ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔
خلاصہ
امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔
ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت 'انتہائی خطرناک ' ہو گی۔
لائیو کوریج
بریکنگ, غزہ میں اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے امداد کے لیے آنے والے 23 فلسطینی ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں
عینی شاہدین
اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے امدادی سامان کی تقسیم کے مقام کے قریب
جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ کرکے 23 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
عینی شاہدین
اور طبی عملے نے بتایا کہ وسطی غزہ میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین
فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ایک امدادی مرکز کے قریب ٹینکوں اور ڈرونز نے ہزاروں افراد
پر فائرنگ کی۔
نصیرات
کے ایک ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں 23 لاشیں اور 100 سے زائد زخمی افراد ملے
ہیں۔
اسرائیلی
فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
ایک اور
حملے میں فلسطینی ہلال احمر کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ دیر البلاح کے مغرب میں المسار
کے علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں 11 فلسطینی ہلاک اور دیگر
زخمی ہوئے۔
روس کشیدگی کے خاتمے کی غرض سے ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے: کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی غرض سے ثالثی کے لیے تیار
ہے۔
کریملن
کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ ’عدم استحکام اور جنگ
کے گڑھے میں دھنس رہا ہے‘ اور کہا کہ ماسکو ان واقعات پر فکر مند ہے اور ثالثی کے
لیے تیار ہے۔
روس جس
کے ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں اس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ
ایران پر حملہ نہ کرے اور تہران کے جوہری پروگرام پر بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے
پر زور دیا ہے۔
جمعہ
کو یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس صورتحال میں روس کے پاس ریڈ لائن ہے، کریملن کے
ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ خطے کے ممالک کی اپنی اپنی سرخ لکیریں ہونی چاہیں۔
انھوں
نے کہا کہ ’خطہ عدم استحکام اور جنگ کے گڑھے میں دھنس رہا ہے۔ یہ جنگ جغرافیائی
طور پر پھیل سکتی ہے اور اس کے غیر متوقع نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ خطہ ہماری سرحدوں
کے قریب ہے، یہ ہمارے لیے خطرناک ہے، اور ہمیں تشویش ہے۔‘
پیسکوف
نے کہا ’اس وقت یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری
رکھنے پر آمادہ ہے، لیکن روس نے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے ساتھ اپنے رابطے کی
لائنیں کھلی رکھی ہیں۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ آیا ولادیمیر پوتن کی جانب سے بحران
میں ثالثی کی پیشکش قبول کی جائے گی یا نہیں لیکن ماسکو جلد از جلد تنازع کا خاتمہ
اور سفارت کاری کی طرف واپسی چاہتا ہے۔
فرانس
کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں
شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے بند ہونے چاہیں۔
انھوں
نے تہران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی میز
پر واپس آنے پر آمادگی ظاہر کرے۔
ایرانی
وزیر خارجہ عباس عراقچی آج جنیوا میں جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے
ملاقات اور بات چیت کریں گے۔
بریکنگ, جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو غیر مشروط طور پر روکنا ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ہم نے ہمیشہ امن
و امان کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ
دشمن کی جارحیت کو ’غیر مشروط طور پر روکنا‘ ہے۔
سماجی
رابطی کی سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ ’صیہونی دہشت گردوں
کی مہم جوئی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی یقینی ضمانت فراہم کی جائے۔‘
انھوں
نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ’بصورت دیگر دشمن کے خلاف ہمارا ردعمل زیادہ
سخت اور افسوسناک ہوگا۔‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانیہ کے وزیر خارجہ
ڈیوڈ لیمی یورپی وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان آج طے شدہ مذاکرات
سے قبل جنیوا پہنچ گئے ہیں۔
اس سے پہلے انھوں نے مذاکرات کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’سفارتی حل حاصل کرنے کے لیے اگلے
دو ہفتوں کے اندر ایک ونڈو موجود ہے۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملوں
میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
یورپی رہنماؤں کو امید ہے کہ اس سے پہلے سفارتی حل تلاش کرکے
کشیدگی سے بچا جا سکتا ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی: بلوچستان کے تمام سرحدی اضلاع پر ایران سے متصل سرحد تاحال بند, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہMir Kabeer Reki
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث بلوچستان کے تمام سرحدی اضلاع سے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد تاحال بند ہے۔
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز پاکستانی حکام کی جانب سے ایک دن کے لیے کاروباری مقاصد کے لیے سرحد کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن حکام کے مطابق ایران کی جانب سے بندش کے باعث وہ بھی ممکن نہیں ہوسکا۔
اس صورتحال کی وجہ سے بلوچستان کے پانچ سرحدی اضلاع اور ان سے متصل دیگر علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار زیادہ تر ایرانی سرحد پر ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان علاقوں میں ایندھن کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کا کہنا ہے کہ ’سرحد ایران کی صورتحال کی وجہ سے ایرانی حکام کی جانب سے بند کیا گیا ہے تاہم جو پاکستانی شہری ایران سے آرہے ہیں ان کا ہم استقبال کررہے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہMir Kabeer Reki
سرحد کی بندش سے سرحدی علاقوں کے لوگوں اور حکام کا کیا کہنا ہے؟
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے باعث 14 فروری سے ایران سے ملحقہ بلوچستان کے پانچ اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر سے ایران کے ساتھ جتنے بھی کراسنگ پوائنٹس ہیں وہ ہرقسم کی سرگرمیوں کے لیے بند ہیں۔ تاہم ان میں سے ضلع چاغی میں تفتان اور ضلع گوادر میں 250 بارڈر پوسٹ سے ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
جب اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد زہر ی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کہ بلکہ صرف اتنا بتایا کہ یہاں سے ایران کے ساتھ سرحد بند ہے۔
ضلع واشک کے ایران سے ملحق شہر ماشکیل میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کے روز پاکستان کی جانب سے بارڈر کھولنے کا اعلان کیا گیا لیکن ایران کی جانب سے بند ہونے کی وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
سرحدی علاقوں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کسی نہ کسی طرح ایرانی سرحد سے منسلک ہے اس لیے انجمن تاجران ماشکیل کے صدر کبیر ریکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’جمعرات کو سرکاری حکام کی جانب سے یہاں لوگوں کو بتایا گیا کہ ایک روز کے لیے سرحد کو کھول دیا جائے گا جس کے لیے تیل اور گیس لانے والی گاڑیوں کا فہرست بھی جاری کیا گیا لیکن جب یہ گاڑیاں سرحد پہنچ گئیں تو ان کو یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ ایران حکام کی جانب سے سرحد نہیں کھولا جارہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جن کی گاڑیوں کی فہرست جاری کی گئی ان میں سے بعض کے ڈرائیوروں نے قرض پر تھوڑی بہت ایندھن ڈلوایا تھا لیکن سرحد بند ہونے کی وجہ سے ان کو گاڑیاں دوسری گاڑیوں سے باندھ کر سرحد سے واپس ماشکیل شہر لانی پڑیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ چونکہ ماشکیل کا تیل اور ایندھن کے لیے انحصار مکمل طور پر ایران پر ہے لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے ان کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ان کے بقول دو سو سے کم پر ملنے والا ایک لیٹر ایرانی پیٹرول اس وقت تین سو سے ساڑھے تین سو روپے پر مل رہا ہے۔
سرحدی ضلع چاغی سے متصل ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری منور احمد نے بتایا کہ نوشکی میں تیل کی قلت کی وجہ سے فی لیٹر ایرانی پیٹرول تین سو روپے سے زائد میں مل رہا ہے۔
جب اس سلسلے میں ایران سے ملحقہ پنجگور کے سینیئر صحافی برکت مری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار تو ایرانی سرحد پر ہے۔ سرحد کی بندش کی وجہ سے پنجگور میں کاروباریاں سرگرمیاں معطل ہونے سے لوگوں کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
برکت مری کا بھی کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیوں کا تیل سرحدی علاقوں میں دستیاب نہیں ہے جبکہ سرحد کی بندش سے ایرانی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت تین سو سے ساڑھے تین سو تک پہنچ گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہMir Kabeer Reki
سرکاری حکام نے اس حوالے سے کیا بتایا ؟
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کی وجہ سے ایران میں جو صورتحال ہے اس کے باعث ایرانی حکام کی جانب سے سرحد کو بند کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایرانی حکام کی جانب سے سرحد کو بند کیا گیا تو اس کے باعث ہماری جانب سے بھی حکام نے وہاں کی صورتحال کی وجہ سے سرحد کو بند کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کی بات ہے ان کے لیے سرحد کھلی ہے اور ان کی واپسی جاری ہے۔
سرحدی حکام کے مطابق سرحد کی بندش کے بعد اب تک ایران سے ہزاروں پاکستانی شہری تفتان اور گوادر پہنچے ہیں جن میں سے بڑی تعداد زائرین اور ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ہے۔
امریکہ کو بتا دیا ہے کہ جب تک جارحیت نہیں رکتی، سفارت کاری اور بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی حملے جاری رہنے تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
عراقچی جو آج جنیوا میں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں نے کہا کہ ’امریکیوں نے متعدد بار پیغامات بھیجے ہیں جس میں سنجیدگی سے مذاکرات کی اپیل کی گئی ہے، لیکن ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک جارحیت نہیں رکتی، سفارت کاری اور بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘
دشمن جارحیت کو غیر مشروط طور پر روکے ورنہ ہمارا جواب مزید سخت ہو گا ایرانی صدر
،تصویر کا ذریعہX
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ہم نے ہمیشہ امن کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جانب سے جارحیت کو ’غیر مشروط طور پر روکنا‘ ہے اور صیہونی دہشت گردوں کی مہم جوئی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی یقینی ضمانت ہے۔ ’بصورت دیگر دشمن کو ہمارا جواب سخت ہو گا۔‘
ریموٹ کنٹرولڈ میزائل، پرزوں کی سمگلنگ اور ڈرون فیکٹریاں: ایران کے اندر اسرائیل کا خفیہ آپریشن جس کی تیاری مہینوں سے کی جا رہی تھی
ایران پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے شائع ہونے والی رپورٹس سے علم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا محاذ 13 جون کو فضا سے نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے ہی ایران کی زمین پر خفیہ اسرائیلی آپریشن کے ساتھ کھول دیا گیا تھا۔
اسرائیل اپنے خفیہ ادارے کی سرگرمیوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ موساد نے ہی ایران میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرنے اور ایرانی سرزمین پر کارروائیوں کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ موساد کے ایجنٹوں نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ملک میں سمگل کیے گئے ڈرونز استعمال کیے۔ ایرانی حکام پہلے بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ انھیں شبہ ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے مددگار موجود ہیں۔
امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر اپنا ذہن بدلتے ہیں، کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرتا: امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کانگریس کی کم عمر ترین خاتون رکن یاسمین انصاری نے بی بی سی کے نیوز ڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح صدر ٹرمپ نے اس تنازع میں کردار ادا کیا ہے اس کے بعد سے وہ ’بہت فکرمند‘ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے صدر روزانہ کی بنیاد پر اپنا ذہن بدل لیتے ہیں اور کوئی بھی ان کی بات پر یقین نہیں کرتا۔‘
انھوں نے امریکہ کی عراق جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں کامیاب تاریخ نہیں ہے اور اسے مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
یاسمین انصاری کا مزید کہنا تھا کہ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ایرانی عوام رجیم نہیں ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد میں لوگ اسلامی جمہوریہ کے خلاف ہیں جس نے انھیں 1979 سے ’قید‘ کر رکھا ہے۔ ’ان لوگوں پر بمباری نہیں ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری پر توجہ دیں نہ کہ کسی ایسے طریقے کار کی جانب جو امریکہ فوجیوں کی زندگیوں کے خاتمے کا باعث بنے۔
تاحال ایران میں کوئی بڑا ریڈیولوجیکل حادثہ پیش نہیں آیا لیکن حادثے کے امکانات موجود ہیں: آئی اے ای اے
،تصویر کا ذریعہReuters
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ خندب ہیوی واٹر پروڈکشن پلانٹ کی اہم عمارتوں بشمول ڈسٹلیشن یونٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
خندب ری ایکٹر جو پہلے اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک ایرانی جوہری تنصیب ہے جو صوبہ مرقزی میں خندب شہر کے قریب واقع ہے۔ ایک تحقیقی ری ایکٹر کے طور پر ڈیزائن کی گئی یہ سہولت ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ اس میں پلوٹونیم پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث ’تاحال کوئی بڑا ریڈیولوجیکل حادثہ پیش نہیں آیا‘ لیکن اب بھی ایسے کسی حادثے کے امکانات موجود ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پیچیدہ اور مشکل صورتحال میں یہ بھی اہم ہے کہ آئی اے ای اے کو بروقت اور تسلسل کے ساتھ جوہری تنصیبات سے متعلق تکنیکی معلومات فراہم کی جائیں۔
ایران کے جنوبی اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد کے مناظر!
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی اور تعاون پر مبنی سکیورٹی فریم ورک کے فروغ میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا: فیلڈ مارشل عاصم منیر
،تصویر کا ذریعہISPR
فیلڈ مارشل
عاصم منیر نے امریکہ میں سینیئر سکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی
میڈیا کے نمائندگان سے واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان
علاقائی کشیدگی میں کمی اور تعاون پرمبنی سکیورٹی فریم ورک کے فروغ میں فعال کردار
ادا کرتا رہے گا۔
پاکستانی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم
منیر کا امریکا کا سرکاری دورہ جاری ہے جہاں انھوں نے امریکی تھنک ٹینکس اور سٹریٹیجک
امور کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے جس کے باعث پاکستان کے سٹریٹیجک وژن کو بہتر طور
پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
آئی
ایس پی آر کا کہنا ہےکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان
مرصوص پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق پاکستان کے
تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔
آئی ایس پی آر کے
مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی غیرمعمولی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی
اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ذراعت اور معدنی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں بین
الاقوامی شراکت داروں کو اشتراک کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی جبکہ اس گفتگو کے
دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’بعض
علاقائی عناصر دہشتگردی کو ہائبرڈ وار فیئر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے
ہیں، پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول پر رہا ہے، پاکستان نے ایک
محفوظ دنیا کے لیے بے پناہ انسانی اور معاشی قربانیاں دی ہیں۔‘
اسرائیل ایران کشیدگی کا آٹھواں دن، تمام نظریں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر
،تصویر کا ذریعہKEN CEDENO/POOL/EPA-EFE/Shutterstock
اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اب آٹھویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور دنیا اس چیز پر نظریں جمائے بیٹھی ہے کہ ٹرمپ اب آگے کیا کرنے جا رہے ہیں۔
صدر کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے حوالے سے فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’مذاکرات کے معقول امکانات‘ موجود ہیں۔
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے ایران حملے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے لیکن یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ حملہ کریں گے یا نہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق وہ فرودو میں یورینیم افزدوگی کی ننصیب پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ صرف امریکہ کے پاس ہی ایسا بم موجود ہے جو زیرِ زمین کئی میٹر گہرائی میں موجود اس تنصیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیل میں مائیکروسافٹ کی عمارت کے قریب ایرانی میزائل حملے کے بعد کے مناظر
جیسے کہ ہم اس سے پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ جنوبی اسرائیل میں ایک ایرانی میزائل حملے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حملے کے بعد وہاں کیسے مناظر ہیں، جانیے اس ویڈیو میں۔
’یورپی وزرا ایران کو واپس مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں گے‘, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نامہ نگار، جینیوا
آج جینیوا میں یورپی وزرا خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے اور اس دوران ایران اور اسرائیل تنازع کا سفارتی حل نکالنے اور تناؤ میں کمی کی کوشش کی جائے گی۔
اگر یہ ملاقات معمول کے مطابق ہوتی ہیں تو یہ ایران اسرائیل تنازع کے بعد سے تہران اور مغربی حکومتوں کے درمیان اس تنازع کے آغاز کے بعد سے باضابطہ طور پر پہلی ایسی ملاقات ہو گی جو اب تک اس تنازع میں یورپی ممالک کے کردار کے حوالے سے سب سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت لینے کے اعلان کے بعد جینیوا میں ان ملاقاتوں کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مذاکرات کو چانس دینا چاہتے ہیں۔
اس تنازعے کے آغاز سے قبل امریکہ اور ایران کے بیچ ایک نئے جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات جاری تھے لیکن اس میں یورپ شامل نہیں تھا جس نے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا جسے ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں آ کر ختم کر دیا تھا۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ یورپی وزرا ایران کو واپس مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں گے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب اس پر حملے کیے جا رہے ہیں اور فی الحال نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی ایران یہ حملے ختم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بیر شیبہ میں ایرانی میزائل حملے میں پانچ افراد زخمی، قریبی مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہIsraeli Firefighters
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق بیر شیبہ میں ایرانی میزائل حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ میزائل متعدد رہائشی عمارتوں کے قریب گرا جس سے قریبی گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق یہ میزائل جس جگہ گرا وہاں ٹیکنالوجی پارک بھی تھا جہاں امریکی ٹیکنالوجی مائیکروسافٹ کا دفتر بھی موجود تھا۔
ایران نے جمعرات کو حملے کے دوران کلسٹر بم کا استعمال کیا، اسرائیل کا الزام
اسرائیلی فوج اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایران نے جمعرات کو اسرائیل پر کلسٹر وار ہیڈ سے حملہ کیا جس کا مقصد شہریوں کی ’ہلاکتوں میں اضافہ‘ کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے ایک ایسا راکٹ فائر کیا جس میں کلسٹر بم نصب تھے اور یہ اسرائیل کی گنجان آباد علاقے پر پھینکا گیا۔ تاہم اس بیان میں راکٹ کے ہدف کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
سفارت خانے کا مزید کہنا تھا کہ کلسٹر ہتھیاروں کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ یہ ایک وسیع علاقے میں ’ہلاک خیز حملے کے امکانات میں اضافہ کر دیں۔‘
روئٹرز کے مطابق اسرائیلی سفارت خانے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر عوامی اجتماعات اور زیادہ افراد کو ہلاک کرنے کے سبب ایسی کارروائیاں کر رہا ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی میزائل زمین سے سات کلومیٹر اوپر پھٹا اور اس میں سے 20 چھوٹے بم نکلے جو وسطی اسرائیل میں آٹھ کلومیٹر کے دائرے میں گرے۔
خیال رہے کہ کلسٹر بم کا استعمال متنازع اس لیے ہے کیونکہ اس سے نکلنے والے چھوٹے بم کسی مخصوص ہدف کے لیے نہیں ہوتے اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ماضی میں اسرائیل پر متعدد بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے دوران کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
یہاں یہ بھی اہم ہے کہ سنہ 2008 میں اسرائیل اور ایران دونوں ہی نے ایک ایسے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا جو کلسٹر بموں کے پروڈکشن، سٹاک پائلنگ، ٹرانسفر اور استعمال سے روکتا تھا۔
ایرانی میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل کے علاقے بیر شیبہ میں املاک کو نقصان پہنچا: اسرائیلی میڈیا
،تصویر کا ذریعہRed Star of David
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کی صبح ایران کی طرف سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل نے جنوبی اسرائیل کے نیگیو میں واقع بیر شیبہ میں املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ راکٹ رہائشی کمپلیکس کے قریب گرا جس سے کئی کاروں کو آگ لگ گئی اور قریبی گھروں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی ایمبولینس اتھارٹی کے مطابق جنوبی اسرائیل میں سائرن کی آوازیں سنائی دینے کے بعد اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
جنوبی اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد سائرن کے آوازیں: آئی ڈی ایف
،تصویر کا ذریعہIDF
اسرائیلی فوج نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مطلع کیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملے کے بعد جنوبی اسرائیل میں سائرن کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل بیر شیبہ میں گرا ہے اور اس دوران ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ماجد خادمی ایران کی پاسدارانِ انقلاب انٹیلی جنس سروس کے نئے سربراہ مقرر
،تصویر کا ذریعہFars news agency
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل محمد پاکپور نے بریگیڈیئر جنرل ماجد خادمی کو پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس سروس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ماجد خادمی اس سے قبل اس پوسٹ پر تعینات بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی کی جگہ لیں گے جو چار روز قبل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
بریگیڈیئر جنرل ماجد خادمی اس سے قبل پاسداران انقلاب کی انفارمیشن سیکیورٹی آرگنائزیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، خادمی کو ’تنظیم کے اندر انٹیلی جنس اور سکیورٹی کا وسیع تجربہ رکھنے والا ایک سینئر سکیورٹی افسر‘ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل اور ایران سے غیر ملکی شہریوں کی روانگی کا سلسلہ جاری
ایران اسرائیل تنازع کے آغاز کے بعد سے کئی ممالک نے تہران میں اپنے سفارت خانوں کا انتظام معطل کر دیا ہے۔ ان ممالک میں جمہوریہ چیک، نیوزی لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
ایرانی فضائی حدود بند ہونے اور اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ مسافروں کی پروازوں کے لیے بند ہونے کے باعث بہت سے ممالک اپنے شہریوں کو دونوں ممالک سے نکالنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا ایران سے تقریباً 1500 اور اسرائیل سے 1200 افراد کو وطن واپس لانے کے لیے کوشاں ہے۔ کچھ آسٹریلوی باشندوں کو پہلے ہی اسرائیل سے بحری جہاز کے ذریعے قبرص منتقل کیا جا چکا ہے اور دیگر افراد سرحدی کراسنگز کے ذریعے روانہ ہو رہے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے 1,600 سے زیادہ شہریوں کو ایران سے اور کئی سو سے زیادہ کو اسرائیل سے نکال لیا ہے۔
انڈیا تقریباً 110 انڈین طلبا جو ایران سے زمینی راستے سے آرمینیا گئے تھے، اب دہلی واپس آ گئے ہیں۔ اسرائیل میں تقریباً 30,000 انڈین شہری موجود ہیں اور ان میں سے جو بھی واپس انڈیا آنا چاہے اس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
جاپان نے ایران اور اسرائیل سے اپنے شہریوں کے انخلا کی تیاری کے لیے دو فوجی طیارے جبوتی روانہ کیے ہیں۔ اسرائیل میں جاپانیوں کی تعداد تقریباً 1000 جبکہ ایران میں یہ تعداد 280 ہے۔
تنازع کے آغاز سے اب تک تقریباً 3000 پاکستانی ایران سے واپس آ چکے ہیں۔