پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے قریب رن آف کچھ سے ملنے والے 100 سے زائد انسانی ڈھانچے کس کے ہیں؟

India

،تصویر کا ذریعہUGC

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گجرات کے ضلع کچھ میں واقع ڈھولاویرا ان مقامات میں سے ایک ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے (ورلڈ ہیریٹیج) کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار سال قدیم شہر ڈھولاویرا کی داستان کسی جدید سمارٹ سٹی سے کم نہیں ہے۔

آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے 2018 میں ڈھولاویرا کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کروانے کے لیے اس کی نامزدگی سے متعلق دستاویزات یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کو ارسال کی تھیں، جبکہ گجرات حکومت نے بھی اس تاریخی مقام کی ترقی اور تحفظ کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔

یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کچھ کا تاریخ سے تعلق نہایت منفرد رہا ہے اور اس خطے نے ماضی کے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

حال ہی میں کچھ کے نزدیک انڈیا اور پاکستان سرحد کے قریب ایک جگہ سے 100 سے زائد انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔

حیران کن بات یہ تھی کہ 100 سے زائد ڈھانچے اس انداز میں دفن ملے کہ ان کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے۔

ان ڈھانچوں کے چہرے کا رُخ مغرب کی طرف تھا۔

ان انسانی باقیات کے گرد ہونے والی تحقیقات کے دوران پانچ دیگر آثارِ قدیمہ کے مقامات بھی دریافت ہوئے، جہاں سے مٹی کے برتن، ٹیراکوٹا کے کھلونے اور قدیم آبادیوں کے آثار برآمد ہوئے ہیں۔ ابتدائی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقیات قرونِ وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔

اگر ابتدائی تحقیق کے نتائج مزید سائنسی اور تفصیلی مطالعات میں درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ دریافت نہ صرف کچھ اور گجرات کی تاریخ بلکہ برصغیر کی وسیع تاریخی روایت کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان انسانی ڈھانچوں کو سب سے پہلے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں نے دیکھا تھا۔

سر شمال کی طرف اور پاؤں جنوب کی طرف

انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر واقع رَن آف کچھ میں ایک مقام سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے، جبکہ ان کے چہرے مغرب کی سمت رخ کیے ہوئے تھے۔

اس دریافت کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کچھ یونیورسٹی کے شعبۂ ارضیات و آثارِ قدیمہ کے سربراہ ڈاکٹر گورو چوہان نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ کچھ میں انڈیا۔پاکستان سرحد کے قریب ایک الگ آثارِ قدیمہ کا مقام دریافت ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے 100 سے زائد انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔

India

،تصویر کا ذریعہUGC

ڈاکٹر گورو چوہان کے مطابق اس مقام کو سب سے پہلے بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے گشت کے دوران دیکھا تھا۔ ابتدائی طور پر انھیں یہ ایک قدیم اور ویران بستی کے آثار معلوم ہوئے۔

انھوں نے بی بی سی گجراتی کو بتایا ’ہم نے 2024 میں بی ایس ایف اور ضلع کلکٹر کے دفتر کی مدد سے اس مقام کی تلاش اور تحقیق شروع کی اور بالآخر اسے دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

پروفیسر گورو چوہان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی مرتبہ اس مقام پر گئے تو وہ خود بھی حیران رہ گئے تھے۔

انھوں نے کہا ’اتنی بڑی تعداد میں مردوں اور خواتین کے ڈھانچے نہایت منظم انداز میں دفن پائے گئے، جو غیر معمولی بات ہے۔‘

ان کے مطابق ’ان ڈھانچوں کے سر شمال کی جانب اور پاؤں جنوب کی جانب تھے، جبکہ ان کے چہرے مغرب کی سمت تھے۔ ممکن ہے کہ اس کا تعلق اس دور کے کسی مذہبی عقیدے یا تدفین کی رسم سے ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ایک ہی مقام پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی تدفین اس بات کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہے کہ اس زمانے میں کوئی بڑی آفت، سانحہ یا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہو۔‘

پروفیسر گورو چوہان کا کہنا ہے کہ اس دریافت کا ایک اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ اس مقام کے اطراف چار سے پانچ مزید آثارِ قدیمہ کے مقامات بھی ملے، جہاں سے مٹی کے برتن، گھروں کے آثار، کھلونے اور ٹیراکوٹا کی اشیا برآمد ہوئیں۔

انھوں نے بتایا کہ بعد ازاں اس تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور پونے کے ڈیکن کالج کے ماہرین کی بھی مدد حاصل کی گئی۔ ابتدائی مطالعات سے یہ اشارہ ملا کہ یہاں سے ملنے والی باقیات قرونِ وسطیٰ سے تعلق رکھ سکتی ہیں، یعنی ان کی عمر تقریباً 100 سے 1500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔

پروفیسر چوہان کے مطابق ’اس دریافت کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے کہ یہ باقیات ایسے صحرائی علاقے میں ملی ہیں، جہاں آج کے دور میں ایک دن گزارنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے، جبکہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی یہاں بڑی تعداد میں لوگ آباد تھے۔‘

کیا ان ڈھانچوں کا تعلق سومرا سلطنت سے ہے؟

ڈاکٹر گورو چوہان نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ڈھولاویرا قدیم زمانے میں انسانی آبادی کے لیے ایک منتخب اور اہم مقام تھا۔

’ڈھولاویرا کے دور میں دریائے سندھ کا پانی اس علاقے تک پہنچتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہمیں اس مقام سے تانبے کے سکے بھی ملے ہیں۔ پاکستان کے نزدیک کنجر کوٹ اور دیگر مقامات سے ملنے والے سکوں پر کی گئی تحقیق کی بنیاد پر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق سومرا سلطنت اور پنجار برادریوں سے ہو سکتا ہے۔‘

زمین کی سطح پر اچانک اتنی بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچوں کی دریافت نے مقامی لوگوں اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ، دونوں میں شدید تجسس پیدا کر دیا ہے۔

India

،تصویر کا ذریعہUGC

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان ڈھانچوں کے زمین کی سطح پر نمودار ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر گورو چوہان کہتے ہیں ’یقیناً کوئی قدرتی آفت پیش آئی ہوگی، جس کے نتیجے میں دفن شدہ لاشوں کے اوپر موجود مٹی اڑ گئی اور ان کے ڈھانچے سطحِ زمین پر ظاہر ہونے لگے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’درحقیقت اس مقام کو ڈھولاویرا کے دور اور موجودہ دور کے درمیان ایک پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کلکٹر نے بھی ایسے کئی مقامات کی فہرست طلب کی تھی۔ مستقبل میں ہم مزید کئی مقامات کی کھوج کر سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر گورو چوہان کا کہنا ہے ’اب ہم ان ڈھانچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کر کے ان کی عمر اور پس منظر معلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

اگر یہ ڈھانچے سومرا قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے سمجھے جا رہے ہیں، تو آخر یہ سومرا تھے کون؟

برٹینیکا کے مطابق سومرا سلطنت نے 11ویں صدی کے آس پاس اس خطے پر حکومت کی تھی، جس میں موجودہ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی شامل تھا۔

مؤرخین کا ایک حلقہ اس خاندان کو عرب النسل قرار دیتا ہے، جبکہ بعض دیگر مؤرخین کے نزدیک اس کی جڑیں راجپوت نسل سے ملتی ہیں۔

سومرا سلطنت تقریباً تین صدیوں تک برسرِ اقتدار رہی۔ اس کے بعد اس کی جگہ سما سلطنت نے لے لی اور بعد میں مغل شہنشاہ اکبر نے اس علاقے کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔

ڈھولاویرا: ایک بین الاقوامی بندرگاہ

کھدیر بیٹ بھج سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اسی جزیرے نما علاقے میں ڈھولاویرا کا گاؤں آباد ہے۔ بظاہر کچھ کا ایک عام گاؤں جیسا دکھائی دینے والا یہ مقام درحقیقت ایک غیر معمولی تاریخی ورثے کا حامل ہے۔

اگر گاؤں سے تقریباً ایک کلومیٹر شمال کی جانب جائیں تو ’کوٹڑا ٹمبا‘ کا علاقہ آتا ہے اور یہی مقام اس گاؤں کو منفرد بناتا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار سال پہلے یہاں ڈھولاویرا نامی ایک عظیم شہر آباد تھا، جو اس دور کی ترقی یافتہ تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ شہر نہ صرف آباد ہوا بلکہ ایک طویل عرصے تک پھلتا پھولتا بھی رہا۔

آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم شہر میں آج سے پانچ ہزار سال پہلے ایک انتہائی مؤثر اور حیرت انگیز آبی نظام موجود تھا۔