بشار الاسد اور ان کی فیملی شام سے ماسکو پہنچ چکے ہیں جہاں انھیں پناہ دی جائے گی: روسی سرکاری میڈیا

روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔ بی بی سی تاحال ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔

خلاصہ

  • روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بشارالاسد نے اپنا عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل تنازع میں شریک تمام مسلح گروہوں سے بات چیت کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
  • اطلاعات ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد اپنا ملک چھوڑ کر کہیں کسی اور ملک جا چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم کے آخر وہ کس ملک گئے ہیں؟
  • باغی گروہ ہیئت تحریر شام کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی صورت میں‘ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
  • روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ باغی گروہ ہیئت تحریر شام کے عسکری آپریشن کی ’منصوبہ بندی لمبے عرصے پہلے کی گئی تھی۔‘
  • اقوامِ متحدہ کے نمائندہ برائے شام گیئر پیڈرسن نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت ’فوری سیاسی مذاکرات‘ ہونے چاہییں۔

لائیو کوریج

پیشکش: محمد صہیب اور اعظم خان

  1. فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

    آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے سماعت کے لیے سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو نو دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان، جسٹس شاہد بلال پر مشتمل ہے۔

    آئینی ترمیم پر فیصلے تک سماعت موخر کرنے کی متفرق درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ ان اپیلوں کے ساتھ ہی سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی درخواست پر بھی سماعت ہو گی۔

  2. بریکنگ, صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

    Arshad Sharif

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے از خود نوٹس کی سماعت کے لیے سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو نو دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان، جسٹس شاہد بلال پر مشتمل ہے۔

    واضح رہے کہ 29 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی کو واپس بھیج دیا تھا تاکہ پانچ رکنی بینچ اس کیس کو دوبارہ دیکھ سکے۔

    یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کینیا میں صحافی ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس کی کارروائی شروع کی تھی۔ رواں سال کیس میں اس وقت اہم پیشرفت ہوئی تھی جب کینیا کی ایک عدالت نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کا نتیجہ قرار دینے کا پولیس کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔

    کینیا کی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ 2022 میں کینیا کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں پاکستانی ارشد شریف کا قتل غیر قانونی تھا، عدالت نے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ ارشد شریف اگست 2022 میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے، ابتدائی طور پر وہ متحدہ عرب امارات میں رہے، جس کے بعد وہ کینیا چلے گئے جہاں انھیں اکتوبر 2022 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

  3. آرمی چیف کو یہ گلہ ہے کہ اگر نو مئی کا ٹرائل ہو جاتا تو 26 نومبر نہ ہوتا: رانا ثنااللہ

    Rana Sanaullah Khan

    وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ’آرمی چیف کو سسٹم سے یہ گلہ ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان یا مجرمان کا ٹرائل نہیں کیا گیا ہے، اگر وہ ہوجاتا تو شاید یہ 26 نومبر والا واقعہ نہ ہوتا۔‘

    جمعے کی شام جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کا گلہ حکومت سے زیادہ سپریم کورٹ اور معزز ججز سے ہے جو خط پر خط لکھتے ہیں مگر مقدمات کو آگے نہیں بڑھاتے ہیں۔

    پی ٹی آئی نے اگر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی تو وہ بری طرح ناکام ہو گی

    رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 26 نومبر کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے ’اگر انھوں نے اب سول نافرمانی کی تحریک شروع کی تو وہ بری طرح فیل ہو گی، ناکام ہو گی۔‘

    خیال رہے کہ جمعرات کو عمران خان کا اپنے وکلا کی ٹیم سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا سے یہ پیغام سامنے آیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم ’نان سٹارٹر‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کی مشروط پیشکش کے بعد بات چیت کیسے ہو سکتی ہے۔‘ ان کے مطابق ’کسی بھی سیاسی تنازع کا حل سیاسی ڈائیلاگ میں ہی ہے۔‘

    سینیٹر فیصل واوڈا کے کسی نئے سیٹ اپ سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’سسٹم کے کچھ لوگ لاڈلے ہوتے ہیں، لیکن یہ سسٹم سے باہر نہیں جا سکتے، یہ سسٹم کی ترجمانی نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ان کو سینیٹر بنا کر ہم بھول گئے ہیں تو انھوں نے کچھ یاد تو دلانا ہے۔ میں وزیراعظم سے کہوں گا کہ انھیں بھی کچھ بنا دیں۔‘

  4. آئینی کمیٹی طے کرے گی کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں کس نے اور کیسے سماعت کے لیے مقرر کرنی ہیں: جوڈیشل کمیشن, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    جمعے کو پاکستان کے چیف جسٹس یحیٰ آفریدی کی صدارت میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے یہ واضح کیا کہ یہ آئینی کمیٹی طے کرے گی کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں کس نے اور کیسے سماعت کے لیے مقرر کرنی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت فل کورٹ کے ذریعے کرنے پر بات کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس کے مؤقف سے کمیشن کے اکثریتی ارکان نے اتفاق کیا ہے۔

    کمیشن نے فوجی عدالتوں کے مقدمات سننے کے لیے جسٹس شاہد بلال کو آئینی بینچ کا ممبر نامزد کیا ہے۔ جسٹس شاہد بلال حسن کو کثرت رائے سے آئینی بینچ کا جج نامزد کیا گیا ہے۔ جسٹس عدنان کریم اور جسٹس آغا فیصل سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ کے ججز نامزد کیا گیا جبکہ چاروں ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتیوں کا عمل 21 دسمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

  5. مدارس رجسٹریشن بل پر ابھی لانگ مارچ کا فیصلہ نہیں کیا، مدارس کے معاملے پر فیصلہ قوت سے کریں گے: مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوابی میں جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس رجسٹریشن بل کے معاملے پر ابھی لانگ مارچ کا فیصلہ نہیں کیا ہے مگر مدارس کے معاملے پر پوری قوت سے جواب دیں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ان کی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر 8 دسمبر تک بل پر دستخط نہ ہوئے تو پھر ہو سکتا ہے کہ ہم اسلام آباد کا رخ کریں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ حکومت کو دینی مدارس کی رجسٹریشن کا بل ہر صورت میں منظور کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’سب جماعتوں نے متفقہ طور پر 26ویں آئینی ترمیم بل منظور کیا۔ صدر پاکستان نے پتا نہیں کیونکر ایسا کیا اور کس نے انھیں دستخط کرنے سے روکا، یہ اچھا نہیں ہوا یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔‘

    خیال رہے کہ صدر مملکت نے 26ویں ترمیم میں شامل مدارس رجسٹریشن سے متعلق اس بل کو اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا تھا۔ جے یو آئی کے مطابق تکنیکی طور پر صدر کے پاس اس بل کو روکنے کا اختیار نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بل منظور کرکے روکنا بدنیتی، مذہبی قوتوں میں اشتعال پیدا کرنے اور اسلام آباد کی طرف مارچ پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ بار بار اسلام آباد کا رخ کریں اور پاکستان اس چیز کا متحمل نہیں۔‘

    ان کے مطابق یہ جمعیت اسلام اور وفاق المدارس کابل نہیں بلکہ کے تمام تنظیمات مدارس کا ہے، یہ ان سیاسی جماعتوں کا بل ہے جو مذہبی تنظیموں کی صدارت کر رہی ہیں۔

    جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے 26ویں آئینی ترمیم میں کردار ادا کیا تھا اور پھر حکومت نے مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری کی حامی بھری تھی۔

    انھوں نے کہ گذشتہ روز بلاول بھٹو پارٹی قیادت سے ملنے کے آئے اور پھر اس بل کی منظور سے متعلق بات ہوئی۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو یقین دلا کر گئے تھے مگر بعد میں یہ خبر سامنے آئی کہ صدر مملکت نے اس بل پر دستخط سے انکار کر دیا ہے۔

  6. کچے کے علاقے میں پولیس آپریشن، ایک کروڑ سر کی قیمت والے ڈاکو گورا عمرانی بھی زخمی: ترجمان پنجاب حکومت, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو

    گورا عمرانی

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ رحیم یار میں کچے کے علاقے میں پولیس آپریشن میں دو خطرناک ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ان زخمی ہونے والوں میں وہ خطرناک ڈاکو گورا عمرانی بھی شامل ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق حکومت پنجاب نے گورا عمرانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کرر کھی ہے۔

  7. میں بھاگنے والی عورت نہیں، ڈی چوک پر سب نے اکیلا چھوڑ دیا تھا: بشریٰ بی بی

    بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہ@PTI

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو ڈی چوک کے احتجاج کے بعد پہلی بار منظر عام پر آئیں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی خاموشی کی وجہ بتائی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں اتنے دنوں سے اتنی تکلیف میں تھی کیونکہ اتنی شہادتیں ہوئیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پتا نہیں لوگ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں، میں بھاگنے والی عورت نہیں ہوں اور جو خان کے لیے نکلے ان کو تو بالکل میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔‘

    بشریٰ بی بی چارسدہ میں تحریک انصاف کے اسلام آباد دھرنے میں ہلاک ہونے والے تاج الدین کے گھر گئیں جہاں انھوں نے ورثا سے تعزیت کی۔

    یاد رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے احتجاج کی فائنل کال دے رکھی تھی جس کے لیے پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن اسلام آباد پہنچے۔ ان کارکنوں کی قیادت عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کر رہے تھے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے ان کارکنوں کے خلاف پولیس نے نیم فوجی دستوں سے مل کر گرینڈ آپریشن کیا۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اس آپریشن میں پی ٹی آئی کے 12 کارکنان مارے گئے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائی گئی۔ اس آپریشن کے دوران علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئے تھے اور پھر اگلے روز مانسہرہ میں علی امین گنڈاپور نے تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ تاہم اس موقع پر بشری بی بی میڈیا کے سامنے نہیں آئیں۔

    بشریٰ بی بی نے جمعے کو پہلی بار اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خان کے لیے نکلنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی، کسی کو نہیں پتا تھا کہ میری گاڑی کون سی ہے، ڈی چوک پر رات ساڑھے بارہ بجے میں اپنی گاڑی میں اکیلی تھی، وہ ڈی چوک زبردستی خالی کرارہے تھے۔‘

    بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں وہاں سے نہیں ہٹی تھی کیونکہ خان نے ہٹنے کا نہیں کہا تھا، میں نے سب کو کہا تھا مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا، میں نے صرف آپ کو بتانا ہے کہ میں وہاں اکیلی تھی، مجھے سب نے چھوڑ دیا تھا، بہت سے لوگ گواہ ہیں، جو لوگ روڈ خالی کرا رہے تھے وہ بھی گواہ ہیں۔‘ تاہم بشری بی بی نے یہ نہیں بتایا کہ کیا خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

    بشریٰ بی بی نے بس اتنا کہا کہ ’جب میں وہاں سے نہیں جا رہی تھی تو سیدھی میری گاڑی پرفائرنگ کی گئی، باقی قافلہ بعد میں آیا۔‘ بشری بی بی نے کہا کہ ’پٹھانوں نے ہمیشہ غیرت مندی کا ثبوت دیا، عمران خان نے کہا تھا شہدا کے گھرجانا ہے، ورکرز بانی کے نام پرشہید ہوئے۔‘

  8. تحریک انصاف کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پھر سول نافرمانی کی طرف جائیں گے: علیمہ خان

    Namal Knowledge City

    ،تصویر کا ذریعہNamal Knowledge City

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پھر ہم ’سول نافرمانی کی طرف جائیں گے۔ پہلے بائیکاٹ کے لیے عمران خان نے کہا کہ میں اپنے اوورسیز پاکستانیوں سے کہوں گا کہ آپ پاکستان میں زر مبادلہ بھیجنا بند کر دیں۔‘

    جمعے کو صحافیوں کو اپنے بھائی کا پیغام دیتے ہوئے علیمہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا نظام آئی ایم ایف سے نہیں اوورسیز پاکستانیوں کی محنت کی کمائی پر چل رہا ہے۔ وہ یہاں اربوں ڈالر بھیجتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ باہر بیٹھ کر جب آواز اٹھاتے ہیں تو آپ یہاں ان کے رشتہ داروں کو اُٹھا لیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمعے کو پشاور میں یوم سوگ منعقد ہو گا۔ اگر آپ نے مطالبات پورے نہ کیے تو اوورسیز پاکستانیوں کو کال چلی جائے گی کہ زر مبادلہ بند کر دیں۔‘ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فکر نہ کریں۔ یہاں رشتہ داروں کو پیسے کم نہیں پڑیں گے۔ وہ بھی گزارا کر لیں گے۔۔۔ مگر یاد رکھیں آپ لوگ (گزارا) نہیں کر سکیں گے۔‘ انھوں نے سوال کیا کہ ’آپ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں؟‘

  9. عمر ایوب سمیت پانچ پی ٹی آئی رہنماؤں کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے رہا کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے جیل سے گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی کے پانچ رہنماؤں کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر انھیں کمرۂ عدالت سے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، راجہ بشارت، راجہ ماجد دانیال، احمد ناصر چٹھہ اور ملک عظیم بلا کو گذشتہ روز جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے بعد جیل کی حدود سے گرفتار کر کے اڈیالہ چوکی اور بعد میں پولیس لائنز منتقل کیا گیا تھا۔

    پانچوں رہنماؤں کو آج راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر پی ٹی ائی کے وکلا نے دلائل دیے کہ گرفتاری غیر قانونی، غیر آئینی اور بلاجواز ہے جبکہ تمام پی ٹی آئی رہنما ضمانت پر ہیں۔

    دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزمان کو کمرے میں فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے گرفتاری کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر پولیس کے پانچ افسران کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا اور اس بارے میں اظہارِ برہمی بھی کیا۔

  10. سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس کی الگ الگ رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ گئی ہے۔

    • وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف پنجاب میں 99 اور خیبرپختونخوا میں دو مقدمات درج ہیں
    • اسلام آباد پولیس کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف 74 مقدمات درج ہیں
    • ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے میں سابق وزیر اعظم کے خلاف سات مقدمات / انکوائریز زیر التوا ہیں
    • اس کے علاوہ نیب میں عمران خان کے تین مقدمات زیر التوا ہیں
    • توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم کی اپیل زیر التوا ہے
    • عمران خان پر اکتوبر نومبر دسمبر احتجاج کے تناظر میں بھی مقدمات درج ہوئے ہیں
  11. 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے نو مئی کو گاڑیاں جلانے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

    دیگر رہنما جن پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری شامل ہیں۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے جیل میں قائم عدالت میں سماعت کی جہاں تمام ملزمان کو پیش کیا گیا۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے وکیل برہان معظم ملک عدالت میں پیش ہوئے۔

    تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت نے 16 دسمبر کو گواہان کو طلب کیا ہے۔

  12. ’مطالبات پورے نہ ہوئے تو سول نافرمانی کی تحریک، بائیکاٹ مہم چلائی جائے گی‘: عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مطالبات نہ ماننے کی صورت میں 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک اور بائیکاٹ مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔

    جمعرات کی شب عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سول نافرمانی کی تحریک کے پہلے مرحلے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کریں گے کہ وہ ترسیلاتِ زر محدود کریں اور بائیکاٹ مہم چلائیں۔ اور دوسرے مرحلے میں اس سے بھی آگے جائیں گے۔‘

    بیان میں میں بتایا گیا ہے کہ دریں اثنا تحریکِ انصاف کی ’سٹیک ہولڈرز سے‘ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی میں عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عمران خان کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب جمعرات کو ان پر جی ایچ کیو حملہ کیس میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم ہو چکی ہے، ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے سیاسی کارکنان پر گولیاں برسائی گئیں اور پُر امن سیاسی کارکنان کو شہید کیا گیا ہے۔ ہمارے سینکڑوں کارکنان لاپتہ ہیں۔ سپریم کورٹ کو اب اس کا نوٹس لے کر اپنا آئینی کردار ادا کرنی چاہیے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں اسلام آباد میں عمران خان کی رہائی کے لیے تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا جس کے اختتام حکومت کی جانب سے مظاہرین پر کریک ڈاؤن پر ہوا۔

    حکومت کی جانب سے اسے ’گرینڈ آپریشن‘ کا نام دیا گیا اور اس کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے آپریشن کے دوران گولی نہیں چلائی گئی جب کہ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے مختلف اوقات پر ہلاکتوں کے مختلف اعداد و شمار بتائے ہیں۔

    عمران خان کے اکاؤنٹ پر جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم 13 دسمبر کو پشاور میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے عظیم الشان اجتماع منعقد کریں گے۔ اس اجتماع میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔‘

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہX/ImranKhanPTI

    عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کون چلاتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما سید ذوالفقار (زلفی) علی بخاری نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی عمران خان کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیانات کو ان کی سوشل میڈیا ٹیم چلاتی ہے۔

    انھوں نے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا ٹیم کو عمران خان کے بیانات ان کی قانونی ٹیم یعنی وکلا سے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔

    ایک سوال پر کہ کیا یہ پیغامات تحریری ہوتے ہیں یا زبانی، زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ چونکہ جیل میں لکھنے کی اجازت نہیں لہذا یہ تمام پیغامات زبانی ہوتے ہیں جو عمران خان سے ملاقات کرنے والے وکلا سوشل ٹیم کو ڈکٹیٹ کرواتے ہیں۔

  13. شامی باغیوں کا مُلک کے دوسرے اہم شہر ’حما‘ پر قبضے کا دعویٰ

    شام

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    شامی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اہم اور بڑے شہر حما پر ایک ایسے وقت میں قبضہ کر لیا ہے کہ جب فوج نے شدید لڑائی کے بعد اس علاقے سے اپنے دستوں کو نکل جانے کے احکامات دیے۔

    عسکریت پسند گروپ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے شہر میں ’فتح‘ کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی کے خلاف کوئی بھی ’انتقامی کارروائی‘ نہیں کی جائے گی۔

    اس سے قبل ایک باغی کمانڈر نے کہا تھا کہ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں اور ان کے اتحادیوں نے ایک جیل پر قبضہ کر لیا ہے اور قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور شہری علاقوں میں لڑائی کو روکنے کے لیے فوجیوں کو دوبارہ تعینات کیا ہے۔

    حما نامی شہر 10 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور حلب سے 110 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ جسے باغیوں نے گزشتہ ہفتے شمال مغرب میں اپنے مضبوط گڑھ سے اچانک حملے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔

    شامی حالات پر نظر رکھنے والے برطانیہ میں قائم ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ آٹھ روز قبل باغیوں کے حملے کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 720 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 111 عام شہری بھی شامل ہیں۔

    شام میں 2011 میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے جمہوریت کے حق میں پرامن مظاہروں کے خلاف پرتشدد کارروائی کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے والوں کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں: فارمیشن کمانڈرز کانفرنس

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں 84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی صدارت۔

    اس کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور پاکستانی فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ’کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کی دارالحکومت کی اہم سرکاری عمارتوں کو محفوظ بنانے اور غیر ملکی وفود کو دورہ پاکستان کے دوران محفوظ ماحول فراہم کرنے کی غرض سے پاکستان کی مسلح افواج کی قانونی تعیناتی کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے میں ’اجلاس کے دوران پروپیگنڈہ سے متعلق مزید کہا گیا کہ یہ بعض سیاسی عناصر کے مذموم عزائم کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی عوام، مسلح افواج اور اداروں کے درمیان حالات کو کشیدہ کرنا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’کانفرنس میں کہا گیا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومت بے لگام غیر اخلاقی آزادی اظہارِ رائے کی آڑ میں زہر اُگلنے، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کے خاتمے کے لئے سخت قوانین وضوابط بنائے اور ان پر عمل درآمد کرائے۔ سیاسی ومالی فوائد کی خاطر جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کی کال کے بعد امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آئینِ پاکستان کی آرٹیکل 245 کے تحت شہر میں فوج تعینات کی گئی تھی۔

    فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں دہشتگردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ افغان عبوری حکومت کو اپنی سر زمین کو دہشتگردی کے لئے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے واضح اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  15. اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج: ڈیوٹی سے غیرحاضری پر 16 خواتین پولیس اہلکاروں کو نوٹسز جاری

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے والی 16 خواتین پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کی طرف سے خواتین پولیس اہلکاروں کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ 25 نومبر کو شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ان کو تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ اپنے افسران کو اطلاع دیے بغیر اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہیں۔

    شوکاز نوٹسز میں خواتین پولیس اہلکاروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ایک ہفتے میں اپنے جواب سے محکمے کو آگاہ کریں۔

  16. جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد، قائد حزب اختلاف عمر ایوب گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی 2023 کو پاکستان کی برّی فوج کے ہیڈکوارٹر یعنی جی ایچ کیو پر حملے کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے جمعرات کو اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی۔

    عمران خان کے علاوہ جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی شامل ہیں۔

    سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کو ان کی بیرک سے کمرہ عدالت میں لایا گیا اور ان کی موجودگی میں جج امجد شاہ نے فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم عمران خان سمیت دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

    اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب فرد جرم عائد کی گئی تو 60 کے قریب ملزمان کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 139ملزمان ہیں اور عدالت پی ٹی آئی کے رہنماؤں شہباز گل، ذلفی بخاری اور مراد سعید سمیت 23 ملزمان کو پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

    خیال رہے کہ اس مقدمے کے اندراج کے ڈیڑھ برس بعد ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس مقدمے میں عدالتی کارروائی باقاعدہ شروع ہو گی اور استغاثہ کی جانب سے گواہان کو پیش کیا جائے گا جن پر ملزمان کے وکلا جرح کریں گے اور یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے جس کے بعد حتمی دلائل ہوں گے۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزمان پر اس مقدمے میں فرد جرم عائد ہو جانے کے بعد اس مقدمے کی حد تک عمران خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے امکانات ختم ہو جائیں گے کیونکہ ایک ہی مقدمے کی کارروائی دو عدالتوں میں نہیں چلائی جاسکتی۔

    اڈیالہ جیل میں جمعرات کے روز پولیس نے عدالتی کارروائی کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور رکن قومی اسمبلی احمد چھٹہ کو جیل سے حراست میں لے لیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم میں شامل وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان پر فرد جرم عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد عائد کی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے فرد جرم پڑھ کر سنائی، جبکہ قانون کے مطابق جج عدالت میں ملزمان کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سناتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ مقدمے کی سماعت کے لیے ملزمان کو طلب کرنا اور پھر انھیں حراست میں لینا کسی طور پر قانونی نہیں ہے۔

    جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار میں درج ہے اور عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انھوں نے کارکنوں کو نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ اور عسکری و سرکاری تنصیبات پر حملوں کے لیے اکسایا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’آج اڈیالہ جیل کے باہر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سابق وزیرِ قانون پنجاب راجہ بشارت اور احمد چٹھہ کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔‘

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ’عمر ایوب کو پشاور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت مل گئی تھی لیکن اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا جو پشاور ہائی کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی اور توہیں عدالت ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’گرفتار ہونے والے تمام رہنماؤں کو فوری طور رہا کیا جائے ورنہ میں اس معاملے کے خلاف کل (جمعے کے روز) پشاور ہائی کورٹ میں وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔

  17. اسرائیل نے ایران پر حملوں میں ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا: برطانوی فوج کے سربراہ

    ایف 35

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی افواج کے سربراہ ایڈمرل ٹونی رڈاکن نے دعویٰ کیا ہے کہ 26 اکتوبر کو اپنے حملے کے دوران اسرائیل نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کر دیا تھا اور اپنے 100 سے زیادہ ففتھ جنریشن طیاروں کی مدد سے تقریباً ایک برس کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹٹیوٹ (روسی) میں اپنے خطاب کے دوران برطانوی افواج کے سربراہ ایڈمرل ٹونی رڈاکن نے جس واحد ففتھ جنریشن طیارے کا ذکر کیا وہ ایف 35 سٹیلتھ طیارہ تھا۔

    ایف 35 سٹیلتھ طیارہ اپنی برق رفتاری کے سبب فضائی دفاعی نطام اور ریڈارز کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران پر اسرائیل کے 26 اکتوبر کے حملے کے بعد پہلے مرتبہ کسی غیرملکی اعلیٰ فوجی عہدیدار نے اس حوالے سے تفصیلات پر لب کشائی کی ہے۔

    روسی میں تقریب کے دوران ایڈمرل ٹونی رڈاکن کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیل کا حملہ جدید جنگی حکمت عملی کی کامیاب کا ثبوت ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے فضائی حملوں کے پہلے مرحلے میں ایران کے 100 میل قریب آئے بغیر ہی اس کے بیسلٹک میزائل سٹرکچر کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

    خیال رہے اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 26 اکتوبر کو ایران میں 20 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حملوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    برطانوی فوج کے سربراہ ایڈمرل ٹونی رڈاکن نے اسرائیلی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ’بہترین انٹیلیجنس اور اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیتوں سے لیس ففتھ جنریشن طیاروں‘ کے استعمال کے نتیجے میں ممکن ہوسکے۔

    خیال رہے ایف 35 سٹیلتھ طیارے امریکی کمپنی لاکہیڈ مارٹن بناتی ہے اور اس طیارے کا شمار دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2018 میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایف 35 سٹیلتھ طیاروں کو اپنی فضائیہ میں شامل کر لیا ہے۔

    جون 2018 میں اسرائیلی میجر جنرل امیکوم نارکن نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے یہ طیارے مشرقِ وسطیٰ میں آزمائے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہوئے دو اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  18. سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے نجکاری روکنے کا حکم واپس لے لیا

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے لیا ۔

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے۔حکومت پی آئی اے کی نجکاری اچھے طریقے سے کرے۔

    جمعرات کے روز ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنل بھرتیاں کرنے کی اجازت دی تھی لیکن نجکاری کا عمل ہونے کی وجہ سے نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کا عمل دوبارہ شروع ہونے جا رہا ہے اور پی آئی اے فلائیٹ آپریشن پر لگی پابندی بھی ختم ہو گئی ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے، حکومت کہیں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی۔

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نجکاری پر عدالت کو اعتماد میں لینے کیلیے درخواست دائر کی گئِ تھی۔

    جسٹس امین الدین خان نے امید ظاہر کی کہ شاید پی آئی اے کی نجکاری کے دوبارہ عمل میں ریٹ زیادہ ملے۔

    آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

    اکتوبر کے آخر میں خسارے میں ڈوبی قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے حکومت کو محض ایک پارٹی ’بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم‘ کی جانب سے بولی وصول ہوئی ہے۔

    لیو ورلڈ سٹی کنسورشیم کی طرف سے پی آئی اے کے ساٹھ فیصد حصص 10 ارب روپے میں خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے 85 ارب روپے کی کم از کم متوقع قیمت (ریفرنس پرائس) کے مقابلے میں صرف 10 ارب روپے کی بولی جمع کرائی، یعنی اس کا تقریباً 12 فیصد حصہ جسے حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔

  19. شامی فوج اور باغیوں کے درمیان حماۃ شہر پر کنٹرول کے لیے جھڑپیں جاری

    باغی شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اطلاعات کے مطابق شام کے شہر حماۃ کے باہر صدر بشارالاسد کی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھرپیں جاری ہیں۔

    منگل کے روز ایک مانیٹرنگ گروپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عسکری گروپ ہیئت تحریر الشام اور ان کے حامی حماۃ پر قبضہ کرنے کے نزدیک ہیں۔ تاہم بدھ کے روز ان کی جانب سے کہا گیا کہ فضائی حملوں کی مدد سے شام کی فوج کئی گاوں پر دوبارہ لنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

    سرکاری میڈیا کی جانب سے بھی دعویٰ سامنے آیا کہ بشارالاسد کی حامی فورسز باغیوں کو شہر کے شمال کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ تاہم باغی گروپس اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

    حماۃ شہر الپپو سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے جہاں باغی گروہوں نے پچھلے ہفتے شامی فوجیوں کو حیران کن شکست سے دوچار کیا تھا۔

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اور مانیٹرنگ گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس دونوں کے مطابق حماۃ سے پانچ کلومیٹر شمال مشرق میں واقع جبل زین العابدین پر باغیوں اور شامی فوج کے درمیان شدید جھرپیں جاری ہیں۔

    مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے باغیوں کو تقریباً دس کلومیٹر پیچھے دھکیلتے ہوئے دو دیہاتوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

    تاہم باغیوں کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج اپنے سپاہیوں کا مورال بلند کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ حال ہی میں قبضے میں لیے گئے علاقوں پر ابھی بھی باغی فورسز کا کنٹرول ہے۔

    شام باغی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہیئت التحریر الشام نامی باغی گروہوں کے اتحاد نے 27 نومبر کے بعد ترکی کی سرحد سے منسلک ادلب صوبے سے نکل کر چند ہی دن میں شامی فوجیوں کو شکست در شکست سے دوچار کر دیا۔

    اس برق رفتار حملے کے دو دن بعد ہی حلب کے قدیم شہر سے جنگجووں کی تصاویر سامنے آنے لگی تھیں جو 2012 سے 2015 تک شامی فوج کا ’ناقابل تسخیر اڈہ‘ سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت یہ شہر حکومتی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کا مرکز تھا۔

    حالیہ حملہ، جس کی قیادت ہیئت التحریر الشام کر رہی ہے، شمالی شام کے سیاسی منظر نامے سے تعلق رکھتا ہے۔ شمال مغرب میں ’شامی ڈیموکریٹک فورسز‘ کا غلبہ ہے جس کی سربراہی کرد کر رہے ہیں اور انھیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس علاقے میں 900 امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔

  20. پی ٹی آئی احتجاج کے بعد اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف 14 مقدمات درج کیے گئے: پولیس

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں 14 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی کل تعداد 76 ہوگئی ہے۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق 24 نومبر سے قبل عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج 62 مقدمات کی تفصیلات پہلے ہی عدالت میں جمع کروائی جاچکی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ رپورٹ عمران خان کی بہن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران جمع کروائی گئی ہے۔