ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔
  • ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔
  • صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت 'انتہائی خطرناک ' ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسرائیل خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے: ترک صدر اردوغان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہGett

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔

    ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

    ترک صدر نے کہا کہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو حکومت ثابت کر رہی ہے کہ وہ ’خطے میں امن کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ‘ ہے۔

    ’نیتن یاہو حکومت کا اصل مقصد 13 جون کو ہونے والے حملوں سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانا تھا۔‘

    ترک صدر نے مزید کہا کہ یہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

    صدر اردوغان نے استنبول میں اسرائیل پر اثر انداز ہونے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کو وسیع تر تنازعے میں بدلنے کی اجازت دیے بغیر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے کام کریں۔

  2. آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے: اسرائیلی فوج

    آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق یہ ڈرونز مقامی وقت کے مطابق صبح 10:16 سے 11:27 کے درمیان اسرائیل کے مختلف علاقوں میں دیکھے گئے۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے پانچ ایرانی ڈرون مار گرائے گئے جبکہ باقی تین ڈرونز سے متعلق چھان بین کی جا رہی ہے۔

  3. بریکنگ, 13 جون سے اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہوئے: ایرانی نیوز ایجنسی

    ایران پر اسرائیلی حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ ایران کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں کئی دنوں بعد پہلا سرکاری بیان ہے۔ اس سے قبل اتوار کے دن ایران کی وزارتِ صحت نے بتایا تھا کہ کم از کم 224 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    جبکہ ایک انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے جمعے کو غیر سرکاری طور پر ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 657 بتائی تھی۔

    ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے آغاز سے اب تک 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک شخص دل کا دورہ پڑنے سے جان سے گیا جبکہ 2,517 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  4. بریکنگ, ایران اسرائیل جنگ میں امریکہ کی مداخلت ’انتہائی خطرناک‘ ہو گی: ایرانی وزیر خارجہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک ’ایسی صورت حال میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتا جب ہمارے عوام پر بمباری ہو رہی ہو۔‘

    استنبول میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ پہلے دن سے اس جارحیت میں شامل ہے۔‘ تاہم اپنے اس دعوے کے حوالے سے وہ کوئی ثبوت فراہم نہ کر سکے۔

    یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں سفارتی مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔

    صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت ’انتہائی خطرناک ‘ ہو گی۔

    عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’سفارتکاری ماضی میں بھی مؤثر رہی ہے اور مستقبل میں بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ہمیں سفارتکاری کی طرف واپس آنا ہے تو یہ جارحیت بند ہونی چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے ایران پر حملے کی منظوری دی تھی تاہم انھوں نے ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی غرض سے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم اپنے جوہری پروگرام کے مسئلے پر مذاکراتی حل کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    یہ بھی یاد رہے کہ 2015 میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر ایک طویل المدتی معاہدہ کیا تھا جو کئی سالوں کی کشیدگی کے بعد دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پایا تھا۔ اس کشیدگی کی وجہ ایران کے مبینہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں تھیں۔

  5. اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ایئر ڈیفنس فورسز کے 15 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک ایرانی ایئر ڈیفنس فورسز کے 15 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار اہلکار ایسے تھے جو لازمی فوجی سروس کے دوران ڈیوٹی پر مامور تھے۔

  6. ایران سے متعلق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کی رائے ’غلط‘ ہے: ٹرمپ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گلبارڈ ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اپنی رائے میں ’غلطی پر ہیں۔‘

    ایئر فورس ون کے قریب صحافیوں سے گفتگو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس ایران کے جوہری ہتھیار بنانے سے متعلق کیا معلومات ہیں جس کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے، جبکہ امریکی انٹیلیجنس ادارے اس کی تردید کر چکے ہیں تو انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’تو پھر میرے انٹیلیجنس ادارے غلط ہیں؟ یہ کس نے کہا ہے؟‘ صحافی نے جواب دیا: ’آپ کی انٹیلیجنس چیف، تلسی گابارڈ نے۔‘ جس پر ٹرمپ نے فوراً جواب دیا: ’وہ غلط ہیں۔‘

    مارچ میں تلسی گلبارڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ایران نے 2003 میں معطل کیا گیا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام دوبارہ شروع نہیں کیا، اگرچہ ایران کا افزودہ یورینیم ذخیرہ اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔

  7. اسرائیلی فوج کا قدس فورس کے اسلحہ منتقلی یونٹ کے سربراہ بہنام شہریاری کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے اسلحہ منتقلی یونٹ کے کمانڈر بہنام شہریاری کو ایک ’درست اور ہدف کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے‘ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ بہنام شہریاری ایران سے مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو اسلحہ منتقل کرنے کی تمام کارروائیوں کے نگران تھے۔

    فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ ’بہنام شہریاری ہر سال ان افراد کو کروڑوں ڈالر کی رقم منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی سنبھالتے تھے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور لیس کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے تھے، جن کے نتیجے میں ’متعدد اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔‘

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ بہنام شہریاری کو اسرائیل سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور مغربی ایران میں سفر کے دوران ہدف بنایا گیا۔

  8. اسرائیل نے تین ہسپتالوں اور چھ ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا: ایران کے وزیر صحت

    tasnimnews

    ،تصویر کا ذریعہtasnimnews

    ایران کے وزیر صحت کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے اب تک تین ہسپتالوں اور چھ ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی وزیر صحت محمد رضا ظفرغندی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک ’تین ہسپتالوں اور چھ ایمبولینسوں‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں ’14 طبی و امدادی کارکن زخمی ہوئے‘ جبکہ محکمہ صحت کے دو ماہرین ایک گائناکالوجسٹ اور ایک چائلڈ اسپیشلسٹ اپنے بچے سمیت ہلاک ہو گئے۔

  9. اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ: قم پر حملے کا ہدف ایرانی قدس فورس کے فلسطینی شعبہ کے کمانڈو تھے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کارٹز کا کہنا ہے کہ قم پر حالیہ اسرائیلی حملے کا ہدف محمد سعید ایزدی تھے جو ایرانی قدس فورس کے فلسطینی امور کے شعبے کے سربراہ تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایزدی وہی کمانڈر تھے جنھوں نے 7 اکتوبر 2023 سے قبل حماس کو مالی اور عسکری مدد فراہم کی تھی۔ کارٹزنے دعویٰ کیا کہ وہ اس حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایران نے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

    قم میں ہونے والے اس حملے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں ایرانی میڈیا کے مطابق ایک 16 سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ محمد سعید ایزدی پچھلے سال دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے تھے، جس میں قدس فورس کے سینیئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمدرضا زاہدی سمیت کئی افراد مارے گئے تھے۔

  10. قم میں اسرائیل سے مبینہ تعلق کے شبہے میں 22 افراد گرفتار

    ایران کے صوبہ قم کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی پولیس کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل سے تعلق کے شبہے میں 22 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد ان افراد کو ’اسرائیلی خفیہ اداروں سے مبینہ روابط، عوام میں ذہنی اشتعال پیدا کرنے، اسرائیل کی حمایت اور صوبے کے حساس مقامات کی ویڈیو ریکارڈنگ کرنے‘ کے الزامات کے تحت شناخت کر کے حراست میں لیا گیا۔

  11. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ’انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کی بحریہ نے جنوبی لبنان کے شہر ناقورہ کے قریب حزب اللہ کے ’انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ کارروائی اُس بیان کے ایک دن بعد ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر خارجہ نے حزب اللہ کو ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ میں شامل ہونے پر خبردار کیا تھا۔

    فوج کے جاری کردہ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات، اسرائیلی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے ناقورہ میں حزب اللہ کی رضوان فورس سے تعلق رکھنے والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جسے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

  12. اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ سمیت متعدد مقامات پر اسرائیلی حملہ

    اصفہان کے ڈپٹی گورنر برائے سیکیورٹی امور اکبر صالحی نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی صبح اسرائیل نے اصفہان میں ایک نیوکلیئرسائٹ اور کئی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ حملے کے بعد جو سفید دھواں دکھائی دیا وہ باعثِ تشویش نہیں کیونکہ ’کسی قسم کے مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘

    اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے میں اصفہان کی آئل ریفائنری کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    ان کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں اصفہان، لنجان، مبارکہ اور شہرِضا جیسے اضلاع کے کچھ علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ تاحال جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم ان علاقوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

  13. ایران چاہے تو چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تلسی گبارڈ کا نیا دعویٰ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس، تلسی گبارڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اگر ایران چاہے تو وہ چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انھوں نے میڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے مارچ میں سینیٹ کمیٹی میں دی گئی ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا۔ اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کا ماننا ہے کہ ایران فی الحال جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ تلسی گبارڈ ایران کے ارادوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب، ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔

  14. اسرائیلی فوج کا دعویٰ: ’ہم برسوں سے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’برسوں سے‘ ایران پر حملے کے لیے خود کو تیار کر رہی تھی۔

    اسرائیل کے چیف آف جنرل سٹاف ایال زمیر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں یہ تیاری ’انتہائی خفیہ انداز میں‘ کی گئی ہے۔

    انھوں نے مزید تفصیلات دیے بغیر دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن ’عملی اور سٹریٹجک حالات بہتر ہونے کی بدولت ممکن ہوا‘ اور اس میں تاخیر کرنا خطرناک ہوتا کیونکہ اس سے حالات مزید بگڑ سکتے تھے اور اسرائیل کو نقصان پہنچتا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایک طاقتور اور اچانک حملے کے ذریعے بہترین نتائج حاصل کیے۔

  15. اسرائیل کا غجر کے قریب ’مشتبہ ڈرون‘ مار گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایک مشکوک ڈرون کو کامیابی سے روک لیا ہے۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب لبنان کی سرحد سے متصل علاقے غجر میں ڈرون کی موجودگی کے بعد خطرے کا الارم بجایا گیا۔

    فوج نے یہ واضح نہیں کیا کہ ڈرون کس جانب سے آیا تھا۔

  16. رہبرِ اعلیٰ کے سیاسی مشیر علی شمخانی: ’زخمی جسم کے ساتھ رہنا میرا مقدر تھا تاکہ دشمن کی دشمنی کی وجہ بنا رہوں‘

    iranian Media

    ،تصویر کا ذریعہiranian Media

    ایران پر اسرائیل کے حملے کے پہلے دن زخمی ہونے والے رہبر اعلیٰ کے سیاسی مشیر علی شمخانی نے ایکس پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر لکھا ہے ’تقدیر یہی تھی کہ میں زخمی جسم کے ساتھ زندہ رہوں، تو میں رہوں گا تاکہ دشمن کی دشمنی کی وجہ بنا رہوں۔ کیونکہ وہ بھی اس کی وجہ خوب جانتا ہے اور میں بھی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں ایران کے عوام کے لیے سو بار اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

    شمخانی نے گذشتہ روز آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نام ایک پیغام میں بھی کہا تھا: ’میں زندہ ہوں اور اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

    ایڈمرل علی شمخانی 13 جون کی صبح ان کے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے دوران شدید زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا تھا اور بی بی سی فارسی کے مطابق اب ایسا لگتا ہے کہ ایک ہفتے بعد وہ ’طبی طور پر مستحکم حالت‘ میں ہیں۔

  17. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئے

    PressTV

    ،تصویر کا ذریعہPressTV

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول پہنچ چکے ہیں۔

    خیال رہے وہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول گئے ہیں۔

    ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ سربراہی اجلاس ایران کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے جس کا مقصد اسرائیلی حملوں پر مشاورت کرنا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ اس سے پہلے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے لیے جنیوا گئے تھے۔

  18. اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر سائرن بج رہے ہیں

    اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر سائرن بج رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنانی سرحد کے قریب اسرائیل کے غجر علاقے میں ڈرون کی دراندازی کے بعد سائرن بجائے گئے۔

    ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک مشتبہ ڈرون کے بارے میں وارننگ جاری کی تھی۔

  19. قم میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

    قم کے صوبائی کرائسز مینجمنٹ ہیڈ کوارٹر کے ترجمان مرتضی حیدری نے قم میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کے مطابق قم میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

    اس نے انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اس حملے میں ایک 16 سالہ نوجوان ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

  20. اسرائیل کا اصفہان پر حملہ، شہر میں دھماکوں کی آوازیں

    PressTV

    ،تصویر کا ذریعہPressTV

    ایران کے شہر اصفہان شہر میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق اسرائیل نے جنوبی شہر اصفہان پر حملہ کیا ہے۔

    ہمشہری اخبار نے بھی اطلاع دی ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب فضائی دفاعی نظام فعال تھا۔