احمد آباد میں تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس مل گیا: پولیس حکام

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا نے اس حادثے میں ایک مسافر کے علاوہ طیارے پر سوار باقی تمام 241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

خلاصہ

  • انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں گذشتہ روز مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا
  • ایئر انڈیا نے احمد آباد میں طیارہ پر سوار 241 افراد کی ہلاکت جبکہ ایک مسافر کے بچ جانے کی تصدیق کی ہے
  • احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا انتظار کر رہے ہیں
  • 242 افراد کو لے جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی منزل لندن تھی تاہم یہ ٹیک آف کے فوری بعد گِر کر تباہ ہوا
  • انڈیا کے سول ایوی ایشن کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے کہا ہے کہ احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
  • فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور ’ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا‘

لائیو کوریج

  1. فریڈم فلوٹیلا کولیشن: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کمپیئن گروپ فریڈم فوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے امدادی سامان سے بھری اُس کشتی کو روک لیا ہے جس پر سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی تبدیلی کی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ 12 افراد سوار ہیں۔ یہ امدادی سامان غزہ ترسیل کیا جانا تھا۔

    کشتی پر سوار کارکنوں کا تعلق برازیل، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، سپین اور ترکی سے ہے۔ امدادی سامان سے لدی کشتی پر موجود کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں اسرائیلی فوجیوں نے ’اغوا‘ کر لیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کشتی پر سوار تمام افراد محفوظ ہیں اور انھیں ’بحفاظت‘ اسرائیل لے جایا جا رہا ہے۔

    فلسطین کی وزارت خارجہ نے تمام کارکنوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔

  2. فریڈم فلوٹیلا کولیشن میں سوار سویڈن کی گریٹا تھنبرگ: وہ لڑکی جو عالمی رہنماؤں کو چیلنج کر رہی ہے

    گریٹا تھنبرگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے ٹیلی گرام پر یہ اطلاع دی کہ اسرائیلی افواج نے میڈلین نامی یاٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی اکاؤنٹ سے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں جہاز کے مسافروں کو لائف جیکٹس پہنے ہوئے اور ہاتھ اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے اسرائیل پر جہاز پر سوار کارکنوں کو ’اغوا‘ کرنے کا بھی الزام لگایا۔

    سویڈن کی گریٹا تھنبرگ نے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں آواز اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا اور آج پوری دنیا میں لاکھوں لوگ ماحولیاتی کی ہنگامی صورتحال سے متعلق عالمی اقدامات کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔

    ان کی عمر محض 15 برس تھی جب وہ سکول جانے کے بجائے سویڈن کی پارلیمان کے باہر مظاہرے میں بیٹھ گئیں اور عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ ماحول دوست اقدامات کریں۔

    Israel Foreign Ministry

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Foreign Ministry

    آج بھی وہ اسی جوش کے ساتھ عالمی رہنماؤں سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں لیکن اب یہ مطالبات وہ عالمی فورمز پر کر رہی ہیں۔ حال ہی میں وہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے کلائمیٹ ایکشن سمٹ میں بولیں۔

    ان کی پُرجوش تقریر نے کافی پذیرائی حاصل کی جس میں انھوں نے عالمی رہنماؤں کی آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں غیر سنجیدگی کو اُجاگر کیا۔

    گریٹا تھنبرگ کی ایک تصویر وائرل بھی ہوئی جس میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گھور رہی ہیں۔ امریکی صدر آب و ہوا میں تبدیلی کے نظریات کے ناقد کے طور پر مشہور ہیں۔

    کم عمری میں ایک تنہا سماجی کارکن بننے سے لے کر دنیا بھر میں اس مسئلے کی علامت بننے تک، یہ سب کیسے ہوا؟

  3. قومی اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا، آئندہ مالی سال کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا

    بجٹ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    قومی اقتصادی سروے آج سہ پہر کو جاری کیا جائے گا۔ دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کے شیڈول کی منظوری دے دی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق وفاقی بجٹ 2025ـ 26 منگل 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔

    13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا اس دوران قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا۔

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مطابق وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی جبکہ 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا۔

    اعلامیے کے مطابق 23 جون کو قومی اسمبلی میں 2025- 26 کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی، 24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز،گرانٹس،کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی جبکہ 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے شیڈول سیشن میں کسی قسم کی تبدیلی سپیکر کے اجازت سے ممکن ہوگی۔

  4. حماس کے رہنما محمد سنوار کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے: اسرائیلی فوج

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    ،تصویر کا کیپشنمحمد سنوار

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حماس کے رہنما محمد سنوار کی لاش کی شناخت کر لی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ ان کی فوج نے حماس کے غزہ چیف محمد سنوار کو ’ہلاک کر دیا ہے‘، جو اسرائیل کے سب سے مطلوب افراد میں سے ایک اور حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی تھے۔

    اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا ہے کہ ان کی لاش خان یونس میں یورپین ہسپتال کے نیچے ٹنل سے ملی ہے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ ان کی لاش کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کیا گیا ہے۔ حماس نے ابھی تک محمد سنوار کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    49 برس کے محمد سنوار 13 مئی کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع یورپی ہسپتال کے صحن اور اطراف میں کیے گئے ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے کا ہدف تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں حماس کا ’زیرِ زمین انفراسٹرکچر‘ تباہ کر دیا گیا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ادارے کے مطابق اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، حماس نے محمد سنوار کی ہلاکت کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    محمد سنوار کون ہیں؟

    جب سے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت اور تحریک کی عسکری شاخ، القسام بریگیڈز کے چیف آف سٹاف محمد الضیف ہلاک ہوئے ہیں، تب سے یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں کہ محمد سنوار غزہ میں تحریک کے فیصلوں پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔

    یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں جنگ کو تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں، قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

    محمد سنوار کو القسام بریگیڈ کے نمایاں عسکری کمانڈروں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ غزہ میں تنظیمی ڈھانچے کے اندر وسیع اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں سکیورٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اپنے بھائی یحییٰ کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے، جس کے باعث اُن کا نام ممکنہ جانشین کے طور پر سامنے آنے کے امکانات کو تقویت ملی۔

    گذشتہ برسوں کے دوران اسرائیل نے محمد سنوار کو کم از کم پانچ مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ تمام حملے ناکام رہے۔ ان کا نام نہ صرف اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے اغوا کی کارروائی سے جوڑا جاتا ہے بلکہ غزہ میں جاری حالیہ جنگ میں بھی ان کا مبینہ عسکری کردار ہے۔

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اگرچہ محمد سنوار کی شخصیت سے متعلق عرب اور فلسطینی ذرائع میں معلومات نہایت محدود ہیں، لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بعض فلسطینی صحافیوں نے بتایا کہ معلومات کی کمی اُن کی خالصتاً عسکری سرگرمیوں اور پس منظر میں رہ کر کام کرنے کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔

    تاہم، دستیاب معلومات کی روشنی میں ان کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے، وہ درج ذیل ہے۔

    پیدائش اور پرورش

    محمد سنوار 1975 میں خان یونس میں پیدا ہوئے، اُس وقت ان کے بڑے بھائی یحییٰ سنوار کی عمر 13 برس تھی۔ ان کا خاندان 1948 میں اسرائیلی قبضے کے دوران اشکلون کے قریب ایک گاؤں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ جنوبی غزہ میں آ کر آباد ہوئے۔

    محمد سنوار نے حماس کے قیام کے فوراً بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی اس کی عسکری شاخ ’عزالدین القسام بریگیڈز‘ کا حصہ بن گئے۔

    انھوں نے تنظیم کے اندر تیزی سے ترقی کی اور 2005 تک خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔

    سنہ 1991 میں محمد سنوار کو ’دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شبہ‘ میں گرفتار کر کے اسرائیل کی کیتسیوت جیل میں نو ماہ تک قید رکھا گیا۔

    2000 کے بعد جب حماس کے اسرائیل پر حملے مزید منظم اور مؤثر ہونے لگے تو محمد سنوار کی حماس کے اندر حیثیت اور اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔ اس میں ایک اہم کردار ان کی ’یحییٰ کے بھائی‘ کے طور پر شناخت نے ادا کیا، جو اس وقت مزید مستحکم ہوئی جب یحییٰ اسرائیلی جیلوں میں قید تھے۔

    رپورٹس کے مطابق محمد سنوار حماس کے سابق عسکری سربراہ محمد الضیف کے قریبی ساتھی تھے اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ان کا کردار بتایا جاتا ہے۔

    ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق محمد سنوار نے حماس کے ان کمانڈروں سے قریبی تعلقات قائم کیے جو بعد ازاں تنظیم کی عسکری قوت کا مرکزی حصہ بنے، جیسے محمد ضیف، سعد العربید اور دیگر۔۔۔ جن کے ساتھ وہ شانہ بشانہ کام کرتے رہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد سنوار ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے اغوا کی منصوبہ بندی کی۔ اسی واقعے کے نتیجے میں بعد ازاں سارجنٹ شالیت کو 1027 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا گیا، جن میں یحییٰ سنوار بھی شامل تھے۔

    محمد سنوار کئی دہائیوں سے روپوش زندگی گزار رہے تھے تاکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری یا ٹارگٹ کلنگ سے بچ سکیں۔

  5. غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز پر اسرائیلی فوج کا قبضہ

    Freedom Flotilla Coalition

    ،تصویر کا ذریعہFreedom Flotilla Coalition

    سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی ایک ایسی یاٹ پر سوار ہو گئے ہیں جو امدادی سامان لے کر غزہ جا رہی تھی۔ امدادی سامان لے جانے والے فریڈم فلوٹیلا کولیشن گروپ نے ٹیلی گرام ایپ پر کہا ہے کہ ’میڈلین سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔‘

    اس گروپ نے ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ لائف جیکٹس پہنے لوگ ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں۔ اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    موسمیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ جہاز پر سوار افراد میں شامل ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مصری ساحل سے روانہ ہو چکا تھا۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسرائیلی بحریہ نے یاٹ انتظامیہ کو کہا تھا کہ وہ ممنوعہ علاقے کی جانب جانے کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کر دیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کو ہتھیار پہنچنے سے روکنے کے لیے ناکہ بندی ضروری ہے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ملکی بحریہ نے یاٹ کو کہا تھا کہ وہ ’محدود علاقے کی طرف اس کے نقطہ نظر کی وجہ سے‘ راستہ تبدیل کرے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کو ہتھیار پہنچنے سے روکنے کے لیے ناکہ بندی ضروری ہے۔

    ایف ایف سی کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا بحری جہاز ممکنہ اسرائیلی حملے کے خطرے کی تیاری کیے انسانی امداد لے کر جمعے کو سسلی سے روانہ ہوا تھا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا تھا کہ یاٹ واپس چلی جائے وگرنہ اسرائیل کسی بھی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش پر کارروائی کرے گا۔

    انھوں نے اتوار کو ایکس پر لکھا کہ ’میں نے اسرائیل کی مسلح افواج کو ہدایات دے دی ہیں کہ وہ اس فلوٹیلا کو غزہ کے ساحل تک پہنچنے سے روکے اور اس مقصد کے لیے جو بھی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں وہ اٹھائے۔‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ سنہ 2007 سے اس ناکہ بندی کا مقصد حماس تک اسلحے کی ترسیل کو روکنا ہے اور یہ حماس کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام ہے۔

    ایف ایف سی کا کہنا ہے کہ سمندری رستے کی ناکہ بندی غیرقانونی ہے۔ اس گروپ نے اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کو اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کی دھمکی دینے کی ایک مثال ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’اس تشدد کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    ایف ایف سی کی پریس آفیسر نے کہا کہ ’ہم کسی بھی دھونس میں نہیں آئیں گے اور دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میڈلین ایک سویلین بحری جہاز ہے، بین الاقوامی پانیوں میں یہ غیر مسلح ہو کر دنیا بھر سے انسانی امداد اور انسانی حقوق کے محافظوں کو لے کر جاتا ہے۔۔ اسرائیل کو غزہ تک پہنچنے کی ہماری کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

    گروپ نے مزید بتایا کہ میڈلین امداد کی علامتی مقدار لے کر جا رہی تھی، جس میں چاول اور بچوں کا فارمولا دودھ بھی شامل تھا۔

    اس بحری جہاز میں برازیل، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، سپین، سویڈن اور ترکی کے شہری سوار ہیں۔

    سنہ2010 میں اسرائیلی کمانڈوز نے 10 افراد کو اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ ترک بحری جہاز ماوی مرمرہ پر سوار ہوئے تھے جو غزہ کی طرف امدادی بیڑے کی طرف لے جا رہا تھا۔

    اسرائیل نے حال ہی میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے تقسیم کو ترجیح دیتے ہوئے تین ماہ کی زمینی ناکہ بندی کے بعد غزہ میں محدود امداد کی اجازت دینا شروع کی ہے، جسے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے لیکن انسانی ہمدردی کے گروپوں نے اس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ گذشتہ ہفتے فلسطینیوں کو ’انتہائی سنگین انتخاب کا سامنا ہے: بھوک سے مر جائیں یا دستیاب خوراک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں مارے جانے کا خطرہ‘۔