حقیقی جرائم پر مبنی پوڈکاسٹ پولیس کی پُرانے اور پیچیدہ مقدمات حل کرنے میں کیسے مدد کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شیلا فلن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پیٹر چیڈوک اپنی اہلیہ کے قتل کے الزام میں مطلوب تھے اور تقریباً چار برس سے مفرور تھے۔ اس وقت کیلیفورنیا کی پولیس نے ان کے جرم کے بارے میں ایک پوڈکاسٹ شروع کیا۔
اس پوڈکاسٹ کے آغاز کے 10 مہینے اور 20 دن بعد چیڈوک میکسیکو میں گرفتار ہو گئے۔
کیرن شیپرز چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاپتا تھیں جب گذشتہ برس الینوائے کی پولیس نے اس پرانے اور حل طلب کیس سے متعلق ایک پوڈکاسٹ کی پہلی قسط نشر کی۔ چند ہی ہفتوں بعد ان کی لاش ایک دریا کی تہہ سے برآمد کر لی گئی۔
اب کولوراڈو کے تفتیش کار بھی امید کر رہے ہیں کہ وہ اسی طریقے کے ذریعے ایک اور 10 سال پرانے حل طلب قتل کے مقدمے سے متعلق اہم معلومات حاصل کر سکیں گے۔
اورورا پولیس ڈیپارٹمنٹ (اے پی ڈی) نے اس موسمِ گرما میں اپنا ایک پوڈکاسٹ نشر کیا، جس کا مقصد 21 سالہ چیلسی یاسر کے لیے انصاف حاصل کرنا ہے۔
چیلسی سنہ 2016 میں ایک شاپنگ سینٹر کی پارکنگ میں چاقو کے وار سے ہلاک ہوئی تھیں۔
حقیقی جرائم پر مبنی مواد کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ امریکہ اور دیگر ممالک میں پولیس کے محکمے پرانے قتل کے مقدمات اور دیگر تحقیقات میں مدد حاصل کرنے کے لیے پوڈکاسٹ تیار کرنے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAurora Police Department
اورورا پولیس ڈیپارٹمنٹ کے شعبۂ اطلاعات سے منسلک جو موئلن کہتے ہیں ’حقیقی جرائم پر مبنی مواد، چاہے وہ ٹی وی ہو، پوڈکاسٹس ہوں یا کتابیں، بے حد مقبول ہیں اور ہم اس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی توجہ حاصل کی جا سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پوڈکاسٹ کے ذریعے پیچیدہ جرائم حل کرنے میں مدد حاصل کرنے کا رجحان ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے اپنے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا دائرہ کار آئندہ مزید وسیع ہوگا۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (این وائے پی ڈی) کے ریٹائرڈ ڈٹیکٹیو اور جان جے کالج آف کریمنل جسٹس کے معاون پروفیسر مائیکل الکازار کہتے ہیں ’میرے خیال میں یہ کیسز کی تحقیقات کا ایک ایسا طریقہ ہے جسے بالآخر ہر کوئی اپنائے گا۔‘
ان کے مطابق حقیقی جرائم پر مبنی پوڈکاسٹس بعض اوقات غلط معلومات بھی نشر کر سکتے ہیں، لیکن اس طریقے سے پولیس اس بات پر زیادہ کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہے کہ عوام تک کون سی معلومات پہنچ رہی ہیں اور ساتھ ہی نئے شواہد یا معلومات فراہم کرنے والوں تک بھی رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAurora Police Department
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں کرمنالوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلس میک گورن کہتی ہیں کہ پہلے ہی ایسے متعدد پوڈکاسٹس موجود تھے جن میں سابق تفتیش کار مختلف مقدمات یا پولیسنگ سے متعلق مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔
ان کے مطابق آسٹریلیا میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پوڈکاسٹ بنانے کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیے ہیں۔
تاہم پولیس کے محکموں کی جانب سے تیار کیے گئے ایسے پوڈکاسٹس نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں، جو پرانے اور حل طلب مقدمات پر توجہ مرکوز کرتے ہوں اور عوام سے معلومات یا سراغ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوں، جیسا کہ کیلیفورنیا، کولوراڈو اور الینوائے میں پولیس نے کیا ہے۔
پولیس کے یہ پروگرام قسط وار انداز میں پیش کیے جاتے ہیں، جن میں جرائم، متاثرین اور تحقیقات کی تفصیلات دلچسپ بیانیے اور اہم معلومات کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں۔ یہ انداز کافی حد تک اسی طرز سے مشابہ ہے جسے 2014 میں معروف حقیقی جرائم پر مبنی پوڈکاسٹ سیریل نے مقبول بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہElgin Police Department
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اورورا میں پولیس کو امید ہے کہ وہ ایسا پوڈکاسٹ تیار کرے جو نہ صرف دلچسپ اور مؤثر ہو بلکہ سننے والوں کو مقدمے سے متعلق کسی بھی اہم معلومات کے ساتھ آگے آنے کی ترغیب دے۔
چیلسی یاسر کے قتل کو پوڈکاسٹ تیار کرنے والوں نے ہرمن میلویل کے مشہور ناول ’موبی ڈِک‘ کی ’وائٹ وہیل‘ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مقدمہ طویل عرصے سے تفتیش کاروں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے اور انہیں مسلسل الجھائے ہوئے ہے۔
چیلسی یاسر پارکنگ لاٹ میں آ کر رکنے والی ایک منی وین میں سوار ہوئیں، جس کے بعد انھیں چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا گیا۔ گاڑی سے باہر نکلنے کے چند ہی لمحوں بعد وہ گر پڑیں۔
ایک دھندلی سی سرویلینس ویڈیو میں وہ منی اس وقت ہلتی ہوئی نظر آئی جب چیلسی یاسر پر حملہ ہو رہا تھا، لیکن تصاویر اتنی واضح نہیں تھیں کہ کسی چہرے کی شناخت کی جا سکے۔
چیلسی یاسر کے ناخنوں سے حاصل کیے گئے ڈی این اے نمونے بھی پولیس سسٹم میں موجود کسی شخص کے ریکارڈ سے میچ نہیں ہوئے۔
جون میں جب اورورا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے یہ پوڈکاسٹ نشر کیا تو تفتیش کار نئے فارنزک جینیالوجی طریقۂ کار کی مدد سے ڈی این اے کا تجزیہ کر رہے تھے۔ پروگرام میں سامعین کو تفتیش کے دیگر نئے پہلوؤں اور حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جاتا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جو موئلن کے مطابق اورورا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اس سے قبل بھی چیلسی یاسر کے قتل سے متعلق معلومات کے لیے عوام سے اپیلیں کی تھیں، لیکن پوڈکاسٹ کے ذریعے ممکنہ گواہوں اور معلومات فراہم کرنے والوں تک کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
’اگر واقعہ پیش آنے کے وقت آپ نے خبریں نہیں دیکھیں یا اخبار نہیں پڑھا، تو ممکن ہے کہ آپ اس مقدمے کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوں۔ اسی لیے ہم مزید سامعین تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔‘
’اگر یہ فرض کیا جائے کہ مشتبہ شخص اب بھی زندہ ہے اور کہیں آزاد گھوم رہا ہے، تو وہ ملک میں کہیں بھی موجود ہو سکتا ہے۔‘
اورورا پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جولائی کے اختتام تک اس پوڈکاسٹ کو 7,184 مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا تھا، جس کے نتیجے میں کئی مرتبہ انھیں نئی معلومات موصول ہوئیں، جن میں ایک ایسی اطلاع بھی شامل ہے جس پر تفتیش کار اب بھی کام کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہElgin Police Department
زیادہ تر پولیس محکموں کے پاس پوڈکاسٹ مواد تیار کرنے کے لیے درکار عملہ، بجٹ یا وقت نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے پاس اس کام کے لیے ضروری آلات یا صلاحیتیں ہوتی ہیں۔
ریٹائرڈ تفتیش کار مائیکل الکازار کہتے ہیں دیگر پولیس محکمے ممکنہ نتائج، قانونی چارہ جوئی اور شہری ذمہ داری سے متعلق خدشات کے باعث اس میدان میں قدم رکھنے سے گریز کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر کیلیفورنیا میں نیوپورٹ بیچ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا مفرور ملزم پیٹر چیڈوک سے متعلق پوڈکاسٹ تنازعات سے خالی نہیں تھا۔ پوڈکاسٹ کی پہلی قسط میں اس کروڑ پتی شخص کا تعارف ان الفاظ میں کروایا گیا تھا: ’وہ شخص جس نے اکتوبر 2012 میں کیلیفورنیا کی پُرسکون ساحلی کمیونٹی نیوپورٹ بیچ میں اپنی بیوی کو قتل کیا تھا۔‘
چیڈوک پر فردِ جرم عائد کی جا چکی تھی اور انہوں نے خود کو بے گناہ قرار دیا تھا، تاہم ان کا مقدمہ ابھی زیرِ سماعت تھا۔ اس کے باوجود پوڈکاسٹ میں ’مبینہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور انھیں ’قاتل‘ کہا گیا۔
ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ طرزِ عمل اس اصول کے منافی ہے کہ کسی شخص کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ کہ پولیس کا کام تحقیقات کرنا ہے، فیصلے صادر کرنا نہیں۔
یہ پوڈکاسٹ شعبۂ اطلاعات سے منسلک افسر جینیفر مانزیلا نے تیار کیا اور انھوں نے ہی اس کی میزبانی بھی کی۔ انہوں نے اس وقت اپنے پوڈکاسٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس ’اسی نوعیت کے بیانات ہر وقت جاری کرتی رہتی ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کی کوشش یہ تھی کہ کہانی کو ایک دلچسپ انداز میں بیان کرنے اور تحقیقات کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنے کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔
اگست 2019 میں چیڈوک کی گرفتاری کے بعد انہوں نے سیکنڈ ڈگری قتل کے جرم کا اعتراف کر لیا اور انہیں 15 سال سے عمر قید تک کی سزا سنائی گئی۔ وہ اب بھی جیل میں قید ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مانزیلا کا کہنا ہے کہ چیڈوک کی گرفتاری کسی ایسی براہِ راست اطلاع کے نتیجے میں نہیں ہوئی تھی جو پوڈکاسٹ کے ذریعے موصول ہوئی ہو، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پوڈکاسٹ نے مدد ضرور کی، کیونکہ اس نے مفرور چیڈوک پر دباؤ بڑھا دیا تھا، جس کے باعث ان کے غلطیاں کرنے کے امکانات زیادہ ہو گئے تھے۔
مانزیلا کا کہنا ہے کہ اس توجہ کی بدولت تفتیش کار ’ریکارڈ وقت میں‘ وارنٹ اور حوالگیِ ملزمان کے احکامات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس پوڈکاسٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ آئی ٹیونز چارٹ پر 24ویں نمبر تک پہنچ گیا تھا۔
پوڈکاسٹ کی اشاعت اور چیڈوک کی گرفتاری کے بعد مانزیلا کو دیگر پولیس محکموں اور اداروں کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں جو اسی طرز کا مواد تیار کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
لیکن ہر کوئی پوڈکاسٹ کے ذریعے مقدمات حل کرنے کے حق میں نہیں تھا۔
اس پوڈکاسٹ کے شریک میزبان اور الینوائے کے ایلگن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈٹیکٹیو اینڈریو ہاؤٹن کہتے ہیں ’ابتدا میں میری واقعی اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔‘
انہوں نے مقامی ریڈیو سٹیشن کی معاونت سے ساتھی ڈٹیکٹیو میتھیو وارٹیرین کے ساتھ مل کر ایلگن پولیس کے 2025 کے پوڈکاسٹ سمبڈی نوز سمتھنگ پر کام کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہElgin Police Department
ہاؤٹن اور وارٹیرین کو 2024 میں ایلگن پولیس کے نئے قائم کیے گئے کولڈ کیس یونٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ انھیں پولیس چیف نے بتایا کہ ان کی ذمہ داریوں میں پوڈکاسٹ تیار کرنا بھی شامل ہو گا۔
ہاؤٹن یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہم ابھی اس نئے یونٹ کا آغاز ہی کر رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم اس میں ایک اور نئی چیز کیوں شامل کر رہے ہیں؟‘
ہاؤٹن اور ان کے ساتھی نے کچھ ناگواری کے ساتھ پوڈکاسٹ کی اقساط کی ترتیب اور ساخت پر کام شروع کیا، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ عمل خود تفتیش کو منظم کرنے میں بھی مدد دے رہا ہے۔
لاپتا ہونے والی 23 سالہ خاتون کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟ اس بارے میں انہوں نے مختلف نئے نظریات مرتب کیے اور ہر نظریہ فطری طور پر پوڈکاسٹ کی ایک الگ قسط کی شکل اختیار کرتا گیا۔
اس پوڈکاسٹ نے نہ صرف نئی معلومات فراہم کرنے والوں کو سامنے آنے کی ترغیب دی بلکہ تفتیش کاروں کو مزید سراغ حاصل کرنے کے نئے ذرائع بھی فراہم کیے۔ انہوں نے اپنے ہی پروگرام کے بارے میں سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس اور تبصروں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
’مثال کے طور پر وہ ایسی باتیں لکھتے تھے: ’اوہ، میری والدہ اس شخص کے ساتھ کام کرتی تھیں‘ یا ’میں اس علاقے میں رہتا ہوں اور مجھے یہ واقعہ یاد ہے۔‘
تفتیش کاروں نے بالآخر روایتی پولیس تحقیقات کے ذریعے اس مقدمے کو حل کر لیا۔ ان کی ایک تھیوری کے مطابق کیرن شیپرز کی گاڑی حادثے کا شکار ہو کر دریا میں جا گری تھی۔
انہوں نے 1999 میں شائع ہونے والی ایک مقامی اخباری رپورٹ دریافت کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کباڑ خانوں کی تلاشی لی تھی اور دریائے فاکس میں بھی تلاش کا عمل انجام دیا تھا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ دریا میں تلاش کا وہ آپریشن واقعی انجام دیا گیا تھا یا نہیں۔
اور تفتیش کاروں نے یہ بات اپنے سامعین کے سامنے بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
اس کے بعد پولیس نے جدید سونار ٹیکنالوجی سے لیس ایک سرچ کمپنی اور غوطہ خوروں کی خدمات حاصل کیں اور مارچ 2025 میں انہیں کیرن شیپرز اور ان کی گاڑی دریا کی تہہ سے مل گئی۔
اب وہ اس پوڈکاسٹ کے تیسرے سیزن پر کام کر رہے ہیں۔ دوسرے سیزن میں انہوں نے فارمیٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے توجہ قتل کے مقدمات پر مرکوز کی تھی، تاہم اب وہ دوبارہ لاپتا افراد کے مقدمات کی جانب لوٹ آئے ہیں۔
ہاؤٹن تسلیم کرتے ہیں کہ ’یہ واقعی بہت زیادہ محنت طلب کام ہے، اس کام میں کافی وقت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔‘
دیگر پولیس محکمے بجٹ اور وسائل سے متعلق چیلنجز سے ضرور نمٹ رہے ہیں لیکن اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ تحقیقات کے ایک ذریعے کے طور پر پوڈکاسٹس کا استعمال مستقبل میں زیادہ عام ہوتا جائے گا۔
امریکن یونیورسٹی کے شعبۂ انصاف، قانون اور کرمنالوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جینس ایواما کے مطابق اگر پولیس اس کام کو جاری رکھنے کے لیے ضروری عملہ حاصل کرلیتی ہے تو پوڈکاسٹس کے ذریعے بھرتیوں اور عملے کو برقرار رکھنے دونوں میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کے بقول اس کے ذریعے سامعین کو پولیس افسران کی زبانی یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ پولیسنگ کی عملی دنیا درحقیقت کیسی ہوتی ہے۔
ریٹائرڈ تفتیش کار مائیکل الکازار کے مطابق وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیاں بھی اس رجحان کو تقویت دے سکتی ہیں کیونکہ نوجوان پولیس افسران پوڈکاسٹس اور سوشل میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر جرائم کو حال کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔
’یہ ان کی دنیا ہے اور یہی وہ ماحول ہے جس میں وہ خود کو سب سے زیادہ پُراعتماد محسوس کرتے ہیں۔‘



















