احمد آباد میں تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس مل گیا: پولیس حکام

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا نے اس حادثے میں ایک مسافر کے علاوہ طیارے پر سوار باقی تمام 241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

خلاصہ

  • انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں گذشتہ روز مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا
  • ایئر انڈیا نے احمد آباد میں طیارہ پر سوار 241 افراد کی ہلاکت جبکہ ایک مسافر کے بچ جانے کی تصدیق کی ہے
  • احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا انتظار کر رہے ہیں
  • 242 افراد کو لے جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی منزل لندن تھی تاہم یہ ٹیک آف کے فوری بعد گِر کر تباہ ہوا
  • انڈیا کے سول ایوی ایشن کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے کہا ہے کہ احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
  • فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور ’ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا‘

لائیو کوریج

  1. امن کے لیے امریکہ کو انڈیا کو کان سے پکڑ کر بھی میز پر لانا پڑے تو یہ دنیا کے مفاد میں ہوگا: بلاول بھٹو

    Bilawal Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ اور پاکستانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو انڈیا کو کان سے پکڑ کر بھی بات چیت تک لانا پڑے تو یہ دنیا کے مفاد میں ہوگا۔‘

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر اور بارہا یہ کہا ہے کہ خطے میں امن ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ’ہم تو صدر ٹرمپ کے بیانات کو وعدے سمجھتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ان (ٹرمپ) کی امن کی کوششوں کے لیے دیے گئے بیانات کو انڈیا سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔‘

    سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم سمجھتے کہ اگر امریکہ کو انڈیا کو کان سے پکڑ کر بات چیت تک لانا پڑے تو یہ دنیا کے مفاد میں ہے، تاکہ خطے کے ممالک قیام امن کے بعد ترقی کرسکیں اور آگے بڑھیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی قریب میں انڈیا نے کشمیر پر متنازع قانون پاس کر کے اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا، تاہم صدر ٹرمپ کے بیان سے مسئلہ کشمیر پھر سے زندہ ہو گیا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے بیان سے واضح ہو گیا کہ مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان تنازع ہے، یہ کسی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے برطانیہ میں تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جن کا کہنا تھا کہ اب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بات کرنا زیادہ کارآمد ہوگا، اور آسانیاں ہوں گی۔‘

    سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر، دہشتگردری اور پانی سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا جنگ کے بعد پاکستان نے آج تک سیز فائر کی پاسداری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ روز اول سے انڈیا کا مؤقف اور بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔

    برطانیہ کے دورے میں ارکان پارلیمنٹ اور تھنک ٹینکس کے اہم ارکان سے ملاقاتوں کے بعد برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے روانگی سے قبل بلاول بھٹو نے اپنے وفد کے ہمراہ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں بہت فرق ہے، گودی میڈیا نے جھوٹ پھیلانے کی پالیسی اپنائی، جب کہ پاکستان کے میڈیا نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، جس پر میں میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے انڈین جارحیت کا جواب مؤثر انداز میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو جنگ کے دوران بہترین حکمت عملی بنانے پر فیلڈ مارشل کا اعزازی عہدہ دیا گیا، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق انڈیا یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’عالمی سطح کے معاہدے کی شرائط سے کوئی بھی ملک روگردانی نہیں کرسکتا اور ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ فعال ہے، اور اسے کسی طور پر معطل کرنے کا اختیار انڈیا کو حاصل نہیں ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی ملک ایسی دھمکی بھی نہیں دے سکتا۔ تاہم اگر انڈیا نے اس دھمکی پر عمل کیا تو پھر پاکستان یہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ یہ اقدام جنگ ہوگا۔

    کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں انڈین دہشتگردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے سفارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ انڈیا کہتا کچھ، اور کرتا کچھ اور ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان پر الزام عائد کر رہا تھا تو دنیا میں کوئی بھی ملک اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ ’سب جانتے ہیں کہ انڈیا دہشت گرد تنظیموں کو پیسہ دے کر دہشتگردی کرانے میں ملوث ہے، سکھ رہنماؤں کے کینیڈا میں قتل پر کینیڈین وزیر اعظم کا بیان انڈیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک بھی انڈین دہشتگردی سے متاثر ہوئے ہیں، ہم انڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں اپنی خارجہ پالیسی سے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ختم کرے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کی فنڈنگ ختم کرنی چاہیے، تاکہ اس کے دہشتگردی کے خلاف بیانات کو سنجیدہ لیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا کے موجودہ وزیراعظم پر مسلمانوں کے قتل، ٹارگٹ کر کے لوگوں کے قتل کے الزامات ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ تنازع بڑھانے کے لیے جھوٹے بیانیے کے تحت الزامات لگا کر حملے کرنا بہادری نہیں، بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، پاکستان نے اس سے قبل بھی ابھینندن کو گرفتار کرکے چائے لاکر واپس بھیجا تھا، یہ پاکستان میں دراندازی کا ثبوت ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ انڈیا خود جانتا ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، یہ ان کی انٹیلیجنس کی ناکامی تھی، جسے ’کور‘ کرنے اور بہار میں الیکشن کے حوالے سے مارجن لینے کے لیے پاکستان پر الزامات لگائے گئے، تاہم پاکستان نے منھ توڑ جواب دے کر خطے میں انڈین بالادستی کی سازش ناکام بنائی۔

  2. عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی سماعت منسوخ، پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی درخواستوں پر آج سماعت نہ ہونے پر پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کیا ہے۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف کے ڈویژن بینچ نے کرنا تھی۔

    تاہم ڈویژن بینچ کے ایک رکن جسٹس محمد آصف کے آج چھٹی پر ہونے کے باعث بینچ کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔

    سماعت نہ ہونے پر پی ٹی آئی وکلا کی ٹیم، وزیر اعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور، علمیہ خان ، بیرسٹر سلمان صفدر، نیاز اللہ نیازی قائم مقام چیف جسٹس کے سیکرٹری کے آفس میں پہنچ گئے۔

    دوسری جانب سماعت نہ ہونے پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔

    یاد رہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ڈویژن بینچ میں آج سزا معطلی درخواستیں مقرر تھیں۔

    ہائی کورٹ کے باہر کارکنان کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان، عظمی خان ،چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ، سمابیہ طاہر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما شامل تھے۔

  3. زرعی شعبے میں کوئی اضافی انکم ٹیکس نہیں لگایا گیا: وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ایڈیشنل ٹیکس زرعی شعبے پر نہ لگانے پر بورڈ سے بات کی گئی، زرعی شعبے میں کوئی اضافی انکم ٹیکس نہیں لگایا گیا چھوٹے کسانوں کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تنخواہ یا پینشن کی بات ہوتو کوئی بینچ مارک ہونا چاہیے، ساری دنیا میں مہنگائی کے ساتھ اضافے کے بینچ مارک کو رکھا جاتا ہے، مہنگائی کی شرح ابھی بھی ساڑھے سات فیصد ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ وفاقی اخراجات کو کم کریں۔

  4. بجٹ میں ٹیرف اصلاحات کی گئی ہیں، تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکن ریلیف دیا ہے: وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ایسی ٹیرف اصلاحات کی ہیں جو گذشتہ 30 سال میں کبھی نہیں کی گئیں۔

    پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ہم نے برآمدات پر مبنی معیشت کو ترجیح دینی ہے۔ سات ہزار ٹیرف لائنز میں سے چار ہزار ٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی کو ختم کردیا گیا ہے، ایسی اصلاحات 30 سال میں پہلی بار کی گئیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ جتنا ریلیف دیا جا سکتا ہے ہم ضرور فراہم کریں۔ تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکن ریلیف دیا گیا ہے۔‘

    اُن کے مطابق ’وزیراعظم اور میری خواہش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیں۔ انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس آمدنی بڑھانے پر توجہ ہے۔ اس سال انفورسمنٹ کے ذریعے 400 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکھٹا کیا ہے۔ دو ہی طریقے ہیں کہ یا تو انفورسمنٹ کر لیں یا نئے ٹیکسز لگا دیے جائیں۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ 2700 ٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی کو کم کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اخراجات میں کمی آنے سے وہ مسابقت کے قابل ہوں گے اور زیادہ برآمدات کر سکیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آئندہ برسوں میں ٹیرف میں کٹوتی کو مزید آگے لے کر جائیں گے اور ٹیرف کے پورے نظام میں مجموعی طور پر چار فیصد کمی کی جائے گی۔‘

  5. پوسٹ بجٹ کانفرنس میں ’حکومتی رویے‘ کے خلاف صحافیوں کا احتجاج، واک آؤٹ

    پریس کانفرنس

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    بجٹ کی ٹیکنیکل بریفنگ نہ ملنے اور مبینہ حکومتی رویے کے خلاف صحافیوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے دی جانے والی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے واک آؤٹ کیا ہے۔

    بدھ کی دوپہر جیسے ہی پوسٹ بجٹ بریفننگ کا آغاز ہونے لگا تو صحافیوں نے اٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور واک آؤٹ کرتے ہوئے ہال سے اٹھ کرباہر چلے گئے۔

    یاد رہے کہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ایک اہم نوعیت کی بریفنگ سمجھی جاتی ہے جس میں بجٹ کے اگلے روز حکومتی وزرا اور معاشی حکام بجٹ کی تفصیل سے متعلق بریفنگ اور صحافیوں کے سوال جواب کا طویل سیشن کرتے ہیں۔

    صحافیوں نے پریس کانفرنس سے قبل وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ ٹیکنیکل بریفنگ نہ ملنے کے باعث انھیں بجٹ رپورٹنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    صحافیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف بی آر چیئرمین اور حکام صحافیوں سے نہ رابطے میں آتے نہ ان کے سوالات کا جواب دیتے اس ’ناروا رویے‘ کو صحافیوں نے ناقابل قبول قرار دیا۔

  6. کینیڈا نے پاکستانی نژاد شہری شاہ زیب خان کو دہشتگردی کے الزام میں امریکہ کے حوالے کر دیا: ایف بی آئی

    پاکستانی شہری شاہ زیب خان کو مبینہ طور پر دہشت گردی کے الزام میں کینیڈا سے ملک بدر کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹرکیش پٹیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں اس سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج سہ پہر کینیڈا میں مقیم پاکستانی شہری محمد شاہ زیب خان کو شدت پسند تنظیم داعش (ISIS) کو مدد فراہم کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کے الزام میں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔‘

    اپنی پوسٹ میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’گذشتہ سال شاہ زیب خان نے مبینہ طور پر کینیڈا سے نیویارک کا سفر کرنے اور بروکلین میں ایک یہودی مرکز میں داعش کی حمایت میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘

    کیش پٹیل ٹوئٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@FBIDirectorKash

    کیش پٹیل نے دعویٰ کیا کہ شاہ زیب خان نے مبینہ طور پر سات اکتوبر 2024 کو اسرائیل میں حماس کے حملے کے ایک سال مکمل ہونے پر اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی- تاہم ایف بی آئی کی ٹیموں اور ہمارے پارٹنرز نے ان منصوبوں کو بے نقاب کیا۔‘

    کیش پٹیل کے مطابق ’شاہ زیب خان کو کینیڈا کے حکام نے چار ستمبر 2024 کو گرفتار کر لیا تھا۔ اور اب وہ امریکہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ امریکی عدالتوں کا سامنا کریں گے۔‘

    کیش پٹیل نے لکھا کہ ’یہ کیس دہشت گردی کے مسلسل خطرے کی یاد دہانی کرتا ہے جو دنیا کے ہر کونے کو درپیش ہے۔ یہودی برادریوں کے خلاف خطرات میں پریشان کن اضافے سے متعلق ایف بی آئی چوکس رہے گا اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرے گا۔‘

  7. وفاقی بجٹ کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1650 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس 1650 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 123723 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    سٹاک ایکسچینج میں تیزی وفاقی بجٹ کے پیش ہونے کے ایک دن بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق وفاقی بجٹ میں سٹاک ایکسچینج اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے جس کا سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت اثر ہوا اور تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  8. ٹرمپ دیرینہ تنازعات کو حل کرتے ہیں، شاید کشمیر کا مسئلہ بھی صدر کی مدتِ صدارت کے دوران حل ہو جائے: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس

    ،تصویر کا ذریعہScreen grab

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ بین الاقوامی سطح پر دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں اسی لیے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر کو بھی حل کرسکیں گے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے یہ بات سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران سوال و جواب سے سیشن کے دوران کہی۔

    ٹیمی بروس سے سوال کیا گیا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے بعد، صدر ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی۔ تو اس میں کس قسم کی پیش رفت متوقع ہے؟‘

    اس سوال کے جواب میں ٹیمی بروس نے کہا کہ وہ صدر کے ارادوں یا منصوبوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتیں لیکن جو بات وہ جانتی ہیں وہ یہ ہے کہ ’صدر ٹرمپ جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، وہ بین الاقوامی سطح پر دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کسی کے لیے حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنبھالنا چاہیں گے۔‘

    پاکستان اور انڈیا کا ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نہ صرف بظاہر بلکہ حقیقتاً وہ واحد شخصیت ہیں جو ان لوگوں کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کریں گے۔‘

    ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ ان کے ذہن میں کیا ہے۔ آپ وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کے پاس اس بارے میں کہنے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔ لیکن یہ ایک امید بھرا وقت ہے۔‘

    ان کے مطابق ’ہر دن کچھ نیا لاتا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ شاید یہ مسئلہ بھی صدر کی مدتِ صدارت کے دوران حل ہو جائے۔‘

  9. امریکی شہر لاس اینجلس میں کرفیو نافذ، خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم

    امریکہ مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی شہر لاس اینجلس میں امیگریشن کے خلاف جاری مظاہروں میں تیزی آنے کے بعد میئر کی جانب سے ایمرجنسی لگانے اور کرفیو کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    لاس اینجلس کی میئر کیرن بیس اور پولیس چیف جم میکڈونل نے کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مقامی ایمرجنسی کے باعث شہر کے مرکز (ڈاؤن ٹاؤن) میں توڑ پھوڑ روکنے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

    میئر کیرن بیس کے مطابق یہ کرفیو رات آٹھ بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک نافذ العمل ہوگا جو متعدد دن جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ لاس اینجلس میں یہ مظاہرے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف چھاپوں کے سلسلے میں پیدا ہونے والی بدامنی کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے جن سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ نے 4000 نیشنل گارڈز اہلکار تعینات کر دیے تھے۔

    صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف کیلی فورنیا کے گورنر گیوم نیوسم نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

    میئر کے مطابق ’یہ صرف ایک مربع میل کے علاقے تک محدود ہے۔ اور جو کچھ اس ایک مربع میل میں ہو رہا ہے وہ پورے شہر کو متاثر نہیں کرے گا۔یہ کوئی پورے شہر کا بحران نہیں ہے۔‘

    کرفیو کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پورے شہر بھر احتجاج کے باعث بے تحاشا نقصان ہوا ہے۔ کل منتخب نمائندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ دوبارہ مشاورت کی جائے گی تاہم توقع ہے کہ یہ (کرفیو) چند دنوں تک برقرار رہے گا۔‘

    ’کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے گرفتار کیے جائیں گے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے گرفتار کیے جائیں گے‘

    پریس کانفرنس کے دوران پولیس چیف جم میکڈونل نے کہا کہ مسلسل بڑھتے ہوئے انتشار کے بعد انسانی جانوں کو بچانے اور املاک کی حفاظت کے لیے کرفیو ایک ضروری اقدام ہے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ جو لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کریں گے انھیں گرفتار کیا جائے گا تاہم کام پر جانے والے افراد اور میڈیا کے نمائندے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    ان کے مطابق ’ سنیچر سے اب تک ہم نے غیر قانونی اور خطرناک رویے میں تشویشناک اضافہ دیکھا ہے۔ ہنگاموں میں ملوث افراد میں سے 197 افراد کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘

    چیف جم میکڈونل نے مزید کہا کہ کرفیو کا اطلاق نہ تو اس مخصوص علاقے میں رہنے والے شہریوں پر ہوگا، نہ بے گھر افراد پر، اور نہ ہی منظور شدہ میڈیا پر۔

    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ٹرمپ کی جانب سے 4000 نیشنل گارڈز کی تعیناتی کی شدید تنقید کی ہے۔

    گورنر گیون نیوسم نے کہا کہ نیشنل گارڈز کی خدمات کا احترام کرتے ہیں تاہم یہ وہ مرد و خواتین ہیں جنھیں غیر ملکی جنگ کے لیے تربیت دی گئی ہے نہ کہ مقامی سطح کے احتجاج یا قانون نافذ کرنے کے لیے نہیں۔

    انھوں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کی اور ساتھ کہا کہ ’یہ صرف لاس اینجلس میں مظاہروں کی بات نہیں ہے، یہ ہم سب کی بات ہے۔‘

    یاد رہے کہ کیلیفورنیا میں امیگریشن کسٹمز انفورسمنٹ کے افسران کی جانب سے شہر بھر میں چھاپے مارے جانے کے بعد جمعے کے روز شہر کے مرکزی علاقے کے باہر مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

  10. بجٹ اجلاس کا احوال: ’یہ معجزہ ہے کہ وزیر خزانہ بغیر رکے بول رہے ہیں، ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دے رہا‘, فرحت جاوید، بی بی سی اردو اسلام آباد

    islamabad

    ،تصویر کا ذریعہge

    ’قیدی نمبر 804‘، ’عمران خان کو رہا کرو‘ اور ’جعلی حکومت، جعلی بجٹ‘، یہ وہ چند نعرے ہیں جو آج تقریبا دو گھنٹوں تک قومی اسمبلی میں بغیر کسی وقفے کے گونجتے رہے۔

    اسلام آباد میں منگل کی شام جب قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو ایوان کے اندر شور اور باہر نعرے تھے، راستے بند تھے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات۔ اجلاس پانچ بجے بلایا گیا تھا لیکن کارروائی تقریباً ساڑھے پانچ بجے سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوئی۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ہزار 600 ارب روپے حجم کے ٹیکسوں سے بھرا بجٹ 26-2025 پیش کیا۔ جیسے ہی اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا، پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اتحادیوں نے اپوزیشن بینچوں سے شور مچانا شروع کر دیا۔

    وزیر اعظم ہال میں داخل ہوئے تو ایک طرف حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین نے بینچز بجا کر ان کا خیر مقدم کیا تو دوسری جانب اپوزیشن کے بینچوں سے حکومت مخالف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہا گیا۔

    تحریک انصاف اور اس کے اتحادی ارکان نے اجلاس کے آغاز سے ہی ماحول کو احتجاجی رنگ دے دیا۔ جیسے ہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر شروع کی، پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے ڈائس کے سامنے آ گئے۔ ان کے ہاتھوں میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی بینرز تھے۔

    اراکین نے قومی اسمبلی کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں اور شدید نعرے بازی کی۔ یہ ہنگامہ آرائی اجلاس ختم ہونے تک جاری رہی۔ سپیکر نے نظم بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کا احتجاج نہ رکا، نہ ہی دھیما ہوا۔

    اس دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مسلسل اپنی تقریر جاری رکھی۔ انھوں نے کبھی سر جھکا کر پڑھا، کبھی مائیک کے قریب ہو کر الفاظ واضح کیے، اور شور کے باوجود وہ ایک صفحے کے بعد دوسرا صفحہ تبدیل کرتے رہے جیسے کچھ سُن ہی نہ رہے ہوں۔

    police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شور اتنا تھا کہ میڈیا گیلری میں بیٹھے کئی صحافی باہر آ گئے اور ٹی وی سکرینز کے قریب جا کر تقریر سننے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک رپورٹر نے مزاح کے انداز میں کہا، ’یہ معجزہ ہے کہ وزیر خزانہ بغیر رکے بول رہے ہیں، ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔‘

    ایوان میں کئی لمحے ایسے بھی آئے جب وزیر خزانہ کی آواز نعروں کے نیچے دب گئی، لیکن اُنھوں نے نہ رکنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ مسلسل اپنے صفحے پلٹتے گئے اور بجٹ کے اعداد و شمار پڑھتے رہے۔ بجٹ تقریر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوئی تو بعض حکومتی اراکین وزیراعظم کے قریب جمع ہو گئے۔

    اس موقع پر جمشید دستی سمیت اپوزیشن کے کئی اراکین سیٹیاں بجانے لگے اور نعرے بازی تیز کر دی۔ تقریر کے اختتام پر بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر وزیر خزانہ پر پھینکی گئیں۔ مگر اس تمام صورتحال کے دوران حکومتی بینچوں پر اراکین خاموشی سے بیٹھے رہے اور نعرے بازی کا زیادہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی شور کم نہ تھا۔

    ریڈ زون کے باہر وفاقی حکومت کے مختلف محکموں کے سینکڑوں ملازمین دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔

    اس موقع پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ پارلیمنٹ کو جانے والے راستے بند کیے گئے تھے۔

    احتجاجی ملازمین کو سیکرٹریٹ کے سامنے روک دیا گیا، لیکن ان کے نعروں کی آواز پارلیمنٹ ہاؤس کے لان تک سنی جا سکتی تھی۔ سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس اگلے دو روز کے لیے ملتوی کر دیا جس کے بعد بجٹ پر بحث کا آغاز ہو گا۔

    اس بجٹ بل پر ووٹنگ جون کے آخری ہفتے متوقع ہے۔ حکمراں اتحاد کو ایوان میں اکثریت حاصل ہے، لہٰذا منظوری تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔

  11. نان فائلرز پر گاڑی و جائیداد خریدنے پر پابندی، نقد رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ فائلر اور نان فائلر کے فرق کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ اپنے گوشوارے اور اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائیں گے، صرف وہی بڑے مالیاتی لین دین کر سکیں گے۔ جن میں گاڑیوں اور غیر منقولہ جائیداد کی خریداری، سیکورٹیز اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری اور بعض بینک اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت جیسی چیزیں شامل ہیں۔

    ’ان لوگوں کے لیے ضروری ہو گا کہ ایف بی آر کے پورٹل کے ذریعے اپنی مالی حیثیت اور آمدنی، تحائف، قرضے اور وراثت جیسے مالی ذرائع کے دستاویزی ثبوت ظاہر کریں۔ دیانت دار ٹیکس دہندگان کو مالیاتی لین دین کرنے کا اہل کرنے کے لیے ٹیکس کا گوشوارہ بھرنے کا آپشن دیا جائے گا۔‘

    محمد اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ ’غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے خلاف سخت سزاؤں کو مزید بڑھانے کی تجویز ہے۔ ان میں بینک اکاؤنٹس کا منجمد کرنا، جائیداد کی منتقلی پر پابندی اور سنگین جرائم میں کاروباری جگہ کو سیل کرنا اور سامان کو ضبط کرنا شامل ہے۔‘

    وفاقی وزیر خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کیش لیس معیشت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں نان فائلرز پر نقد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح اعشاریہ چھ فیصد سے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ’غیر دستاویزی نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔‘

    وزیر خزانہ کے مطابق جہاں کوئی ٹیکس دہندہ کسی ایک سیل انوائس پر دو لاکھ سے زائد نقد رقم وصول کرے تو اس پر فروخت پر ہونے والے اخراجات کے پچاس فیصد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

  12. وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔

    انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ مسلح افواج کے افسران اور سپاہیوں کو بھی سپیشل الاؤنس دیا جائے گا جو آئندہ مالی سال کے مجوزہ دفاعی بجٹ سے پورا کیا جائے گا۔

  13. کاربن لیوی، ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ اور نیو انرجی وہیکل پالیسی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حیاتیاتی ایندھن کے زیادہ استعمال کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست پروگرامز کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر 2.5 روپے فی لیٹر کی شرح سے کاربن لیوی عائد کی جائے گی جو اگلے سال بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی جائے گی۔

    اس کے علاوہ فرنس آئل پر پیٹرولیئم لیوی بھی وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ شرح کے مطابق عائد کی جائے گی۔

    دریں اثنا پیٹرول یا ڈیزل استعمال کرنے والی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں یکسانیت لانے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ 18 فیصد ٹیکس سے کم شرح والی گاڑیوں پر بھی 18 فیصد عمومی سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ’اس اصلاحی اقدام سے تضادات کا خاتمہ ہوگا اور ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے گا۔‘

    یاد رہے کہ اس وقت 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد کی بجائے ساڑھے آٹھ فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔

    نیو انرجی وہیکل پالیسی تیار

    بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹو اینڈ تھری وہیلرز کے لیے نئی انرجی وہیکل پالیسی تیار کی گئی ہے تاکہ پیٹرول و ڈیزل کی بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے۔

    اس پالیسی کے تحت نیو انرجی وہیکلز کی تیاری اور فروخت کو فروغ دینے کے لیے ایک لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ یہ لیوی ’معدنی تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اور درآمد پر انجن کی طاقت کے مطابق مختلف درجوں پر لاگو ہو گی۔‘

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد معدنی تیل کی درآمد پر انحصار کو کم کرنا ہے۔

  14. تعمیراتی شعبے میں ٹیکس کم کرنے کی تجویز: وزیرِ خزانہ

    وزیرِ خزانہ کی تقریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے تعمیراتی شعبے کی اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح چار فیصد سے کم کر کے ڈھائی فیصد اور ساڑھے تین فیصد سے کم کر کے دو فیصد اور تین فیصد سے کم کرکے ڈیڑھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’تعمیرات کے شعبے کے بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے کمرشل جائیدادوں، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر گذشتہ سال عائد کی جانے والی سات فیصد تک کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

    ’اس کے ساتھ ساتھ کم لاگت کے گھروں کی تعمیر کے لیے قرض فراہم کرنے اور گھروں پر قرض حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے دس مرلے تک کے گھروں اور دو ہزار سکوائر فٹ تک کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت گھروں پر قرض حاصل کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع نظام متعارف کروائے گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ اسلام آباد کی حدود میں جائیداد کی خریداری پر سٹامپ پیپر ڈیوٹی چار فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔‘

  15. برین ڈرین کو روکنے کے لیے زیادہ آمدنی والے افراد پر عائد سرچارج میں ایک فیصد کمی کی تجویز, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ میں برین ڈرین کو روکنے کے لیے زیادہ آمدنی والے افراد پر عائد سر چارج میں ایک فیصد کمی کی تجویز دی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت کو علم ہے کہ ملک میں بہترین پیشہ افرادی قوت کو خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس کا سامنا ہے۔ جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ انتہائی با صلاحیت افراد ملک سے باہر منتقل ہو سکتے ہیں۔

    ’اس لیے اس برین ڈرین کو روکنے کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد آمدنی والے افراد پر عائد سر چارج میں ایک فیصد کی کمی کی تجویز ہے۔‘

  16. بجٹ تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کا احتجاج اور نعرے بازی

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ 26-2025 تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان کی جانب سے ناصرف شدید احتجاج کیا گیا بلکہ بجٹ دستاویز کی کاپیاں پھاڑ کر ’بجٹ نامنظور‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

    وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین لگاتار نعرے بازی کرتے رہے اور بانی تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے۔

    پی ٹی آئی اراکین نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جعلی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا جعلی بجٹ‘ قرار دیا۔

  17. دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کی تجویز: وزیرِ خزانہ

    army

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ خزانہ کی جانب سے دفاعی بجٹ کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 20 فیصد اضافے کے ساتھ 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے اور اس قومی فرض کے لیے دو ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے فراہم کیے جائیں گے

  18. تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز

    Tax

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ کو کم سے کم کیا جائے اور اسی حوالے سے تنخواہ دار لوگوں کے لیے آمدنی کے تمام سلیبس میں انکم ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف نہ صرف ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنائے گا بلکہ متوسط آمدنی والوں پر عائد ٹیکس کے بوجھ کو کم کر کے انفلیشن اور نیٹ تنخواہ کے درمیان توازن کو یقینی بنائے گا۔

    • چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دی گئی ہے۔
    • بارہ لاکھ آمدنی والے تنخواہ دار پر ٹیکس کی رقم کو 30,000 سے کم کر کے 6,000 کر دینے کی تجویز ہے۔
    • جو لوگ 22 لاکھ روپے تک تنخواہ لیتے ہیں اُن کے لیے کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
    • اسی طرح زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے والوں کے لیے بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی جارہی ہے۔
    • بائیس لاکھ روپے سے بتیس لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکسوں کو منصفانہ بنانے اور ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار افراد پر بوجھ کو کم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے۔

  19. بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز, تنویر ملک، صحافی

    BISP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ خزانہ نے مالی سال 24-2025 کے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

    وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ نئے مالی سال میں اس پروگرام کے تحت بجٹ میں اکیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کی کوریج بڑھانا چاہتی ہے اور کفالت پروگرام کو ایک کروڑ افراد تک پہنچایا جائے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ تعلمی وظائف کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

  20. سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    Solar panel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے تفصیل سے بات کی ہے۔

    سولر پینلز کے حوالے سے وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔