ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔
  • ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔
  • صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت 'انتہائی خطرناک ' ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. آئل ٹینکر کے زخمی انڈین اہلکار پاکستان میں علاج کے بعد وطن روانہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    انڈین اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان میں زیر علاج رہنے کے بعد آئل ٹینکر کے زخمی انڈین اہلکار اپنے وطن روانہ ہوچکے ہیں، لائبیریا کے آئل ٹینکر ایم ٹی ہائی لیڈر نے اپنے زخمی انڈین عملے کے لیے پاکستان میری ٹایم سکیورٹی کو طبی امداد کی درخواست کی تھی۔

    پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندر میں کافی تغیانی تھی زخمی انڈین اہلکار اس دوران گر کر زخمی ہوگیا اس کو بائیں ہاتھ پر چوٹ لگی، جس کے ریسکیو کے لیے میری ٹائم سکیورٹی سے مدد طلب کی گئی۔

    ’یہ ایک شدید چوٹ تھی اگر خون نہیں روکا جاتا اور فوری طبی امداد فراہم نہ کی جاتی تو جان بھی جاسکتی تھی۔‘

    شپ انتظامیہ کی جانب پاکستان بحریہ کےجوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر سے رابطہ کیا جس کے بعد زخمی اہلکار کو کراچی منتقل کیا گیا اور جہاں پرائیوٹ ہسپتال میں اس کا علاج کیا گیا جس کے بعد وہ روانہ ہوگیا۔

    ریسکیو

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    کس معاہدے کے تحت ریسکیو کیا گیا

    پاکستان نے انٹرنیشنل میری ٹائیم آرگنائزیشن کے قواعد کے مطابق انڈین اہلکار کو ریسکیو کیا۔

    میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسنی کے مطابق پاکستان میں ریجنل میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم ہے۔

    میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن کے مطابق ’پاکستان کے ساحل سے 840 ناٹیکل مائلز میں کوئی بھی ریسکیو یا سرچ کی ضرورت ہوگی تو پاکستان مدد اور معاونت فراہم کرے گا۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے رییسکیو آپریشن اور زخمی عملے کے اہلکار کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں زخمی انڈین شہری بتاتا ہے کہ اس کے زخمی ہونے کے بعد ان کے سینیئرز نے پاکستان نیوی سے رابطہ کیا اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے انھیں ریسکیو کیا اور طبی امداد فرہم کی وہ خود کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’انڈین عملے کا بروقت اور کامیاب ریسکیو آپریشن قومیت سے بالاتر ہو کر بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کا مظہر ہے اور یہ اقدام سمندر میں انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے پاکستان بحریہ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے گہرے سمندر میں ایک انڈین کارگو جہاز کے عملے کے 12 ارکان کی بھی جان بچائی تھی۔

  2. ایرانی فوجی فیصلہ سازوں کے پاس تمام ضروری آپشنز موجود ہیں: ایران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے حوالے سے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے کاظم غریب آبادی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت میں مداخلت کرنا چاہتا ہے تو ایران کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ جارحیت پسندوں کو سبق سکھانے اور اپنے دفاع کے لیے اپنے حربے استعمال کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جارحیت کو روکنا نہیں چاہتا تو کم از کم ایک طرف کھڑا رہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے فوجی فیصلہ سازوں کے پاس تمام ضروری آپشنز موجود ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران پر حملے میں شمولیت پر مشورے کے لیے ’ٹرمپ ’ ذاتی نیٹ ورک‘ سے رابطہ کریں گے‘

    ایک ایسے وقت میں جب دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے، ان کے سابق قومی سلامتی کی مشیر کے ٹی میک فارلینڈ نے تبصرہ کیا ہے کہ وہ کس طرح فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ امریکی صدر ایران پر حملہ کرنے کے بارے میں مشورے کے لیے اپنے ذاتی نیٹ ورک کا رخ کر سکتے ہیں۔

    میک فارلینڈ کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر صدور کے برعکس جو بریفنگ کے لیے اپنے عملے اور کابینہ پر انحصار کرتے ہیں، ٹرمپ ان لوگوں سے بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں، جیسے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان۔‘

    لیکن میک فارلینڈ کا کہنا ہے کہ آخر میں یہ صرف ٹرمپ کا ہی فیصلہ ہوگا۔

    ’اور ایک بار جب وہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو وہ خود دوسری بار نہیں سوچتے۔ وہ بس ایسا ہونے دیتے ہیں۔‘

    جب امریکہ نے 2017 میں شام کے ہوائی اڈوں پر بمباری کی تھی تو میک فارلینڈ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حملوں کا حکم دینے کے بعد وہیں سے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ عشائیہ کرنے گئے تھے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’انھیں چاکلیٹ کیک کھاتےہوئے خبر ملی کہ امریکی مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘

  3. بریکنگ, ججز کی سنیارٹی اور ٹرانسفر کے معاملہ: سپریم کورٹ نے تمام 11 درخواستیں مسترد کر دیں, شہزاد ملکئ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججز کی سنیارٹی اور ٹرانسفر کے معاملے پر 11 درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ مختصر فیصلہ تین دو کے تناسب سے سنایا ہے۔

    یاد رہے کہ اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے بھی درخواستیں دائر کی تھیں۔

    عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ججز کا تبادلہ غیر آئینی نہیں ہے۔

    ججز کے تبادلوں کے خلاف درخواست گزاروں میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان بھی شامل ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی شامل ہیں۔

    اسی بارے میں پڑھیے

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی 19 سماعتوں کے بعد مختصر فیصلہ سنایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر جسٹس شاہد بلال اور جسٹس صلاح الدین نے ججز ٹرانسفر کے معاملے کو آئینی قرار دیا۔

    جبکہ پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس نعیم افغا اور جسٹس شکیل احمد نے اس سے اختلاف کیا ہے۔

  4. اسرائیل بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے: ایران

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران نے نطنز اور خنداب میں جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی اطلاع بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو دے دی ہے۔

    تہران نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ خنداب میں اراک جوہری ری ایکٹر پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  5. ’اسرائیل ایرانی حملوں کو ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے‘, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ، یروشلم

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل ایران پر اپنے حملوں کا یہ جواز پیش کرتا آیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں اس مقام تک پہنچنے والا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، اور یہ کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے قریب ہے۔حالانکہ اسرائیل نے اس بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکی حکام کا بھی یہی اندازہ تھا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کا مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔

    آج صبح ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے میزائل حملے ایک ایسے نازک وقت پر ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ اسرائیل کی مہم میں براہ راست امریکی شمولیت کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

    یہ عین ممکن ہے کہ اسرائیلی حکام اور وہ لوگ جو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں ہیں، ان حملوں کو ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کریں۔

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور ایران نے اس کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    عراق اور یمن میں موجود اس کے پراکسی بھی حملہ کر سکتے ہیں جس سے مزید خونریزی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    تنازعے کی شدت میں کمی لانے کی اب تک کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں، جبکہ اسرائیل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔۔

  6. ایرانی میزائل حملے کا ہدف سوروکا ہسپتال کے نزدیک واقع فوجی تنصیبات تھیں: ایرانی سرکاری میڈیا

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آج صبح کیے جانے والے ایرانی میزائل حملے کا اصل ہدف بیر شیبہ میں سوروکا ہسپتال نہیں بلکہ اس کے ساتھ واقع فوجی تنصیبات تھیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، حملے کا مقصد آئی ڈی ایف کے ’کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر آئی ڈی ایف سی فور آئی (IDF C4i) اور گاو یام ٹیکنالوجی پارک میں موجود فوج کے انٹیلی جنس کیمپ کو نشانہ بنانا تھا۔‘

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے میں ’ہسپتال کو صرف دھماکے کی لہر کا سامنا کرنا پڑا اور اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔‘ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں فوجی انفراسٹرکچر براہ راست نشانہ بنا۔

    گاو یام ٹیکنالوجی پارک کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ’بین گوریان یونیورسٹی کیمپس اور آئی ڈی ایف سی فور آئی برانچ کیمپس سے متصل ہے۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی میڈیا بھی خبر دی چکا ہے کہ اس جگہ پر آئی ڈی ایف کا کیمپس بنایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے ایرانی میزائل حملے میں ملک بھر میں اب تک کل 65 افراد کے زخمی ہوئے کی اطلاعات ہیں۔

    ایران حملہ
  7. اسرائیلی فوج کا نظنز میں ’جوہری ہتھیاروں‘ کے مرکز کو نشانہ بنانے کدعویٰ

    نطنز میں جوہری مرکز کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMAXAR TECHNOLOGIES

    ،تصویر کا کیپشننطنز میں جوہری مرکز کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر

    اسرائیلی فوج نے نظنز میں ’جوہری ہتھیاروں‘ کے ایک مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ رات اس کی فضائیہ نے ایران کے شہر نظنز میں ایک ایسی جگہ پر حملہ کیا جو ان کے بقول جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائی گئی جگہ پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزے اور آلات رکھے گئے تھے۔ ’وہاں ایسے منصوبے تیار کیے جا رہے تھے جو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتے۔‘

    یہ نطنز پر ہونے والا پہلا حملہ نہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گذشتہ جمعے کو اسرائیلی حملے میں ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی کے پلانٹ نظنز کے سینٹری فیوجز ’اگر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے تو انھیں شدید نقصان‘ ضرور پہنچا ہوگا۔

    اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران نے حال ہی میں اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے ’ہتھیار بنانے کے لیے اقدامات‘ اٹھائے ہیں۔

    دوسری جانب اتوار کے روز ایران نے ایک بار اپنا موقف دہرایا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور آئی اے ای اے کے 35 ملکی بورڈ پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرے۔

  8. اسرائیل کا ’غیر فعال‘ اراک جوہری ری ایکٹر پر حملے کی تصدیق

    اراک ری ایکٹر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے خنداب میں اراک جوہری ری ایکٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ری ایکٹر ’غیر فعال تھا۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ری ایکٹر کو جوہری ہتھیار میں استعمال ہونے والے پلوٹونیم تیار کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے، ’اس حملے میں پلوٹونیم کی پیداوار کے لیے بنائے گئے آلات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ری ایکٹر کو بحال ہونے اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔‘

    اسرائیلی فوج کے متازہ ترین حملوں میں 40 لڑاکا طیاروں نے درجنوں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں خام مال بنانے والی فیکٹریاں، بیلسٹک میزائلوں کو اسمبل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پرزے اور ایرانی فضائی دفاعی نظام اور میزائل بنانے کے مقامات شامل ہیں۔

  9. جنوبی اسرائیل پر ایرانی حملے میں کم از کم 32 افراد زخمی ہوئے ہیں: اسرائیلی ایمرجنسی سروس

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے مطابق، جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبہ میں ہسپتال پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد زخمی ہوئی ہیں جنھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویشناک ہے جن میں ایک 80 سالہ مرد اور تقریباً 70 سالہ ایک خاتون ہیں۔

    ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ دیگر 30 افراد معمولی زخمی ہیں۔

    اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ نے سوروکا اسپتال پر ایران کے حملے کو ’مجرمانہ‘ اقدام قرار دیا ہے۔

    ایرانی میزائل حملے کے بعد ہسپتال سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے،

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایرانی میزائل حملے کے بعد ہسپتال سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے،
  10. اسرائیل کا اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر پر حملہ: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی سرکاری ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ اسرائیل نے اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر پر حملہ کیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حملے سے جوہری تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ جگہ پہلے ہی خالی کی جا چکی ہے۔

    قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے اس ری ایکٹر کی ایک سیٹلائٹ تصویر جاری کی تھی جس پر سرخ دائرے سے نشان بنا ہوا تھا۔ اسرائیلی فوج نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس ’فوجی انفراسٹرکچر‘ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اس نے خنداب سمیت ری ایکٹر کے آس پاس کے علاقے کے رہائشیوں سے فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کا کہا تھا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نیوز نے بھی خندب کے قریب دھماکے کی اطلاع دی تھی۔

    خنداب (اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر)

    ایران کے خنداب ری ایکٹر کے بارے میں پہلی بار معلومات دسمبر 2002 میں اُس وقت سامنے آئیں جب انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر شائع کی گئیں۔

    یہ پہلے اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ ری ایکٹر سے خارج ہونے والے ایندھن میں پلوٹونیم موجود تھا، جسے ایٹمی بم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    پھر اگست 2011 میں آئی اے ای اے نے اس سائٹ کا دورہ کیا جس کے بعد ایران نے اس ادارے کو سنہ 2014 کے اوائل میں ری ایکٹر کو چلانے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔

    ایک ہیوی واٹر پروڈکشن پلانٹ ری ایکٹر کو پانی فراہم کرتا ہے، لیکن فی الحال یہ آئی اے ای اے کے معائنہ کے تحت نہیں ہے۔ تاہم، ایجنسی سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر کے ذریعے اس کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ سنہ 2012 میں ایجنسی نے تصدیق کی کہ پلانٹ اب بھی کام کر رہا ہے۔

    عالمی طاقتیں جوہری پھیلاؤ کے خدشات کی وجہ سے اراک ری ایکٹر کو بند کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نومبر 2013 میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام پر ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی اور ذخیرہ اندوزی پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ متعدد جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا تبدیل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    سنہ 2015 کے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے تحت ایران نے ری ایکٹر کی مزید تعمیر روک دی، اس کا کچھ بنیادی حصہ ہٹا دیا، اور اسے ناقابل استعمال بنانے کے لیے کنکریٹ سے بھر دیا۔

    ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو سنہ 2026 تک ری ایکٹر کو فعال کرنے کے اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا ہے، جو ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کے باعث بین الاقوامی توجہ مبذول کر رہا ہے۔

  11. ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے ایک اور حملہ: ایرانی حملے میں جنوبی اسرائیل کے سب بڑے ہسپتال کو نقصان پہنچا ہے، آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تازہ ایرانی میزائل حملوں میں جنوب اسرائیل کے سب سے بڑے ہسپتال کو نقصان پہنچا ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے میزائلوں میں سے کئی مختلف مقامات پر گرے ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے خبر دی تھی کہ ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے ایک اور حملہ کیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور لاکھوں افراد کو شیلٹرز میں پناہ لینی پڑی۔

    خبر رساں ادارے الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہروں تل ابیب اور یروشلم میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کم از کم چار میزائل ملک کے مختلف مقامات میں گرے ہیں۔

  12. امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز اور ایف-35 لڑاکا طیاروں سمیت کونسے فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ روانہ کر رہا ہے؟

    امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نمٹز

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنامریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نمٹز

    جیسے جیسے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ امریکہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہو سکتا ہے، واشنگٹن نے اپنے فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے خبر دی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایران پر حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا تھا کہ اس وقت خطے میں تقریباً 40,000 امریکی فوجی موجود ہیں۔

    گذشتہ چند روز میں امریکہ نے کم از کم 30 فوجی طیارے یورپ منتقل کر دیے ہیں۔ یہ تمام ٹینکر طیارے ہیں جو لڑاکا اور بمبار طیاروں کی ری فیولنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نمٹز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ جنوبی بحیرہ چین سے مشرق وسطیٰ کی جانب گامزن ہے۔ دیگر جنگی بحری جہاز خلیج عمان اور خلیج فارس میں تعینات ہیں۔ یہ جہاز پہلے ہی ایرانی میزائلوں کو مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، واشنگٹن نے ایف-16، ایف-22 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کو بھی مشرق وسطیٰ میں اڈوں پر منتقل کر دیا ہے۔

  13. ایرانی دوستوں نے اب تک ہماری مدد نہیں مانگی ہے: روسی صدر ولادیمیر پوتن

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنایران اور اسرائیل کے تنازع پر تبصرہ کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ ایران نے اب تک روس سے مدد نہیں مانگی ہے۔

    ایران اور اسرائیل کے تنازع پر تبصرہ کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ ایران نے اب تک روس سے مدد نہیں مانگی ہے۔

    وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے سوال پر کہ کیا ایران نے مدد مانگی ہے ان کا کہنا تھا، ’ہمارے ایرانی دوستوں نے اس بارے میں ہم سے کچھ نہیں کہا ہے۔‘

    خبر رساں ادار ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، پوتن کا کہنا ہے کہ روس کسی پر کچھ بھی مسلط نہیں کر رہا۔ انھوں نے کہا کہ ہم محض اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے کیسے نکلا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ ان ممالک بالخصوص اسرائیل اور ایران کی سیاسی قیادت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

    جب پوتن سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’میں نے اس بارے میں سنا ہے، لیکن میں اس امکان کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نہیں کرنا چاہتا۔‘

  14. ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی، مگر حتمی فیصلہ نہیں ہوا: امریکی میڈیا

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایران پر حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ملک پر حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

    سی بی ایس کو ایک اعلیٰ انٹیلیجنس ذریعے نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر فوری حملے سے اس لیے گریز کیا تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کا موقع دیا جا سکے۔

    یہ خبر سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے دی تھی۔

    بدھ کے روز جب ٹرمپ سے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’میں یہ کر سکتا ہوں، اور شاید نہ بھی کروں۔‘

    سی بی ایس نے پہلے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے فرودو نامی زیرِ زمین یورینیم افزودگی کے مرکز پر حملے پر غور کر رہے ہیں۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • ایران کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران سے متعلق ایک اور ہنگامی اجلاس جمعہ کو صبح 10 بجے نیویارک میں منعقد کرے گی۔
    • اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے خلاف تین بڑے حملے کیے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام ملاقات کے خواہش مند ہیں اور وائٹ ہاؤس آنا چاہتے ہیں۔
    • ایران کی وزارتِ مواصلات نے ملک میں انٹرنیٹ کی عارضی بندش کی تصدیق کی ہے۔
    • پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیل، ایران تنازع صرف خطے نہیں بلکہ دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جنگ بندی کی کوششیں کرے۔
    • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں خبرداد کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
    • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ اس کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔
  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ دو روز میں کیا ہوتا رہا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔