ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مار گرائے گئے امریکی لڑاکا طیارے کے لاپتہ عملے کے رکن کی تلاش وقت کے اعتبار سے ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ ایران بھی اسی اہلکار کی تلاش میں ہے، جبکہ امریکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی اپنی کارروائی میں مصروف ہیں۔
جیمز جیفری کا کہنا ہے، جو ایک فوجی حکمتِ عملی کے ماہر اور اعلیٰ امریکی سفارتکار ہیں اور شام کے لیے خصوصی نمائندے اور عراق میں دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کے خلاف بین الاقوامی فوجی مداخلت کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں،
"یہ سب سے خطرناک فوجی مشن ہے جس کے بارے میں میں جانتا ہوں۔"
ماہر عسکری امور اور امریکی سفارتکار جیمز جیفری کہتے ہیں کہ ’جن مشنز کے بارے میں میں جانتا ہوں ان میں سے یہ سب سے خطرناک مشن ہے۔‘
ایسے مشنز عموماً ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، جنھیں ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں اور دیگر فوجی طیاروں کی معاونت حاصل ہوتی ہے جو فضائی حملے کرنے اور علاقے میں گشت کرنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔
جمعے کے روز ایران سے سامنے آنے والی ایک تصدیق شدہ ویڈیو بظاہر خوزستان صوبے کے اوپر ایسے ہی ایک مشن کو جاری دکھاتی ہے۔
جیمز جیفری ریسکیو اہلکاروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ فضائیہ کے خصوصی آپریشنز کے اہلکار ہوتے ہیں، جن کی تربیت تقریباً ڈیلٹا فورس اور نیوی سیل ٹیم سِکس کے معیار کی ہوتی ہے، لیکن ان کے پاس طبی صلاحیتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر ذرا سا بھی امکان ہو کہ پائلٹ مل سکتا ہے تو وہ تلاش ترک نہیں کریں گے۔‘
دشمن کے زیرِ کنٹرول علاقے میں مار گرائے جانے والے طیاروں کے پائلٹ اور عملے کو ایسی صورتِ حال کے لیے خصوصی طور پر تربیت دی جاتی ہے۔
تھنک ٹینک ڈیفنس پرائرٹیز سے منسلک سینئر فیلو جینیفر کاواناگ کہتی ہیں: ’ان کی اولین ترجیح زندہ رہنا اور گرفتاری سے بچنا ہوتی ہے۔‘
’انھیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ اگر وہ جسمانی طور پر قابل ہیں اور زخمی ہونے کے باعث حرکت کرنے سے قاصر نہ ہوں تو ایجیکشن کی جگہ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکے دور چلے جائیں اور خود کو اس طرح چھپائیں کہ وہ محفوظ رہ سکیں۔‘
جینیفر مزید کہتی ہیں کہ انہیں اپنے بچاؤ کے لیے تکنیکیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک بغیر خوراک یا پانی کے گزارا کر سکیں یا مقامی طور پر اپنے لیے ضروری وسائل تلاش کر سکیں۔