آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. پاسدارانِ انقلاب کا دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا۔

    تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوراکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کمال خرازی زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔

    یہ کارروائیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، اس کے بعد کہ پاسدارانے انقلاب نے اس سے قبل امریکہ کی 18 بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں اور انھیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’جیسا کہ ہم پہلے خبردار کر چکے تھے، ایرانی شخصیات کے قتل کے بدلے میں ہم اُن جاسوس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے جو دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی بنیاد ہیں۔۔۔ آج بھی ڈاکٹر خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹر اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل بھی پاسدارانِ انقلاب یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ اس نے بحرین میں ایمیزون کے ایک کلاؤڈ کمپیوٹنگ سینٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

  2. امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ: ’جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ محکمہ دفاع جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات پر ان کا شکر گزار ہے۔

    خیال رہے اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا کہ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ جنرل رینڈی جارج کی جگہ ایسا افسر اس عہدے پر لایا جائے جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے وژن پر عملدرآمد کرے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تک سیکریٹری دفاع ایک درجن سے زیادہ سینیئر فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے کے لیے محض طاقت کا استعمال مؤثر ثابت نہیں ہوگا, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اس جنگ نے آبنائے ہرمز کو جس ابتر صورتحال کی طرف دھکیل دیا ہے، اس کی بحالی یقیناً ایک نازک اور پیچیدہ کام ہوگا۔

    ایران آبنائے کے بالمقابل ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو کم ٹیکنالوجی والے بے شمار ہتھیار چھپا سکتا ہے، جن کی مدد سے جہازوں پر اچانک حملے کیے جا سکتے ہیں۔

    بحری افواج اپنے جنگی جہاز اس ساحلی پٹی کے بہت قریب بھیجنا نہیں چاہتیں کیونکہ انھیں وہاں حملے کا خدشہ ہے۔

    لہٰذا زیادہ تر عسکری تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے محض طاقت کا استعمال مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ یہ کام مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا، غالباً کسی تیسرے فریق مثلاً پاکستان کی وساطت سے اور اس کے لیے تہران کی رضا مندی درکار ہوگی۔

    یہ ایران کے دشمنوں کے لیے ایک کڑوی حقیقت ہوگی۔

    امریکہ اور اسرائیل کی 34 دنوں سے جاری تباہ کن فضائی بمباری ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہی ہے اور وہ جتنے دن برقرار رہے گی اتنا ہی اس کا عزم مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔

    ایران کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے، اس لیے ممکن ہے کہ وہ تمام جہازوں کو دوبارہ بحفاظت گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے زیادہ قیمت وصول کرنے کا فیصلہ کرے، چاہے وہ مالی لحاظ سے ہو یا سٹریٹجک لحاظ سے۔

  4. زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے شہر کرج میں ایک پُل پر حملے کے بعد اپنے بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’سویلین مقامات بشمول زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایرانیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

    کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہر پُل اور ہر عمارت پہلے سے زیادہ مضبوط بنا لی جائے گی، مگر جو چیز کبھی بحال نہیں ہو سکے گی وہ امریکہ کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ہے۔‘

  5. کرج میں پُل پر حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی: ایرانی عہدیدار, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے شہر کرج میں ایک پُل پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    البرز کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار قدرت اللہ سیف نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان حملوں کو ’خوفناک جرم‘ قرار دیا ہے۔

    کچھ گھنٹوں قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر کرج میں واقع ایک پُل پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

    ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک فضائی حملے کے بعد پُل پر شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ بظاہر اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

  6. امریکی سیکریٹری دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات دے دیے: ذرائع

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    جنرل رینڈی جارج کو سنہ 2027 تک اس عہدے پر رہنا تھا۔

    ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا کہ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ جنرل رینڈی جارج کی جگہ ایسا افسر اس عہدے پر لایا جائے جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے وژن پر عملدرآمد کرے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تک سیکریٹری دفاع ایک درجن سے زیادہ سینیئر فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔

  7. امریکی صدر کی کرج میں پُل پر حملے کی تصدیق، ایران کو ’مزید تاخیر ہونے سے قبل معاہدہ کرنے‘ کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر کرج میں واقع ایک پُل پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔

    ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ آج ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد پُل پر شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ بظاہر اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے اپنے پلیٹ فارم ٹریوتھ سوشل پر لکھا: ’ایران کا سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

    ’وقت آ گیا ہے کہ اب ایران مزید تاخیر ہونے سے قبل کوئی معاہدہ کر لے ورنہ اس عظیم ملک کے ممکنہ مستقبل میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی کے محکمہ دفاع نے تاحال اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  8. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔
    • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور تمام فریقوں کی جانب سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    • برطانیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس برطانوی فوج کے مرکز میں ہو گا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
    • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ’ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام‘ لینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
    • پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ جمعے سے پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے، جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے ہوگی۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔