پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مسلح
افراد کے پولیس تھانے پر حملہ میں پانچ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مقامی
لوگوں کے مطابق نا معلوم افراد نے بارود سے بھری گاڑی پولیس تھانہ ڈومیل کی دیوار سے
ٹکرا دی جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں تھانے کے باہر چیک پوسٹ اور
پولیس سٹیشن کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوا۔
بنوں پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا
ہے کہ ’تھانہ ڈومیل کی حدود میں پولیس سٹیشن کے قریب دہشتگردوں کی جانب سے خودکش حملے
کی بزدلانہ کوشش کی گئی، جسے بروقت سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے ناکام بنا دیا گیا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش
حملہ آور تھانہ ڈومیل کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، تاہم اپنے مذموم عزائم میں ناکامی
پر اس نے تھانے کے باہر قریبی سول آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ معصوم
شہری ہلاک ہوئے۔‘
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین، ایک
مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ 13 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واقعے کے فوراً بعد پولیس،
بم ڈسپوزل یونٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو
گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔‘
ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے
جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال بھی گئے۔ انھوں نے متعلقہ
افسران کو ہدایت جاری کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے
کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بنوں میں ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر بخت اللہ
وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی زور دار تھا جس سے پولیس تھانے کے قریب
آبادی کو بھی نقصان پہنچا۔
بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان محمد نعمان خان نے بی
بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں پانچ افراد کی لاشیں اور 13 زخمی لائے گئے۔ اُن کے
مطابق اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے جو پولیس
تھانے کے قریب رہائش پزیر تھے۔ ان خواتین اور بچے شامل ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ
ان کے گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ وہ اس مقام
سے آٹھ کلومیٹر دور رہتے ہیں اور جب دھماکہ ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے دھماکہ ان کے
مکان کے بہت قریب ہوا ہے اور ایسا شہر کے دیگر لوگوں نے بھی محسوس کیا۔
ڈومیل گاؤں بنوں شہر سے تقریباً 23 کلومیٹر دور کوہاٹ
روڈ پر واقع ہے۔ ڈومیل میں مسلح شدت پسندوں کی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔
بنوں اور اس
کے مضافات میں ایک عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں آئے روز مسلح شدت پسندوں کی
کارروائیوں کے حوالے سے خبریں موصول ہوتی ہیں۔