آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. ایران کے پاس اب 48 گھنٹے ہیں کسی معاہدے پر پہنچنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ورنہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں کسی معاہدے پر پہنچنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ورنہ ’ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یاد رکھیں وہ وقت کہ جب میں نے ایران کو دس دن دیے تھے کہ یا تو معاہدہ کریں یا آبنائے ہرمز کھول دیں۔ اب وقت ختم ہو رہا ہے۔‘

    ’48 گھنٹے باقی ہیں، اس کے بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘

    27 مارچ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی توانائی تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کو دس دن کے لیے روک رہے ہیں۔

    اس سے چند لمحے قبل ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں جس میں وہ امریکی معیشت پر محصولات کے اثرات کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے اختتام پر لکھا کہ ’اس سب کے ساتھ ساتھ، ایک ایٹمی ایران سے نجات۔‘

  2. جنگ کے آغاز سے اب تک 450 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے: بحرین کا دعویٰ

    بحرین نے بھی جنگ کے آغاز سے اب تک ہونے والے فضائی حملوں کی تعداد کے بارے میں اپ ڈیٹ جاری کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بحرین کی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کی جانب سے داغے گئے 453 حملہ آور ڈرونز اور 188 میزائل کو ’ناکارہ بنایا اور تباہ‘ کیا گیا ہے۔

  3. متحدہ عرب امارات کا 23 میزائل اور 56 ڈرونز کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چار اپریل کو ایران سے آنے والے 23 بیلسٹک میزائل اور 56 ڈرون کو ناکارہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کے مطابق تنازعے کے آغاز سے اب تک کل 498 بیلسٹک میزائل، 23 کروز میزائل اور 2141 ڈرونز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

    حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے متحدہ عرب امارات میں مسلح افواج کے دو اہلکار، ایک کنٹریکٹر اور 10 دیگر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 217 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  4. ایران نے امریکی جہاز کے لاپتہ عملے کے رکن کی گرفتاری کی تردید کر دی, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے جنوبی صوبے کہگیلویہ و بویراحمد میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ذیلی یونٹ اور صوبائی گورنر نے امریکی جنگی طیارے ایف 15 کے عملے کے رکن کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

    گورنر نے الگ بیان میں اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ پہلے پائلٹ کو امریکہ نے بچا لیا اور اسے ’دشمن کی حکمتِ عملی‘ قرار دیا۔

    تاہم ریاست سے منسلک ایرانی چینلز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’عملے کے رکن کو زندہ گرفتار کریں‘ اور اس کے بدلے انعامات کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

    ایک وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی رپورٹ کے مطابق، عملے کے رکن کی گرفتاری پر تقریباً 50 ہزار پاؤنڈ (66 ہزار 100 ڈالر) انعام مقرر کیا گیا ہے۔ جو ملک میں اوسط ماہانہ تنخواہ 150 سے 230 پاؤنڈ کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

  5. اسرائیلی شہر رامات گان میں ایرانی حملے کے بعد کے مناظر

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، میگن ڈیوڈ ادوم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ وہ سنیچر کے روز ایرانی حملوں کے بعد وسطی اسرائیل کے چھ علاقوں میں امداری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    تل ابیب کے مشرق میں واقع شہر رامات گان میں ایرانی میزائل حملے کے بعد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جیسا کہ اسرائیل کے اس علاقے سے موصول ہونے والے تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فی الحال اس حملے میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ انھوں نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

  6. ایران کے جوہری پلانٹ پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے: تابکاری کا اخراج ہوا تو تہران میں ہی نہیں بلکہ خلیجی دارالحکومتوں میں بھی زندگی خاتم ہو جائے گی، عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب مبینہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہے کہ ’تابکاری کا اخراج تہران ہی نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں میں بھی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یوکرین میں زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب کے غم و غصے کو یاد کریں؟ اسرائیل اور امریکہ ہماری بوشہر تنصیب پر اب تک چار بار بمباری کر چکے ہیں۔

    اپنے اس بیان میں انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’تابکاری کا اخراج تہران ہی نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں میں بھی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ ہماری پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے بھی اصل مقاصد کو ظاہر کرتے ہیں۔‘

    تاہم یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ابھی تک اس حملے میں اپنے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  7. لاپتہ فضائی اہلکار کی تلاش جاری، امریکہ کے لیے ایک نازک لمحہ, بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو خطرات سے بھرا ہوا ہے۔

    لاپتہ عملے کے رکن کو بچانے کے لیے یہ امریکی کارروائی خطرناک تو ہے مگر وہ سب اس طرح کے آپریشن کے لیے برسوں سے تیار ہیں۔

    نہ صرف سکیورٹی بلکہ یہ معاملہ سیاسی خطرات سے بھی بھرپور ہے۔

    اگر ایران امریکی فضائیہ کے لاپتہ ہو جانے والے اہلکار کو ڈھونڈ لیتا ہے اور اسے ٹی وی پر پیش کرتا ہے، تو یہ ایران کے لیے پروپیگنڈا کی کامیابی ہوگی اور امریکہ کے لیے سیاسی ’ذلت‘ اور ’رسوائی‘ کا باعث بنے گی۔

    اور یہ موقع تہران کو ایک جنگی قیدی فراہم کرے گا، ایک سودے بازی کا ہتھیار، وہ بھی ایک ایسے وقت میں کہ جب اس جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں اور باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑی پیش رفت کے دعوے کر رہے ہیں۔

    یہ ایک ایسا لمحہ بھی ہے جو اس امریکی فوجی کارروائی کے نام ’ایپک فیوری‘ کو حقیقی معنی دے سکتا ہے۔

    جوابی کارروائی جب بھی ہوگی وہ ایران، خطے اور ایک ایسی دنیا کے لیے خطرناک ہوگی جو پہلے ہی معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    پانچ ہفتوں کی جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    لیکن وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے ’مکمل فضائی برتری‘ حاصل کر لی ہے۔

    یہ دعویٰ اب بکھر چُکا ہے۔

  8. ہم نے مذاکرات کے لیے کبھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا، جنگ کا نتیجہ خیز اور دیر پا خاتمہ ہونا چاہیے‘ عباس عراقچی، پاکستان کا تہران کی وضاحت پر خیر مقدم

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے لیے اہم بات اس غیر قانونی جنگ کے نتیجہ خیز اور دیرپا خاتمے کی شرائط ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔‘

    دوسری جانب پاکستان نے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’ہم آپ کی جانب سے دی جانے والی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے کی کوشش جاری ہے اور پاکستان کے اس اہم معاملے پر بطور ثالث کے سامنے آنے پر خطے میں خاصی بحث جاری ہے۔

  9. مُلک کے اہم پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے: ایران

    ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے گورنر کے نائب سکیورٹی انچارج نے کہا ہے کہ آج ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔

    ولی‌اللہ حیاتى کا کہنا ہے کہ بندر امام پیٹروکیمیکل کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے دونوں مقامات پر حملوں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

    ایرانی ذرائع نے حیاتى کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک ان حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ دونوں تنصیبات ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت کا اہم حصہ ہیں، جہاں تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ ملک کے جنوب میں واقع یہ مراکز پیٹروکیمیکل پیداوار کے اہم مرکز ہیں اور خلیج فارس کے ذریعے برآمدات بھی کرتے ہیں۔

    ایک بیان میں، پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن نے کہا کہ صنعتی علاقے میں کام کرنے والے مزدوروں کو نکال لیا گیا ہے اور ممکنہ آلودہ مادے ’قریبی شہروں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

    اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انھوں نے جمعے کو تہران میں ’دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کے خلاف حملوں کی ایک لہر‘ مکمل کر لی ہے۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ایک فضائی دفاعی سائٹ کو نشانہ بنایا جہاں ’طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کو ذخیرہ کیا گیا تھا‘ اور ساتھ ہی ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘

  10. خیبرپختونخوا میں بارشوں اور طوفان کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی، 85 افراد زخمی

    خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور طوفان کی وجہ سے 25 مارچ سے لے کر اب تک 30 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہوئی ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں 20 بچے، پانچ مرد اور پانچ خواتین شامل ہیں جبکہ 36 مرد، 11 خواتین اور 38 بچے زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ حادثات ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشیں چار اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

  11. اسرائیل کا تہران میں ’اہم انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو تہران میں ’اہم انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو تہران میں ’دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کے خلاف حملوں کی ایک لہر‘ مکمل کر لی ہے۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایک فضائی دفاعی سائٹ کو نشانہ بنایا جہاں ’طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کو ذخیرہ کیا گیا تھا‘ اور ساتھ ہی ایک فوجی سائٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق ’یہ حملے ایرانی دہشت گرد حکومت کے بنیادی نظام اور بنیادوں کو پہنچنے والے نقصان کی کڑی ہے۔‘

  12. ایران اب بھی امریکی صدر کے لیے سیاسی اور فوجی مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے, جوئل گنٹر

    یہ صرف چار دن پہلے کی بات ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس بات پر فخر کر رہے تھے کہ امریکہ نے ایران پر اتنی فضائی برتری حاصل کر لی ہے کہ امریکی فضائیہ اب سست رفتاری سے چلنے والے، B-52 بمبار طیارے بغیر کسی تشویش کے ایران کی فضاؤں میں اُڑا سکتی ہے۔

    ابھی امریکہ نے ایسا کر کے نہیں دکھایا تھا کہ ایران نے امریکہ کے خلاف اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی یعنی اپنی سرزمین پر ایک امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ یہ کم رفتار سے پرواز کرنے والا B-52 نہیں بلکہ ایک تیز رفتار لڑاکا طیارہ ہے۔

    تباہ ہونے والے ایف 15 طیارے کے عملے میں سے ایک کو بچا لیا گیا ہے، لیکن ایک لاپتہ ہے۔ اگر زندہ بچ جانے والے عملے کے رُکن کو ایران یرغمال بنا لیتا ہے تو امریکہ کا بہت کچھ داؤ پر لگ سکتا ہے۔

    ممکنہ طور پر اسے ٹیلی ویژن پر سب کو دیکھنے کے لیے پیش کیا جائے گا، گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے امریکیوں کی پریشانی ویسے ہی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں اگر ایران نے امریکی پائلٹ کی ویڈیو جاری کی تو اس سے امریکی رائے عامہ پر منفی اثر پڑے گا۔

    یہ تنازعہ امریکہ اور پوری دنیا میں اس لحاظ سے بھی شدید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے شروع کرنے کے لیے کوئی مربوط دلیل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کے اپنے بیان کردہ ہدف کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرائے گئے لڑاکا طیارے کی وجہ سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    لیکن اگر امریکی ایئر مین کو حراست میں لے لیا جاتا ہے تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ چاہے ایران اس جنگ سے جتنا بھی متاثر ہوا ہے، لیکن وہ اب بھی صدر ٹرمپ کے لیے فوجی اور سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  13. ماضی میں کن مواقع پر امریکی طیاروں کو مار گرایا گیا؟

    امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کی مثال کم ہی ملتی ہے اور اسے ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو گذشتہ چند دہائیوں میں صرف دو مرتبہ ہوا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مارچ کے اوائل میں تین امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے ’دوستانہ فائر‘ کے واقعے میں کویت میں گر کر تباہ ہو گئے تھے۔ لیکن اس واقعے میں عملے کے چھ ارکان بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    سینٹرل کمانڈ کے مطابق 12 مارچ کو مغربی عراق میں ایک دوسرے طیارے کے حادثے میں امریکی فوج کے ایندھن بھرنے والے طیارے کے عملے کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

    سات اپریل 2003 کو عراق جنگ کے دوران ایک امریکی ایف-15 ای طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں پائلٹ ایرک داس اور ہتھیاروں کے افسر ولیم واٹکنز ہلاک ہو گئے تھے۔

    امریکی بحریہ کی ویب سائٹ کے مطابق، پرواز نے قطر کے العدید ایئر بیس سے اڑان بھری تھی اور اس نے عراق کے تکریت شہر میں اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔

    امریکی فضائیہ کے مطابق، ایک امریکی A-10 تھنڈربولٹ II طیارے کو بھی آٹھ اپریل 2003 کو بغداد میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مار گرایا گیا تھا۔ طیارہ گرنے سے پہلے پائلٹ بحفاظت باہر نکل گیا تھا۔

    ایک اور F-15E لڑاکا طیارہ مارچ 2011 میں شمال مشرقی لیبیا میں گر کر تباہ ہوا۔ پائلٹ کی بازیابی کے لیے چار طیارے اور دو ہیلی کاپٹر بھیجے گئے تھے۔

  14. ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالرز انعام کی پیشکش, غنچہ حبیب زادہ, بی بی سی

    ان اطلاعات کے بعد کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا تھا، ایرانی آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک نے اجیکٹ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں اُترا ہو۔

    امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے، تاہم عملے کا ایک رُکن لاپتہ ہے۔

    ایرانی حکومت سے وابستہ ایرانی چینلز نے شہریوں کو انعامات کی پیشکش کرتے ہوئے پر زور دیا ہے کہ وہ ’پائلٹ کو زندہ پکڑ لیں۔‘

    ایرانی چینلز کے مطابق پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر 66 ہزار امریکی ڈالرز انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔

    بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جس میں دو جنوبی صوبوں میں مسلح شہری امریکی عملے کے رکن کو تلاش کر رہے ہیں۔

    جنوبی صوبہ خوزستان کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں، متعدد افراد کو آتشیں اسلحہ اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے پائلٹ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، ’ان شاء اللہ، ہم اسے تلاش کر لیں گے۔‘

  15. افغانستان میں زلزلہ، کابل میں مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد ہلاک

    افغانستان میں طالبان حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی شام آنے والے زلزلے کے نیتجے میں کابل صوبے کے بگرامی ضلع میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی شام آنے والے زلزلے کی شدت 5٫8 تھی جبکہ اس کی گہرائی 181 کلو میٹر تھی۔

    زلزلے کے جھٹکے افغانستان، پاکستان اور انڈیا میں بھی محسوس کیے گئے۔

    کابل کے گورنر کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے ضلع بگرامی کے علاقے گوسفندرہ میں ایک رہائشی مکان منہدم ہو گیا۔

    صوبائی ترجمان حافظ بشارت نے کہا کہ تمام متاثرین ایک ہی خاندان کے افراد تھے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ایک گھر مکمل طور پر گرنے سے باپ، ماں، چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہلاک ہوئے۔

    زلزلہ 181 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا جس سے عام طور پر معمولی نقصان ہوتا ہے لیکن افغانستان میں دیہی کچے مکانات اور خستہ حال ڈھانچوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے نسبتاً ہلکے زلزلے بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ خیبر پختونخوا اور شمالی گلگت بلتستان کے رہائشیوں نے بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنے کی اطلاع دی۔ زلزلے کے جھٹکے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

  16. ایران کے خلاف جنگ کے دوران 365 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں: پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کی شروعات کے بعد سے اب تک اس کی افواج کے 365 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

    اب تک امریکی فوج کے 247، بحریہ کے 63، 19 مرینز اور فضائیہ کے 36 اہلکار اس جنگ کے دوران زخمی ہو چکے ہیں۔

    پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک 13 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

  17. ’تلاش ترک نہیں کریں گے‘: ایران میں امریکی طیارہ مار گرائے جانے کے عملے کے رکن کی تلاش جاری, گریس الیزا گڈون، نیو یارک

    ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مار گرائے گئے امریکی لڑاکا طیارے کے لاپتہ عملے کے رکن کی تلاش وقت کے اعتبار سے ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ ایران بھی اسی اہلکار کی تلاش میں ہے، جبکہ امریکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی اپنی کارروائی میں مصروف ہیں۔

    جیمز جیفری کا کہنا ہے، جو ایک فوجی حکمتِ عملی کے ماہر اور اعلیٰ امریکی سفارتکار ہیں اور شام کے لیے خصوصی نمائندے اور عراق میں دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کے خلاف بین الاقوامی فوجی مداخلت کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، "یہ سب سے خطرناک فوجی مشن ہے جس کے بارے میں میں جانتا ہوں۔"

    ماہر عسکری امور اور امریکی سفارتکار جیمز جیفری کہتے ہیں کہ ’جن مشنز کے بارے میں میں جانتا ہوں ان میں سے یہ سب سے خطرناک مشن ہے۔‘

    ایسے مشنز عموماً ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، جنھیں ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں اور دیگر فوجی طیاروں کی معاونت حاصل ہوتی ہے جو فضائی حملے کرنے اور علاقے میں گشت کرنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔

    جمعے کے روز ایران سے سامنے آنے والی ایک تصدیق شدہ ویڈیو بظاہر خوزستان صوبے کے اوپر ایسے ہی ایک مشن کو جاری دکھاتی ہے۔

    جیمز جیفری ریسکیو اہلکاروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ فضائیہ کے خصوصی آپریشنز کے اہلکار ہوتے ہیں، جن کی تربیت تقریباً ڈیلٹا فورس اور نیوی سیل ٹیم سِکس کے معیار کی ہوتی ہے، لیکن ان کے پاس طبی صلاحیتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر ذرا سا بھی امکان ہو کہ پائلٹ مل سکتا ہے تو وہ تلاش ترک نہیں کریں گے۔‘

    دشمن کے زیرِ کنٹرول علاقے میں مار گرائے جانے والے طیاروں کے پائلٹ اور عملے کو ایسی صورتِ حال کے لیے خصوصی طور پر تربیت دی جاتی ہے۔

    تھنک ٹینک ڈیفنس پرائرٹیز سے منسلک سینئر فیلو جینیفر کاواناگ کہتی ہیں: ’ان کی اولین ترجیح زندہ رہنا اور گرفتاری سے بچنا ہوتی ہے۔‘

    ’انھیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ اگر وہ جسمانی طور پر قابل ہیں اور زخمی ہونے کے باعث حرکت کرنے سے قاصر نہ ہوں تو ایجیکشن کی جگہ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکے دور چلے جائیں اور خود کو اس طرح چھپائیں کہ وہ محفوظ رہ سکیں۔‘

    جینیفر مزید کہتی ہیں کہ انہیں اپنے بچاؤ کے لیے تکنیکیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک بغیر خوراک یا پانی کے گزارا کر سکیں یا مقامی طور پر اپنے لیے ضروری وسائل تلاش کر سکیں۔

  18. ایران میں امریکی پائلٹ کی ’تلاش جاری‘

    ایران کے جنوبی صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے ’وسیع آپریشنز‘ کے باوجود ایف 15 لڑاکا طیارے کے ’لاپتہ پائلٹ‘ کی تلاش ’مکمل قوت‘ کے ساتھ جاری ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق نائب گورنر کا کہنا ہے کہ ’پولیس، سکیورٹی فورسز اور مقامی لوگوں کی پائلٹ کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں‘۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر انھیں لاپتہ پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات ملیں تو حکام سے رابطہ کریں۔

    اگرچہ ہمیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ طیارہ درست طور پر کہاں مار گرایا گیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا میں دو صوبوں کا بار بار ذکر سامنے آیا ہے: کہگیلویہ و بویراحمد اور خوزستان۔

  19. کیا امریکی طیارہ گِرنے سے ٹرمپ پر عوام کا دباؤ بڑھے گا؟, گریس الیزا گڈوین، نامہ نگار برائے امریکہ

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا جانا عسکری اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس سے امریکی عوام میں جنگ کی مخالفت بڑھ سکتی ہے۔

    تھنک ٹینک ڈیفینس پرائیرٹیز میں سینیئر فیلو اور ملٹری تجزیے کی ڈائریکٹر جینیفر کیواناگ کہتی ہیں کہ ’جو لوگ شروع سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ یہ جنگ ایک غلطی تھی، امریکی فوجیوں کے لیے غیر ضروری خطرہ تھی، امریکی طاقت کا غیر ضروری استعمال تھا اور امریکی وسائل کا ضیاع تھی تو یہ واقعہ اُن تمام دلائل پر گویا آخری مہر ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ اب کم از کم فوری طور پر ٹرمپ کے لیے جنگ سے پیچھے ہٹنا ’سیاسی طور پر تقریباً ناممکن‘ ہو گیا ہے۔

    ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر کو اپنی فتح کے دعوؤں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے ’اور یہ واقعہ وہ چیز نہیں ہے۔‘

    دی واشنگٹن انسٹیٹیوٹ میں ملٹری سٹریٹیجی کے ماہر جیمز جیفری کہتے ہیں کہ اس وقت زیادہ تر امریکی یہ محسوس کریں گے کہ اس واقعے نے انھیں جنگ کے بارے میں مزید بے چین اور ناراض کر دیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ واقعی تشویش کی بات ہے کیونکہ یہی وہ جذبات ہیں جو امریکی عوام محسوس کر رہے ہیں۔ امریکی اپنے فوجی اہلکاروں سے بے حد محبت رکھتے ہیں، اکثر جدید ممالک سے کہیں زیادہ۔‘

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی تشویش یا ناراضی سے یہ طے نہیں ہو گا کہ ٹرمپ جنگ کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں یا وہ اگلا قدم کیا اٹھاتے ہیں۔

  20. ایران میں امریکی طیارہ گرائے جانے کا واقعہ مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا: ٹرمپ

    این بی سی نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر سے پوچھا گیا کہ ’کیا آج کے واقعات مذاکرات پر اثر ڈالیں گے؟‘

    ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، بالکل نہیں۔ یہ جنگ ہے۔ ہم جنگ میں ہیں۔‘