آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. منا الاحمدی آئل ریفائنری پر حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں، کویت پیٹرولیم کارپوریشن

    کویت پیٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی) کا کہنا ہے کہ مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر جمعے کی صبح ہونے والے ڈرون حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    کمپنی کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ہنگامی امدادی ٹیموں نے ریفائنری پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ حملے کی بعد ریفائنری کی متعدد آپریشنل یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ کمپنی کے مطابق کویت انوائرمنٹ پبلک اتھارٹی کے تعاون سے فضائی معیار کی نگرانی جاری ہے اور اب تک کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

  2. دبئی میں کیتھولک چرچوں نے حکومتی ہدایات کے تحت عبادات منسوخ کر دیں

    دبئی میں کیتھولک چرچوں نے حکومت کی ہدایات پر ایسٹر سے قبل تمام عبادات منسوخ کر دی ہیں۔

    دبئی کے اسیسی چرچ کے سینٹ فرانسز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے ہدایات کے مطابق ہمارے چرچ کی تمام تقریبات آئندہ اطلاع تک منسوخ کی جاتی ہیں۔‘

    چرچ نے اپنے پیروکاروں سے ’سلامتی اور کمیونٹی کی فلاح‘ کی خاطر چرچ آنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    سینٹ میری کیتھولک چرچ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کا ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی احکامات کے تحت وہ بھی اپنی عبادات منسوخ کر رہے ہیں اور اب جمعے کی تقریب براہِ راست آن لائن نشر کی جائے گی۔

  3. پاکستان حکومت کا ٹول ٹیکس میں 25 فیصد اضافہ واپس لینے کا اعلان

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے ٹول ٹیکس میں 25 فیصد سہ ماہی اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    وفاقی وزارتِ تجارت کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیشِ نظر​ وزارت نے مالی سال 26-2025 کے لیے ٹول ٹیکس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

    وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر لیا گیا ہے۔

  4. ابو ظہبی میں گیس تنصیبات پر ایرانی میزائل حملہ، ملبہ گرنے سے گیس فیلڈز پر کام بند

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابوظہبی میں گیس کی تنصیبات پر میزائل کا ملبہ گرنے کے بعد کام بند کر دیا گیا ہے۔

    ابوظہبی کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حبشاں اور باب گیس فیلڈز پر آپریشنز اس وقت معطل کرنے پڑے جب ان تنصیبات کی جانب داغے گئے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے کی کوشش میں ان کے شارپنل تنصیبات پر گرے۔

    ایکس پر جاری ایک پیغام میں ابوظہبی کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حبشان اور باب گیس فیلڈز پر حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

  5. پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر حملے خشک اور بنجر خلیجی ممالک کو ناقابلِ رہائش بنا سکتے ہیں, قطر میں موجود نمائندہ بی بی سی کیٹی واٹسن کا تجزیہ

    ایران کی جانب سے جمعہ کی صبح پہلے ایک آئل ریفائنری اور پھر پانی صاف کرنے والے پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ خلیجی ممالک میں پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع انتہائی کمیاب ہیں، اسی لیے سمندری پانی کو ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ذریعے صاف کر کے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

    ایران کی جانب سے یہ حملے گذشتہ روز ایرانی پلوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بمباری کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

    جمعرات کو ایرانی شہر کرج کو تہران سے ملانے والے ایک پُل پر حملہ کر کے اس تباہ کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ’ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے‘اور عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے بجلی کے پلانٹس اور مزید پُلوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    اس بات نے یہاں خلیج میں لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے دیکھا ہے، کہ ایران میں اس نوعیت کی کسی بھی امریکی و اسرائیلی کارروائی کے بعد خلیجی ممالک کو ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ کا یہ حصہ انتہائی خشک ہے اور اپنی بقا کے لیے بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر انحصار کرتا ہے، لگ بھگ 90 فیصد پینے کا پانی سمندر کے پانی کو ہی صاف کر کے حاصل کیا جاتا ہے، اور اگر پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو خلیج کا علاقہ بہت تیزی سے ناقابلِ رہائش بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال پورے خطے کے رہنماؤں کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔

    طویل عرصے تک، یہ چھوٹی ریاستیں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تنازعات سے خود کو الگ رکھ کر ترقی کرتی رہی ہیں — مگر اب ایسا نہیں رہا۔

  6. ایران میں انٹرنیٹ گذشتہ 35 روز سے معطل: نیٹ بلاکس

    نیٹ بلاکس نامی انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اب 35ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، جہاں زیادہ تر صارفین 816 گھنٹوں سے زائد عرصے سے بیرونی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔

    نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ’عام عوام دنیا سے کٹی ہوئی ہے، اہم معلومات سے محروم ہیں اور ان کی آواز دب گئی ہے کیونکہ یہ صورتحال پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔‘

    تاہم بی بی سی کے مطابق کچھ سرکاری عہدیداروں، حکومت کے حامی صارفین اور صحافیوں کو اب بھی بلا رکاوٹ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جبکہ دیگر افراد آن لائن ہونے کے لیے بڑی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

    چند افراد نے سٹارلنک اور دیگر طریقوں سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے قائم کرنے میں کامیابی تو حاصل کی ہے لیکن یہ بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

    ایران میں سٹارلنک کا استعمال یا اس کی ملکیت دو سال تک قید کی سزا کا باعث بن سکتی ہے اور حکام اس کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ’سینکڑوں‘ سٹارلنک ڈیوائسز ضبط کی جا چکی ہیں۔

  7. سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے آبنائے ہرمز سے متعلق قرار داد پر ووٹنگ ایجنڈے سے ہٹا دی گئی

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق بحرین کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک قرارداد پر ووٹنگ شیڈول سے ہٹا دی گئی ہے۔

    جمعرات دو اپریل کو جاری کردہ شیڈول میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ایک قرارداد پر ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق آج گیارہ بجے مقرر تھی۔ تاہم جمعہ تین اپریل کے لیے اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ پر اب جاری شیڈول سے اس قرار داد پر ووٹنگ کی کارروائی کو ہٹا دیا گیا ہے۔

    اجلاس سے ووٹنگ کی اس کارروائی کو ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی ابھی تک اس قرار داد پر ووٹنگ کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل جمعہ کو بحرین کی جانب سے پیش کردہ ایک مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کرے گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازرانی کا تحفظ ہے، تاہم چین جس کے پاس ویٹو کا اختیار ہے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کے لیے دی جانے والی کسی بھی اجازت کی مخالفت کرتا ہے۔

    فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ایک ایسا تنازع شروع ہوا جو اب ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس نے عملی طور پر آبنائے کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے۔

  8. جنگ شروع ہونے کے بعد سے کویت کی منا الاحمدی آئل ریفائنری پر تیسرا حملہ

    جمعہ کی صبح سویرے متعدد ڈرون حملوں کے بعد کویت کی ایک اہم منا الاحمدی آئل ریفائنری کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

    تاہم اس حملے میں انتظامیہ کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    منا الاحمدی ریفائنری جو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے روزانہ تقریباً تین لاکھ 46 ہزار بیرل تک تیل صاف کرنے یا ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    کویت میں تین بڑی آئل ریفائنریاں ہیں۔ پانچ ہفتوں پر مشتمل تنازع کے دوران منا الاحمدی ریفائنری کو اس سے پہلے بھی دو بار ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا۔

    کویت پیٹرولیم کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ہنگامی اور فائر فائٹنگ ٹیمیں ریفائنری کے 39 آپریشنل یونٹس میں سے بعض میں لگی آگ پر قابو پانے اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا کہ متاثرہ علاقے میں ہوا کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اب تک مقامی ماحول پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

  9. امریکہ ایران جنگ پر یومیہ کتنا خرچ کر رہا ہے؟

    ایران میں جنگ کی قیمت امریکہ کو پہلے ہی بھاری پڑ چکی ہے۔

    گذشتہ ماہ، جب جنگ کو ابھی چھ روز ہی مکمل ہوئے تھے، امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ اس جنگ پر چھ روز کے دوران 11.3 ارب ڈالر(775 کھرب پاکستانی روپے) خرچ ہو چکے ہیں۔

    تاہم جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اس جنگ پر اٹھنے والے روزانہ کے اخراجات میں اُتار چڑھاؤ رہا ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے دفاعی نظام کمزور ہونے کے باعث اس کے اخراجات میں کمی آئی ہے، تاہم ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ تنازع اب بھی امریکہ کو یومیہ تقریباً 385 ملین ڈالر (38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یا 107 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا بوجھ ڈال رہا ہے۔

  10. مُلک کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے: وزارتِ دفاع متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مُلک کو میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔

    وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے نئے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔

    وزارت نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’مُلک کا فضائی دفاعی نظام میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے اور انھیں تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔‘

    امارات کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں سنائی دینے والی آوازیں انہی حملوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

  11. ایرانی بحریہ کے کمنڈر علی رضا تنگسیری کی تدفین کر دی گئی

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے صدا و سیما نے آبادان شہر میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کی تدفین کی تصاویر شائع کی ہیں۔

    منگل کے روز بندرعباس شہر میں بھی ان کے لیے اسی نوعیت کی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ 30 مارچ کو ایرانی پاسداران انقلاب نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اُن کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم اس سے چار روز قبل اسرائیل نے انھیں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم پر 30 مارچ کو شائع بیان کے مطابق تنگسیری ’فوج کی تنظیمِ نو اور جزائر و ساحلی علاقوں کے دفاعی حصار کو مضبوط بنانے کے عمل میں مصروف تھے‘ کہ اُن پر حملے ہوا اور وہ ’زخموں کی تاب نہ لا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’پاسداران انقلاب نے اپنے کمانڈر کی گذشتہ دنوں عدم موجودگی کے باوجود ’دشمن پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر فیصلہ کن کنٹرول برقرار رکھا۔‘

  12. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے جاری، تل ابیب کے ایک ریلوے سٹیشن کو میزائلوں کے ملبے سے نقصان پہنچا: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے ان کے دفاعی نظام کی جانب سے رات بھر کارروائیاں جاری رہیں اور اس وقت بھی یہ نظام فعال ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوجی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے ایک ریلوے سٹیشن پر فضا میں تباہ کر دیے جانے والے ایرانی میزائلوں کا ملبہ گرنے کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔

  13. کویت کی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، متعدد آپریشنل یونٹس میں آگ بھڑک اُٹھی

    کویت کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ شہر ’احمدی‘ میں واقع کویت آئل کمپنی کے زیرِِ انتظام چلنے والی ایک آئل ریفائنری کو جمعہ کی صبح سویرے ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈرون حملوں کے نتیجے میں اس ریفائنری کے کئی آپریشنل یونٹس میں آگ لگ گئی۔‘

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ریفائنری کے کسی بھی کارکُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ہنگامی کارروائیاں جاری ہیں اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی ہیں۔

    اس سے قبل ’میزائل اور ڈرون حملوں‘ کے حوالے سے کویت پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

  14. بنوں میں شدت پشندوں کی پولیس سٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش، پانچ افراد ہلاک 13 زخمی: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مسلح افراد کے پولیس تھانے پر حملہ میں پانچ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔

    مقامی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق نا معلوم افراد نے بارود سے بھری گاڑی پولیس تھانہ ڈومیل کی دیوار سے ٹکرا دی جس سے زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں تھانے کے باہر چیک پوسٹ اور پولیس سٹیشن کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوا۔

    بنوں پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’تھانہ ڈومیل کی حدود میں پولیس سٹیشن کے قریب دہشتگردوں کی جانب سے خودکش حملے کی بزدلانہ کوشش کی گئی، جسے بروقت سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے ناکام بنا دیا گیا۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور تھانہ ڈومیل کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، تاہم اپنے مذموم عزائم میں ناکامی پر اس نے تھانے کے باہر قریبی سول آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ معصوم شہری ہلاک ہوئے۔‘

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ 13 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واقعے کے فوراً بعد پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔‘

    ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال بھی گئے۔ انھوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    بنوں میں ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر بخت اللہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی زور دار تھا جس سے پولیس تھانے کے قریب آبادی کو بھی نقصان پہنچا۔

    بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان محمد نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں پانچ افراد کی لاشیں اور 13 زخمی لائے گئے۔ اُن کے مطابق اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے جو پولیس تھانے کے قریب رہائش پزیر تھے۔ ان خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ وہ اس مقام سے آٹھ کلومیٹر دور رہتے ہیں اور جب دھماکہ ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے دھماکہ ان کے مکان کے بہت قریب ہوا ہے اور ایسا شہر کے دیگر لوگوں نے بھی محسوس کیا۔

    ڈومیل گاؤں بنوں شہر سے تقریباً 23 کلومیٹر دور کوہاٹ روڈ پر واقع ہے۔ ڈومیل میں مسلح شدت پسندوں کی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔

    بنوں اور اس کے مضافات میں ایک عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں آئے روز مسلح شدت پسندوں کی کارروائیوں کے حوالے سے خبریں موصول ہوتی ہیں۔

  15. سعودی عرب کا جمعرات سے اب تک پانچ ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جمعرات سے اب تک پانچ ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا چُکا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک ڈورن حملے کو ناکام بنایا گیا۔ تاہم وزارت کی جانب سے ایکس پر سامنے آنے والے اس بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    اس سے قبل بھی یہ بتایا گیا تھا کہ جمعرات کے روز چار ڈرونز کو روکا گیا اور انھیں فضا میں حملے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔

  16. ایران کا ایف 35 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف 35 جنگی طیارہ ’وسطی ایران کی فضاؤں میں‘ نشانہ بنائے جانے کے بعد ’گر کر تباہ‘ ہو گیا ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس جنگی طیارے کو ’پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’طیارے پر حملے کے وقت اور گرنے کے دوران شدید دھماکے کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔‘

    امریکی اور اسرائیلی افواج کی قیادت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا کہا گیا تھا۔

    اس سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ’ایک امریکی ایف 35 جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر پرواز کے دوران کسی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔‘

  17. سنجیدہ ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہ روزانہ نہ بولا جائے: میکخواں کا ایران جنگ پر ٹرمپ کے مؤقف پر تنقید

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی شادی سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے تبصروں کو فرانس میں غیر معمولی طور پر سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ میکخراں کے سخت ناقدین بھی ان کے دفاع میں سامنے آ گئے۔

    سخت بائیں بازو کی جماعت فرانس اُنبوڈ کے رہنما مینوئل بومپارڈ نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کے بارے میں اس انداز میں بات کرنا اور ان کی اہلیہ کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔‘

    بدھ کے روز ایک نجی ظہرانے کے دوران ٹرمپ نے فرانسیسی لہجے میں باتے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے میکخواں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ان کی اہلیہ بریجیت ’ان کے ساتھ نہایت برا سلوک کرتی ہیں‘ اور یہ کہ میکخواں ابھی تک ’اپنے دائیں جانب کے جبڑے پر لگنے والے چوٹ سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    غالباً ٹرمپ کا اشارہ سنہ 2025 کی اُس ایک ویڈیو کی جانب تھا جس میں میکخواں کو اُن کی اہلیہ بریجیت کی جانب سے ویتنام کے دورے کے دوران جہاز سے اُترنے سے قبل چہرے پر دونوں ہاتھوں سے دھکا دیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    میکخواں نے امریکی صدر کے اس بیان اور اُن کی اہلیہ سے متعلق ان تبصروں کو ’غیر مہذب اور اس قابل قرار نہیں دیا کہ ان پر کوئی تبصرہ کیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کا بیان اس قابل نہیں کہ اُن کا جواب نہیں دوں۔‘

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ کے لیے ایک ’سنجیدہ‘ رویے کی ضرورت ہے، ایسا رویہ جو روزانہ تبدیل نہ ہو۔ یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع پر متضاد بیانات کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

    جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے لیے پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکخواں نے کہا کہ ’یہ کوئی تماشہ نہیں ہے۔ ہم جنگ اور امن، مردوں اور خواتین کی جانوں کی بات کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہر روز اس کے برعکس بات نہیں کرتے جو آپ نے ایک دن پہلے کہی ہو۔‘

    میکخواں نے مزید کہا کہ ’شاید یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ ہر روز بولیں۔ بہتر ہے کہ معاملات کو کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا ہونے دیا جائے۔‘

    میکخواں یہ بات ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ سے متعلق سوالات کے جواب میں کہہ رہے تھے، جو اب اپنے دوسرے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے خطے میں امریکہ کی بعض کارروائیوں کی حمایت کی ہے، تاہم اب تک انھوں نے خود کو اس جنگ میں براہِ راست گھسیٹے جانے سے دور رکھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے اس تنازع پر اب تک ملے جلے پیغامات سامنے آئے ہیں۔ مختلف مواقع پر یہ عندیہ دیا گیا کہ جنگ بندی قریب ہے، کہیں کہا گیا کہ جنگ پہلے ہی جیتی جا چکی ہے اور کہیں یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ لڑائی جاری رکھے گا۔

  18. ایران کو ہنگامی طبی آلات کی ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ریڈ کراس

    ایران میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کے نمائندہ وفد کے سربراہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ایران میں ہنگامی طبی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ٹراما کِٹس اور دیگر طبی سازوسامان کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مُشکلات کے شکار ایرانی عوام کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک اور 21 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

  19. ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی کو عہدے سے ہٹا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو امریکہ کی اعلیٰ ترین قانون نافذ کرنے والی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اٹارنی جنرل پام بونڈی صدر ٹرمپ کی دیرینہ اتحادی اور ان کی انتظامیہ کی مضبوط حمایتی رہی ہیں۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ نجی شعبے میں ایک کردار کی طرف ’منتقل‘ ہو رہی ہیں۔

    بونڈی کا محکمہ انصاف کی سربراہی کا دور اکثر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا اور اس مجرم جنسی مجرم کی تحقیقات کے معاملے کی وجہ سے زیرِ سایہ رہا۔

    وہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری عہدیدار ہیں جنھیں عہدے سے ہٹایا گیا، اس سے پہلے مارچ میں کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ کے طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ بونڈی کی جگہ ان کے سابق نائب ٹوڈ بلانش لیں گے۔

    بونڈی نے کہا کہ وہ بلانش کو اپنا کام منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں اور مزید کہا کہ یہ عہدہ ان کی زندگی کا ’اعزاز‘ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اپنے نئے نجی شعبے کے عہدے میں جس کی انھوں نے نشاندہی نہیں کی وہ ’صدر ٹرمپ اور اس انتظامیہ کے لیے لڑائی جاری رکھیں گی۔‘

    یہ اعلان اس جارحانہ کانگریسی سماعت کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جس میں بونڈی سے قانون سازوں نے سخت سوالات کیے اور اس دوران معاملہ چیخ و پکار تک جا پہنچا جہاں انھوں نے ایک ڈیموکریٹ کو ’ناکام اور بیکار شخص‘ تک کہہ دیا تھا۔

    جمعرات کی صبح تک بھی ٹرمپ بونڈی کا دفاع کر رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک شاندار شخصیت کی مالک ہیں اور وہ اچھا کام کر رہی ہیں۔‘

  20. امریکہ اور اسرائیلی فوج کے تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے

    اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں رات بھر شدید حملے جاری رہے۔

    سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں کے دائرہ کار اور اہداف سے متعلق مزید معلومات موصول نہیں ہوئیں۔