احمد آباد میں تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس مل گیا: پولیس حکام
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔ دوسری جانب ایئر انڈیا نے اس حادثے میں ایک مسافر کے علاوہ طیارے پر سوار باقی تمام 241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
خلاصہ
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں اس مقام کا دورہ کیا ہے جہاں گذشتہ روز مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا
ایئر انڈیا نے احمد آباد میں طیارہ پر سوار 241 افراد کی ہلاکت جبکہ ایک مسافر کے بچ جانے کی تصدیق کی ہے
احمد آباد کے سول ہسپتال کے باہر لواحقین ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا انتظار کر رہے ہیں
242 افراد کو لے جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کی منزل لندن تھی تاہم یہ ٹیک آف کے فوری بعد گِر کر تباہ ہوا
انڈیا کے سول ایوی ایشن کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے کہا ہے کہ احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ لندن جا رہا تھا اور ’ٹیک آف کے فوراً بعد 625 فٹ کی بلندی پر طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا‘
لائیو کوریج
چودہ ہزار ارب سے زائد کا ٹیکس ٹارگٹ، دفاع پر 2550 ارب روپے، قرضوں پر سود کی ادائیگی پر 8207 ارب روپے رکھنے کی تجویز, تنویر ملک، صحافی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 26-2025 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں جس کا حجم ساڑھے سترہ ہزار اب روپے ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی گیارہ ہزار ارب روہے ہو گی۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلیے آٹھ ہزار 207 ارب روپے اور دفاع کےلیے دو ہزار 550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2869 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب سے زائد فنڈز جب کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے لیے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 226 ارب 98 کروڑ روپے سے زیادہ ملیں گے، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 90 ارب 22 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے جب کہ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 133 ارب 42 کروڑ روپے دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان میں ٹیرف اصلاحات کا اعلان: ’اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران ٹیرف اصلاحات کا اعلان کیا ہے، یعنی آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت درآمدات پر عائد ٹیکسز کم کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی میں مندرجہ ذیل اصلاحات کو حصہ بنایا جا رہا ہے:
چار سال میں اضافی کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ
پانچ سال میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کا خاتمہ
کسٹم ایکٹ 1969 کے 5ویں شیڈول کا پانچ سالوں میں اختتام
کل چار کسٹمز ڈیوٹی سلیبز (0 فیصد، 5 فیصد، 10 فیصد اور 15 فیصد)
زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی کی حد 15 فیصد
انھوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات کو مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا اور قریب تمام شعبے جیسے فارما، آئی ٹی، ٹیلیکام، ٹیکسٹائل اور انجینیئرنگ شامل ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے پاکستان ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو گا اور پاکستان میں اوسط ٹیرف خطے میں سب سے کم ہو جائیں گے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نئے ضم شدہ اضلاع میں آئندہ پانچ سال کے دوران اشیا پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے اپنی بجٹ تقریر میں سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات برسوں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نئے ضم شدہ اضلاع کو ٹیکس میں مکمل چھوٹ حاصل رہی ہے۔ ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر، ٹیکس کی یہ چھوٹ ملک کے دیگر علاقوں میں کاروبار کرنے والوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
’لہذا یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ان علاقوں میں آئندہ پانچ سال کے دوران اشیا پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے جس کا آغاز آئندہ مالی سال کے لیے 10 فیصد کی کم شرح سے کیا جائے گا۔‘
کم آمدن طبقے کو گھر خریدنے یا تعمیر کے لیے سستے قرضوں کا وعدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم پاکستان سماجی و اقتصادی ترقی کی سکیموں کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں جن کا عوام کی فلاح و بہبود پر گہرا اثر مرتب ہوگا۔‘
انھوں نے اعلان کیا کہ ’کم آمدنی والے طبقے کو گھروں کی خرید یا تعمیر کے لیے سستے قرضوں کی فراہمی کی جائے گی۔‘
’اس سکیم سے کئی معاشی سرگرمیاں آگے بڑھیں گی اور ہنر مندوں کے لیے نئے روزگار پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے کی تفصیلات کا اعلان جلد ہی سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا۔‘
شریک حیات کی وفات کے بعد فیملی پینشن کی مدت 10 سال تک محدود کرنے کی تجویز: وزیرِ خزانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے
اپنی بجٹ تقریر میں پینشن کے حوالے سے بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔
ان کی جانب سے بجٹ میں تجاویز کا
اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پینشن سکیم کو درست کرنے اور سرکاری خزانے پر بوجھ
کم کرنے کے لیے حکومت نے پنشن سکیم میں اصلاحات کی ہیں جن میں:
قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی
پنشن اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی
پی آئی) سے منسلک
شریک حیات کی وفات کے بعد فیملی پینشن
کی مدت 10 سال تک محدود
ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت
میں پینشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب شامل ہیں۔
اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کو سخت فیصلے لینے پڑے، وفاقی وزیر خزانہ, تنویر ملک، صحافی
مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے اعلان کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی بہتری کے لیے سخت فیصلے لینے پڑے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کیے گئے جن کی وجہ سے مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا گیا۔
انھوں نے کہا مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے کی توقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مالی سال کے اختتام پر 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا امکان ہے جب کہ موجوہ سال کے اختتام پر زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔
بریکنگ, مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع
،تصویر کا ذریعہAFP
مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے اعلان کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
بجٹ 2025-26: سرکاری ملازمین نے سیکرٹریٹ سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع کر دیا
پاکستان میں آج مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کیے جانے سے قبل سرکاری ملازمین نے سیکرٹریٹ سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے سرکاری ملازمین نے مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کے پیش نظر پرامن احتجاج کی کال دی ہوئی تھی جس کے باعث وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تعینات ہے جبکہ سیکرٹریٹ کے گیٹ پر بھی اضافی پولیس تعینات کی گئی ہے اور تمام حساس مقامات پر سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی سیکیورٹی اور ایس پی سٹی سیکیورٹی کے حوالے سے نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریڈ زون میں غیر ضروری داخلے سے گریز کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں تاکہ ٹریفک اور امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔
افغان شہریوں سمیت تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں: وزارتِ داخلہ
،تصویر کا ذریعہgettyimages
پاکستان کی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں سمیت تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں۔وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے پروگرام (آئی ایف آر پی) کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق اب تک 2 لاکھ 16 ہزار سے زائد غیر قانونی غیر ملکی اپنے ممالک واپس روانہ کیے جا چکے ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ مہم یکم اپریل 2025 سے شروع ہوئی، جس کے تحت اب تک 11 لاکھ 2 ہزار 441 غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اپنے ممالک واپس جانے والوں خصوصا خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ باعزت برتاؤ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ان کی خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے انتظامات بھی موجود ہیں۔
وزارت داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ وہ عناصر جو وطن واپسی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں یا وہ لوگ جو غیر قانونی غیر ملکیوں کی ملازمت میں توسیع، کرائے پر جگہ و ہوٹلوں میں رہائش فراہم کرنے یا ان کے ساتھ کاروبار کرنے میں ملوث پائے گئے، ان سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
بجٹ 2025-26: پارلیمنٹ کے سامنے سرکاری ملازمین کے احتجاج کا اعلان، ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ آج شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کے پیش نظر پرامن احتجاج کی کال دی ہوئی ہے جس کے باعث وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس، پاک سیکرٹریٹ اور دیگر حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاریاں کر لی ہیں۔ پاک سیکرٹریٹ کے گیٹ پر بھی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے جب کہ ایس ایس پی سکیورٹی اور ایس پی سٹی خود موقع پر موجود ہیں۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا جائے اور امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریڈ زون کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں۔
ممکنہ ٹریفک جام اور رکاوٹوں کے باعث اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے خصوصی پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔
جبکہ بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، میڈیا نمائندوں اور وزرا سمیت دیگر افراد کے داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔
غزہ میں امداد کی تقسیم مراکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کی شہری دفاع کے مطابق پیر کے روز امداد کی تقسیم کے دو مراکز تک پہنچنے کی کوشش کے دوران مبینہ طور پر اسرائیلی فوج فائرنگ سے 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
بی بی سی عربی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مشتبہ افراد کو دیکھ کر ان پر ’وارننگ فائر‘ کیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے نہ صرف اسرائیلی فوج نے ان پر گولیاں برسائیں بلکہ پہلی بار ان پر فلسطینی بندوق برداروں نے بھی حملہ کیا جو بظاہر اسرائیلی فوج کے ساتھ تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل حماس کی مخالفت کے طور پر غزہ میں مقامی قبائل کی حمایت کرتا ہے۔
نیتن یاہو کا یہ تبصرہ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے جنوبی غزہ میں ایک گروپ کو ہتھیاروں کی فراہمی کی اجازت دی تھی۔
یہ گروپ، جسے بعض لوگ ملیشیا یا جرائم پیشہ گروہ کے طور پر دیکھتے ہیں، خود کو حماس کی مخالف قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اس کے برعکس کر رہا ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس اور انٹرنیشنل ریڈ کراس کے مطابق مئی کے آخر سے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیر انتظام خوراک کی امدادی تقسیم کے مقامات کے قریب درجنوں فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کے تعاون سے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے مئی کے آخر میں کام شروع کیا جب اسرائیل کی طرف سےغزہ کی پٹی کے باشندوں کو اہم امداد سے محروم کر نے کے لیے عائد سخت ناکہ بندی کو جزوی طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔
غزہ جانے والی امدادی کشتی کا معاملہ: گریٹا تھنبرگ کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے تل ابیب ائیرپورٹ روانہ کر دیا گیا
،تصویر کا ذریعہIsrael Foreign Ministry
،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کے مطابق سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کا ’طبی معائنہ‘ کیا جا رہا ہے
غزہ کے متاثرین کے لیے امداد لے کر جانے والے کشتی میڈلین کو قبضے میں لے کر اسرائیلی فوج گریٹا تھنبرگ کو اسرائیل لے گئی تھی جہاں سے اب خبر موصول ہوئی ہے کہ گریٹا سمیت دیگر 12 افراد کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے تل ابیب ایئر پورٹ روانہ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا تھا یہ کشتی ڈوب گئی تھی اور کشتی پر سوار افراد بشمول سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کا ’طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی صحت اچھی ہے۔‘
منتظمین کا کہنا ہے کہ میڈلین کا مقصد اسرائیلی بحری ناکہ بندی کے خلاف اور غزہ کے لیے ’علامتی‘ امداد پہنچانا ہے تاہم اسے پیر کی صبح بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز نے روک لیا۔
اسرائیل نےاس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مسافروں کو ان کے آبائی ممالک میں ڈی پورٹ کر دے گا۔
امدادی سامان سے بھری اُس کشتی میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی تبدیلی کی کارکن گریٹا تھنبرگ، یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن، الجزیرہ کے فرانسیسی صحافی عمر فیاد سمیت 12 افراد سوار تھے جنھیں امدادی سامان غزہ لے کر جانا تھا۔
کشتی پر سوار کارکنوں کا تعلق برازیل، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، سپین اور ترکی سے ہے۔
ریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کے منتظمین نے بتایا کہ میڈلین پر موجود امداد میں چاول اور بچوں کا فارمولا ملک شامل ہے۔
پیر کے روز فرانسیسی صدر نے جہاز پر سوار چھ فرانسیسی کارکنوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
،تصویر کا ذریعہScreenGrab
سویڈن کی وزارت خارجہ نے روئٹرز نیوز ایجنسی کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی حکام سے رابطے میں ہے، جب کہ ترکی نے بین الاقوامی پانیوں میں مداخلت کو ناقابل قبول حملہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
غزہ میں غذائی قلت کے حالاتدنیا کے سامنے لانے اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے یہ امدادی کشتی یکم جون کو اٹلی سے روانہ ہوئی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ پر اس کی ناکہ بندی ضروری ہے تاکہ ہتھیاروں کو حماس کے جنگجوؤں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
لاس اینجلیس میں امیگریشن کے خلاف مظاہرے، صدر ٹرمپ کا 700 میرینز اور دو ہزار مزید نیشنل گارڈز تعینات کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ریاست لاس اینجیلس
میں امیگریشن کے خلاف جاری مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پیر کو مزید 700 امریکی
میرینز اور مزید دو ہزار نیشنل گارڈز اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاس اینجلس میں
یہ مظاہرے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف چھاپوں کے سلسلے میں پیدا ہونے والی
بدامنی کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے جن سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ نے مزید 2000 نیشنل گارڈز اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف کیلی فورنیا کے گورنر گیوم نیوسم نے
شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
یاد رہے کہ کیلیفورنیا میں امیگریشن کسٹمز
انفورسمنٹ کے افسران کی جانب سے شہر بھر میں چھاپے مارے جانے
کے بعد جمعے کے روز شہر کے مرکزی علاقے کے باہر مظاہرے شروع ہوئے۔
پولیس نے پیر کے
روز مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلائیں، جنھیں لاس اینجیلس کی سڑکوں پر منتشر ہوتے ہوئے
دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل ہفتے کو دو ہزار
نیشنل گارڈ اہلکاروں کو طلب کیا تھا جن میں سے تقریباً 300 نے اتوار کو وفاقی
عمارات اور عملے کی حفاظت کے لیے اپنے فرائض سنبھالے۔
،تصویر کا ذریعہْْBBC
ہم لاس اینجلس کو محفوظ بنا رہے ہیں: ٹام ہومن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرحدی جانشین ٹام ہومن نے ہفتے کے روز فاکس نیوز کو بتایا کہ’ہم لاس اینجلس کو محفوظ بنا رہے ہیں۔‘
کیلیفورنیا شہر میں سنیچر کے روز بھی بدامنی رہی جب لاطینی اکثریت والے ضلع کے رہائشیوں کی میگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے وفاقی ایجنٹوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
ضلع پیراماؤنٹ میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔
آئی سی ای کی کارروائیوں کے نتیجے میں رواں ہفتے ایل اے میں 118 گرفتاریاں کی گئیں، جن میں سے 44 جمعے کو ہوئی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ان چھاپوں کو ’ظالمانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں پرتشدد ہجوم نے لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں ملک بدری کی کارروائیوں کے دوران آئی سی ای کے افسران اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے ہیں۔یہ کارروائیاں امریکہ میں غیر قانونی مجرموں کے حملے کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’اس تشدد کے تناظر میں کیلیفورنیا کے بے حس ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اپنے شہریوں کی حفاظت کی اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس میں اس لاقانونیت سے نمٹنے کے لیے 2000 نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے۔‘
نوشکی میں مسلح افراد کا ناکہ بندی کرکے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں مسلح افراد نے پیر کے روز کوئٹہ اور سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملہ کیا ہے۔
نوشکی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے شیرجان آغا اور تختی کے علاقے کے درمیان شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی کے دوران سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر تختی اور شیرجان آغا کے درمیان بُھنڈی کے علاقے میں حملہ کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق حملے میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ اس میں سوار بعض اہلکار زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے نوشکی منتقل کیا گیا۔
عینی شاہد نے کیا دیکھا
ایک عینی شاہد محمود خان نے بتایا کہ وہ بعض لوگ کے ساتھ پکنک منانے کے لیے شیرجان آغا گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ دوپہر ایک بجے کے قریب نقاب پوش مسلح افراد پہاڑوں سے اتر کر کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آرسی ڈی شاہراہ پر شہر جان آغا کے مقام پرآئےـ
ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پر انھوں نے گاڑیوں کو روک کر تلاشی شروع کی۔
انھوں نے بتایا کہ کچھ دیر تک مسلح افراد وہاں رہے اور گاڑیوں کی تلاشی لینے اور مسافروں کی شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد واپس پہاڑوں کی جانب گئے۔
نوشکی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہے۔
نوشکی اور اس کے نواحی علاقوں میں جہاں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ سنگین بدامنی کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں وہاں گزشتہ سال سے شاہراہ پر ناکہ بندی کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔
گزشتہ سال کے اوائل میں نوشکی کے قریب سلطان چڑھائی پر ناکہ بندی کے دوران پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو مسافر بس سے اتار کر ان کو قتل کردیا گیا تھا جبکہ ایک گاڑی پر فائرنگ سے دو مقامی افراد بھی مارے گئے تھے۔
ماضی میں نوشکی اور اس کے نواحی علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
نئے مالی سال کا بجٹ آج، قومی اسمبلی کا اجلاس شام پانچ بجے طلب
،تصویر کا ذریعہPA
پاکستان کے آئندہ مالی سال 2025 -26 کا بجٹ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے چار نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری چار نکاتی ایجنڈے کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام پانچ بجے منعقد ہوگا جس میں وزیرخزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کا قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’معاشی محاذ پر ایک جنگ جاری ہے۔ قرض کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے۔‘
منگل کے روز ہونے والےقومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق بجٹ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک نعت اور قومی ترانہ سے ہو گا جس کے بعد ایوان کے سامنے وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2025-26 کا سالانہ میزانیہ گوشوارہ رکھا جائے گا۔
ایجنڈے کے تحت مطالبات زر و تخصیصات برائے سال 2025-26 ایوان کے سامنے رکھے جائیں گے،
گزشتہ تین سالوں کی ضمنی منظوریاں اور زائد میزانیہ گوشوارہ ایوان کے سامنے رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیرخزانہ مالی سال 2025-26 کی مالیاتی تجاویز اور بعض قوانین میں تبدیلی کا بل ایوان میں پیش کریں گے۔
13 جون سے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز
یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بجٹ کے شیڈول کی منظوری کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی بجٹ 2025ـ 26 منگل 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔
13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا اس دوران قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مطابق وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی جبکہ 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق 23 جون کو قومی اسمبلی میں 2025- 26 کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی، 24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز،گرانٹس،کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی جبکہ 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے شیڈول سیشن میں کسی قسم کی تبدیلی سپیکر کے اجازت سے ممکن ہوگی۔
بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی مگر صنعتی پیداوار میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے موجودہ مالی سال میں پاکستان کی معیشت کا سائز چار سو گیارہ ارب ڈالر ہو گیا جو گذشتہ مالی سال میں 372 ارب ڈالر تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں زرعی ترقی کی شرح ایک فیصد سےکم رہی جبکہ ملک میں بڑی فصلوں کی پیداوار میں 13 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان کے مطابق جی ڈی پی میں زرعی شعبے کا حصہ میں بھی موجودہ مالی سال میں کم ہوا ہے۔ ’ملک میں صنعتی ترقی کی شرح چار فیصد سے زائد رہی تاہم ملک میں بڑی صنعتی کی پیداوار میں ڈیڑھ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں ٹیکس کولیکشن میں پچیس فیصد کا اضافہ ہوا، یہ اب نو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
حکومت کا قرضہ 76 ہزار ارب روپے ہو گیا
موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں حکومت کے ذمے قرضے کا حجم 76007 ارب روپے ہو گیا ہے۔
موجودہ مالی سال کے اقتصادی سروے کے مطابق اس میں مقامی بینکوں کے قرضے کا حجم ساڑھے اکیاون ہزار ارب روپے رہا جبکہ بیرون ملک سے لیے جانے والے قرض کی مالیت ساڑھے چوبیس ہزار ارب روپے تھی۔
سروے کےمطابق مقامی قرضوں کے لیے حکومت نے مقامی کمرشل بینکوں پر انحصار کیا۔
تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی خواندگی کی شرح ساٹھ اعشاریہ سات فیصد رہی۔
شہری علاقوں میں خواندگی کی شرح دیہاتی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
پنجاب میں خواندگی کی شرح سب سے زیادہ رہی جو چھیاسٹھ فیصد ہے۔ سندھ میں خواندگی کی شرح ساڑھے ستاون فیصد، خیبر پختونخوا میں اکیاون فیصد اور بلوچستان میں خواندگی کی شرح بیالس فیصد رہی۔
قرض کی ادائیگی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خرچہ ہے: وزیر خزانہ اورنگزیب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کا قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے۔
موجودہ مالی سال کے اقتصادی سروے کو جاری کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’شرح سود میں ادائیگی سے قرض کی ادائیگی میں کمی آئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ انرجی شعبے میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کرنے کے لیے بینکوں سے 1272 ارب روپے قرض کے لیے معاہدہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات سے بہتری آئی ہے، اسی طرح ڈسکوز کی بہتری کے لیے کام جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ 2023 میں ملکی شرح نمو منفی تھی جس میں گذشتہ مالی سال میں بہتری آئی ہے جو دو فیصد رہی اور اس سال میں یہ مزید بہتر ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’عالمی اداروں نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’معاشی محاذ پر ایک جنگ جاری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کی میٹنگ سے پہلے انڈیا نے کوشش کی کہ پاکستان کے لیے دوسری قسط کے جاری کرنے کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس پر یہ ایجنڈے پر نہ آئے۔ مالیاتی ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا مالیاتی سییکورٹی نیشنل سیکورٹی کی طرح بہت اہم ہیں۔ انھوں نےکہا ’اوورسیز چیمبر نے بزنس کانفیڈنس کے بڑھنے کے بارے میں بتایا ہے۔ اسی طرح دوسرے اداروں نے بھی پاکستان کے بارے میں مثبت امیج کو اجاگر کیا۔‘
انھوں نے کہا ’جی ڈی پی میں اضافہ معاشی ترقی کی علامت ہے۔ اسی طرح شرح سود گیارہ فیصد تک آ گیا ہے۔‘
امریکہ میں تارکین وطن کے مظاہرے، کیا یہ احتجاج ٹرمپ کے خلاف کسی بڑی سول تحریک کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ بائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے امریکی سڑکوں پر پیدا کردہ انارکی کو برداشت نہیں کریں گے۔
وہ اس کے خلاف مکمل صدارتی اختیارات استعمال کریں گے۔
اس سنیچر کو انھیں اپنی اس وارننگ کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا جب لوگ کیلیفورنیا میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے اقدامات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
تاہم لاس اینجلس پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج زیادہ تر پرامن تھا۔
مقامی حکام نے کہا کہ وہ جھڑپوں پر قابو پانے میں کامیاب رہے جو پرتشدد ہو گئی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے کہا کہ امیگریشن ایجنٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ زخمی ہو رہے تھے جبکہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل انتہائی سست تھا۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے اتوار کی صبح سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں لاس اینجلس پولیس کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہماری مدد کے لیے تبھی آئیں گے جب کسی افسر کو خطرہ ہو۔‘
لاس اینجلس پولیس کا کہنا تھا کہ ’صورتحال کے مطابق جلد از جلد کارروائی کی گئی۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے 55 منٹ کے اندر ہی ہجوم کو منتشر کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ کون سی روایت توڑ رہے ہیں؟
ٹرمپ نے گورنر گیون نیوزوم کے اعتراضات کے باوجود کیلیفورنیا کے نیشنل گارڈ کے 200 فوجیوں کو امن کی بحالی کے لیے تعینات کیا۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی میرینز کو بھی تعیناتی کے لیے ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ امریکی سرزمین پر ڈیوٹی پر میرینز کا استعمال ایک نادر مثال ہوگی۔
اتوار کی صبح تک ٹرمپ نے اپنی فتح کا اعلان کرنا شروع کر دیا تھا اور امن بحال کرنے پر نیشنل گارڈ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ تاہم، نیشنل گارڈ کے سیکورٹی اہلکار ابھی تک پوری طرح نہیں پہنچے تھے۔
ٹرمپ نے جس تیزی کے ساتھ اس احتجاج پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اس کے لیے پوری طرح تیار تھی۔
اس نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو پوری طرح تیار ہو گا۔ وائٹ ہاؤس اپنی جیت کو امن و امان کی واپسی اور قوانین کے جارحانہ نفاذ کے طور پر دیکھتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
’ایسے معاملات کو مختلف طریقے سے نمٹایا جائے گا‘
ٹرمپ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدام سے ان کے حامی پرجوش ہوں گے۔ یہ آزاد سیاسی سوچ رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے جو لوگوں کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں۔
نعیم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ 2020 میں مینیسوٹا کی ’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے دوران ہونے والے مظاہروں کو بغیر کسی پابندی کے توسیع کی اجازت دی گئی تھی، لیکن نئی ٹرمپ انتظامیہ ایسے معاملات سے مختلف طریقے سے نمٹنے جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم 2020 والی صورتحال کو دوبارہ نہیں برداشت کریں گے۔
تاہم، ڈیموکریٹس نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ریستورانوں اور دکانوں پر نقاب پوش اور فوجی لباس میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کو بھیج کر شہریوں کو گرفتار کرنے کا اقدام اشتعال انگیز تھا۔ ان کے مطابق تربیت یافتہ فوجیوں کو تعینات کرنے کے لیے صدر جس جوش و جذبے کا مظاہرہ کر رہے تھے اس کی ضرورت نہیں تھی۔
،تصویر کا ذریعہEPA
نیو جرسی کے سینیٹر کوری بکر نے کہا کہ ’جب اس طرح کی تعیناتی کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا تو ایسا کرنے سے نہ صرف نسلوں کی روایت ٹوٹتی ہے بلکہ یہ ماحول کو مزید خراب کرتا ہے اور مزید اشتعال کا ذریعہ بنتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے بہت سے پرامن احتجاج اس لیے ہو رہے ہیں کہ امریکی صدر اپنی امیگریشن کی سماعت کے لیے آنے والے لوگوں کو گرفتار کر کے افراتفری اور انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ ایسا کر کے یہ لوگ صرف قانون پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امریکہ میں موسم گرما کے مظاہروں کی ایک طویل روایت ہے اور ابھی جون کا ابھی آغاز ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت کے پانچ ماہ بعد کیلیفورنیا میں ہونے والا احتجاج ایک الگ تھلگ واقعہ ہے یا آنے والی ممکنہ طور پر بڑی سول تحریکوں کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔
کشتی پر سوار افراد کو اسرائیل پہنچنے پر سات اکتوبر کے حماس کے حملے کی ویڈیو دکھائی جائے گی: اسرائیلی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہIsrael Foreign Ministry
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انھوں
نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو حکم دیا ہے کہ جیسے ہی امدادی کشتی پر سوار کارکن
اسرائیل پہنچتے ہیں انھیں سات اکتوبر کے ’قتل عام‘ کی ویڈیو دکھائی جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سایٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں انھوں
نے سویڈن سے تعلق رکھنے والی کارکن گریٹا تھنبرگ اور کشتی پر سوار دیگر افراد پر
الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’مناسب‘ ہو گا کہ انھیں دکھایا جائے کہ حماس نے ’خواتین، بزرگوں اور بچوں کے خلاف کیا مظالم ڈھائے ہیں جن کے
خلاف اسرائیل اپنا حق دفاع استعمال کر رہا ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے میں لگ بھگ
1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 250 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس کے شروع
ہونے والی اسرائیلی کارروائی میں حماس کے زیر انتظام چلنے والی وزارت صحت کا کہنا
ہے کہ 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک کیے گئے ہیں جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی
تعداد موجود ہے۔
امدادی سامان سے لدی کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ لے جایا جا رہا ہے: اسرائیلی وزارت دفاع
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ غزہ میں
امدادی سامان لے کر آنے والی کشتی کو فی الحال اسرائیلی بندرگاہ ’اشدود‘ لے جایا
جا رہا ہے۔
اشدود ملک کی مغربی بندرگاہ ہے جو غزہ کی پٹی سے لگ بھگ
27 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔