آئل ٹینکر کے زخمی انڈین اہلکار پاکستان میں علاج کے بعد وطن روانہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان میں زیر علاج رہنے کے بعد آئل ٹینکر کے زخمی انڈین اہلکار اپنے وطن روانہ ہوچکے ہیں، لائبیریا کے آئل ٹینکر ایم ٹی ہائی لیڈر نے اپنے زخمی انڈین عملے کے لیے پاکستان میری ٹایم سکیورٹی کو طبی امداد کی درخواست کی تھی۔
پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندر میں کافی تغیانی تھی زخمی انڈین اہلکار اس دوران گر کر زخمی ہوگیا اس کو بائیں ہاتھ پر چوٹ لگی، جس کے ریسکیو کے لیے میری ٹائم سکیورٹی سے مدد طلب کی گئی۔
’یہ ایک شدید چوٹ تھی اگر خون نہیں روکا جاتا اور فوری طبی امداد فراہم نہ کی جاتی تو جان بھی جاسکتی تھی۔‘
شپ انتظامیہ کی جانب پاکستان بحریہ کےجوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر سے رابطہ کیا جس کے بعد زخمی اہلکار کو کراچی منتقل کیا گیا اور جہاں پرائیوٹ ہسپتال میں اس کا علاج کیا گیا جس کے بعد وہ روانہ ہوگیا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
کس معاہدے کے تحت ریسکیو کیا گیا
پاکستان نے انٹرنیشنل میری ٹائیم آرگنائزیشن کے قواعد کے مطابق انڈین اہلکار کو ریسکیو کیا۔
میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسنی کے مطابق پاکستان میں ریجنل میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم ہے۔
میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن کے مطابق ’پاکستان کے ساحل سے 840 ناٹیکل مائلز میں کوئی بھی ریسکیو یا سرچ کی ضرورت ہوگی تو پاکستان مدد اور معاونت فراہم کرے گا۔‘
آئی ایس پی آر کی جانب سے رییسکیو آپریشن اور زخمی عملے کے اہلکار کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں زخمی انڈین شہری بتاتا ہے کہ اس کے زخمی ہونے کے بعد ان کے سینیئرز نے پاکستان نیوی سے رابطہ کیا اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے انھیں ریسکیو کیا اور طبی امداد فرہم کی وہ خود کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’انڈین عملے کا بروقت اور کامیاب ریسکیو آپریشن قومیت سے بالاتر ہو کر بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کا مظہر ہے اور یہ اقدام سمندر میں انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے پاکستان بحریہ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے گہرے سمندر میں ایک انڈین کارگو جہاز کے عملے کے 12 ارکان کی بھی جان بچائی تھی۔












