ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔
  • ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔
  • صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت 'انتہائی خطرناک ' ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. ایران کے صوبہ گیلان کے علاقے رشت انڈسٹریل سٹی میں ’دھماکے‘ کی اطلاعات

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے صوبہ گیلان کے علاقے رشت انڈسٹریل سٹی میں ’دھماکے‘ کی اطلاع دی ہے۔

    اسی دوران سوشل میڈیا پر علاقے سے ویڈیوز شائع کی گئی ہیں جن میں دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایک گھنٹہ پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ اسرائیلی فوج نے رشت کے قریب سیفیدرڈ انڈسٹریل اسٹیٹ کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ رات ایران پر درجنوں حملے کیے ہیں جن میں تہران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کارروائی میں 60 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور ان کی جانب سے فوجی میزائل پروڈکشن سائٹس اور جوہری ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ تنصیبات ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے میں شامل تھیں۔

    ایران کی جانب سے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

  2. گذشتہ رات کی خبروں کا خلاصہ:

    اگر آپ ہمارے لائیو پیج پر ابھی تشریف لائے ہیں تو گذشتہ رات ایران اور اسرائیل تنازع کے دوران ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اگلے دو ہفتوں میں لیں گے۔
    • وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے یہ دو ہفتوں کا وقت ’مذاکرات کے لیے معقول امکان‘ کے پیشِ نظر لیا اور بی بی سی کے شمالی امریکہ کے چیف نامہ نگار کے مطابق اس سے خطے میں درجہ حرارت اور تناؤ میں کمی آ جائے گی۔
    • اسرائیلی ہسپتال پر ایرانی حملے میں کم سے کم 71 افراد زخمی ہوئے تھے اور اس حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو اب ’زندہ رہنے نہیں دیا جا سکتا۔‘
    • ایران کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے جسے ملک کی تاریخ کا بدترین شٹ ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔
    • امریکی وزیرِ خاجہ مارکو روبیو اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی کے مطابق امریکہ اور برطانیہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران ’کبھی بھی جوہری ہتھیار‘ حاصل نہیں کر سکتا۔
    • لیمی کی فرانسیسی، جرمن، یورپی یونین اور ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات جمعے کو جینیوا میں متوقع ہے۔
    • جمعرات کو حماس کے سول ڈیفنس حکام نے بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 77 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
  3. دو ہسپتالوں پر حملے مگر بین الاقوامی میڈیا کی شہ سُرخیوں میں صرف ایک کا ذکر کیوں؟, پریزاد نوبخت، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکرمانشاہ میں اسرائیلی حملے کے بعد اُٹھتا ہوا دھواں

    حالیہ دنوں میں بہت سارے ایرانی شہریوں نے عالمی میڈیا میں دو ایک جیسے واقعات کی خبروں میں واضع فرق پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کے شہر بئر سبع میں ہسپتال پر ہونے والے حملے کو عالمی میڈیا میں فوری اور وسیع کوریج ملی جبکہ اس سے تین دن قبل ایران کے شہر کرمانشاہ میں ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے کو زیادہ خبروں میں نہیں دیکھا گیا۔

    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسرائیل میڈیا کو جلدی رسائی دیتا ہے: غیر ملکی صحافیوں کو فوراً ان مقامات پر لے جایا جاتا ہے اور انھیں آزادی سے رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایران میں صحافیوں پر پابندیاں ہیں، مقامی میڈیا کو سینسرشپ کا سامنا ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی بند ہے۔ ایسے میں صرف عام شہریوں کی جانب سے بنائی گئی غیرواضع ویڈیوز ہی موصول ہوتی ہیں۔

    اسرائیل میں نہ صرف زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد فوری جاری کر دی جاتی ہے بلکہ وقتاً فوقتاً دیگر معلومات بھی منظر عام پر آتی رہتی ہے۔ ایران میں پہلے اسرائیلی حملے کے دو دن بعد بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن اس وقت بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے لوگ کہاں ہلاک ہوِئے ہیں۔

    کرمانشاہ میں ہسپتال کو بھی اسی دن نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس کے بعد سرکاری طور پر کوئی بھی معلومات جاری نہیں کی گئی۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِ اعظم ہسپتال کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں

    میڈیا کو رسائی نہ دینے اور شفافیت کی عدم موجودگی میں ایران کا بیانیہ کہیں کھو گیا ہے۔ غمزدہ خاندانوں نے انٹرنیٹ پر اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ذاتی سوشل میڈیا پوسٹس منظم میڈیا کوریج کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

    جنگوں کے دوران مناظر لوگوں کی سوچ استوار کرتے ہیں۔ کرمانشاہ میں ہسپتال کے حملے پر خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ سینسرشپ اور تنہائی اکثر خوفناک سانحات کو بھی عالمی نگاہ سے اوجھل کر دیتے ہیں۔

  4. تہران میں آسٹریلوی سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل، عملے کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ’سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی فضا‘ کے سبب اپنے سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل کر رہا ہے۔

    آسٹریلیا کی وزیرِ خاجہ پینی وونگ کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر گراؤنڈ پر موجودہ صورتحال کے سبب ہماری قونصلر سروسز دینے کی صلاحیت بہت محدود ہو گئی ہے۔‘

    آسٹریلیا نے اپنے تمام افسران اور ان کے اہلخانہ کو بھی ایران چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتخانے کے عملے کو پڑوسی ملک آذربائیجان منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ آسٹریلوی سفیر بھی خطے میں ہی موجود رہیں گے تاکہ اس بحران کے دوران وہ حکومت کی مدد کر سکیں۔

    خیال رہے ایران میں تقریباً 1500 آسٹریلوی شہری اپنی حکومت سے ایران چھوڑنے کے لیے مدد کی درخواست کر چکے ہیں۔

  5. مغربی رہنماؤں اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے درمیان متوقع ملاقات: ’مشرقِ وسطیٰ میں خوفناک مناظر کو روکنے کا وقت آگیا ہے‘

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی جنیوا جا رہے ہیں جہاں وہ فرانس اور جرمنی کے وزرا خارجہ کے ساتھ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اس ملاقات میں یورپی یونین خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس کی شمولیت بھی متوقع ہے۔

    اگر یہ ملاقات ہو جاتی ہے تو یہ ایران پر اسرائیلی حملوں کی شروعات کے بعد مغربی رہنماؤں اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات ہوگی جس کا مقصد ایران کو واپس مذاکرات کی طرف لانا ہے۔

    فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو کہتے ہیں کہ اس بات چیت کا مقصد ایران کے نیوکلئیر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو طویل مدت کے لیے روکنا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں فرانسیسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ: ’مشرقِ وسطیٰ میں خوفناک مناظر کو روکنے کا وقت آگیا ہے، ایک ایسی کشیدگی کو روکنے کا جو کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔‘

    اس سے قبل برطانوی سیکریٹر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کی بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے نہیں دیا جا سکتا۔‘

  6. ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل نہیں کرنے دیں گے: برطانیہ اور امریکہ کا اتفاق

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی اور ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے درمیان ملاقات کے بعد بی بی سی کو دونوں جانب سے جاری ہونے والے بیانات موصول ہو گئے ہیں۔

    برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈی لیمی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو ’خطرناک‘ قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے اور ان کے امریکی ہم منصب نے ’جوہری معاملے کے طویل مدتی حل‘ پر بات چیت کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اب اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت مل گئی ہے۔‘

    یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران تنازع میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کریں گے۔

    ملاقات کے بعد مارکو روبیو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی اور برطانوی وزیرِ خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ ’ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے نہیں دیا جا سکتا۔‘

  7. غزہ میں امداد کے منتظر 12 فلسطینی ہلاک: ریسکیو کارکنان

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جس وقت دنیا کی نظریں اسرائیل اور ایران تنازع پر مرکوز ہیں اسی وقت غزہ میں امداد کی تقسیم کے ایک مقام پر ایک اور جان لیوا واقعہ پیش آیا ہے۔

    ریسکیو اور طبّی کارکنان کے مطابق وسطی غزہ میں امداد کے منتظر 12 فلسطینی افراد اسرائیلی فورسز کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق یہ افراد فائرنگ کے نتیجے میں امداد کی تقیسم کے ایک مقام کے قریب ہلاک ہوئے ہیں۔ اس امدادی مرکز کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ تنظیم غزہ ہیومینیٹیرن فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) چلا رہی ہے۔

    جی ایچ ایف نے اپنے امدادی مرکز کے قریب ایسے کسی بھی واقعے کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’مشتبہ افراد‘ نے فوجی اہلکاروں تک پہنچنے کی کوشش کی تھی اور اس دوران اہلکاروں کی جانب سے وارننگ دینے کے لیے فائرنگ کی گئی تھی۔

    تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اس کے پاس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موجود نہیں ہے۔

    غزہ میں امداد کی تقسیم کے مقامات پر فائرنگ کے واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔ رواں برس مئی میں جی ایچ ایف نے غزہ میں امداد کی تقسیم کا کام سنبھالا تھا اور تب سے اب تک سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  8. اسرائیل، ایران جنگ میں ’غیرجانبدار‘ نہیں، ’جو بہتر لگے گا‘ کریں گے: حزب اللہ

    شیخ نعیم قاسم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع میں ان کی تنظیم وہ ہی کرے گی ’جو اسے بہتر لگے گا۔‘

    ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے جانے والے پیغام میں شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اس تنازع میں ’غیرجانبدار‘ نہیں ہے بلکہ اسے ’ظالمانہ اسرائیلی امریکی جارحیت‘ سمجھتی ہے۔

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے شام ٹوم براک نے حزب اللہ کو وارننگ دی تھی کہ وہ اس تنازع سے دور رہے۔

    براک نے کہا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ کہوں گا کہ یہ (حزب اللہ کا اس تنازع میں شامل ہونا) ایک بہت بُرا فیصلہ ہوگا۔‘

    حزب اللہ ماضی میں بھی اسرائیل سے مسلح لڑائیاں لڑتی رہی ہے۔ اسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور یہ اسرائیل کے وجود کی مخالف تنظیم ہے۔

    حزب اللہ کو اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

  9. ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن دینے کی عادت, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایران پر فوجی حملہ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ ’آئندہ دو ہفتوں میں‘ لیں گے۔

    اگر یہاں کسی ایک چیز بات کی جائے جو موجودہ صدر کو پسند ہے تو وہ دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن دینے کا عمل ہے۔

    تقریباً ساڑھے تین ہفتے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے صرف دو ہفتوں کا وقت ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ روکنے پر راضی ہے یا پھر نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے تاحال اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔

    ایک ہفتے قبل ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے تجارتی پارٹنرز کو آئندہ دو ہفتوں میں خطوط ارسال کر کے انھیں نئے امریکی ٹیرف کے بارے میں مطلع کریں گے۔ اس سے قبل مئی میں انھوں نے اشیا کی درآمد پر نیا ٹیکس لگانے کے لیے ’دو سے تین ہفتے‘ کا وقت متعین کیا تھا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔

    سنہ 2020 میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں ہیلتھ کیئر کے نئے پلان کا اعلان کریں گے لیکن وہ پلان بھی آج تک جاری نہیں ہو سکا۔

    جنگ اور امن سے متعلق فیصلے کسی بھی صدر کے لیے مشکل ہوتے ہیں لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ٹرمپ کی دو ہفتوں کی ڈیڈلائن کے بعد شاذ و نادر ہی کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے آتا ہے۔

  10. تہران میں حملے اور انٹرنیٹ کی بندش: ’ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ ہم نے علاقہ کب خالی کرنا ہے؟‘, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کے سبب میں ایران میں کسی سے بھی بات نہیں کر پا رہی تھی لیکن آخر کار کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد میں تہران کے ایک رہائشی سے بات کرنے میں کامیاب ہو گئی ہوں۔

    بی بی سی اس گفتگو کی کچھ تفصیلات کو غیرواضح رکھ رہا ہے تاکہ اس رہائشی کی شناخت ظاہر نہ ہو۔

    تہران میں مقیم اس شہری کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ کئی گھنٹوں سے اپنے وی پی این کو چلانے کی کوشش کر رہے تھے اور اپنی ان کوششوں میں وہ ’کئی گھنٹوں بعد‘ کامیاب ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق انھوں نے آج بھی تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔ اس سے قبل ایرانی میڈیا نے اطلاعات دی تھیں کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام تہران کے مشرق اور شمال میں متحرک تھا۔

    تہران کے رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا رابطہ کسی بھی لمحے منقطع ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ہم نے کب علاقہ خالی کرنا ہے کیونکہ یہاں انٹرنیٹ بند ہے؟‘

    خیال رہے اسرائیل تہران میں لوگوں کو علاقے چھوڑنے کی متعدد وارننگز دے چکا ہے اور اسرائیلی فوج کے یہ پیغامات اکثر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کیے جاتے ہیں۔

  11. صدر ٹرمپ ایران تنازع میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ’آئندہ دو ہفتوں‘ میں کریں گے: وائٹ ہاؤس, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور اسرائیل تنازع میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کریں گے۔

    پریس بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے کیرولائن لیوٹ سے ایران کے حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ: ’مستقبل قریب میں ابھی ایران کے ساتھ مذاکرات ہونے کا موقع موجود ہے، اس لیے میں (جنگ میں جانے نہ جانے) کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کروں گا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ان حامیوں کو کیا پیغام دیں گی جو کہ امریکہ کی ایران میں مداخلت کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں تو کیرولائن لیوٹ کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ پر بھروسہ رکھیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ ایران سے رابطے جاری ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ کو کیوں لگتا ہے کہ ابھی بھی مذاکرات کا ’موقع‘ موجود ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی پر امریکی انتظامیہ کا کیا مؤقف ہے تو کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر کی ’اولین ترجیح‘ ہے کہ ایران کامیابی سے جوہری ہتھیار نہ تیار کر پائے۔

  12. فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی ہسپتال حملے کا براہ راست نشانہ تھا: ماہرین, جیک ہورٹن

    ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک ایرانی میزائل نے جمعرات کی صبح جنوبی اسرائیل کے شہر بیرشیبا میں سوروکا ہسپتال کو نقصان پہنچایا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس مقام کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن ایران کے سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے قریب ایک فوجی انفراسٹرکچر سائٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ ہسپتال دھماکے کی ’شاک ویو‘ سے متاثر ہوا ہے۔ ہے - اور "دھماکے کی لہر سے" اسپتال کو نقصان پہنچا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کی ٹیم نے سائٹ کے بیرونی حصے کی ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں اس کی چھت سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو جزوی طور پر گر گیا ہے۔

    بی بی سی نے واقعے کے بعد کی مصدقہ ویڈیوز اور تصاویر اسلحے کے ماہرین کو دکپھائی ہیں اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے جائمہ کے مطابق یہاں کیا ہوا۔

    کرین فیلڈ یونیورسٹی میں دھماکہ خیز مواد کے ماہر ٹریور لارنس نے بتایا کہ ’عمارت کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت کے اوپری حصے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے لیکن اطراف کو نسبتا کم نقصان پہنچا ہے۔‘

    رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) کے سینیئر تجزیہ کار جسٹن برونک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’یہ چھت پر براہ راست نشانے جیسا لگتا ہے۔‘

    ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہسپتال

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بنچز کی مدت میں 30 نومبر تک توسیع

    پاکستان کی سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بنچز کی مدت 30 نومبر 2025 تک بڑھا دی گئی۔

    یہ فیصلہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے دو اہم اجلاسوں کے بعد کیا گیا۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کے مؤثر جائزے کے لیے قواعد سازی پر غور کیا گیا۔

    اجلاس میں ججز کی کارکردگی جائزے کے لیے جامع کمیٹی تشکیل دی گئی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’کمیٹی میں عدلیہ، پارلیمان، انتظامیہ اور وکلا شامل ہوں گے۔‘

    یہ کمیٹی ہائی کورٹ ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے قواعد تجویز کرے گی۔

    اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بنچز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں ججز کی نئی نامزدگیاں اور تبدیلیاں کی گئیں۔

    جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ کے نئے ججز نامزد کیے گئے۔

    اس کے علاوہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثناء اکرم منہاس کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔

  14. ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ جائیں: برطانوی وزیر اعظم کا ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ جائیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے ’پھیلنے کا حقیقی خطرہ‘ موجود ہے۔ ’

    برطانوی وزیر اعظم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سفارتی حل تلاش کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل امریکہ کے ساتھ بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں اور ’میرے خیال میں یہی اس مسئلے کو حل کرنے کا طریقہ ہے۔‘

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کشیدگی میں کمی کے لیے برطانیہ کی درخواست کے ساتھ واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ کے اعلیٰ سفارت کار مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔

    ڈیوڈ لیمی اور امریکی وزیر خارجہ روبیو جمعرات کی شام مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

  15. اس آپریشن کے اختتام تک اسرائیل کو کوئی جوہری خطرہ نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران سے جوہری خطرے کو ’ختم‘ کر دے گا۔

    انھوں نے سوروکا ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایران کے خلاف ’اس آپریشن کے اختتام تک اسرائیل کو کوئی جوہری خطرہ نہیں ہوگا اور نہ ہی بیلسٹک میزائل کا خطرہ ہوگا۔‘

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو ’بہت زیادہ‘ نقصان پہنچا چکا ہے۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ممکنہ ہدف ہیں، نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔‘

  16. یہ امریکہ کی جنگ نہیں ہے: ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرچہ ایران سفارتکاری چاہتا ہے لیکن جب تک ان کے ملک کے خلاف بمباری جاری ہے ’کوئی بھی مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جس لمحے یہ جارحیت رک جائے گی، یقینا سفارت کاری ہی پہلا آپشن ہے۔‘

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ امریکہ کی جنگ نہیں ہے‘ اور ’اگر ٹرمپ اس جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں تو انھیں ہمیشہ ایک ایسے صدر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ایک ایسی جنگ میں حصہ لیا جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

    بی بی سی کے چیف بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈوسیٹ کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایران امریکی فوجی طاقت کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی غیر ملکی جارح کے خلاف ’قوم متحد‘ ہے، لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کے پاس زیادہ طاقت ہے۔ اس کا تعلق مزاحمت سے ہے۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے کو قبول کر لیتا تو تنازع سے بچا جا سکتا تھا اس پر خطیب زادہ نے کہا کہ وہ اب بھی مذاکرات کر رہے تھے لیکن اسرائیل اپنی بمباری سے ’سبوتاژ‘ کیا۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے)نے کہا تھا کہ ایران نے ممکنہ طور پر جوہری بم بنانے کے لیے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا ایران واقعی جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے؟

    خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ’یہ بکواس ہے۔ آپ قیاس آرائیوں یا ارادے کی بنیاد پر جنگ شروع نہیں کر سکتے۔‘

    انھوں نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خود اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔

    انھوں نے اسے ’بہت برا اقدام‘قرار دیا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، تاہم وہ نہ تو اس کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی اس کی تردید کرتا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ارنا‘کے مطابق وزیر خارجہ جمعے کے روز جنیوا میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کلاس کے ساتھ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔

    ایرانی وفود اور یورپی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقاتوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کے بعد عباس عراقچی نے ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بات چیت کی تصدیق کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراقی اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کریں گے۔

  17. بریکنگ, جب تک ایران کے خلاف بمباری جاری ہے کوئی بھی مذاکرات نہیں کرے گا: ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں ’کسی معاہدے تک پہنچنے کے دہانے پر تھا‘ کہ اسرائیل کی جانب سے حملے کر کے ’پورے عمل کو سبوتاژ‘ کیا گیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی منصوبے کی منظوری اور تہران کی توقعات کے بارے میں خطیب زادہ نے مزید کہا کہ انھیں امریکہ کی جانب سے ’بیک ڈور پیغامات‘موصول ہو رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’واشنگٹن اس میں ملوث نہیں ہے اور وہ اس میں شامل نہیں ہوگا‘۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کے چیف بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈوسیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لیکن ٹرمپ کے عوامی پیغامات ’الجھن اور متضاد‘ ہیں اور امریکہ کے اس میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    ایران نے گزشتہ اتوار کو یہ کہتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات منسوخ کر دیے تھے کہ انھیں جمعے کو اسرائیل کے حملے کا جواب دینا ہے۔

    خطیب زادہ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کل کہا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے خاتمے کا کوئی راستہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران پہلے حملے کے بعد اپنا دفاع کر رہا ہے جس میں سینکڑوں ایرانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے سفارتکاری کے دوران ایران کے اعلی کمانڈروں کو ہلاک کیا۔

    ’ہم اپنے دفاع میں ہیں۔۔۔ اور ہم اپنا دفاع اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حملہ آور یہ سبق سیکھ نہیں لے لیتا کہ وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کر سکتا۔‘

    یہ پوچھے جانے پر کہ اگر ٹرمپ امریکہ کو جنگ میں لاتے ہیں تو ایران کے اس موقف کا کیا مطلب ہے کہ ’تمام آپشن ٹیبل پر موجود ہیں؟

    خطیب زادہ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران سفارتکاری چاہتا ہے لیکن جب تک ان کے ملک کے خلاف بمباری جاری ہے ’کوئی بھی مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

    انٹرویو کی مـزید تفصیلات اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں

  18. عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کو فوری روکے، ایران میں جو ہو رہا ہے وہ سنجیدہ اور شدید تحفظات کا باعث ہے: پاکستان

    پاکستان کے دفتر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    پاکستان نے اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اقوام متحدہ چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ’اسرائیلی جارحیت ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری کو جارح کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔‘

    پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کا موقف ایران پر واضح اور شفاف ہے۔ ہم ایران کی بھرپور اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ہم ایران پر جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

    ’ہم اسرائیل کے پاگل پن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

    پاکستانی دفتر خارجہ کہ مطابق ’ہمارے لیے برادر اسلامی ملک ایران میں جو ہو رہا ہے وہ سنجیدہ اور شدید تحفظات کا باعث ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دینے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی ابھی تک ایران نے ہم سے کسی قسم کی فوجی امداد نہیں مانگی۔ ‘

    دفر خارجہ کی وریفنگ میں بتایا گیا کہ ’21 مسلم ممالک نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کو مشترکہ اعلامیہ میں مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کے خلاف قرار دیا۔‘

    پاکستان نے ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران, ترکیہ, مصر, متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

    ’انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی غیر منصفانہ اقدامات کو خطے اور خطے سے باہر خطرناک اثرات کا حامل قرار دیا۔‘

    پاکستان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے مزاکراتی حل کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔

    پاکستان نے زور دیا کہ ’ایرانی جوہری تنصیبات کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا جانا آئی اے ای اے سیف گارڈز اور دیگر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستانی دفتر ِ خارجہ کے مطابق ’پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ہیں۔‘

    دفتر خارجہ نے بتایا کہ ’ تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور مشہد اور زاہدان میں قونصل خانے ایران میں موجود پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کر رہے ہیں۔ اور اب تک 3000 پاکستانیوں کو ایران سے واپس لایا جا چکا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ سے فیلڈ مارشل کی ملاقات میں کرٹسی سفارتی اہمیت کی حامل ہے۔

  19. ’اس سے پوری صورتحال غیر مستحکم ہو جائے گی‘: روس کا ایران اسرائیل تنازع میں ممکنہ مداخلت پر امریکہ کو انتباہ, وٹالی شیوچینکو، بی بی سی مانیٹرنگ کے روس ایڈیٹر

    دمتری پیسکوف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی مداخلت ’خوفناک‘ ہو گی۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کو بتایا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں امریکی مداخلت ’کشیدگی کے ایک اور خوفناک مرحلے‘ کا باعث بنے گی۔

    امریکہ اور روس اس تنازعے میں مختلف فریقوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر اس کے خلاف حملوں پر غور کر رہے ہیں، ماسکو تہران کو ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔

    اس سال کے اوائل میں ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیشکیان کے ساتھ ایک جامع سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے آرٹیکل ون میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

    اسی بارے میں پڑھیے

    ایران نے ماسکو کو شاہد ڈرون بھی فراہم کیے ہیں جنہوں نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’مضحکہ خیز‘ اور ’بلا اشتعال‘ قرار دیا ہے اور گذشتہ روز ہی روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد فراہم نہ کرے۔

    انھوں نے کہا، ’یہ ڈرامائی طور پر پوری صورتحال کو غیر مستحکم کرے گا۔‘

    یہ سب کچھ ماسکو اور واشنگٹن کو اسرائیل اور ایران کے بحران پر ٹکراؤ کی راہ پر گامزن کرتا ہے اور یہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے بہتر ہو رہے ہیں۔

  20. فیلڈ مارشل اور امریکی صدر کی ملاقات: معاملات حل کرنے میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا، خواجہ آصف

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہget

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکہ تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔

    سماجی رابطے کے سایٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’اس سے پہلے امریکہ صدر کی پاکستانی آرمی چیف کی دعوت اور ملاقات کی مثال نہیں ملتی۔ ‘

    ’ یہ (امریکہ اور پاکستان کے) تعلقات کی 78سال کی تاریخ سب سے اھم موڑ ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس ملاقات میں جسطرح بین الاقوامی اور خطہ کے معاملات زیر بحث آئے اس سے پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان معاملات کو حل کرنے میں جس طرح مدد کر سکتا ہے اس اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔‘

    اسی بارے میں پڑھیے

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور انڈیا تنارعات کی دوبارہ بین الاقوامی حیثیت اجاگر ہوئی۔ ‘

    ان کے بقول اس کامیابی کی وجہ پاکستان کا ’موجودہ حکمرانی کے ہائبرڈ ماڈل‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’معیشت کی بحالی، انڈیا کی شکست، امریکہ کے ساتھ تعلقات، یہ سار ی انقلابی تبدیلیاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعاون اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے بہترین تعلقات کی وجہ سے ممکن ہو سکیں۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے بدھ کے روز آرمی چیف عاصم منیر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا جہاں صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے (پاکستان انڈیا) جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ’میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصووصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف بھی شامل تھے جبکہ قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔

    آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ لنچ اور ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پاکستانی جنرل سے ایران کے حوالے سے کوئی بات ہوئی؟

    جس پر امریکی صدر کا کہنا تھا ’وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ شاید دوسروں سے بہتر۔ اور وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کے اسرائیل سے تعلقات خراب ہیں، وہ دونوں کو جانتے ہیں، درحقیقت شاید ایران کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور انھوں نے مجھ سے اتفاق کیا۔‘

    یاد رہے پاکستان آرمی چیف 14 جون سے امریکہ کے دورے پر ہیں اور امریکی صدر سے ان کی ملاقات پہلے سے ہی طے شدہ تھی۔