’میر رضا علی کو پیٹھ سے گولی لگی‘: کراچی کے نوجوان تاجر کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

Mir Raza Ali
،تصویر کا کیپشنجمعہ کے روز رضا علی کی قبر کے گرد قنات لگا کر اسے بند کر دیا گیا تاہم عین موقع پر اہلخانہ کے اعتراض کے بعد قبر کشائی کا عمل مؤخر کر دیا گیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پراسرار حالات میں مرنے والے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کو پیٹھ سے گولی لگی جو سینے سے نکلی۔ اس بات کا انکشاف ان کے دوسرے پوسٹ مارٹم میں ہوا ہے۔

25 سالہ نوجوان میر رضا کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے آٹھ سینیئر ڈاکٹروں اور فارنزک ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ نے سوسائٹی قبرستان میں قبر کشائی کے بعد دوسرا پوسٹ مارٹم کیا۔

اس سے قبل جمعہ کے روز میر رضا علی کی قبر کشائی اس وقت مؤخر کر دی گئی تھی جب اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں 'راتوں رات' تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

میر رضا کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر تھانے کی حدود سے ملی تھی، جس کے بعد ان کی تدفین تھانہ فیروز آباد کی حدود میں واقع رحمانیہ مسجد کے قبرستان کی گئی تھی۔

موت کے حالات اور وجہ مشکوک ہونے پر مقامی عدالت کے حکم پر 12 دن بعد سنیچر کے روز قبر کشائی کی گئی۔ مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبرستان میں کیے گئے معائنے کے دوران لاش کے شدید گلنے کے باوجود میڈیکل بورڈ نے متعدد اہم زخموں کی نشاندہی کی۔

چار صفحات پر مشتمل پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کی پیٹھ کے بالائی حصے پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا، جبکہ گولی چھاتی کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں پسلیاں ٹوٹنے کے ساتھ میر رضا کے دل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ڈاکٹروں کو میر رضا کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر شدید چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں جبکہ اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا کی کھوپڑی کے پچھلے حصے میں بھی فریکچر کی نشاندہی ہوئی ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام چوٹیں موت سے قبل لگنے والی تھیں۔

مزید فرانزک تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ نے میر رضا کی بال، دانت، ہڈیوں کے ٹکڑے، کفن کے کپڑے کا ایک ٹکڑا اور گولی کی باقیات کی جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اس ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

میڈیکل بورڈ نے فی الحال موت کی حتمی وجہ نہیں بتائی ہے جو کیمیائی تجزیے اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔

میر رضا علی کی قبر کشائی عین وقت پر مؤخر کیوں ہوئی؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جمعے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا تھا کہ '24 گھنٹے کی کشمکش' کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا جو 'متوقع طور پر'میر رضا علی کی قبر کشائی سنیچر کی صبح کرے گا۔

بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ بحال کیا گیا بورڈ والدین کی کسی 'ذاتی پسند' کے مطابق نہیں، بلکہ ان کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ قانون اور ضابطۂ کار پر عمل کیا جائے۔

اس سے قبل جمعے کو میر رضا علی کی قبر کشائی اس وقت مؤخر کر دی گئی تھی جب اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں ’راتوں رات‘ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

میر رضا علی کے اہلخانہ کا مؤقف تھا کہ قبر کشائی سے متعلق عدالتی حکم کے بعد کراچی پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی کی گئی جس سے نہ صرف اہلخانہ کا اعتماد مجروح ہوا بلکہ قبر کشائی کے عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھے۔

یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

کئی روز گزر جانے کے باوجود پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی جبکہ میر رضا علی کی لاش اور جائے وقوعہ کے حالات اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے باوجود پولیس یہ گتھی بھی نہیں سلجھا سکی کہ میر رضا علی کی موت کیسے ہوئی۔

جمعرات (چھ جولائی) کو اہلخانہ کی درخواست پر مقامی عدالت نے 25 سالہ میر رضا علی کی موت کی ازسر نو تحقیقات کے لیے والد کی جانب سے دائر کردہ قبر کشائی کی درخواست منظور کی تھی۔ عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سندھ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ’جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ‘ تشکیل دیں تاکہ قبر کشائی کی جا سکے۔

تاہم بورڈ کی تشکیل کے بعد جمعہ کے روز جب متعلقہ عملہ، ڈاکٹرز اور رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل طارق روڈ سوسائٹی قبرستان میں پہنچے تو اس موقع پر والدین کی جانب سے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کیا گیا، جس کے بعد قبر کشائی کا عمل مؤخر کر دیا گیا۔

اہلخانہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے بی بی سی سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کے ایک افسر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو خلافِ قانون تھا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی نوٹیفیکیشن کے بعد رات گئے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور سات ارکان کو تبدیل کر کے نئے نام شامل کیے گئے اور بعد میں ایک تیسرا نوٹیفکیشن جاری کر کے دونوں بورڈز کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔

جبران ناصر نے بتایا کہ اہلِخانہ نے اس نئے بورڈ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

Raza Ali

،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast

،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش برآمد ہوئی

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد پولیس سرجن نے فارنزک اور پیتھالوجی کے ماہرین پر مشتمل آٹھ رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا جس پر اہلخانہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، لیکن رات گئے اچانک اس میں تبدیلیاں کر دی گئیں۔

ان کے مطابق یہ تبدیلیاں نہ صرف قانون بلکہ عدالت کے حکم کے بھی منافی ہیں، کیونکہ سندھ کے متعلقہ قانون کے تحت قبر کشائی کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار پولیس سرجن کے پاس ہے۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ اس سارے عمل کا مقصد قبر کشائی میں تاخیر پیدا کرنا ہے کیونکہ یہ کارروائی صرف ایک مرتبہ ہو سکتی ہے اور تاخیر سے ممکنہ شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر بھی کئی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل ہونے کے دعوے اس وقت کیے جا رہے ہیں جب عدالت ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اطمینان نہ ہونے کے باعث دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے چکی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مدعی کا بیان بھی بروقت ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے گولی کا خول بھی عدالت کے حکم کے بعد دوبارہ تلاشی لینے پر برآمد ہوا جس پر اہلخانہ کو تحقیقات کی شفافیت پر مزید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے صرف منتخب حصے سامنے لائے جا رہے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے گزرنے والے ہر شخص کی جانچ ہونی چاہیے۔

تاہم، بعد ازاں جمعے کی شب جبران ناصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’24 گھنٹے کی کشمکش‘ کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے۔

Jibran Nasir
،تصویر کا کیپشنمیڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں نہ صرف قانون بلکہ عدالت کے حکم کے بھی منافی ہیں: وکیل اہلخانہ جبران ناصر

اہلخانہ کا کیا موقف ہے؟

رضا علی کے والد میر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا پولیس کی تحقیقات پر اعتماد ابتدائی دنوں ہی میں ختم ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ان کے مطابق پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات پیدا ہوئے پھر تحقیقاتی ٹیم نے اہلِخانہ کو اعتماد میں نہیں لیا اور مختلف اوقات میں مختلف بیانیہ سامنے آتا رہا۔

اُن کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اُنھوں نے عدالت سے رجوع کیا تاکہ قبر کشائی اور نئے پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی اصل وجہ کا تعین ہو سکے اور جب عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل پا گیا تھا تو پھر راتوں رات اس میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

میر حسین کے مطابق اس کیس کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اُن کا بیٹا اُس مقام تک کیسے پہنچے جہاں سے اس کی لاش ملی۔ انھوں نے اس شبے کا اظہار کیا کہ اُن کے بیٹے کا قتل شاید کہیں اور ہوا اور لاش بعد میں وہاں پھینکی گئی۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ خاندان نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی اور متعدد ایسے سوالات سامنے آئے جن کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

YouTube پوسٹ کا اختتام

والد نے مطالبہ کیا کہ اُن کے بیٹے کی موت کی تمام پہلوؤں سے مکمل تحقیقات کی جائیں۔

میر حسین نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے غسل کے دوران اپنے بیٹے کی میت پر تشدد کے نشانات دیکھے اور اسی بنیاد پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست دی ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی مخصوص شخص پر براہِ راست الزام نہیں لگا رہے، تاہم ان کے خیال میں اس کیس میں پیشہ ورانہ رقابت یا دیگر محرکات بھی زیرِ تفتیش آنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل حقائق صرف جامع اور غیر جانبدار تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی کی جانب سے جب فیروز آباد پولیس کے تفتیشی شعبے سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے اس بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کیا اور واضح کیا کہ اسی ایس ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی حقائق سامنے لائے گی۔

Mir Hussain
،تصویر کا کیپشنمیر رضا علی کے والد میر حسین

ابتدائی پوسٹ مارٹم پر پولیس سرجن کے اعتراضات

میر رضا علی کی پُراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے جو ابتدائی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، اس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی مزید سوالات اٹھ گئے تھے اور پولیس سرجن سمعیہ سید نے اس رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کی تھی۔

بی بی سی کو ملنے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم موت کے 21 سے 36 گھنٹے بعد کیا گیا جبکہ اُن کے سینے پر بڑے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر تعفن کے آثار نمایاں تھے، جسم پر شدید سوجن اور رنگ میں تبدیلی آ چکی تھی۔

جمعرات کے روز عدالت پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں میر رضا علی کے والد میر حسین نے کہا تھا کہ پولیس نے ’ابھی تک ہمارا بیان ریکارڈ نہیں کیا‘ اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے بیٹے کی لاش کا ’پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کیوں غائب ہیں۔‘

میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے ایکس پر لکھا: ’ہم نے ابتدائی ناقص معائنے کرنے والے میڈیکو لیگل افسر کے خلاف تحقیقات کے لیے پولیس سرجن کے پاس الگ سے شکایت بھی دائر کی ہے۔‘

بدھ کے روز ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران نہ تو لاش کے ایکسرے کیے گئے اور نہ ہی داخلی زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ ہوا۔

سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں داخلی زخم کو خارجی زخم سے نمایاں طور پر بڑا بتایا گیا ہے اور داخلی و خارجی زخم کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔

پولیس سرجن کے مطابق لاش کے ہاتھوں پر بارودی ذرات یا گن پاؤڈر کی موجودگی جاننے کے لیے بھی نمونے نہیں لیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی نوعیت بھی واضح نہیں اور چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے کا نمونہ نہیں لیا گیا۔

اُدھر کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ڈاکٹر سمیعہ کے بیانات پر کہا تھا کہ ڈاکٹر سمیعہ نے نہ تو خود پوسٹ مارٹم کیا اور نہ ہی لاش دیکھی اور صرف تصویروں کی بنیاد پر اپنی رائے دی ہے۔

بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کا کہنا تھا کہ ’اگر خاندان والے کہیں گے اور قانونی تقاضے پورے ہوں گے تو دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں دیتی، یہ رپورٹ میڈیکل رپورٹ ہوتی ہے جو ڈاکٹر دیتے ہیں لہذا ایم ایل او نے جو رپورٹ دی ہے پولیس نے ابھی تک جو اپنی رائے بنائی ہے اسی رپورٹ کی بنیاد پر بنائی ہے۔‘

پولیس سرجن کے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے آزاد خان کا کہنا تھا ’انھوں نے اگر کوئی آبزرویشن دی ہے، تو انھیں تحریری طور دینی چاہیے تھی بجائے اس کے کہ وہ میڈیا پر دیں۔ اس کا ایک طریقۂ کار ہے اور وہ طریقۂ کار یہ ہے کہ بورڈ بنے اور بورڈ جو رائے دے گا پولیس اس کے حساب سے چلے گی۔‘

Karachi

،تصویر کا ذریعہWAFFLIX/FACEBOOK

’والدہ کو کہہ کر گیا تھا دس منٹ میں آ رہا ہوں‘

میر رضا علی 28 جولائی کو اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔

لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد پولیس کو ان کی لاش ملی۔

میر رضا علی کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک تین رُکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی

سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو سونپی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد عثمان سدوزئی بھی اس میں شامل ہیں۔

اُن کے والد میر حسین علی کی جانب سے کراچی کے فیروز آباد تھانے میں دائر کی جانے والے مقدمہ کی ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ اُن کا 25 سالہ بیٹا 28 جولائی کی شب اپنی دکان وافلکس بہادر آباد چورنگی سے اپنی گاڑی پر گھر آیا۔

ایف آئی آر کے مطابق میر رضا علی نے اپنی والدہ کو تقریباً چار بجے رات کو بتایا کہ وہ ’دس منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے۔‘

مدعی کے مطابق میر رضا علی کا موبائل فون ان کے پاس ہی تھا لیکن کافی دیر بعد جب بیٹا واپس نہیں آیا تو ان کی بیگم نے بیٹے کے نمبر پر کال کی جو بند تھا۔

میر رضا علی کی والدہ نے مدعی کو نیند سے اٹھا کر بتایا جس کے بعد وہ اپنے طور پر بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اِس دوران انھوں نے 15 پر بھی اطلاع دی تھی۔

ایک روز بعد پولیس کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔ لیکن اس لاش کی شناخت آسان نہیں تھی۔

ایس ایچ او کامران قریشی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا۔‘

تاہم پولیس کے مطابق ’جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔‘

پولیس کے مطابق مقتول کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔

میر حسین علی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کے ’دو ہی بچے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کسی سے دشمنی، لین دین کے معاملے کا تعلق ہے، تو ایسا بالکل کچھ نہیں تھا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘

اُن کے مطابق ’جس دن ایف آئی آر کٹی، اس کے اگلے ہی دن بچے کی باڈی مل گئی۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اُن کا بیٹا انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پڑھتا تھا اور مارکیٹنگ کے شعبے کا آنر سٹوڈنٹ تھا۔ ’وہ ایک بہت ہی لائق اور قابل بچہ تھا۔‘