امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو اڑانے کی دھمکی بین الاقوامی معاہدوں اور جنگی قوانین کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے خطرے کے مترادف ہو سکتی ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جان بوجھ کر تباہی شہریوں کی زندگی پر تباہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ان تنصیبات کو فوجی یا حکومتی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیوں نہ کیا جا رہا ہو۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے بانی پراسیکیوٹر لوئس میرینو کہتے ہیں کہ بجلی گھر، توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جائز اہداف نہیں ہیں، چاہے یہ کسی بھی ملک کی جانب سے کیے جا رہے ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر شہری املاک پر حملے کرنا، جو فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہیں، جنگی جرم ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ عالمی قوانین کے پابند نہیں ہیں اور وہ خود اپنی سوچ کے مطابق فیصلے لیتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ سے گذشتہ ہفتے ممکنہ جنگی جرائم کے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو اُنھوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یقینی طور پر امریکہ کی مسلح افواج ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں گی، لیکن آپریشن ایپک فیوری کے مکمل مقاصد کے حصول کے حوالے سے صدر ٹرمپ بلا روک ٹوک آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ توقع کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کر لے گی۔‘