ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
  • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے عین قبل ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا‘ ہے۔
  • ایران کی نیوز ایجنسی نور نے وزارتِ صحت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں اب تک ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح تقریباً ایک گھنٹے کے دوران آٹھ ایرانی ڈرون اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جن میں سے پانچ ڈرونز اسرائیلی افواج نے مار گرائے ہیں۔
  • صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں امریکہ کی مداخلت 'انتہائی خطرناک ' ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا قم پر حملہ: ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا

    ایران سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ قم میں ایک ’رہائشی عمارت‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ہمشہری اخبار نے لکھا ہے کہ قم میں ایک عمارت کی کئی منزلوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    قم کے صوبائی انتظامیہ کے ہیڈ کوارٹر کے ترجمان مرتضی حیدری نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’سلاریح محلے میں ایک عمارت کی چوتھی منزل کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    مقامی اہلکار کے مطابق دھماکے میں ایک 16 سالہ نوجوان ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے جنھیں طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

  2. ایرانی میزائل حملوں کے بعد تل ابیب کے قریب عمارت میں آگ لگ گئی

    presstv

    ،تصویر کا ذریعہpresstv

    بی بی سی فارسی نے مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تل ابیب کے قریب ایک عمارت میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آگ ایرانی میزائل حملوں کے بعد لگی ہے۔

    اس سے قبل ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی اٹھارویں لہر داغنے کا اعلان کیا تھا۔

  3. تہران کے مغرب اور مشرق میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے اور ’تہران کے مغرب اور مشرق میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔‘

    شرق اخبار کے مطابق کرج، قم اور اصفہان جیسے شہروں میں بھی فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

  4. ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل میں حالات معمول پر ہیں

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ایرانی میزائل حملے کے بعد شہری زیرِ زمین بنکروں سے نکل سکتے ہیں۔

    اسرائیل کے امدادی مرکز کا کہنا ہے کہ اسے کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    اسرائیلی ریسکیو سروسز کا کہنا ہے کہ بظاہر 5 سے 10 راکٹ فائر کیے گئے تھے اور انھیں ’راکٹ گرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘

  5. وسطی اسرائیل میں دھماکے کی آواز سنی گئی

    اسرائیل کے بیشتر حصوں میں سائرن بجنے کے بعد ملک کے وسط میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی اطلاع ملی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ میزائلوں کو روکنے کی وجہ سے ہونے والے دھماکے ہیں یا زمین پر میزائلوں کے گرنے کی وجہ سے۔

  6. ایران کا اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک نیا میزائل حملہ کیا ہے۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

  7. ایران کے صوبے سمنان میں زلزلے سے کوئی نقصان نہیں ہوا: ہلالِ احمر

    ایران کے صوبے سمنان میں ہلالِ احمر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) حسین درخشاں کا کہنا ہے کہ ملک میں آج رات محسوس ہونے والے زلزلے سے ’کوئی نقصان‘ نہیں ہوا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ان کہنا تھا کہ ’باہر جائزہ لینے کے لیے بھیجی گئی ٹیموں کے مطابق‘ زلزلے سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    حسین درخشاں کا مزید کہنا تھا کہ سمنان میں ہلالِ احمر کی تمام شاخیں اور مراکز اس وقت ہائی الرٹ پر ہیں ہیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق سمنان میں آنے والے زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت پانچ اعشاریہ پانچ تھی۔

    دوسری جانب ایران کی ایئرپورٹس اینڈ ایئر نیویگیشن کمپنی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق صوبے میں آنے والے زلزلے سے سمنان ایئرپورٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

  8. ایران یورپ سے نہیں امریکہ سے بات کرنا چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے بات کر رہے ہیں اور انھیں نہیں لگتا کہ اس عمل میں یورپی ممالک کے رہنما کوئی کردار ادا کر سکیں گے۔

    جمعے کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایران سے بات کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘

    ٹرمپ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اب سے کچھ گھنٹوں قبل جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے وزرا خارجہ نے جنیوا میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

    صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے صورتحال میں کوئی فرق آئے گا۔

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران یورپ سے بات نہیں کرنا چاہتا، ایران ہم سے بات کرنا چاہتا ہے۔ یورپ اس معاملے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔‘

    صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ ان کے پاس ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کیا معلومات ہے کیونکہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی پہلے کہہ چکی ہے کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پھر میری انٹیلی جنس کمیونٹی غلط ہوگی۔ انٹیلیجنس کمیونٹی میں کس نے ایسا کہا ہے؟‘

    ایک صحافی نے انھیں بتایا کہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ نے ایسا کہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ: ’وہ غلط ہیں۔‘

    خیال رہے مارچ میں تُلسی گبارڈ نے کانگرس کو بتایا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں معلوم کر چکی ہیں کہ ایران نے 2003 کے معطل شدہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع نہیں کیا ہے۔

  9. اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل اور ایران کے سفیروں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ, جون سڈورتھ، نمائندہ برائے شمالی امریکہ

    اقوامِ متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع پر ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

    اس اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا ایک بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کونسل کے مستقل رُکن ممالک برطانیہ اور فرانس نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔

    جب عالمی طاقتیں اس معاملے پر تبادلہ خیال کر رہی تھیں اس وقت ایران اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ممالک نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپنایا ہوا ہے۔

    اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر نے اسرائیل کے ’بلا اشتعال‘ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ان کے ملک کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایران پر حملوں میں امریکہ بھی ملوث ہے اور سکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے خلاف ایران اپنا دفاع کرتا رہے گا۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے ایران پر ’نسل کشی کا ایجنڈا‘ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

    اسرائیلی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا جب تک یہ خطرہ ’ختم‘ نہیں ہو جاتا۔

    اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں چین نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ روس نے اسرائیلی حملوں کو سفارتکاری کی ’سنگین توہین‘ قرار دیا۔

    دوسری جانب امریکہ نے ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں ’دہشتگردی کا ذریعہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

  10. ایران ’جارحیت‘ رُکنے پر سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    جنیوا میں یورپی ممالک کے وزرا خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’ایک بار جارحیت بند ہو جائے تو اس کے بعد ایران ایک بار پھر (مسئلے کے حل کے لیے) سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے تیار ہے۔‘

    جمعے کو جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’جارحیت کرنے والے کا سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے پر احتساب ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

    عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران اپنے ’دفاع کے جائز حق کا استعمال کرتا رہے گا۔‘

    ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

    اس سے قبل ملاقات میں شریک فرانس کے وزیرِ خارجہ ژان نوئل بارو نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عسکری طور پر ’ایران کے جوہری مسئلے‘ کا کوئی ’دیر پار حل‘ نکل سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ایران بشمول امریکہ سب کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوگا تاکہ بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے پر پہنچا جائے۔‘

    جرمنی کے وزیرِ خارجہ جوہان وڈیفول نے بھی اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور ’مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔‘

  11. اسرائیل، ایران تنازع: پاکستان امن کی ہر کوشش میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی امریکی سیکریٹری خارجہ سے گفتگو

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: PM House

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا ہے کہ سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا ’پُرامن حل‘ ڈھونڈنا ضروری ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری مارکو روبیو سے گفتگو کے دوران اسرائیل اور ایران تنازع کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’موجودہ صوتحال میں پاکستان امن کی ہر کوشش میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے‘ کیونکہ یہ صورتحال نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کروانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مارکو روبیو کے کردار کو بھی سراہا ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر انڈیا کے ساتھ کشمیر، سندھ طاس معاہدے، تجارت اور دہشتگردی پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    بیان کے مطابق سیکریٹری روبیو نے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون کو بڑھانا چاہتا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکریٹری روبیو نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔

  12. ’ایران سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنیوا میں یورپی وزرا خارجہ اور ایرانی وفد کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

    یہ بات چیت ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی شدت کو کم کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔

    ملاقات کے اختتام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کلاس کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی ’کسی کے لیے بھی فائدے مند‘ نہیں اور اسی لیے ’ہمیں گفتگو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

    اس موقع پر برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے ساتھی وزرا خارجہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ’گفتگو کو جاری‘ رکھنا چاہتے ہیں۔

    ’ہم ایران سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے۔‘

    ڈیوڈ لیمی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایک خطرناک لمحہ‘ ہے اور ’سب سے اہم‘ یہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی شدت میں کمی آئے۔

  13. ہم کئی محاذوں پر طویل مہم جوئی کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف ایال زمیر

    ،تصویر کا ذریعہge

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف ایال زمیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج ’بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے خاموش نہیں رہتی‘۔

    زمیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے دورے کے ساتھ ساتھ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے اسرائیل کے مقامات کو دیکھنے کے لیے ’کثیر محاذوں پر محوِ جنگ‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا ’آئی ڈی ایف تیار ہے۔ دن بہ دن، ہم اپنے قادامات میں آزاد ہو رہے ہیں اور دشمن کی آزادی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف نے کہا کہ ’ہم نے اپنی تاریخ کی سب سے پیچیدہ مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ بڑے خطرے کو ختم کیا جا سکے، ایسے دشمن کے خلاف ہمیں ایک طویل مہم کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

  14. جنوب مغربی ایران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہIsraeli Air Force/X

    اسرائیلی فوج نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ ملک کی فضائیہ نے جنوب مغربی ایران میں فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے ایک نیا آپریشن کیا ہے۔

    حملے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے مشن کو انجام دینے کے لیے فضائی برتری حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔

    اس سے قبل، اسرائیل پر ایران کے تازہ ترین میزائل حملوں میں، کم از کم دو میزائل اسرائیل کے علاقوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

    اسرائیل میں بی بی سی کے فارسی کے نامہ نگار سوران غوربانی کے مطابق ایک راکٹ بیر شیبہ اور ایک حیفہ میں گرا۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد ملک کے شمالی حصے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ تین افراد کی حالت تشویشناک ہے، جن میں ایک 40 سالہ شخص، ایک 16 سالہ لڑکا اور ایک 54 سالہ شخص شامل ہیں۔

    ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ دیگر 20 افراد دھماکے کے مختلف زخموں اور چھروں کے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک 51 سالہ خاتون دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگئیں۔

    ایران نے اسرائیلی ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کردیا

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اسرائیل کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا تھا۔

    مشن نے اسرائیلی موقف کو ’جھوٹے الزامات‘ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے ’دفاعی اقدامات‘ بین الاقوامی قانون کے عین مطابق اور مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔‘

    مشن نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایرانی اقدامات صرف اسرائیلی جارحیت میں براہ راست ملوث یا حمایت کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں اور یہ کہ وہ عام شہریوں یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بناتے ہیں۔‘

  15. اسرائیل اور ایران کے تنازع کی وجہ سے دنیا ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے: انتونیو گوتریس

    انتونیو گوتریس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے جاری رہنے سے دنیا ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس تنازعے کے پھیلنے سے ایک ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جس پر کوئی قابو نہیں پا سکتا۔‘

    انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ تنازعے کا مرکز ’جوہری سوال‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں نہیں بنانا چاہتا لیکن آئیے تسلیم کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان ہے۔‘

    انھوں نے فریقین سے کہا کہ ’میں لڑائی کے خاتمے اور سنجیدہ مذاکرات کی طرف واپسی کی اپیل کرتا ہوں۔‘

  16. بریکنگ, برطانیہ کا ایران سے اپنے سفارت خانے کے عملے کو واپس بلانے کا اعلان

    برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تہران میں اپنے سفارت خانے سے اپنے عملے کو واپس بلا رہا ہے۔

    برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ایران سے اپنے برطانوی عملے کو عارضی طور پر واپس بلانے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا سفارت خانہ دور سے کام کر رہا ہے۔‘

    اس ہفتے کے اوائل میں برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے کے عملے کے اہل خانہ کو حفاظتی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر واپس بلا رہا ہے۔

  17. بریکنگ, مذاکرات سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کا اسرائیل پر جارحیت کا الزام، اسرائیل کا ایران میں کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ, اموجین فولکس، جنیوا

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک پر اسرائیل کا حملہ ’انسانی تہذیب کے لیے ایک تاریخی لمحہ‘ ہے جس میں ممالک کو بین الاقوامی قانون کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے ان کے ملک پر اس وقت حملہ کیا جب ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں امریکہ کے ساتھ سفارتی عمل جاری تھا۔

    انھوں نے اسرائیل کے اس اچانک حملے کو ’جارحانہ کارروائی‘ اور ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

    عراقچی نے یہ بات برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور ایران کی جوہری صلاحیت پر سفارتی مذاکرات سے قبل کہی۔

    ارسائیل اور ایران میں کشیدگی مںی کمی کے حوالے بات چیت شروع ہونے والی ہے تاہم فریقین نیں دوری نمایاں ہے۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک ایران میں اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کیے ہیں اور اپنے حملے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ایران کا اصرار ہے کہ اسے پرامن جوہری طاقت تیار کرنے کا حق حاصل ہے، جسے اسرائیل قبول نہیں کرے گا۔

  18. بریکنگ, اسرائیل میں تازہ ایرانی حملے، کم از کم دو افراد زخمی

    ایرانی حملہ، فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ادوم (ایم ڈی اے) کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونبے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا ہے جس کے جسم کے اوپری حصے پر چھروں کے زخم ہیں اور دوسرا 54 سالہ شخص ہے جس کے نچلے اعضا پر چھرے لگے ہیں۔

    ادھر جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ یورپی وزرائے خارجہ بعد میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو ’مکمل طور پر ختم‘ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    ڈینیئل میرون نے یورپی وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو ختم کرنے‘ پر زور دے اور ایران کی ’علاقائی دہشت گردی کی سرگرمیوں اور دہشت گرد پراکسیوں کی فعال حمایت‘ کو ختم کرے۔

    ڈینیئل میرون

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’مقاصد پورے ہونے تک ایران میں کارروائی جاری رہے گی‘

    جنیوا میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینیئل میرون کا کہنا ہے کہ تنازعے کے خاتمے سے قبل ان کے ملک کو ایران میں مزید کام کرنا ہے۔

    ڈینیئل میرون نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کی موجودگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اقوام متحدہ پر اپنا مقصد کھونے اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا۔

    ایسا لگتا ہے کہ میرون کے الفاظ کا مقصد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے کونسل میں ہونے والی تقریر سے توجہ ہٹانا ہے۔

    یاد رہے کہ عراقچی برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کرنے والے ہیں۔ جس کا مقصد ایران کے جوہری عزائم کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنا اور اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کو کم کرنا ہے۔

    ڈینیئل میرون نے اسرائیل کی جانب سے جلد جنگ بندی پر رضامندی کا کوئی اشارہ نہیں دیا اور کہا کہ ایران پر اس کے حملے ’غیر معمولی طور پر کامیاب‘ رہے ہیں، لیکن ’ہم نے ابھی تک اپنے مقاصد پورے نہیں کیے ہیں، اس لیے ہم کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔

  19. گورنر ہاؤس میں رسائی کا معاملہ: ’اجلاس کی صدارت کے لیے پہنچے تو بتایا گیا کہ دفتر کی چابیاں کامران ٹیسوری اپنے ساتھ ترکی لے گئے ہیں‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ کے قائم مقام گونر اویس قادر شا

    ،تصویر کا ذریعہSanjay Sadhwani

    سندھ کے قائم مقام گونر اویس قادر شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا کہ انھوں نے محرم الحرام کے سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ داخلہ کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں ہوم سیکریٹری، آئی جی سندھ، ڈی آئی جیز اور دیگر افسران نے شرکت کرنا تھی تاہم یہ میٹنگ اس لیے تاخیر کا شکار ہوئی کیونکہ دفتر کی چابیاں کامران ٹیسوری اپنے ساتھ ترکی لے گئے تھے۔

    قائم مقام گورنر نے بتایا کہ جمعے کے صبح دس کہ’امن و امان کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرنے گورنر ہاؤس پہنچا تو گورنر نے پرنسپل افسر نے بتایا کہ دفتر کی چابیاں کامران ٹیسوری اپنے ساتھ ترکی لے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کہ جب وہ وہاں پہنچے پر پتا چلا تو تمام افسران باہر کھڑے تھے اور دفتر لاک تھا۔

    سندھ کے قائم مقام گورنر اویس قادر کا کہنا تھا کہ ’گورنر ہاؤس کا سٹاف غائب ہوگیا پرنسپل سیکریٹری نے ہوم سیکریٹری اور آئی جی سندھ کی موجودگی میں بتایا کہ گورنر چابیاں اپنے ساتھ ترکی لے گئے ہیں جس پر میں نے کہا کہ یہ کیا طریقہ کار ہے، ان کو آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے یہ اقدام غیر آئینی ہے۔‘

    دوسری جانب گورنر ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’قائم مقام گورنر سندھ سید اویس قادر شاہ کو صورتحال کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی، اجلاس میں شرکت کے لیے سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جیز (ایسٹ، ویسٹ، ساؤتھ)، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے افسران کانفرنس روم میں موجود تھے، قائم مقام گورنر کے لیے مخصوص دفتر پیشگی طور پر تیار تھا، اگر مرکزی دفتر استعمال کرنا مقصود تھا تو بروقت آگاہ کیا جاتا تو انتظام کر دیا جاتا۔‘

    ترجمان کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پرنسپل سیکریٹری کو 24 گھنٹوں میں واقعے کی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    قائم مقام گورنر اویس شاہ نے ترجمان کے بیان کو ’گمراہ کن اور غلط بیانی‘ قرار دیا انھوں نے بتایا کہ فون کالز اور تحریری طور پر گورنر ہاؤس کو اجلاس کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ میں سپیکر سندھ اسمبلی ہوں اگر میں اپنے دفتر میں موجود نہیں تو کیا دفتر کی چابیاں میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا یہ کس قسم کی ذہنیت ہے۔‘

    دوسری جانب قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے قائم قام گورنر کو فوری گورنر ہاؤس میں داخلے کی اجازت دے دی اور کہا ہے کہ انھیں رہائشی کمروں کے علاوہ دیگر دفاتر تک رسائی دی جائے۔

    سندھ ہائی کورٹ میں سید اویس شاہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ دو جون سے کامران ٹیسوری بیرون ملک گئے ہوئے ہیں،انھوں جب سے قائم مقام گورنر سندھ کا چارج لیا ہے انھیں گورنر ہاؤس میں رسائی نہیں دی جارہی ہے، قائم مقام گورنر کو دفتری امور سے روکنا آئین کے آرٹیکل 104 کی خلاف ورزی ہے۔

    عدالت نےدرخواست قبول کرتے ہوئے انھیں گورنر ہاؤس میں جانے اور امور سرانجام دینے کی اجازت دے دی اور23 جون کے لیے پرنسپل سیکرٹری سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور حکم دیا ہے کہ عدالتی حکم نامے کی کاپی صدر پاکستان اور پرنسپل سیکرٹری گورنر ہاؤس سندھ کو ارسال کی جائے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور گورنر کامران ٹیسوری کے تعلقات بڑے عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، کامران ٹیسوری کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے جب ایم کیو ایم دھڑا بندی کا شکار ہوئی تھی تو وہ ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ تھے۔

  20. ایران کو مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنی چاہیے: فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں

    فرانسیسی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے ایران کے ساتھ آج جنیوا میں طے شدہ یورپ کے سفارتی مذاکرات کے کے حوالے سے کہا ہے کہ فرانس اور یورپی اتحادی ایران کو اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی سفارتی تجویز پیش کریں گے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق یہ تجویز چار اہم اجزا پر مشتمل ہے:

    • اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے خاتمے کی جانب بڑھنے کا کام دوبارہ شروع کرنا
    • ایران کی بیلسٹک میزائل سرگرمیوں کی نگرانی
    • خطے میں پراکسی عسکریت پسند گروہوں کی ایران کی جانب سے مالی اعانت
    • ایران کی جانب سے ’یرغمالیوں‘ کی رہائی جن میں ایرانی جیلوں میں قید غیر ملکی شہریی شامل ہیں

    فرانسیسی صدر میخوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنی چاہیے۔