے جو کہ شامی
دارالحکومت دمشق کے شمال میں 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔
باغیوں کے حامی خبر رساں
اداروں کے مطابق شامی فوج کی 127ویں بریگیڈ کو صیدنایا جیل کے دفاع پر مامور کیا
گیا تھا لیکن اب وہ بھی علاقہ چھوڑ کر جا چکی ہے۔
ٹیلی گرام پر باغیوں کے
حامی ایک چینل پر موجود پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ صیدنایا ’ہماری آنکھوں کے سامنے ہے
اور خدا نے چاہا تو قیدیوں کو جلد ہی آزاد کروالیا جائے گا۔‘
ٹیلی گرام پر ایک اور پوسٹ
میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی مذبح خانہ مجاہدین کی نگاہوں کے سامنے ہے۔‘
سنہ 2017 میں ایمنیسٹی
انٹرنیشنل نے سب سے پہلے صیدنایا جیل کے لیے ’انسانی مذبح خانہ‘ جیسے الفاظ
استعمال کیے تھے کیونکہ ایسے الزامات سامنے آئے تھے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران
اس جیل میں پانچ برسوں کے دوران پانچ ہزار سے 13 ہزار افراد کو قتل کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے لیے کام
کرنے والی تنظیم کا الزام ہے کہ صیدنایا جیل میں ہونے والے اقدامات کی ہدایات شامی
حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے جاری کی تھیں۔
شامی حکومت نے ایمنسٹی
انٹرنیشنل کے دعوے کو ’بے بنیاد‘ اور ’حقیقت سے عاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جیل
میں تمام سزائیں قانونی عمل کے تحت دی گئیں تھیں۔
شامی باغی حمص میں داخل اور شدید لڑائی جاری، بشار الاسد کی دمشق چھوڑنے کی خبروں کی تردید
،تصویر کا ذریعہReuters
شامی باغی ملک کے اہم شہر حمص میں داخل ہو گئے ہیں اور اس وقت شدید لڑائی جاری ہے۔ صدر بشار الاسد نے دمشق چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
یہ باغی اس وقت دمشق کے شمال اور جنوب کی طرف سے دارالحکومت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حمص شہر میں داخل ہو چکی ہیں۔
دوسری طرف شام کے صدر بشاالاسد کے دفتر نے دارالخلافہ سے فرار ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں صدر بشارالاسد کے فرار کی خبروں کو افوا اور جھوٹی خبر ہے کیونکہ صدر بشارالاسد دمشق میں موجود اپنے کام میں مگن میں ہیں۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’شام میں اس وقت بری صورتحال ہے مگر وہ ہمارے دوست نہیں ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
باغی اس وقت کہاں کہاں قابض ہیں؟
جنوبی شام میں باغی فورسز نے ملک کے اہم علاقے درعا کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سنہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک نے جنم لیا تھا۔
شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق ’مقامی گروہ‘ سرکاری فوج کے ساتھ شدید لڑائیوں کے بعد علاقے میں متعدد عسکری مقامات کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغیوں سے قریب ذرائع نے انھیں بتایا کہ جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کو علاقے سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شام کا دارالحکومت اس علاقے سے صرف 100 کلومیٹر دور ہے۔
شامی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں حمص شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے اطراف میں فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
جنوبی شام میں باغی فورسز نے ملک کے اہم علاقے درعا کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سنہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک نے جنم لیا تھا۔
شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق ’مقامی گروہ‘ سرکاری فوج کے ساتھ شدید لڑائیوں کے بعد علاقے میں متعدد عسکری مقامات کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغیوں سے قریب ذرائع نے انھیں بتایا کہ جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کو علاقے سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شام کا دارالحکومت اس علاقے سے صرف 100 کلومیٹر دور ہے۔
شامی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں حمص شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے اطراف میں فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سنہ 2017 میں انھوں اس تںظیم کا نام تبدیل کر کے ہیئت تحریر شام رکھ دیا۔
جنوبی کوریا میں مارشل لا نافذ کرنے والے صدر مواخذے سے بچ گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کے خلاف مواخدے کا بل پارلیمنٹ سے منظور نہ ہو سکا یوں وہ اب بھی صدارت کے منصب پر فائز رہ سکیں گے۔
ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے 200 ووٹ درکار تھے مگر اس بل کے حق میں 197 ووٹ سامنے آئے۔ حکمران جماعت نے اس ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ اگر پی پی پی یعنی پیپل پاور پارٹی کے کم از کم آٹھ بھی ارکان اس بل کی حمایت میں ووٹ دیتے تو صدر یون کے خلاف دو تہائی اکثریت حاصل ہو جاتی اور یوں انھیں اپنی صدارت سے ہاتھ دھونے بھی پڑ سکتے تھے۔
جنوبی کوریا کے صدر نے پورے ملک کو اس وقت حیران کر دیا جب منگل کی رات اچانک ہی انھوں نے اس ایشیائی جمہوریت میں تقریبا 50 سالہ بعد پہلی بار مارشل لا لگانے کا اعلان کیا۔
یون سوک یول کا یہ انتہائی اقدام، جس کا اعلان رات دیر گئے ٹی وی پر نشر کیا گیا، بظاہر ریاست مخالف قوتوں اور شمالی کوریا کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیا تاہم جلد ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ اس کی اصل وجہ بیرونی خطرات نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی مشکلات تھیں۔
تاہم اس اعلان کے بعد ہزاروں لوگ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہو گئے اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی مارشل لا ختم کروانے کے لیے ایمرجنسی ووٹ دینے پہنچے۔
چند ہی گھنٹوں کے اندر شکست خوردہ صدر نے پارلیمنٹ کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
جنوبی کوریا کے صدر پر کیا دباؤ تھا؟
صدر یون مئی 2022 میں برسر اقتدار آئے تھے اور انھیں سخت گیر قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اپریل میں اپوزیشن کی انتخابات میں کامیابی کے بعد سے ان کی صدارت کمزور ہو چکی تھی۔
حکومت اپنی مرضی سے قانون سازی کرنے میں ناکام رہی اور لبرل اپوزیشن کی جانب سے منظور کردہ بلوں کو ویٹو کی طاقت سے رد کرتی رہی۔
صدر کی عوامی حمایت میں بھی کمی آئی جو 17 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔ رواں سال صدر یون متعدد کرپشن سکینڈل کی زد میں بھی رہے جن میں سے ایک میں الزام تھا کہ ان کی اہلیہ نے ایک مہنگا بیگ بطور تحفہ وصول کیا جبکہ ایک اور سکینڈل سٹاک میں ہیرا پھیری کا بھی ہے۔
گزشتہ ماہ صدر نے سرکاری ٹی وی پر معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ اور خاتون اول کے فرائض پر نظر رکھنے کے لیے ایک دفتر قائم کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے اپوزیشن کی جانب سے تفتیش کے مطالبے کو رد کر دیا۔
پی آئی اے کا 10 جنوری 2025 سے اسلام آباد سے پیرس کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے نے اگلے ماہ 10 تاریخ سے اسلام آباد سے براہ راست پیرس کے لیے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی آئی اے کی انتظامیہ کے مطابق ہفتے میں دو دن پی آئی اے کی پرواز انتہائی پرکشش کرائے کے ساتھ اب دستیاب ہو گی۔
واضح رہے کہ تقریباً ساڑھے چار سال بعد یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے پاکستان کی قومی ایئر لائنز پی آئی اے سمیت نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کے یورپ میں فلائٹ آپریشن سے پابندی اٹھائی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پی آئی اے پر یورپی ممالک کے لیے پروازوں پر عائد پابندی ختم کرنے کے یورپی یونین کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@Official_PIA
یاد رہے کہ جون 2020 میں اُس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ کمرشل پائلٹس کی ایک بڑی تعداد نے ’مشکوک لائسنس‘ حاصل کر رکھے ہیں۔
جس کے بعد یکم جولائی 2020 کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو چھ ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
بعد ازاں آٹھ اپریل 2021 کو یورپین یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر پابندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔
اس پابندی کے خاتمے کے بعد پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یکم جولائی 2020 سے لگنے والی پابندی ختم ہونے کے بعد پاکستانیوں کو اب براہ راست فلائٹ کے ذریعے کئی ممالک میں جانے کا موقع ملے گا۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ اب پاکستانی مسافر مہنگے ٹکٹ اور متبادل فلائٹس کے جھنجھٹ اور خواری سے بھی بچ جائیں گے۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 22 شدت پسند ہلاک، چھ سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج نے خیبرپختونخوا کے مختلف
علاقوں میں 22 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ فائرنگ سے سیکورٹی فورسز کے چھ اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ اور سات تاریخ کو سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں ضلع ٹانک کے علاقے گل امام میں شدت پسندوں کی موجودگی سے
متعلق خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشنز کیے۔ اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانے کا درست تعین
کیا گیا اور فورسز نے چھ شدت پسند مار دیے جبکہ چھ عسکریت پسند زخمی بھی
ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک اور آپریشن میں دس شدت پسند
مارے گئے ہیں۔
فوج کے مطابق ایک
تیسرے آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے ضلع تھل میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی
طرف سے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تین شدت
پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ فوج کے مطابق اس آپریشن میں چھ فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
میں فُل آخر تک بشریٰ بی بی کے ساتھ تھا: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی وضاحت
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ابھی سول نافرمانی کی تحریک کا فیصلہ نہیں ہوا، ابھی مذاکرات ہونے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک کی خاطر مذاکرات کر رہے ہیں، اگر حکومت مذاکرات نہیں کرتی تو ہم بہت آگے بڑھ چکے ہیں یہ سختیاں ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتیں۔‘ سول نافرمانی سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ابھی اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ان کی عمران خان سے ملاقات ہونی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں فُل آخر تک بشریٰ بی بی کے ساتھ تھا، کسی اور کے بارے میں اگر ان کی یہ رائے ہے تو یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور ان سے ہی اس کے بارے میں پوچھیں۔‘
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو ڈی چوک کے احتجاج کے بعد پہلی بار جمعے کے روز منظر عام پر آئیں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اتنے دنوں سے اتنی تکلیف میں تھی کیونکہ اتنی شہادتیں ہوئیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پتا نہیں لوگ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں، میں بھاگنے والی عورت نہیں ہوں اور جو خان کے لیے نکلے ان کو تو بالکل میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔‘
بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں وہاں سے نہیں ہٹی تھی کیونکہ خان نے ہٹنے کا نہیں کہا تھا، میں نے سب کو کہا تھا مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا، میں نے صرف آپ کو بتانا ہے کہ میں وہاں اکیلی تھی، مجھے سب نے چھوڑ دیا تھا، بہت سے لوگ گواہ ہیں، جو لوگ روڈ خالی کرا رہے تھے وہ بھی گواہ ہیں۔‘ تاہم بشری بی بی نے یہ نہیں بتایا کہ کیا خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
بشریٰ بی بی چارسدہ میں تحریک انصاف کے اسلام آباد دھرنے میں ہلاک ہونے والے تاج الدین کے گھر گئیں جہاں انھوں نے ورثا سے تعزیت کی۔
علی امین گنڈاپور نے سنیچر کو میڈیا کو مزید بتایا کہ ’ڈی چوک میں ہمارے کارکنوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔ حکومت نے دفعہ 245 لگا کر ہمارے لوگوں کا قتل کرایا، 12 ورکرز شہید اور 107 ورکرز کا ابھی تک پتہ نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرا میڈیا سے گلہ ہے کہ اس نے 12 جنازے نہیں دکھائے۔‘
علی امین نے کہا کہ ’لاپتہ ورکرز سے متعلق تحفظات ہیں، ہزاروں کارکن گرفتار اور زخمی ہیں، کارکنوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘ ان کا کہنا تھا محمود غزنوی اور پانی پت جنگ کی طرح حملے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پانچ حملے ہم نے کر لیے ہیں، جس طرح محمود غزنوی نے 17 حملے کیے ہم بھی اسی طرح حملے جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کی آزادی میں پشتونوں کا کردار تھا، پشتون کشمیر آزاد کراتے ہیں تو ٹھیک اور اپنی آزادی کے لیے لڑیں تو غلط؟ فرنٹ لائن پر لڑتے ہیں اور لڑیں گے، ہم شیر ہیں اور شیر رہیں گے۔
وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مل کر گیم کی ہے، یہ ملک کے اندر نفرتیں پھیلا کر خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں، حکومت نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا ہوا ہے۔‘
گورنر کے پی کی جانب سے بلائی گئی اے پی سی پر انھوں نے کہا کہ ایسے شخص نے اے پی سی بلائی جس کا کوئی کردار نہیں، گورنر ویلا منڈا ہے ان کی اے پی سی کو نہیں مانتا۔
مولانا فضل الرحمان کی مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری کے لیے حکومت کو ایک دن کی مہلت
،تصویر کا ذریعہJUI
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری سے متعلق حکومت کو ایک دن کی مہلت دے دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سیدھی نہیں ہوتی تو کل اسرائیل مردہ باد کے ساتھ حکومت مردہ باد کے نعرے لگیں گے۔
نوشہرہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس رجسٹریشن بل پر اتفاق ہو گیا تھا مگر بعد میں پھر اس کی منظوری کا عمل روک دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ لاہور میں جس اجلاس میں اس حوالے سے اتفاق ہوا تھا اس میں خود صدر مملکت آصف زرداری بھی موجود تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب جو اس بل پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں ان پر ہم بالکل کوئی غور نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ریاست سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، ہم کہتے ہیں ہماری رجسٹریشن کریں، بینک اکائونٹ کھولیں، لیکن آپ ہمارے اکاؤنٹ بند کردیتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ رجسٹرڈ مدارس بہتر ہیں یا غیر رجسٹرڈ؟ لائسنس یافتہ اسلحہ غیرقانونی ہتھیاروں سے بہتر ہوتا ہے۔‘
صدر مملکت آصف زرداری نے مدارس سے متعلق ایک بل مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ جس کے بعد جے یو آئی کے رہنماؤں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کی بھی بات کی تھی۔ جمعے کو مولانا فضل الرحمان نے یہ وضاحت بھی جاری کی تھی کہ ابھی مدارس رجسٹریشن کے معاملے پر لانگ مارچ سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26 ویں ترمیم میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل میں بغیر کسی تبدیلی کے ہم نے اسے قبول کیا، تاہم اب تک یہ بل ایکٹ نہیں بن سکا، پی پی اور مسلم لیگ ن نے ایک فریق بن کر ہم سے ایک مہینہ مذاکرات کیے اور مجھے ’انگیج‘ رکھا، لیکن اب تک مدارس کے حوالے سے قانون سازی نہیں کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ مدارس کو مسلسل دباؤ میں رکھا جا رہا ہے اور حکومت مدارس کو شدت پسندی کی جانب دھکیل رہی ہے، یہ تو ہم ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے آئین پاکستان کے ساتھ چلنا ہے، آپ الزام لگا کر ہمیں بدظن کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مدارس کو اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کی ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا، آپ نے ہمارے خلاف جنگ شروع کردی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’اب تک آپ کے ہاتھ جو مدارس آئے ہیں، آپ نے ان کا خاتمہ کرکے چھوڑا ہے، مزید یہ چاہتے ہیں کہ ہم اور مدارس ان کو دے دیں۔‘
جنوبی کوریا میں پارلیمنٹ کے سامنے ہزاروں احتجاجی مظاہرین جمع، صدر کےمستعفی ہونےکا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی
کوریا میں پارلیمان کا اجلاس اس وقت جاری ہے جبکہ ہزاروں
مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج
کے لیے موجود ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر یون اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف اور ان کی اپنی پارٹی کے اہم ارکان نے صدر یون سک یول سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
امکان ہے کہ صدر یون کے مواخذے کی تحریک بھی آج پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ منگل کی رات صدر یون سوک یول نے اچانک ایشیائی جمہوریت میں تقریبا 50 سالہ بعد پہلی بار مارشل لا لگانے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اس اعلان کے بعد ہزاروں لوگ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہو گئے اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی مارشل لا ختم کروانے کے لیے ایمرجنسی ووٹ دینے پہنچے۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر شکست خوردہ صدر نے پارلیمنٹ کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔
جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کا اجلاس جب سنیچر کے روز کچھ دیر قبل شروع ہہوا تو پارلیمنٹ کے اجلاس کی کوریج سے متعلق یو ٹیوب پر جاری لائیو سٹریمنگ میں اراکین پارلیمینٹ کو شدید شور شرابا کرتے دیکھا گیا۔
اجلاس کا آغاز سپیکر نے چیمبر کے ارکان کو اس یاد دہانی کے ساتھ کیا کہ دنیا دیکھ رہی ہے لہذا نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے۔
صدر یون یوک سیول کے مواخذے کے حوالے سے تحریک پر کارروائی کو آگے بڑھنے سے پہلے قانون ساز خاتون اول سے متعلق خصوصی کونسل کے تحقیقاتی بل پر ووٹنگ کی گئی ہے۔
اس سے قبل سنیچر کے دن کا آغاز صدر یون کے ایک اور حیران کن خطاب کے ساتھ ہوا جس میں انھوں نے منگل کو مارشل لا کے اعلان کے لیے معافی مانگی اور بتایا کہ کن مایوس کن حالات کے باعث انھوں نے اس انتہائی اقدام کا سہارا لیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم انھوں نے اس دوران استعفیٰ دینے سے گریز کیا بلکہ کہا کہ وہ سیاسی صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے پارٹی کو اقدامات سونپیں گےجس میں 2027 میں ن کی اپنی مدت ختم ہونےکا معاملہ بھی شامل ہے۔
ان کی اس تقریر کے بعد سے دسیوں ہزار مظاہرین قومی اسمبلی کے آس پاس سڑکوں پر جمع ہو گئے ہیں، جہاں آج رات کے بعد مواخذے کا ووٹ ہونا ہے۔
جنوبی کوریا میں اپوزیشن بلاک کے پاس 192 نشستیں ہیں، جب کہ یون سک یول کی پیپلز پارٹی کے پاس 108 نشستیں ہیں۔ اور انھیں حکمران پارٹی کے صرف آٹھ قانون سازوں کو اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے جس کے بعد جس کے بعد صدر یون سک یول کو آئینی عدالت کے فیصلے تک فرائض سے معطل کر دیا جاسکے گا۔
شام کے اہم جنوبی علاقے ’درعا ‘ پر باغیوں کے قبضےکا دعویٰ, باربرا پلیٹ عشر اور کیتھرین آرم سڑونگ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنشام کا شہر درعا اردن کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کے قریب ہے اور یہیں سے مارچ 2011 میں شامی بغاوت شروع ہوئی تھی
جنوبی شام میں باغی افواج نے درعا کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے 2011 میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے رپورٹ کیا ہے کہ ’مقامی دھڑے‘ حکومتی فورسز کے ساتھ ’پرتشدد جھڑپوں‘ کے بعد بہت سے فوجی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغیوں کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ فوج کے انخلا اور فوجی حکام کو تقریباً 100 کلومیٹر دور دارالحکومت دمشق تک محفوظ راستہ فراہم کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر اتفاق کر چکے ہیں۔
یہ اطلاعات شمالی شام میں انتہا پسند اسلامی گروہ ہیئت تحریر الشام کی قیادت میں حمص شہر کے مضافات تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
یاد رہے کہ شام میں باغیوں نے ایک ہی ہفتے مین دو بڑے شہروں پر قبضہ کرلیا ہے اور انتہا پسند اسلامی گروہ ہیئت تحریر الشام کی قیادت میں ان جنگجوؤں کا اگلا نشانہ اب حمص ہے۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری
فار ہیومن رائٹس نے جمعے کے روز کہا کہ جنوب میں باغی اب درعا کے 90 فیصد سے زیادہ
علاقے پر قابض ہیں تاہم الصنمين کا
علاقہ اب بھی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔
سٹریٹجک
اور علامتی اہمیت کا حامل درعا شہر صوبے
کا دارالحکومت ہے جو اردن کی سرحد پر اہم
گزرگاہوں کے قریب ہے اور یہیں سے 2011 میں جمہوریت نواز مظاہرے شروع ہوئے تھے۔
اردن
کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس نے شام کے ساتھ اپنی سرحد ’جنوبی شام میں سکیورٹی کی
صورتحال کی وجہ سے‘ بند کر دی ہے۔
دوسری جانب کرد زیرقیادت فورسز نے دیر الزور شہر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے جو ملک کے مشرق میں وسیع ریگستان میں حکومت کا اہم گڑھ ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے تصدیق کی ہے کہ باغیوں کا مقصد بشارالاسد کی حکومت کا تختہ اُلٹنا ہے۔
نو مئی اور 26 نومبر کی بغاوتوں کا احتساب نہ ہوا تو مستقبل کے لیے دروازہ کھل جائے گا: خواجہ آصف
،تصویر کا ذریعہAFP
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے نو مئی اور 26 نومبر کو ملک کے خلاف بغاوتیں کی گئیں، اگر اِن کا احتساب نہ ہوا تو مستقبل کے لیے ایک دروازہ کھل جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ‘ میں اینکر کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’پی ٹی آئی نے تحقیقات کا مطالبہ پہلے بھی کیا ہے تاہم میرے ذاتی خیال میں تمام شواہد موجود ہیں ٹی وی پروگراموں میں انکی موجودگی کے سارے ثبوت موجود ہیں تو انھیں تحقیقات اب آگے کیا کرانی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نو مئی کا قصہ بہت پہلے تمام ہو چکا ہوتا اگر اس وقت عدالتی سرپرستی نہ ملی ہوتی۔ جن کو بری ہونا تھا وہ بری ہو گئے ہوتے جن کو سزائیں ہونا تھیں وہ ہو گئی ہوتیں تاہم بد قسمتی سے اس وقت جوڈیشری ایک پارٹ بنی ہوئی تھی۔‘
خواجہ آصف کے مطابق ’پی ٹی آئی عدلیہ سے وہی سرپرستی چاہتی ہے جو نو مئی کے بعد ان کو ملی تھی۔‘
یاد رہے کہ خیال رہے کہ جمعرات کو عمران خان کا اپنے وکلا کی ٹیم سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا سے یہ پیغام سامنے آیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مطالبات نہ ماننے کی صورت میں 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک اور بائیکاٹ مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان میں زر مبادلہ بھیجنا بند کرنے سے متعلق عمران خان کے پیغام کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’یہ چند سو یا چند ہزار افراد کی بات نہیں۔ 65 لاکھ سے اوپر افراد تو سعوری عرب اور یو اے ای میں ہی سمندر پار پاکستانی بن جاتے ہیں۔ لوگ عمران خان کے اوپر وطن سے وفاداری کو ترجیح دیں گے۔‘
خواجہ آصف نے پروگرام میں متعدد بار اپنے جوابات میں اس بات کو دہرایا کہ وہ یہ تمام بات اپنی ذاتی رائے کی حیثیت میں کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’نو اور 26 مئی کو کی جانے والی بغاوتوں کا احتساب ضروری ہے۔ گنڈا پور ہر قسم کا اسلحہ لے کر اسلام آباد آئے تو وہ کسی پارٹی یا ولیمے پر نہیں آئے تھے۔
میں آپ کی وساطت سے کہوں کا کہ آپ ترسیلات زر روکنے کی ٹراائی کریں، یہ نہیں رکے گی۔ وہ لوگ عمران خان کی محبت میں اپنے بچوں کو پیسے بھیجنا کیا بند کر دیں گے؟
دُکی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پرحملہ، ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع دُکی میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پرحملے میں کم ازکم ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
دُکی میں پولیس اور لیویز فورس سے تعلق رکھنے والے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے یہ حملہ جمعہ کی شب سردار عثمان ترین کول مائنز ایریا میں کیا گیا۔
دُکی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں حملہ آوروں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
اہلکار کے مطابق حملے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
یاد رہے کہ دُکی میں بڑے پیمانے پر کوئلے کی کانیں ہیں۔
اس علاقے میں پہلے بھی کوئلہ کانوں، سکیورٹی فورسز اور کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
رواں سال اکتوبر کے مہینے میں کوئلے کی کانوں پر ہونے والے ایک بڑے حملے میں 20 مزدور ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
بریکنگ, ’علاقائی اور بین الاقوامی مداخلت خطے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘: شامی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے وزیر خارجہ حسام الصباغ نے باغیوں کی
جانب سے فوج سے کنٹرول لینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’علاقائی اور بین
الاقوامی مداخلت خطے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
جمعے
کو عراقی اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد انھوں نے باغی جنگجوؤں کی
مذمت کی جو فوج سے کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا
کہ ’میں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مداخلتیں بے نقاب
اور ذلت آمیز ہو چکی ہیں اور اس کا مقصد تاریخی عزائم اور خطے کی ایک نئی تقسیم کو
حاصل کرنا ہے اور اس کے سیاسی نقشے کو مخالفین کے جارحانہ ایجنڈوں کے مطابق دوبارہ
بنانا ہے۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ شامی فوج ’کسی بھی ایسے شخص کے خلاف آپریشن جاری رکھے گی جو شامیوں
کی سلامتی اور امنگوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات کرے گا۔‘
انتخابی دھاندلی کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
پاکستان کی سپریم کورٹ نے انتخابی دھاندلی کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے سماعت
کے لیے سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو 11 دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ
جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم
افغان، جسٹس شاہد بلال پر مشتمل ہے۔
انتخابی
دھاندلی کے خلاف شیر افضل مروت سمیت دیگر افراد نے بھی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
ان دائر درخواستوں میں انتخابات 2024 میں دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی
استدعا کی گئی ہے۔
یاد
رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر
الزام لگاتے رہے ہیں کہ انھوں نے عام انتخابات سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں
کیا۔