بشار الاسد اور ان کی فیملی شام سے ماسکو پہنچ چکے ہیں جہاں انھیں پناہ دی جائے گی: روسی سرکاری میڈیا

روسی سرکاری خبر رساں اداروں نے کریملن میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ معزول شامی صدر بشارالاسد اور ان کی فیملی ماسکو پہنچ چکے ہیں۔ بی بی سی تاحال ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔

خلاصہ

  • روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بشارالاسد نے اپنا عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل تنازع میں شریک تمام مسلح گروہوں سے بات چیت کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
  • اطلاعات ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد اپنا ملک چھوڑ کر کہیں کسی اور ملک جا چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم کے آخر وہ کس ملک گئے ہیں؟
  • باغی گروہ ہیئت تحریر شام کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی صورت میں‘ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
  • روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ باغی گروہ ہیئت تحریر شام کے عسکری آپریشن کی ’منصوبہ بندی لمبے عرصے پہلے کی گئی تھی۔‘
  • اقوامِ متحدہ کے نمائندہ برائے شام گیئر پیڈرسن نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت ’فوری سیاسی مذاکرات‘ ہونے چاہییں۔

لائیو کوریج

پیشکش: محمد صہیب اور اعظم خان

  1. بشار الاسد آخر ہیں کہاں؟

    Syria

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    باغی فورسز نے شام کے دارالحکومت دمشق کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انھوں نے اتوار کی صبح یہ اعلان کیا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ بشارالاسد گذشتہ 25 برس سے شام کے مطلق العنان حکمران تھے۔

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اقتدار کے خاتمے کے بعد بشارالاسد گئے کہاں ہیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ شام کے معزول ہونے والے صدر ایک طیارے پر سوار ہو کر دمشق سے باہر چلے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ دو سینیئر عسکری حکام نے بتایا ہے کہ بشارالاسد اتوار کو دمشق سے کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔

    ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ بشارالاسد شام چھوڑ چکے ہیں مگر انھوں نے بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ آخر گئے کہاں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے بھی ایک سینیئر اہلکار نے بھی اپنے ملک میں بشارالاسد کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متعلق تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

  2. اسرائیل کا شام کے ساتھ بفر زون میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

    باغی فورسز کے دمشق میں داخلے کے بعد اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس نے شام کے ساتھ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں افواج تعینات کر دی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم بفر زون کے تحفظ اور اسرائیل اور اس کے شہریوں کے دفاع کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    فوج نے زور دیا کہ وہ ’شام کے اندرونی واقعات میں مداخلت نہیں کرتی۔‘

    بفر زون تقریباً 80 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا رقبہ 235 مربع کلومیٹر ہے جو کہ گولان کی پہاڑیوں کے مقبوضہ حصے کو شام کے باقی حصوں سے الگ کرتا ہے۔

    حادثات
  3. دمشق میں عراقی سفارتخانہ خالی کرا دیا گیا

    اطلاعات کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں عراق کا سفارتخانہ خالی کرا دیا گیا ہے۔ عراقی میڈیا نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے ان کے سفارتخانے سے عملے کو باہر نکال لیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی سفارتی ذرائع سے یہ خبر چلائی ہے۔

  4. دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    عرب نیوز کے ادارے العربیہ کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ایرانی سفارتخانے کی عمارت کے بیرونی حصے کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ اس عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور کمروں کی حالت بھی ابتر ہوئی ہے۔ ان کمروں کے فرش پر پتھر اور کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس عمارت پر لٹکی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی تصاویر کو بھی پھاڑی گئی ہیں۔ یہ دونوں رہنما مارے گئے ہیں اور انھیں ایران میں ہیروز کا درجہ حاصل ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی تصویر میں بھی ان دونوں رہنماؤں کی تصاویر کو پھٹا ہوا دکھایا گیا ہے۔

  5. کیا بشارالاسد متحدہ عرب امارات میں ہیں؟ صحافیوں کے سوال پر یو اے ای کے سفارتکار نے کیا جواب دیا؟

    Bashar Al Asad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اطلاعات ہیں کہ شام کے صدر بشارالاسد اپنا ملک چھوڑ کر کہیں کسی اور ملک جا چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ نہیں معلوم کے آخر وہ کس ملک گئے ہیں؟ متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ بشارالاسد یو اے ای میں ہیں یا نہیں۔

    بحرین میں ماناما ڈائیلاگ کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انور گرگیش نے ان قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ بشاالاسد متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکے ہیں۔

    جب پوچھا گیا کہ بشارالاسد کہاں جا رہے ہیں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ یہ تاریخ میں زیادہ اہمیت کی حامل بات نہیں رہے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کوئی اہم بات ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ بڑے واقعات میں سے ایک چھوٹی پیشرفت ہے۔

    انور گرگیش نے کہا کہ شام ابھی بحران سے باہر نہیں نکلا ہے اور ابھی بھی انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خطرات سے دوچار ہے۔

  6. بشارالاسد کے جانے سے لوگ خوش ہیں، لیکن آگے کیا ہو گا؟, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماضی میں روس اور ایران کی مدد سے بشارالاسد اپنے مخالفین کو کچلنے میں کامیاب رہے۔

    لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوا۔

    اپنے اپنے تنازعات میں گھڑے بشارالاسد کے اتحادیوں نے انھیں اس بار اکیلا چھوڑ دیا۔ اتحادیوں کی مدد بغیر ان کی فوج باغیوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ کئی مقامات پر تو ایسا لگا جیسے وہ باغیوں روکنا چاہتے بھی نہیں ہیں۔

    گذشتہ ہفتے باغیوں نے حلب پر قبضہ کیا، اس کے بعد حماۃ اور کچھ ہی دنوں میں حمص کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہی باغی دمشق میں داخل ہو رہے تھے۔

    بہت سے لوگ بشارالاسد کے جانے سے خوش ہیں۔ لیکن آگے کیا ہوگا؟

    یہ ایک ایسی بغاوت ہے جس کی قیادت ہیئت تحریر الشام کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی جڑیں القاعدہ سے ملتی ہیں اور اس کا ایک پر تشدد ماضی رہا ہے۔

    حالیہ برسوں میں انھوں نے خود کو ایک قومی فورس کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے حالیہ بیانات بھی کافی مفاہمتی دکھائی دیتے ہیں۔

    لیکن ہر کوئی اس سے قائل نہیں۔ بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ شاید وہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں۔

  7. ملک میں آزاد انتخابات ہونے چاہییں: شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی

    شام کے وزیرِ اعظم محمد غازی الجلالی نے عربی خبر رساں ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں آزادانہ انتخابات ہونے چاہیے۔

    روئٹرز کے مطابق العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے وہ باغی رہنما ابو محمد الجولانی سے رابطے میں ہیں۔

    آج صبح العربیہ نے شامی وزیرِ اعظم کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کی صدر بشارالاسد سے آخری بار گذشتہ شب بات ہوئی تھی۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ صدر بشارالاسد اس وقت کہاں ہیں۔

    اس سے قبل شامی وزیرِ اعظم کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جو عوام کے حق میں بہتر ہوگا، وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  8. افغان طالبان بشارالاسد کی حکومت جانے سے خوش کیوں ہیں؟, حفیظ اللہ معروف، بی بی سی افغان سروس

    طلبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    افغانستان اور شام کی سرحدیں نہیں ملتی، بلکہ ان دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹرز کا فاصلہ ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغان طالبان میں شام کے باغیوں کے لیے حمایت پائی جاتی ہے۔

    طالبان حکومت کی جانب سے شام کی صورتحال کو لے کر سرکاری سطح پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر جو دکھائی دے رہا ہے وہ کم حیران کن نہیں ہے۔

    طالبان شدت پسند سنی نظریات رکھنے والا جہادی گروہ ہے۔ ایک طالب نے مجھے بتایا کہ طالبان میں شام کے باغیوں کے لیے پائی جانے والی حمایت کی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں گروہ ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں۔

    سینیئر طالبان حکام کو امید ہے کہ باغی گروہ شام میں شریعہ قوانین نافذ کریں گے جیسے طالبان نے افغانستان میں کیا ہے۔

  9. شام ایک دوراہے پر کھڑا ہے ’جن لوگوں کا مسلک باغیوں کی طرح سنی نہیں، انھیں مستقبل کا خوف ہے‘, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جب خوشی میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ تھمے گی اور بشارالاسد کی جیلوں میں قید تمام افراد رہا ہو جائیں گے تو شام اپنے آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا پائے گا۔

    یہاں سے آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    اگر ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولونی اپنے وعدے پر قائم رہے تو ہوسکتا ہے کہ شام ایک جمہوریت پسند ملک بن جائے جسے اقوامِ متحدہ اور دیگر کی حمایت حاصل ہو۔

    لیکن ہیئت تحریر الشام اور اس کے اتحادیوں کا ایک تشدد پسند ماضی رہا ہے جس میں انسانی حقوق کی پامالی عام بات تھی۔اقوام متحدہ اور کئی حکومتوں نے اسے کالعدم تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔

    القاعدہ ابھی سے ہی باغیوں کو ’یہودیوں اور صلیبیوں‘ کے خلاف کارروائیوں کے لیے اکسا رہی ہے۔

    شام میں بہت سے اقلیتیں مقیم ہیں اور جن لوگوں کا مسلک باغیوں کی طرح سنی نہیں، انھیں مستقبل کا خوف ہے۔

    اگرچہ ایسے کچھ حوصلہ افزا علامات موجود ہیں کہ اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن ہے لیکن اس بات کا خطرہ ابھی ٹلا نہییں کہ شام بھی لیبیا کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی، لوٹ مار اور تباہی کی دلدل میں اتر سکتا ہے۔

  10. لبنان اور شام کے درمیان بارڈر پر سرحد پار کرنے والوں کا ہجوم, لینا سنجاب، بی بی سی نیوز

    لبنان اور شام کے بارڈر پر واقع مسنا کے مقام پر اس وقت لوگوں کا ہجوم سرحد پار کرنے کے لیے جمع ہے۔

    جو لوگ لبنان میں موجود تھے وہ وطن واپسی کے لیے آزادی کے اس لمحے کے طویل عرصے سے منتظر تھے۔

    کچھ نوجوان کراسنگ پر جمع ہوئے ہیں اور حزب اختلاف کا سبز پرچم تھامے انقلاب اور آزادی کے نغمے گا رہے ہیں۔

    شام کے سرحدی حصے سے متعلق ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت وہاں کوئی کسٹم اہلکار موجود نہیں نہ کوئی سکیورٹی چوکی ہے یہاں تک کے پاسپورٹ پر مہر بھی نہیں لگائی جا رہی۔

    دمشق میں موجود لوگوں نے ہمیں باغیوں کی فوٹیجز بھیجی ہیں جس میں وہ دیرہ سے شہر کے وسط میں آتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    سابق سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ انھیں راتوں رات اپنی پوزیشن چھوڑنے اور سرحدی کراسنگ پر کارروائیاں روکنے کا حکم دیا گیا تھا اور تب سے وہ بند ہے۔ وہاں باغی انچارج ہیں اور پولیس یا کسٹم حکام لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

    فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ کراسنگ پوائنٹ کب کھلے گا تاکہ لبنان کی جانب منتظر لوگ سرحد پار کر سکیں۔

  11. شام کے سرکاری ٹی وی، ’دمشق ریڈیو‘ سے باغیوں کا پہلا پیغام نشر

    شام کے سرکاری ٹی وی، دمشق ریڈیو سے باغیوں کا پہلا پیغام نشر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام میں باغیوں کی جانب سے دمشق میں داخل ہونے کے بعد سرکاری ٹی وی اور دمشق ریڈیو سے ایک پیغام نشر کیا گیا ہے۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور سیاسی قیدیوں کو رہا دیا ہے۔

    نشر کیے گئے پیغام میں باغی ’مجاہدین اور شہریوں‘ سے آزاد شام کی املاک کو نقصان نہ پہچانے کا کہہ رہے ہیں۔

    ’تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے ایک آزاد اور قابل فخر شام زندہ باد‘۔

  12. بشارالاسد کی حکومت اتنا جلدی کیسے گر گئی؟

    دمشق

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت محض چند دنوں میں گر گئی لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں اور اس کے پیچھے کئی عوامل شامل ہیں۔

    میلبرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پولیٹیکل تجزیہ کار دارا کونڈئیٹ کہتی ہیں کہ سالوں سے جاری جنگ نے بشارالاسد کی فوج کو بہت کمزور کر دیا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ بشارالاسد کے اتحادی روس، ایران اور حزب اللہ سب ہی اپنے اپنے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق بشارالاسد کی پوزیشن کافی کمزور ہے۔

    تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود جتنی جلدی یہ سب ہوا ہے وہ بہت حیران کن ہے۔

    شام کے تیسرے بڑے شہر حمص پر باغیوں کے قبضے کے کچھ ہی دیر بعد اطلاع آئی کہ بشارالاسد مخالف فورسز دارالحکومت دمشق میں داخل ہو گئی ہیں اور صدر ایک طیارے میں دمشق سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

  13. صبح سویرے دمشق میں جشن کے مناظر

    اتوار کے روز باغی فورسز کے جنگجو شام کے دارالحکومت دمشق میں داخل ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ صدر بشارالاسد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

    باغیوں کے شہر میں داخل ہونے کے بعد شہر کے کئی مقامات پر لوگ جشن مناتے بھی دکھائی دیے۔

    دمشق جشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندمشق کے مضافاتی علاقے جرمانا میں تین خواتین تصویر کے لیے پوز کر رہی ہیں۔
    دمشق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشہریوں کا دمشق کی سڑکوں پر جشن
    دمشق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دمشق کے مضافاتی علاقے جرمانا میں شہری جشن منا رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندمشق کے مضافاتی علاقے جرمانا میں شہری جشن منا رہے ہیں
  14. کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، شامی حزبِ اختلاف کے رہنما کی عوام کو یقین دہانی

    شام

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شامی انقلاب اور اپوزیشن فورسز کے قومی اتحاد کے سربراہ ہادی البحرا نے خبر رساں ادارے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ’شام کے تاریک دور‘ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

    انھوں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے اور کہا کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام افراد جو کسی دوسرے شہری کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور اپنے گھروں میں رہیں گے، بنا کسی فرقہ وارانہ یا مذہبی تفریق کے وہ محفوظ ہیں۔

  15. دیکھنا ہوگا کہ کیا باغی گروپس ہم آہنگی برقرار رکھ پائیں گے: مشرقِ وسطیٰ کے امور کی ماہر نتاشہ ہال کا تجزیہ

    شامی باغی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کی ماہر نتاشہ ہال کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہے۔

    جب ان سے باغیوں کے آپسی تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا باغی گروپوں میں ’سب سے زیادہ منظم اور طاقتور‘ ہیئت تحریر الشام ہے جو ان گروہوں کی قیادت کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر گروہوں کے مقابلے میں ہیئت تحریر الشام پر غیر ملکی طاقتوں کا اثر و رسوخ بہت کم ہے۔ ان کے مطابق دیگر باغی گروپس ترکی کے زیرِ اثر چل رہے ہیں۔

    نتاشہ کہتی ہیں کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ گروپس ایک دوسرے اور خصوصاً شمال مشرق میں موجود کرد گروہوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔

  16. عوام جس کو بھی چنیں گے میں اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں: وزیرِ اعظم محمد الجلالی

    شامی وزیرِ اعظم

    ،تصویر کا ذریعہSyrian government

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو شامی وزیرِ اعظم محمد الجلالی

    باغی گروہ ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی کا کہنا ہے کہ اقتدار کی باضابطہ منتقلی تک عوامی ادارے وزیرِ اعظم محمد الجلالی کے ماتحت کام کرتے رہیں گے۔

    دمشق میں موجود تمام جنگوؤں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جنگجو عوامی اداروں میں داخل نہ ہوں۔ انھوں نے ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

    باغیوں کی جانب سے صدر بشارالاسد کی شام سے فرار ہونے کے دعوے کے بعد وزیرِ اعظم محمد الجلالی نے اعلان کیا ہے کہ عوام جس کو بھی چنیں گے وہ اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کے روز اپنے دفتر میں ہوں گے اور وہ اقتدار کی منتقلی کے کسی بھی طریقہ کار کے لیے تیار ہیں۔

    شام کے دو سینیئر فوجی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ صدر بشار الاسد طیارے میں سوار ہو کر دمشق سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

  17. شامی صدر کے دمشق چھوڑنے کی اطلاعات: ’عوام نے بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا‘ باغیوں کا دعویٰ

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    باغی فوجیوں نے شام کو ’آزاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صدر بشار الاسد ملک سے چلے گئے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ ایک تاریک دور کا خاتمہ ہوا اور یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

    باغیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ بے گھر ہو گئے تھے یا اسد کے دورِ حکومت میں قید تھے، وہ اب گھر آ سکتے ہیں۔

    ایچ ٹی ایس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’نیا شام‘ ہو گا جہاں ’ہر کوئی امن اور انصاف کے ساتھ رہے گا۔‘

  18. دمشق شہر کے مرکز میں شہریوں کے جشن منانے کی اطلاعات

    دمشق کے مرکز میں واقع اہم سرکاری اداروں جن میں وزارت دفاع اور شامی مسلح افواج کے ایک تاریخی مقام ’اموی سکوائر‘ میں تقریبات شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بلند آواز میں موسیقی کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور تقریباً درجن کے قریب لوگ ایک ٹینک کے گرد رقص کر رہے ہیں جسے مبینہ طور پر فوج نے چھوڑ دیا تھا۔

    مبینہ طور پر شام کی وزارت دفاع کے حکام نے دمشق میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر کی عمارت کو خالی کر دیا ہے۔

  19. شام کی بدنامِ زنامہ صیدنایا جیل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں جسے اقوامِ متحدہ ’انسانی مذبح خانہ‘ قرار دیتا ہے

    صیدنایا جیل

    ،تصویر کا ذریعہUS STATE DEPARTMENT

    شام میں باغیوں کی جانب سے ملک کی بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل سے قیدیوں کو رہا کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    اس جیل کو اقوام متحدہ ’انسانی مذبح خانہ‘ قرار دیتا آیا ہے جہاں ہزاروں حکومت کے مخالفیں کو رکھا جاتا ہے۔

    شامی باغی گروپ ہیئت تحریر الشام کا اپنے ٹیلی گرام چینل پر کہنا ہے کہ صیدنایا جیل سے قیدیوں کو رہا کردیاگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ جیل کے میدان سے ڈورتے ہوئے باہر نکل رہے ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

    صیدنایا جیل میں قید اور لاپتا افراد کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جیل سے رہا ہونے والے افراد دمشق کے قریبی قصبے منین کا رخ کر رہے ہیں۔

    دمشق سے 30 کلومیٹر فاصلے پر واقع صیدنایا جیل کو ایسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں ’سیاسی قیدی داخل تو ہوتے ہیں لیکن کبھی باہر نہیں آتے۔‘

    صیدنایا جیل منظم تشدد، غیر انسانی حالات، اور اجتماعی پھانسیوں کے لیے بدنام ہے۔ اس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی رپورٹس موجود ہیں۔

    سنہ 2022 میں صیدنایا میں قید اور لاپتا افراد کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے یہ جیل ایک ’ڈیتھ کیمپ‘ بن چکا ہے۔

    تنظیم کا دعویٰ ہے کہ 2011 سے 2018 صیدنایا میں 30 ہزار کے قریب قیدی سزائے موت یا تشدد، طبی امداد کے فقدان اور بھوک کے باعث مارے گئے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں نے بتایا ہے کہ 2018 سے 2021 کے درمیان اس جیل میں 500 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔

  20. بشار الاسد دمشق چھوڑ گئے ہیں: روئٹر اور سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا دعویٰ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام کے دو سینئر افسران کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد طیارے میں سوار ہو کر دمشق سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

    سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس وار مانیٹر کا دعویٰ ہے کہ دمشق کے ہوائی اڈے سے نکلنے والا ایک نجی طیارہ ممکنہ طور پر اسد کو لے کر جا رہا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر موجود سرکاری دستوں کو ان کی روانگی کے بعد وہاں سے رخصت کر دیا گیا۔

    یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب باغی فورسز کا دعویٰ ہے کہ وہ شام کے دارالحکومت میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔