احمد آباد میں تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس مل گیا: پولیس حکام

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا نے اس حادثے میں ایک مسافر کے علاوہ طیارے پر سوار باقی تمام 241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

خلاصہ

  • انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں گذشتہ روز مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا
  • ایئر انڈیا نے احمد آباد میں طیارہ پر سوار 241 افراد کی ہلاکت جبکہ ایک مسافر کے بچ جانے کی تصدیق کی ہے
  • احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا انتظار کر رہے ہیں
  • 242 افراد کو لے جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی منزل لندن تھی تاہم یہ ٹیک آف کے فوری بعد گِر کر تباہ ہوا
  • انڈیا کے سول ایوی ایشن کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے کہا ہے کہ احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
  • فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور ’ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا‘

لائیو کوریج

  1. احمد آباد طیارہ حادثہ، ٹاٹا گروپ کا لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

    Air India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹاٹا گروپ نے احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئر انڈیا ٹاٹا گروپ کی کمپنی ہے۔ ٹاٹا گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ کمپنی زخمیوں کے علاج کا سارا خرچ برداشت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انھیں تمام ضروری امداد ملے۔

    کمپنی نے ٹاٹا سنز اور ایئر انڈیا کے چیئرمین این چندر شیکرن کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا گیا کہ ’ایئر انڈیا کی فلائٹ 171 سے منسلک ہولناک واقعے سے ہمیں بہت دکھ ہوا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الفاظ میں اس دکھ کو بیان نیا کیا جا سکتا جو ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں۔‘

    کمپنی کے مطابق ’ہمارے خیالات اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، اور جو زخمی ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ٹاٹا گروپ اس سانحے میں جان سے ہاتھ دھونے والے ہر فرد کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ فراہم کرے گا۔ ہم زخمیوں کے علاج کے اخراجات برداشت کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ انھیں تمام ضروری دیکھ بھال اور مدد ملے۔‘

    ٹاٹا گروپ کے مطابق ’ہم بی جے میڈیکل کے لیے ہاسٹل کی تعمیر نو میں مدد کریں گے۔‘

    احمد آباد میں ایئر انڈیا کے مسافر طیارے کے حادثے میں کم از کم 204 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  2. گجرات کے سابق وزیراعلیٰ کی ایئر انڈیا طیارہ حادثے میں ہلاکت کی تصدیق

    Hindustan Times via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    انڈیا کے سول ایوایشن کے وزیر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی ایئر انڈیا طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    68 برس کے وجے روپانی نے 2016 سے 2021 تک مغربی انڈین ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    وہ حکمران جماعت بی جے پی کے رکن تھے۔

    انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے احمد آباد طیارہ حادثے میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

  3. احمد آباد طیارہ حادثے میں 204 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں: پولیس سربراہ

    انڈیا ایئر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    احمد آباد پولیس کے سربراہ جی ایس ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طیارہ حادثے میں مرنے والے 204 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ 204 مسافر جہاز کے مسافر تھے یا پھر جب جہاز تباہ ہوا تو زمین پر بھی مرنے والے اس میں دیگر افراد کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

    جی ایس ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ 41 زخمی افراد ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

  4. حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی سیٹ نمبر 11A کا ’زندہ بچ جانے والا مسافر‘ ہسپتال میں زیر علاج

    انڈیا ایئر، طیارہ حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times

    بی بی سی کو انڈیا ایئر کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے ایے مسافر کے زندہ بچ جانے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق زندہ بچ جانے والے یہ مسافر برطانوی شہری ہیں جنھوں نے اس حادثے سے متعلق میڈیا کو تفصیلات بھی بتائی ہیں۔

    احمد آباد کے پولیس کمشنر جی ایس ملک نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر فلائٹ میں سیٹ 11A پر ایک مسافر اس حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔

    جی ایس ملک نے کہا ہے کہ زندہ بچ جانے والے مسافر اس وقت ’ہسپتال میں زیر علاج ہیں‘۔

    حکام کی طرف سے پہلے شیئر کیے گئے فلائٹ کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ سیٹ 11A پر سوار مسافر وشواش کمار رمیش تھے جو برطانوی شہری ہیں۔

    انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے وشواش سے ہسپتال میں بات کی ہے۔ اس زندہ بچ جانے والے مسافر نے میڈیا سے اپنا بورڈنگ پاس شیئر کیا جس پر ان کا نام اور سیٹ نمبر 11A درج تھی۔

    اس مسافر نے اس حادثے کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ’ٹیک آف کے تیس سیکنڈ بعد ایک زوردار آواز آئی اور پھر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔‘

    اس حوالے سے ابھی مزید تفصیلات کا انتطار ہے۔

  5. احمد آباد طیارہ حادثے کے بارے میں ابھی تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    EPA-EFE/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/Shutterstock

    • بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ جس میں 242 افراد سوار تھے ٹیک آف کے بعد ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں ڈاکٹروں کے ہسپتال پر جا گرا۔
    • ایئر انڈیا کے مطابق فلائٹ میں 169 انڈین، 53 برطانوی، سات پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔
    • فوٹیج میں طیارہ گرنے کے لمحے اور اسے زمین سے ٹکراتے وقت دھماکہ سنا جا سکتا ہے۔
    • احمد آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے تقریباً 204 لاشیں نکالی گئی ہیں اور کم از کم 50 میڈیکل طلبا اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
    • حادثے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ اس حادثے میں ’ونگ فلیپس‘ نے کردار ہو سکتا ہے۔
    • پاکستان سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے اس طیارے حادثے پر افسوس اور صدمے کا اظہار کیا گیا ہے۔
    • اس حادثے کے بارے میں مزید تفصیلات آ رہی ہیں۔ اس بارے میں بی بی سی لائیو پیج پر کوریج جاری ہے۔
  6. پاکستان کا ایئر انڈیا طیارے کے حادثے پر دکھ کا اظہار

    پاکستان نے انڈیا میں طیارہ حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’انڈین گجرات کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز کے حادثے پر غمزدہ ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس المناک سانحہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

    Ishaq Dar

    ،تصویر کا ذریعہ@MIshaqDar50

  7. احمد آباد میں جائے حادثہ کے مناظر: ’ہر کوئی زندگیاں بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہونے کا منظر چونکا دینے والا ہے۔ حادثے کے چند گھنٹے بعد بھی جائے حادثہ پر عمارتوں کے کھنڈرات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویروں میں گلی میں پڑے ایک جلے ہوئے بیڈ کا فریم دکھایا گیا ہے۔

    بی بی سی کی ٹیم جب جائے وقوعہ پر پہنچنی تو دیکھا کہ ہر کوئی بھاگ کر زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    فائر فائٹرز کو جلی ہوئی زمین پراپنا راستہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اپنے آگ بجانے والے آلات کے ساتھ وہ اس جگہ پر پڑے سلگتے ہوئے ملبے کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ہر طرف ایمبولینسیں موجود ہیں جبکہ سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔

    ان جگہوں کے قریب وہ لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کے رشتہ دار لندن جا رہے تھے۔

    لندن جانے والا یہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر جمعرات کی سہ پہر مقامی وقت کے مطابق ٹیک آف کے فوراً بعد نیچے گر گیا۔

    اس جہاز میں 242 افراد سوار تھے- اس طیارے پر انڈین شہریوں کے علاوہ برطانوی، اور کچھ پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔

    مغربی انڈین شہر میں لوگوں نے پہلے ایک دھماکے کی آواز سنی پھر آسمان میں سیاہ دھواں اُڑتے دیکھا۔

    احمد آباد کے ایک رہائشی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’میں گھر پر تھا جب ہم نے ایک بڑی زوردار آواز سنی۔‘

    ان کے مطابق ’جب ہم یہ دیکھنے باہر گئے کہ کیا ہوا ہے تو ہوا میں دھوئیں کی ایک تہہ تھی، جب ہم یہاں پہنچے تو تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ اور لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔‘

    Ahmadabad

    طیارہ ایئرپورٹ سے کچھ فاصلے پر سول ہسپتال کے قریب ڈاکٹرز کے ہاسٹل پر گرا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ جہاں پر یہ طیارہ گراہ ہے وہاں اندر کتنے لوگ موجود تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق،لوگوں کو ’خود کو بچانے کے لیے‘ تیسرے منزل سے چھلانگ لگاتے دیکھا گیا۔

    نامعلوم رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’طیارہ آگ کی لپیٹ میں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے لوگوں کو عمارت سے باہر نکالنے میں مدد کی اور زخمیوں کو ہسپتال بھیج دیا۔‘

    رمیلا نے انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اس کا بیٹا جو ابھی دوپہر کے کھانے کے لیے ہاسٹل واپس آیا تھا چھلانگ لگانے والوں میں شامل تھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں چوٹیں آئیں لیکن وہ محفوظ ہے۔

    باہر لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ فائر سروس میں مقامی کمیونٹی کے رضاکاروں نے شرکت کی۔

    تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں کو سٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینس میں رکھا جا رہا ہے۔

    ہجوم میں وہ لوگ بھی تھے جن کے خاندان کے افراد فلائٹ میں سوار تھے۔

    پونم پٹیل، جو احمد آباد کے سول ہسپتال میں ہیں نے اے این آئی کو بتایا کہ ان کی بھابھی لندن جانے والی فلائٹ میں تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’روانگی سے ایک گھنٹے کے اندر جب مجھے خبر ملی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس لیے میں یہاں آئی۔‘

  8. جائے حادثہ پر مسافر طیارے کے بکھرے پُرزے

    انڈیا کے شہر احمد آباد میں جس مقام پر مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے وہاں طیارے کے مختلف پُرزے بکھرے پڑے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  9. طیارہ ڈاکٹروں کے ہاسٹل پر گرنے کے بعد 50 میڈیکل طلبا کو ہسپتال پہنچایا گیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کی فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا کے طیارے کو پیش انے والے حادثے کے بعد میڈیکل کے 50 سے 60 کے قریب طلبا کو ہسپتال میں طبی امداد کے لیے پہنچایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ مسافر طیارہ ڈاکٹروں کے ایک ہاسٹل پر گِرا تھا۔

    ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل کے پانچ طلبا تاحال لاپتہ ہیں جبکہ دو شدید زخمیوں کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ڈاکٹروں کے چند رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک طیارے میں سوار جن مسافروں کو ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے، اُن میں کوئی بھی زندہ حالت میں نہیں ہے۔

  10. ایئر انڈیا کی فلائٹ کے احمد آباد میں کریش ہونے کے مناظر

  11. احمد آباد میں آج ایئر انڈیا کی فلائٹ اے آئی 171 کے کریش ہونے پر گہرا دکھ ہے: وزیرِ دفاع خواجہ آصف

    tweet

    ،تصویر کا ذریعہX

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہمیں احمد آباد میں آج ایئر انڈیا کی فلائٹ اے آئی 171 کے کریش ہونے پر گہرا دکھ ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں تمام متاثرہ افراد اور ان کے اہلِخانہ کے ساتھ ہیں۔‘

  12. مسافر طیارہ کریش ہونے سے قبل آخری آٹھ منٹ میں کیا کچھ ہو رہا تھا؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی دُم

    بی بی سی نے فلائٹ ریڈار سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر ایک ٹائم لائن ترتیب دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے ٹیک آف کرنے کے موقع پر کیا ہو رہا تھا۔

    • انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق دن ڈیڑھ بجے (1:30) مسافر طیارہ رن وے پر موجود تھا اور اس کی رفتار صفر ناٹس تھی
    • دن ایک بج پر چونتیس منٹ (1:34) پر طیارے نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور رن وے پر دوڑتے ہوئے اس طیارے کی رفتار دس ناٹس تھی
    • دن ایک بج پر 38 منٹ (1:38) پر طیارہ فضا میں 625 فٹ تک بلند ہوا اور اس وقت اس کی سپیڈ 174 ناٹس تھی اور اسی موقع پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا
  13. ایئر انڈیا کی فلائٹ کے کریش کرنے کے چند گھنٹے بعد احمد آباد ایئر پورٹ پر پروازیں بحال

    india

    ،تصویر کا ذریعہx

    ہمیں اب سے کچھ دیر قبل ہی انڈیا کی وزارتِ ہوابازی نے بتایا ہے کہ احمد آباد ایئر پورٹ پر پروازیں انڈیا کے وقت کے مطابق چار بج کر پانچ منٹ پر بحال کر دی گئی ہیں۔

    وزارت کی جانب سے ایکس پر اعلان کیا گیا ہے کہ ’فلائٹ سیفٹی کے ضوابط کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

  14. ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بوئنگ 8-787 کو اس طرح کا حادثہ پیش آیا ہے‘, جوناتھن جوزفز، بزنس رپورٹر

    air india

    ایئر انڈیا کا کریش وہ پہلا موقع ہے جب بوئنگ 787 طیارے کو اس طرح کا حادثہ پیش آیا ہو۔

    یہ ماڈل 14 برس پہلے لانچ کیا گیا تھا اور صرف چھ ہفتے قبل ہی بوئنگ کی جانب سے ڈریملائنر ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس نے ایک ارب مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچانے کا سنگِ میل عبور کر لیا۔

    اس موقع پر کمپنی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عالمی سطح 1175 بوئنگ 787 طیاروں کی فلیٹ نے 50 لاکھ پروازیں اڑیں جن میں 3 کروڑ فلائٹ آورز شامل ہیں۔

    یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں ہو ہے جب کمپنی کو متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں اس کے 737 طیاروں کے حادثے شامل ہیں۔

    یہ کمپنی کے سی ای او کیلی آرٹبرگ کے لیے ایک اور امتحان ہو گا جنھیں اس نوکری کو سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا۔

    انھیں کمپنی میں لانے کی وجہ یہی تھی کہ وہ بوئنگ کی مختلف مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکیں جو اس کی بقا کے بارے میں سوالات کو جنم دے رہے تھے۔

  15. احمد آباد: جائے حادثہ کے چند مناظر

    احمد آباد میں جس مقام پر طیارہ گرا ہے وہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  16. ’طیارہ گرنے کے بعد میرے بیٹے نے ہاسٹل کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہANI

    احمد آباد میں مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد بہت سے متاثرین کے لواحقین ہسپتالوں کے باہر جمع ہیں۔

    احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر ایسی ہی ایک خاتون پونم پٹیل موجود ہیں اور انھوں نے نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں اُن کی نند بھی سوار تھیں جو کہ لندن جا رہی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’حادثے کے فوراً بعد جب اطلاع ملی تو میں ہسپتال پہنچ گئی۔‘

    یاد رہے کہ یہ طیارہ ایئرپورٹ کے حدود کے باہر ڈاکٹروں کے ایک ہسپتال پر گرا ہے۔

    سول ہسپتال کے باہر موجود ایک خاتون رمیلا نے بتایا کہ جس وقت حادثہ پیش آیا اس وقت ان کا بیٹا ہاسٹل میں موجود تھا۔

    خاتون کے مطابق ان کے بیٹے نے طیارے کے گرنے کے بعد ہاسٹل کی دوسری منزل سے باہر چھلانگ لگا دی کیونکہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس کو چوٹیں آئیں ہیں مگر وہ زندہ بچ گیا ہے۔

  17. جب طیارے کو حادثہ پیش آیا تو موسم کی صورتحال مستحکم تھی اور مطلع صاف تھا: فلائٹ سیفٹی کے ماہر

    فلائٹ سیفٹی کے ماہر مارکو چین کا کہنا ہے کہ جب طیارے کو حادثہ پیش آیا تو موسم کی صورتحال مستحکم تھی اور مطلع صاف تھا۔

    ایوی ایشن ویدر فورکاسٹ جیسے ایم ای ٹی اے آر کے نام سے جانا جاتا ہے کے مطابق کہ اس موقع پر ہواؤں کی رفتار ہلکی تھی اور حدِ نگاہ چھ کلومیٹر تک تھی۔

    چین کا مزید کہنا تھا کہ ’اس دوران بادلوں یا کوئی غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں اور نہ ہی آندھی، طوفان یا ایسی مشکل صورتحال تھی جس سے یہ حادثہ ہوا ہو۔‘

  18. احمد آباد طیارہ حادثہ: جائے حادثہ پر آگ بھجانے کے مناظر

  19. متعدد برطانوی شہریوں کو لندن لانے والی پرواز کے حادثے سے سامنے آنے والے مناظر دلخراش ہیں: برطانوی وزیرِ اعظم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. احمد آباد کے سانحے نے دھچکا پہنچایا، افسردہ کر دیا: انڈین وزیرِ اعظم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام