احمد آباد میں تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس مل گیا: پولیس حکام

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا نے اس حادثے میں ایک مسافر کے علاوہ طیارے پر سوار باقی تمام 241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

خلاصہ

  • انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں گذشتہ روز مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا
  • ایئر انڈیا نے احمد آباد میں طیارہ پر سوار 241 افراد کی ہلاکت جبکہ ایک مسافر کے بچ جانے کی تصدیق کی ہے
  • احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا انتظار کر رہے ہیں
  • 242 افراد کو لے جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی منزل لندن تھی تاہم یہ ٹیک آف کے فوری بعد گِر کر تباہ ہوا
  • انڈیا کے سول ایوی ایشن کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے کہا ہے کہ احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
  • فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور ’ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا‘

لائیو کوریج

  1. احمد آباد میں اندوہناک طیارہ حادثے سے جتنی تکلیف ہوئی اس کے لیے الفاظ نہیں ہیں: وزیر داخلہ امت شاہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. ایئر انڈیا کی فلائٹ کو حادثہ کہاں پیش آیا؟

    map

    ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے۔

    فلائٹ ریڈار کے مطابق اس سے آخری سگنل چند سیکنڈ پہلے صرف 625 فٹ کی بلندی پر موصول ہوا۔ (ایئرپورٹ سطح سمندر سے 200 فٹ کے بلندی پر ہے)

  3. ویڈیو: جائے حادثہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں

  4. بریکنگ, مسافر طیارے ایئرپورٹ کے حدود سے باہر ڈاکٹروں کے ایک ہاسٹل پر گرا: پولیس

    جائے حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہAP

    ،تصویر کا کیپشنفائر فائٹرز جائے حادثہ پر آگ بجھانے کا کام کر رہے ہیں

    احمد آباد میں ایک سینیئر پولیس افسر نے خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کو بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی پرواز ایئرپورٹ کے حدود کے باہر نزدیک واقع ڈاکٹروں کے ایک ہاسٹل پر گری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پولیس، فائر فائٹرز اور دیگر امدادی اہلکار موقع پر چند ہی منٹ میں پہنچ گئے اور تاحال ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

  5. طیارے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال دی تھی: ایوی ایشن ریگولیٹر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAP

    انڈیا میں ایوی ایشن کے ادارے ’ڈی جی سی اے‘ کی جانب سے اس حادثے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی فلائٹ احمد آباد کے ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد کریش ہو گئی تھی۔

    بیان کے مطابق:

    • طیارے پر 242 افراد سوار تھے جن میں دو پائلٹ اور 10 کیبن کریو شامل تھے۔ (خیال رہے کہ ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے اس سے قبل یہ تعداد 244 بتائی تھی۔)
    • طیارے کے کپتان کا 8200 گھنٹوں کا فلائنگ کا تجربہ تھا جبکہ ان کے ساتھی پائلٹ کا تجربہ 1100 گھنٹوں کا تھا۔
    • طیارے نے احمد آباد ایئرپورٹ کے رن وے نمبر 23 سے دن ایک بج کر 39 منٹ پر اڑان بھری۔
    • اس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال دی لیکن اس کے بعد طیارے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
    • طیارہ ایئرپورٹ کی حدود کے باہر کریش ہوا ہے۔
  6. ’طیارے پر 169 انڈین اور 53 برطانوی شہری سوار تھے‘

    ایئرانڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر سوار مسافروں میں 169 انڈین شہری، 53 برطانوی شہری، پرتگال کے سات شہری اور کینیڈا کا ایک شہری شامل ہیں۔

    انڈین وزارت برائے ایوی ایشن کے مطابق طیارے پر مجموعی طور پر 242 افراد سوار تھے جن میں دو پائلٹ اور عملے کے دس اراکین شامل ہیں۔

    ایئرانڈیا کے مطابق طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو نزدیکی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

  7. طیارے کے آخری لمحات کی ٹریکنگ

    flight radarby by

    ،تصویر کا ذریعہFlight Radar

    بی بی سی ویریفائی نے طیارے کے ٹیک آف کے حوالے سے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے۔

    بوئنگ 787-8 ڈریملائنر نے احمدآباد سے ایک بج کر 38 منٹ پر پرواز بھری۔

    نیچے دی گئی تصویر میں آپ کو یہ نظر آ رہا ہے کہ طیارے نے کیسے رن وے کے آخر تک حرکت کی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کو 625 فٹ تک ہی طیارے کا آخری سگنل ملا۔

    ہم اس وقت حادثے اور اس کے بعد کے مناظر کی آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  8. بریکنگ, حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر 232 مسافر اور عملے کا 12 ارکان سوار تھے: حکام

    انڈیا کے ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن کے چیف فیض احمد کدوائی نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد احمد آباد شہر کے ’میگھانی نگر‘ نامی رہائشی علاقے میں کریش ہوا۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ طیارے پر 232 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

    احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل ایئرپورٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طیارے کو حادثہ پیش آنے کے بعد ایئرپورٹ پر آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

  9. جائے حادثہ سے سامنے آنے والے ابتدائی مناظر

    ahmedabad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں اب جائے حادثے کے قریب سے پہلے مناظر ملنا شروع ہوئے ہیں جن میں سیاہ دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔

    ambulance

    ،تصویر کا ذریعہAP

  10. بریکنگ, آخری سگنل ٹیک آف سے چند سیکنڈز بعد موصول ہوا: فلائٹ ریڈار

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’ہم ایسی اطلاعات کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں جس میں احمد آباد سے لندن جانے والی ایک ایئر انڈیا کی فلائٹ کریش ہوئی ہے۔

    ’ہمیں اس طیارے سے آخری سگنل ٹیک آف سے چند سیکنڈز کے بعد موصول ہوا۔‘

    فلائٹ ریڈار کا مزید کہنا ہے کہ ’ایئر انڈیا کی فلائٹ نے احمد آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے لندن کے گیٹوک ایئرپورٹ کے لیے ایک بج کر 50 منٹ پر پرواز بھرنی تھی۔ طیارے سے رابطہ مقامی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ پر منقطع ہوا، اس وقت یہ پرواز 625 فٹ پر تھی۔

  11. احمد آباد سے لندن کے لیے جانے والی فلائٹ اے آئی 171 کو حادثہ پیش آیا ہے: ایئر انڈیا

    ایئر انڈیا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’فلائٹ اے آئی 171 جو احمد آباد سے لندن کے لیے جا رہی تھی کو ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ اس وقت ہم تفصیلات کی تصدیق کر رہے ہیں اور مزید معلومات جلد از جلد شیئر کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ اس طیارے میں 200 سے زیادہ مسافر سوار تھے۔

    انڈیا کے وزیرِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت ہائی الرٹ پر ہیں اور ریسکیو ٹیموں کو موبلائز کر دیا گیا ہے۔

  12. ’ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی‘: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران کے خلاف قرارداد منظور کر لی

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تین یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنی جوہری ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔

    یہ قرارداد انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے منظور کی، جس میں 19 ارکان نے اس کی حمایت میں، تین نے مخالفت جبکہ 11 ممالک نے غیر جانبداری اختیار کی اور دو نے ووٹ ہی نہیں دیا۔

    جمعرات کے روز منظور کی جانے والی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ’بورڈ آف گورنرز اعلان کرتا ہے کہ سنہ 2019 سے ایران میں متعدد خفیہ مقامات پر غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے ساتھ مکمل اور بروقت تعاون فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ایران کی متعدد ناکامیاں، بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی عدم تعمیل ہے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ایران کی جانب سے یورپی ممالک کے بیانات کو مسترد کیا گیا تھا۔

  13. بریکنگ, انڈیا: گجرات کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کے مسافر طیارے کو حادثہ

    air india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    احمد آباد فائر ڈپارٹمنٹ نے بی بی سی ہندی کو تصدیق کی ہے کہ انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کے مسافر طیارے کو حادثہ پیش آیا ہے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں۔

    احمد آباد ہوائی اڈے کے ٹرمینل-1 کے مینیجر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’فضائی اڈے کے اردگرد دھواں دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد پوری ٹیم تحقیقات کے لیے جائے حادثہ پر گئی ہے۔‘

    تاہم جو تصاویر اب تک منظر عام پر آئی ہیں ان میں طیارے میں آگ اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔

  14. ’ظاہر جعفر بے رحم قاتل ہے اور ہمدردی کے قابل نہیں‘: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    نور مقدم

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں اس مقدمے کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا کہ وقوعہ کے عینی شاہدین یا ’سائلنٹ وِٹنس تھیوری‘ کے مطابق بغیر گواہ کے ویڈیو ثبوت قابل قبول ہیں اور مستند فوٹیج خود اپنے حق میں ثبوت بن سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ریکارڈ شدہ ویڈیو یا تصاویر بطور شہادت پیش کی جا سکتی ہیں اور قابل اعتماد نظام سے لی گئی فوٹیج خود بخود شہادت بن سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے ایک بینک ڈکیتی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ویڈیو فوٹیج بغیر گواہ کے قبول کی گئی۔

    سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی اپیل کے خلاف اپنے فیصلے میں برطانیہ، کینیڈا اور امریکی عداالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عدالتوں میں سائلنٹ وِٹنس اصول کو وسیع پیمانے پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نور مقدم پر جسمانی تشدد کی ویڈیو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی وی آر اور ہارڈ ڈسک قابلِ قبول شہادت ہیں۔

    عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی ترمیم ثابت نہیں ہوئی جبکہ ان ویڈیوز میں ملزم ظاہر جعفر کی شناخت صیح نکلی۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل شواہد اب بنیادی شہادت تصور کیے جاتے ہیں اور اگر سی سی ٹی وی فوٹیج مقررہ معیار پر پوری اترے تو تصدیق کی ضرورت نہیں۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی، آلہ قتل پر مقتولہ کا خون موجود ہے۔

    عدالت عظمی نے مجرم کی اپیل کے خلاف فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ مجرم ظاہر جعفر، نور مقدم کا بے رحم قاتل ہے اور ہمدردی کے قابل نہیں۔

    سپریم کورٹ نے قتل کی دفعات کے تحت ظاہر جعفر کی سزائے موت کی حد تک ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کا فیصلہ متفقہ طور پر درست تسلیم کیا جبکہ ریپ کے کیس میں دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے نور مقدم کے اغوا کے معاملے میں مجرم ظاہر جعفر کو دی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر اسے بری کر دیا جبکہ مقتولہ نور مقدم کو جبری طور پر اپنی تحویل میں رکھنے پر ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو برقرار رکھا۔

    عدالت نے شریک مجرمان محمد افتخار اور محمد جان کی سزا برقرار رکھیں تاہم عدالت نے شریک مجرمان سے نرمی برتتے ہوئے ان کی سزائیں کم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جتنی قید کاٹ لی اس کے بعد انھیں رہا کر دیا جائے۔

  15. مودی نے شیخ حسینہ کے انڈین سرزمین سے سیاسی بیانات دینے پر پابندی لگانے کے مطالبے پر کان نہیں دھرے: محمد یونس

    younis

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بدھ کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے انڈین سرزمین سے سیاسی بیانات دینے پر پابندی لگانے کے ان کے مطالبے پر کان نہیں دھرے۔

    محمد یونس نے بدھ کو لندن کے چیتھم ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اپریل میں بنکاک میں (بی آئی ایم ایس ٹی ای سی) اجلاس کے دوران دوطرفہ میٹنگ ہوئی تھی، تو انھوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اپیل کی تھی کہ وہ شیخ حسینہ کو انڈین سرزمین سے سیاسی بیانات دینے سے روکیں۔ ط

    بدھ کو لندن کے چیتھم ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یونس نے کہا کہ حسینہ کو انڈیا سے واپس بنگلہ دیش حوالگی کی کوششیں جاری رہیں گی۔

    محمد یونس نے کہا کہ ہم انڈیا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات چاہتے ہیں، یہ ہمارا پڑوسی ہے، ہم ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں چاہتے لیکن انڈین پریس کی جعلی خبروں کی وجہ سے ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے بنگلہ دیش خوفزدہ اور ناراض ہے۔ ہم اسے بہت کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سائبر سپیس میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں اور ہم اس سے دور نہیں رہ سکتے۔‘

    محمد یونس نے کہا کہ ہم پرسکون رہنے کی کوشش کرتے ہیں، اچانک کچھ ہو جاتا ہے اور پھر غصہ واپس آ جاتا ہے، اس وقت ہمارے لیے سب سے بڑا کام امن قائم کرنا ہے۔

  16. بریکنگ, عراق میں امریکی سفارت خانے کو ’سکیورٹی خدشات‘ کے باعث جزوی طور پر خالی کروانے کا فیصلہ, ٹام بیٹ مین، مائیک وینڈلنگ، بی بی سی نیوز

    iraq

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز دسمبر 2024 میں بغداد کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے

    امریکی حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ’غیر ضروری‘ عملے اور ان کے اہلِ خانہ کا جلد وہاں سے انخلا شروع کیا جائے گا۔

    حکام نے یہ تو نہیں بتایا کہ ان کے انخلا کے فیصلے کے پیچھے کیا وجہ ہے لیکن حالیہ دنوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں بظاہر کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بدھ کو بتایا کہ ’ہم مسلسل اپنے مختلف سفارت خانوں میں موجود اپنے اہلکاروں کی موجودگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ ہمارے تازہ ترین تجزیے کے بعد ہم نے عراق میں اپنے مشن کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کئی ہفتے جاری رہے اور امریکی صدر ٹرمپ کو یہ امید تھی کہ وہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے معاہدہ کر پائیں گے۔

    ٹرمپ نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس بارے میں اب کم پراعتماد ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے گا۔

    رواں ہفتے انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ایک 40 منٹ طویل کال کی جسے ’تناؤ سے بھرپور‘ قرار دیا گیا۔ بنیامن نتن یاہو کا ایک عرصے سے مؤقف یہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کا حل سفارتی نہیں بلکہ فوجی ہے۔

    جب ٹرمپ سے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک سے عملے کے انخلا کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’انھیں اس لیے نکالا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک خطرناک جگہ بن سکتی ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن انھیں نکالا جا رہا ہے اور ہم نے انھیں (وہاں سے) نکالنے کا نوٹس دے دیا ہے اور ہم اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

    اب جبکہ جوہری مذاکرات ایک انتہائی اہم موڑ پر ہیں یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ کی جانب سے کیا گیا اعلان واقعی کسی خطرے کے خدشے کے باعث ہے یا یہ صرف ان کی جانب سے ایران کو پیغام دیا جا رہا ہے۔

    تاہم ایرانی وزیرِ دفاع عزیز ناصرزادے کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملے کرنے کا حکم دیا تو ان کا ملک خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کرے گا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کویت اور بحرین سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے امریکی فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کی انخلا کی اجازت دی تھی۔

    امریکی کانگریس کے ایک پینل کے سامنے پینٹاگون کی جانب سے کہا گیا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس بارے میں ’متعدد اشارے‘ موجود ہیں کہ ایران ’کچھ ایسا بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے جو ایک جوہری ہتھیار جیسا ہو سکتا ہے۔‘

    ایران یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا افزودگی کا پروگرام سویلین توانائی کی پیداوار کے لیے ہے اور وہ ایٹمی بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔

    بدھ کو برطانیہ کی میریٹائم ٹریڈ آپریشنز نامی تنظیم جو رائل نیوی کا حصہ ہے نے ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تناؤ میں اضافے کے باعث جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔

    جب امریکی عملے کے انخلا کی خبر نشر ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس وقت عراق میں امریکہ کے 2500 فوجی موجود ہیں۔

  17. بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    BYC

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ انھیں چھ دیگر افراد کے ساتھ امن عامہ کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

    بلوچستان ہائیکورٹ میں ان کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکیل عمران بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ کی جانب سے یہ درخواست ملک کی سب سے بڑی عدالت میں دائر کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت بلوچ یکجہتی کے دیگر کارکنان بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے سینیئر کارکن غفار قمبرابی بلوچ کو عید الفطر سے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر کوئٹہ سے ڈیڑھ سو سے زائد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن محکمہ داخلہ کی جانب سے ان ڈیڑھ سو سے زائد افراد کے خلاف کیسز کو واپس لینے پر ان کو رہا کر دیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر افراد کی تین ایم پی او کے تحت گرفتاری پر بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی تھی۔ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اعجاز احمد سواتی اور جسٹس محمد عامر رانا پر مشتمل پینچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان گرفتاریوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔

    عمران بلوچ نے بتایا کہ اگرچہ بلوچ یکجہتی کونسل کی قیادت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے لیکن یہ مقدمہ تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکا ہے۔ عمران بلوچ نے بتایا کہ اب تک ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر افراد کی حراست میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی۔

  18. واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی معاہدہ ’طے پا گیا‘، حتمی منظوری امریکی اور چینی صدور دیں گے, پیٹر ہوسکنز، بزنس رپورٹر

    Trump, Beijing

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لندن میں اعلیٰ حکام کے درمیان دو دن کی بات چیت کے بعد چین کے ساتھ معاہدہ ’طے پا گیا ہے‘۔

    ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور ان (امریکی صدر) کی طرف سے حتمی منظوری کے بعد امریکہ کو درکار نایاب دھاتیں مل سکیں گی جبکہ چینی طلبا امریکی کالجز میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔

    اس سے قبل امریکہ اور چین نے کہا تھا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک فریم ورک پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

    گذشتہ ماہ واشنگٹن اور بیجنگ نے تجارتی محصولات پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن اس کے بعد سے دونوں ہی ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے تھے۔

    اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا کہ ’چین کے ساتھ ہمارا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی حتمی منظوری انھوں نے اور چین کے صدر نے دینی ہے۔

    میگنٹس اور دیگر کوئی بھی ضروری نایاب دھات، چین کی طرف سے فراہم کی جائے گی اور اسی طرح ہم چین کو وہ فراہم کریں گے جس پر اتفاق کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے چینی طلبا اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات بہترین ہیں اور اس وقت ’امریکہ کو کل 55 فیصد ٹیرف حاصل ہو رہا ہے جبکہ چین کو 10 فیصد مل رہا ہے۔

    لندن میں ہونے والی میٹنگ کے ایجنڈے میں نایاب زمینی معدنیات کی چینی برآمدات جو کہ جدید ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہیں ان مذاکرات کا سرفہرست نکتہ تھا۔

    مذاکرات کے بعد امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں نایاب زمینی معدنیات اور میگنٹس پر پابندیوں کو حل کیا جانا چاہیے۔

    امریکہ، چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے چین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نایاب زمینی دھاتوں اور میگنٹس کی برآمدات جاری کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہا ہے جو سمارٹ فونز سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں تک ہر چیز کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔

    واشنگٹن نے امریکی اشیا جیسے سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت سے منسلک دیگر متعلقہ ٹیکنالوجیز تک چین کی رسائی کو محدود کر دیا ہے۔

    ہاورڈ لوٹنک نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم جنیوا میں جن امور پر اتفاق رائے کر چکے ہیں اب اس کے نافذ کے ایک فریم ورک پر ہم پہنچ گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب دونوں ممالک کے صدور اس کی منظوری دے دیں گے تو ہم اس پر عمل درآمد شروع کر دیں گے۔

    مذاکرات کا نیا دور گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے رہنما شی جن پنگ کے درمیان فون کال کے بعد ہوا جسے امریکی صدر نے ’بہت اچھی بات چیت‘ قرار دیا تھا۔

    چین کے نائب وزیر تجارت لی چینگ گانگ نے کہا کہ ’دونوں ممالک نے اصولی طور پر 5 جون کو فون کال کے دوران دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک فریم ورک تک پہنچ گئے تھے اور پھر جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اس پر اتفاق رائے ہوا۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ کے ٹیرف کے جواب میں چین نے بھی جوابی ٹیرف عائد کیا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی۔

  19. ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈلائن سے قبل امریکہ سے معاہدے کے لیے پرامید ہیں: انڈیا, نکیتا یادو، بی بی سی نیوز، دلی

    ایس جے شنکر

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دہلی نو جولائی کو باہمی محصولات پر 90 دن کا وقفہ ختم ہونے سے پہلے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کے لیے ’پر امید‘ ہے۔

    منگل کو فرانسیسی روزنامہ لی فگارو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایس جے شنکر، جو بیلجیئم اور فرانس کے چار روزہ دورے پر ہیں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دو اپریل کے لبریشن ڈے پر ٹیرف کے اعلان سے سے پہلے ہی انڈیا اور امریکہ تجارتی مذاکرات شروع کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے انڈیا پر 27 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ یہ ٹیرف مختلف ممالک کے لیے مختلف ہے۔

    جے شنکر نے کہا کہ ’وزیر اعظم مودی نے فروری میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور انھوں نے ایک دوسرے کی مارکیٹس تک مزید رسائی رسائی کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ثالثی اور سیز فائر کروانے کا کریڈٹ لیا تو بعد میں انھوں نے پاکستان اور انڈیا سے تجارت کرنے کی بات کی۔ صدر ٹرمپ ن متعدد بار کہا کہ انھوں تجارت کو اس جنگ بندی کے لیے استعمال کیا اور دونوں ممالک سے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر امریکہ ان کے ساتھ تجارت نہیں کرے گا۔

    ان کے مطابق ’ہم نو جولائی کو ٹیرف کی معطلی کے خاتمے سے پہلے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرامید ہیں۔‘

    اس سے پہلے ایک امریکی وفد نے دلی میں انڈین وزارت تجارت کے حکام کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات کی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک انڈین اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی حکام کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا حالیہ دور نتیجہ خیز رہا اور ’ایک باہمی فائدہ مند اور متوازن معاہدے کی طرف پیش رفت کرنے میں مدد ملی اور اس متعلق کچھ ابتدائی کامیابیاں بھی ہوئی ہیں۔‘

    ٹرمپ اور مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا، جس کی دو طرفہ تجارت 190 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

    انڈیا نے پہلے ہی کئی اشیا پر محصولات کم کر دیے ہیں جس میں بوربن وِسکی اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ تاہم امریکہ اس وقت انڈیا سے 45 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کر رہا ہے جسے ٹرمپ کم کرنے کے خواہاں ہیں۔

    صدر ٹرمپ اور مودی نے اس اعداد و شمار کو دوگنا سے زیادہ 500 بلین ڈالر کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

    اس مہینے کے آغاز پر ٹرمپ نے اپنے تجارتی اتحادیوں سے کہا تھا کہ وہ امریکہ ان سے بہترین تجارتی آفر کا خواہاں ہے۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ وہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں ’بہت پر امید‘ ہیں۔

    مئی میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ نئی دہلی نے امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیا پر تمام محصولات کم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    ان دعوؤں کو انڈیا کے وزیر خارجہ نے یہ کہتے ہوئے متنازع بنا دیا کہ ’جب تک سب کچھ نہیں ہو جاتا کچھ بھی طے نہیں ہوتا۔‘

    جے شنکر نے پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ کوئی بھی تجارتی معاہدہ باہمی طور پر فائدہ مند ہونا چاہیے۔

    صدر ٹرمپ کے دور کی امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے شنکر نے لی فگارو کو بتایا کہ امریکہ ’چیزوں کو اپنے فوری مفاد کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے لیے فائدے تلاش کرتا ہے۔‘

    جے شنکر نے مزید کہا کہ ’سچ کہوں تو میں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کروں گا۔‘

  20. برداشت ختم ہو گئی اور امید بھی باقی نہیں رہی، ہم دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور

    Ali Amin

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اس وقت عدلیہ پر منی مارشل لا اور ملک میں مارشل لا نافذ ہے۔

    سابق وزیراعطم عمران خان کی بہنوں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا مقدمہ بار بار کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ملتوی کر دیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق کبھی وکیل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بن جاتا ہے تو کبھی جج چھٹی پر چلا جاتا ہے اور کبھی کچھ اور ہو جاتا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اس مقدمے کا گذشتہ سماعت پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ اس مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔

    ان کے مطابق پوری دنیا جانتی ہے کہ عمران خان کے خلاف کیا ہو رہا ہے اور وہ ایک وکیل عدالت کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ بے خبر تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان کو معلوم ہے کہ عمران خان کے خلاف اس مقدمے میں کچھ بھی نہیں ہے اور یہ ساڑھے تین منٹ کی سماعت میں ہی فیصلہ ہو جائے گا۔‘

    وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’اس ناامیدی کے بعد کہ یہاں پر کوئی انصاف نہیں ہے ہم دوبارہ تحریک کے ذریعے سڑکوں پر آنے کا آئینی حق رکھتے ہیں اور انشااللہ اپنا حساب مانگیں گے۔‘

    علی امین کہا کہ ’ہماری برداشت ختم ہو چکی ہے اور کوئی امید باقی نہیں رہ گئی ہے۔ ہمیں نظر ہی نہیں آ رہا ہے کہ یہاں کوئی آئین اور قانون بھی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ’اس ملک کا آئین اور قانون ٹیلیفونوں پر چل رہا ہے، ایک عدلیہ تھی، ترمیم کر کے اس کا بھی تختہ اور کباڑا نکال دیا ہے۔‘ علی امین نے کہا کہ ’عدلیہ کی آزادی ترمیم کر کے ختم کر دی گئی ہے۔‘

    انھوں نے بجٹ پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہم اب سڑکوں پر ان سے اپنا حساب مانگیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے بیرون ملک پاکستانیوں سے کہا کہ ’وہ تحریک چلائیں کیونکہ یہ حکمران ان پر گولیاں بھی نہیں برسا سکتے کیونکہ یہ ان ممالک کے غلام ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کے وقار اور خود مختاری کی بات کی ہے۔ علی امین نے کہا کہ ’جو بھی شخص عمران خان کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں کیونکہ عمران خان ہماری نسلوں کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔‘

    علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ’احتجاجی تحریک کا پلان اس مرتبہ ہم پبلک نہیں کریں گے، اب میں خندق کھودوں یا سرنگ کھودوں پورے پاکستان سے عوام کو لے کر پہنچیں گے۔‘

    وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اس بار ہماری واضح اعلان ہے کہ ’پچھلی دفعہ ہم نے گولیاں کھائیں ہم نہتے تھے، اس مرتبہ ہم ہتھیار لے کر آئیں گے اور ہم بھی ٹھوکیں گے۔‘