پشاور میں مبینہ طور پر ’شادی سے انکار‘ کرنے پر لڑکے پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں خاتون گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بروز منگل 11 اگست کی شام کو پشاور پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں ایک نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ شادی سے انکار پر ان کی ایک دوست نے ان پر تیزاب پھینکا اور گولی مار کر انھیں شدید زخمی کر دیا۔
اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
تاہم جب پولیس نامزد خاتون تک پہنچی تو معاملہ مزید پیچیدگی اختیار کر گیا۔
معلوم ہوا کہ وہ خود بھی اسی واقعے میں تیزاب سے جھلس گئی ہیں اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ دورانِ تفتیش خاتون نے ایک مختلف کہانی بیان کی۔ ان کے مطابق نہ تو انھوں نے تیزاب پھینکا اور نہ ہی فائرنگ کی، بلکہ ان دونوں پر کسی تیسرے شخص نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوئے۔
یوں پشاور کے تھانہ چمکنی میں درج یہ مقدمہ اب پولیس کے لیے ایک معمہ بن چکا ہے۔
ایک طرف زخمی نوجوان کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے بلیک میلنگ میں ناکامی کے بعد ان پر تیزاب پھینکا اور فائرنگ کی، جبکہ دوسری جانب خاتون کا کہنا ہے کہ حملہ آور کوئی اور شخص تھا جس نے دونوں کو نشانہ بنایا۔ البتہ شکایت کنندہ نے اپنے بیان میں کسی تیسرے فریق پر شک ظاہر نہیں کیا۔
اس صورتحال میں پولیس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ اگر خاتون کا مؤقف درست ہے تو وہ نامعلوم حملہ آور کون تھا اور اس کی موجودگی کے شواہد کہاں ہیں؟ اور اگر زخمی نوجوان کے الزامات درست ہیں تو پھر اسی واقعے میں خاتون کے زخمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شادی اور بیس لاکھ روپے کی بلیک میلنگ کا الزام
پولیس کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے شخص نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ایک خاتون کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات تھے اور خاتون ان سے شادی کرنے یا 20 لاکھ روپے دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درج مقدمے کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلے تو خاتون نے دروازہ کھلتے ہی ان پر تیزاب پھینک دیا، جس سے ان کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔ مدعی کے مطابق اس کے بعد خاتون نے انھیں قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ بھی کی اور گولی ان کے بائیں جانب سینے میں لگی، جس سے وہ زمین پر گر گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ابتدائی اطلاعی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کی گئی۔
تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے کیس کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے میں نامزد خاتون بھی تیزاب سے زخمی ہوئی ہیں اور اس وقت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔ پولیس نے ہسپتال میں ہی انھیں حراست میں لے لیا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی گردن اور ہاتھ تیزاب سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، جبکہ زخمی مرد کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تھانہ چمکنی کے تفتیشی افسر علیم گل نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ مدعی اور خاتون ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے۔ ان کے مطابق مدعی کا بیان ہے کہ وہ اس سکول میں طالب علم تھے جہاں خاتون بطور استاد خدمات انجام دے رہی تھیں اور اسی دوران دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔
پولیس کے مطابق مدعی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’بعد میں ان کی شادی کسی اور جگہ ہو گئی جبکہ خاتون کی بھی شادی ہوئی، تاہم وہ اپنی ازدواجی زندگی سے خوش نہیں تھیں۔ مدعی کے مطابق دونوں رابطے میں رہے اور خاتون گذشتہ ایک سال سے اپنے شوہر سے ناراضی کے باعث والدین کے گھر رہ رہی تھیں۔‘
علیم گل کے مطابق مدعی کا دعویٰ ہے کہ وہ خاتون کو ماہانہ 20 ہزار روپے بھی دیتے تھے اور یہ رقم بھی مبینہ دباؤ کے باعث ادا کی جاتی تھی۔
پولیس کے مطابق مدعی نے بیان دیا کہ واقعے کے روز خاتون نے انھیں کہا کہ یا تو وہ ان سے شادی کرے یا پھر 20 لاکھ روپے دے، بصورت دیگر وہ ان کے تعلقات سے متعلق تمام معلومات ان کے اہل خانہ کو بتا دیں گی۔ مدعی کے مطابق انھوں نے جواب میں کہا کہ ان کے پاس 20 لاکھ روپے نہیں، البتہ وہ آٹھ لاکھ روپے دے سکتے ہیں اور اس کے بعد دونوں ہمیشہ کے لیے رابطہ ختم کر دیں گے۔
مدعی کے مطابق خاتون نے اصرار کیا کہ وہ انھیں اپنے گھر لے جائیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کنندہ کے مطابق وہ خاتون کو اپنے گھر لے گئے جہاں مبینہ طور پر خاتون نے ان پر تیزاب پھینکا اور فائرنگ کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پولیس کو اب تک تیسرے شخص کے شواہد نہیں ملے‘
تاہم خاتون نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
تفتیشی افسر علیم گل کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ نہ انھوں نے تیزاب پھینکا اور نہ ہی فائرنگ کی، بلکہ ان دونوں پر کسی تیسرے شخص نے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ دونوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ تھا اور واقعے کے روز مدعی انھیں اپنے گھر لے گیا تھا۔ ان کے بقول گھر پہنچنے کے بعد ایک نامعلوم شخص نے دونوں پر تیزاب پھینکا اور فائرنگ کی۔
خاتون نے بلیک میلنگ اور رقم وصول کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ انھوں نے کبھی مدعی کو بلیک میل کیا اور نہ ہی ان سے کوئی رقم وصول کی۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں انھیں کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جو خاتون کے مؤقف کی تائید کرتے ہوں۔
علیم گل کے مطابق جائے وقوعہ اور اس کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا ہے، تاہم اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے کسی تیسرے شخص کی وہاں موجودگی ثابت ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر خاتون ہی اس مقدمے میں مرکزی ملزمہ نظر آتی ہیں، تاہم تفتیش ابھی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق اس وقت ان کے پاس خاتون کو نامزد کرنے والے شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات موجود ہیں، تاہم خاتون کے دعوے کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا اور تفتیش کے دوران تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



















