لائیو, اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ایک غیر فوجی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
خلاصہ
سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے کے پابند ہیں: پاکستان
راولپنڈی واقعے سے اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کو کیسا کھیل کھیلا جائے گا: طلال چوہدری کا الزام
اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق
وینزویلا اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 17 سال بعد قونصلر تعلقات بحال
2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں 153 شہری ہلاک، 243 زخمی ہوئے: پینٹاگون
لائیو کوریج
’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف اقدامات پر پوتن کی یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جن بحری جہازوں کو روس کے ’شیڈو فلیٹ‘
کا حصہ سمجھا جاتا ہے، انھیں روکنے کے یورپی یونین کے منصوبوں پر ردعمل دیتے ہوئے روسی
صدر ولادیمیر پوتن نے یورپی جہازوں کو ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روس کے مشرقِ بعید میں بحری مشقوں کا
مشاہدہ کرتے ہوئے گفتگو میں پوتن نے روسی جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندیوں کو
’بحری قزاقی‘ قرار دیا۔
روسی صدر نے کہا کہ ماسکو جوابی
اقدامات کرنے پر مجبور ہو گا اور ہر وہ قدم اٹھائے گا جسے وہ ضروری اور مناسب
سمجھے، خواہ وہ کہیں بھی ہو۔
روس
تیل کی فروخت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ’شیڈو فلیٹ‘ کہلانے
والے بحری بیڑوں کا استعمال کرتا ہے، جن میں ایسے جہاز شامل ہوتے ہیں جو کسی قومی
پرچم کے بغیر یا غیر واضح رجسٹریشن کے تحت سفر کرتے ہیں۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان پر فضائی حملہ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے
رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ملک کے جنوبی حصے میں دو فضائی حملے کیے
ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے
المنصوری کو ان حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ابھی
تک اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع
سامنے نہیں آئی ہے۔
مذاکرات کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے: جاپانی وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی سے ٹیلی فون پر بات
ہوئی، جس میں تاکائیچی نے مطالبہ کیا کہ ’مذاکرات کے کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول
دی جائے۔‘
ارنا کی جانب سے شائع کردہ اس ٹیلی
فونک گفتگو کی تفصیل کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں بد امنی کا
خواہاں نہیں اور انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر جنگ شروع کرنے اور ’خطے کے امن و
استحکام کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام عائد کیا۔
ایران اور عمان اس وقت آبنائے ہرمز
میں جہازوں کی آمد و رفت کے راستے سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں۔
جاپان نے ایران سے یہ بھی درخواست کی
ہے کہ وہ باب المندب میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال
کرے۔
سوراب میں بارود بھری گاڑی میں دھماکے سے آٹھ شدت پسند ہلاک، دوسرے دھماکے میں تین راہگیر جان سے گئے: پاکستانی فوج
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان فوج کے
شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع سوراب میں شدت پسند گاڑی
میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے کہ وہ قبل از وقت پھٹ گیا،
اس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی
آر کے مطابق وہاں موجود دیگر بارودی مواد بھی اس دھماکے کی زد میں آ گیا، جس کے
نتیجے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس مقام کے قریب رہائش پذیر تین شہری بھی ہلاک ہو
گئے۔
فوج کے شعبۂ
تعلقات عامہ کا دعویٰ ہے کہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس
موقع پر پہنچ گئیں اور ذمہ دار عناصر اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک
جامع مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے فرار
ہونے والے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے
مزید 10 کو ہلاک کر دیا۔
آئی
ایس پی آر کے مطابق اس واقعے میں اب تک مجموعی طور پر 18 شدت پسند مارے جا چکے
ہیں، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے۔
مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ, یولاند نیل، یروشلم میں موجود نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار سے
مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔
ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ضروری اشیا ختم ہو رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی
تنظیمیں حکام سے مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی
سکیورٹی فورسز نابلس کے قریب قصرہ گاؤں میں قائم یہودی آباد کاروں کی چوکی سے واپس
ہٹ گئی ہیں۔ یہ پیش رفت انتہا پسند آباد کاروں کے ایک ہجوم کے ساتھ جھڑپوں کے بعد
سامنے آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب بھی تقریباً ایک درجن آباد کار وہاں موجود ہیں۔
فلسطینی مکان مالکان کی جانب سے
اسرائیلی فوج کو ابتدائی اطلاع دینے کے بعد موقع پر پہنچنے والے پہلے اسرائیلی
فوجیوں کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں انھیں آباد کاروں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے دیکھا
جا سکتا ہے۔
ابو ریدی اور حسن کے خاندان سوشل
میڈیا پر مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پانی اور بجلی کی
فراہمی منقطع کر دی گئی ہے جبکہ خوراک کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے
آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے منگل کو نیو یارک میں سلامتی
کونسل کو بتایا کہ ’مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔‘
بین الاقوامی قانون کے تحت تمام
اسرائیلی آبادیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں
دکھایا گیا ہے کہ آباد کاروں نے اتوار کی شام ابو ریدی خاندان کے گھر کے باہر ایک
دیوار گرا دی اور اسی کے پتھروں سے سڑک بند کر دی۔
اس کے نتیجے میں سات افراد، جن میں
دو کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں، اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے جبکہ دوسرے
فلسطینی بھی ان تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ خاندان مغربی کنارے کے اُس حصے میں رہتا ہے
جسے ایریا بی کہا جاتا ہے، جہاں انتظامی اختیار فلسطینیوں کے پاس جبکہ سکیورٹی
کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔
فیس بک پر ابو ریدی نے لکھا کہ
صورتحال انتہائی سنگین ہے، ’خصوصاً اس لیے کہ ہم مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا: ’ہم اپنے ہی گھر اور
اپنی ہی زمین پر رہ رہے ہیں، اور ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ اور وقار کے
ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پیر کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے بائیں بازو سے وابستہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے صحافیوں کو فلسطینی گھروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دو گھنٹے تک روکی گئی تو موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے اُس وقت ان کی مدد سے انکار کر دیا تھا۔
اگلے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین نے اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ سے اپیل کی کہ فوج محصور رہائشیوں کا تحفظ کرے، آباد کاروں کی چوکی خالی کرائے اور انھیں جوابدہ ٹھہرائے۔
منگل کی رات دیر گئے ایک فلسطینی ایمبولینس کو بالآخر خاندانوں تک پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولینس خوراک لے کر پہنچی اور ایک بچے کو طبی علاج کے لیے وہاں سے منتقل کیا گیا۔
تقریباً اسی وقت اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان جاری کیا جس میں نئی چوکی کے قیام کی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی گھروں میں داخل ہونا اور ان پر قبضہ کرنا ’غیر قانونی، قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول عمل‘ ہے۔
بدھ کی صبح جب مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل اوی بلوتھ اور دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے تو بتایا گیا کہ انھوں نے رہائشیوں سے ملاقات کی اور اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔
اس کے بعد بی بی سی کو فراہم کی گئی فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں اسرائیلی فوج، بارڈر پولیس اور آباد کاروں کے ایک بڑے ہجوم کے درمیان جھڑپیں دکھائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ استعمال کیے۔
دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے وہ سائبان ہٹا دیا جس کے نیچے آباد کار پناہ لیے ہوئے تھے، جبکہ ان کا دیگر سامان وہیں چھوڑ دیا گیا۔
آئی ڈی ایف نے بیان میں کہا: ’بارڈر پولیس فورسز نے خیمہ ہٹا دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں کو نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چند روز قبل مقام پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی دستاویزی تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
قصرہ گاؤں کے میئر عبدالعظیم وادی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے ’قصرہ کو نشانہ بنانے کے ایک واضح اور مسلسل رجحان‘ کا مشاہدہ کیا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک نئی تعمیر شدہ مسجد کو آگ لگا دی گئی تھی اور اس کے قریب عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آباد کاروں کا یہ حملہ ان متعدد واقعات میں سے ایک تھا جو فلسطینی گاؤں تل میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سامنے آئے۔ اسرائیلی آباد کاروں کے تل پر حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی شامل تھے۔ ان فوجیوں میں سے ایک قریبی اسرائیلی آبادی کا سکیورٹی رابطہ کار تھا۔
جولائی میں آباد کاروں نے قصرہ کے قریب واقع گاؤں جالود میں ایک فلسطینی گھر کا دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیے رکھا۔ بعد ازاں مکان مالکان وہاں سے چلے گئے اور آباد کاروں نے اس جائیداد پر قبضہ کر لیا، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف نے منگل کو سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ خصوصاً صوبۂ نابلس حالیہ عرصے میں تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں 76 فلسطینی، جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں اور مغربی کنارے میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی کی جانب سے گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک مغربی کنارے کی 127 فلسطینی آبادیوں کو مکمل یا جزوی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے 47 مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں، جس سے 6390 سے زائد فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے ریکارڈ کیا ہے کہ 2026 میں آباد کاروں کے تشدد، مکانات کی مسماری اور بے دخلی کے باعث تقریباً 3800 فلسطینی بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً نصف بچے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ آبادیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ آبادیاں برقرار رہیں گی اور مزید پھیلیں گی کیونکہ ان کے بقول اسرائیل کو اس زمین پر مذہبی، تاریخی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ’ایک سادہ حقیقت سمجھنی چاہیے: ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘
انڈونیشیا میں کشتی میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک، 172 کو بچا لیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام
نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سیاحتی جزیرے بالی سے روانہ ہونے والی ایک بڑی کشتی (فیری)
میں آگ لگنے کے بعد 172 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ دیگر لا پتہ مسافروں کی تلاش
جاری ہے۔
مقامی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد
ہریادی نے کہا کہ کشتی بالی کی بندرگاہ سے صوبہ مغربی نوسا تنگارا میں واقع لومبار
بندرگاہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
ہریادی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ
واقعہ بدھ کی صبح چار بج کر 39 منٹ پر آبنائے لومبوک میں پیش آیا۔
ہریادی کے مطابق بدھ کی دوپہر تک ایک
انڈونیشی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی جبکہ 172 افراد کو بالی اور لومبوک کی
بندرگاہوں تک منتقل کر کے بچا لیا گیا تھا۔
بچ جانے والوں میں ایک آسٹریلوی شہری
تھا جبکہ باقی تمام انڈونیشی تھے۔
اس سے قبل دن میں بالی کی بندرگاہ کے
ایک عہدے دار ہیری ویانتو نے مقامی نشریاتی ادارے کومپاس ٹی وی کو بتایا تھا کہ کشتی
کے مسافروں کی فہرست میں صرف 114 مسافروں اور عملے کے 17 ارکان کا اندراج تھا۔
17 ہزار
جزیروں پر مشتمل انڈونیشیا میں نقل و حمل کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بڑی کشتیوں پر
بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، کیونکہ سمندری راستے فضائی سفر کے مقابلے میں زیادہ
سستے اور آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔
تاہم،
حفاظتی معیارات پر ہمیشہ سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں حادثات
کی شرح نسبتاً زیادہ رہتی ہے۔
دوبارہ امریکی جارحیت کی صورت میں توانائی اور انٹرنیٹ کے انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو گا: ایرانی فوج
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
ایران
کے خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ
اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت شروع کی ’توانائی کی ترسیلی لائنیں،
بجلی گھر، تمام امریکی اور غیر امریکی نظام، حتیٰ کہ عالمی انٹرنیٹ سے منسلک انفراسٹرکچر
بھی خطرے میں ہو گا۔‘
سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے کے پابند ہیں: پاکستان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، سعودی عرب کی قیادت میں قائم بحری اتحاد کا رکن ہے اور
سپلائی چینز کے تحفظ اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے مقصد کے لیے اس اتحاد کے
اعلامیے کا پابند ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی
نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بحیرۂ احمر میں ایک
تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے
ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان بین
الاقوامی قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزادی
اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان
سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا رکن ہے اور اس کے دستخط کنندگان
میں شامل ہے۔
سعودی
عرب نے 30 جولائی کو بین الاقوامی جہاز رانی اور بحیرۂ احمر کے خطے میں توانائی
کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے مقصد سے ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام
کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
راولپنڈی واقعے سے اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کو کیسا کھیل کھیلا جائے گا: طلال چوہدری کا الزام
،تصویر کا ذریعہScreen grab
راولپنڈی میں سکیورٹی فورسز پر
فائرنگ اور حملہ آور کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
نے الزام لگایا ہے: ’اس واقعے سے اشارہ ملتا ہے کہ 27 ستمبر کو کیسا کھیل کھیلا
جائے گا۔‘
واضح رہے کہ سیاسی جماعت پاکستان
تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید پارٹی قائد عمران خان سے ملاقات کے لیے
27 ستمبر کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
گذشتہ روز، ترجمان راولپنڈی پولیس کے
مطابق مال روڈ پر ایک شخص نے پستول سے سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ
کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جبکہ جوابی فائرنگ میں حملہ آور ہلاک ہو
گیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام
لگایا تھا کہ فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کارکن
تھا۔ جبکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث شخص پارٹی کا کارکن رہا ہو
گا تاہم اس واقعے کو پارٹی سے نہ جوڑا جائے۔
آج بدھ کے روز اسلام آباد میں پریس
کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا: ’تحریک انصاف
کی قیادت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ ان کا اس کارکن سے کوئی تعلق نہیں
ہے۔‘
پی ٹی آئی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ
’واقعے کی مکمل تفصیلات، سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے نتائج
عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تفصیلات
اس لیے سامنے نہیں لائی جا رہیں تاکہ کیس کی تحقیقات متاثر نہ ہوں۔ ان کے بقول جب
عدالت میں شواہد پیش کیے جائیں گے ’تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔‘
وزیر مملکت برائے داخلہ نے یہ الزام
بھی لگایا کہ فائرنگ میں ملوث کارکن اسلام آباد میں موجود ’خیبر پختونخوا ہاؤس
میں قیام کرتا رہا اور تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات کرتا رہا۔‘
طلال
چوہدری نے الزام لگایا کہ اس واقعے میں پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ ساتھ ’وہ یوٹیوبر اور رائے ساز
بھی شامل ہیں، جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں، جن کا مقصد صرف ویوز
لینا، پیسے کمانا اور نوجوانوں کے ذہن میں آگ بھرنا ہے۔‘
وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا دورہ امن کے لیے مشاورت کا تسلسل ہے: پاکستان
،تصویر کا ذریعہIRNA
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے
ایران اور امریکہ کو مفاہمت کی جانب واپس لانے میں مدد کے لیے اسلام آباد کی
مسلسل کوششوں پر زور دیا ہے۔
آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس
میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی
کے تہران کے دورے نے دو طرفہ تعلقات، سلامتی کے مسائل اور علاقائی پیش رفت پر بات
چیت کا موقع فراہم کیا ہے، خاص طور پر امن و استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر توجہ
دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم خطے کے تمام برادر
ممالک سے رابطے میں ہیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریقین بھی شامل
ہیں، اور ہماری کوششیں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات میں واپس لانے پر
مرکوز ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’پاکستان
بحران کے پُر امن حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
پاکستانی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کے روز تہران کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ عباس
عراقچی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔
پاکستان سعودی قیادت میں قائم بحری اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے: دفترِ خارجہ
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے
کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور سپلائی
چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اسلام آباد اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے
لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر
اندرابی سے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین پاکستانیوں
کی ہلاکت کے متعلق سوال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم
اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے
اسحاق ڈار کا بیان دہرایا جس میں حوثی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان بین
الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری
سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سعودی
عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا رکن اور دستخط کنندہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس اتحاد کے اعلامیے پر عمل
پیرا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور اتحاد کے دیگر شراکت
داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار
ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جا
سکے۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ نے ایرانی قیادت کو مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا: ایرانی خبر رساں ایجنسی کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہIRNA
گذشتہ روز پاکستان کے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی
صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
تاہم ان ملاقاتوں کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔
اب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ملاقاتوں میں محسن
نقوی نے خطے کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور
پاکستان کے فیلڈ مارشل کا ایک خصوصی اور اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے۔
ارنا کے مطابق انھوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور ایرانی قیادت کو اس حوالے سے اعتماد میں
لیا۔ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
سوموار کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘
انھوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا: ’ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘
بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘
اسحاق ڈار کی بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر
خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں تین
پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
بدھ کے روز اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بحیرہ
احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا
ہے کہ ’اب تک دستیاب اطلاعات کے مطابق اس
واقعے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔‘
انھوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا
اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان
ایک غیر فوجی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
’اس نوعیت کے حملے بے گناہ جانوں کو
خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اور بحری آمدورفت کی
آزادی، سمندری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازرانی کے تحفظ کے لیے سنگین
خطرہ ہیں۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کے
لیے پاکستان متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے
رابطے میں ہے۔
’ہم صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ حکام سے مسلسل
رابطے میں رہیں گے۔‘
گذشتہ روز یمن کے کوسٹ گارڈ حکام نے تصدیق کی تھی
کہ باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
کوسٹ گارڈ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی
جنگجوؤں نے کیا۔
یہ حملے بحیرہ احمر کے دہانے پر تجارتی جہازوں کے خلاف ان مہلک
کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف
بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے جاری ہیں۔
یمنی حکومت سے منسلک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ
کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے چار ارکان بھی
شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق، جہاز پر امدادی اور انخلا کی کارروائیاں کرنے کے لیے
بھیجے گئے دستے کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
وینزویلا اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 17 سال بعد قونصلر تعلقات بحال
وینزویلا اور اسرائیل نے تقریباً 17 سال بعد قونصلر تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیل کے متعلق وینزویلا کے مؤقف میں یہ نمایاں تبدیلی امریکہ کی جانب سے جنوری میں ملک کے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
نکولس مادورو کی گرفتارے کے بعد سے ڈیلسی روڈریگیز ملک کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کاراکاس کی حکومت پر اپنی پالیسیوں کو واشنگٹن کے مؤقف کے زیادہ قریب لانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
جون میں وینزویلا میں آنے والے زلزلوں کے بعد اسرائیل نے وینزویلا کو انسانی امداد بھی فراہم کی تھی۔ ان زلزلوں میں 6,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وینزویلا کی یہودی برادری نے دونوں ملکوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور پل کا کردار ادا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق کاراکاس نے 17 برس قبل غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے۔
نکولس مادورو کے دورِ حکومت میں وینزویلا اسرائیل کا سخت مخالف رہا، جبکہ اس نے خطے میں اسرائیل کے حریف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر انتباہ
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی قسم کا خطرہ پیدا ہوا تو لاکھوں میل طویل توانائی کی ترسیلی لائنیں، ہزاروں بجلی گھر، تمام امریکی اور غیر امریکی نظام، اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سے منسلک عالمی بنیادی ڈھانچہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت خلیج فارس کے پانیوں میں کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایران پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ وہ ’ان سے مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہیں۔‘
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں 153 شہری ہلاک، 243 زخمی ہوئے: پینٹاگون
،تصویر کا ذریعہUS CENTCOM via X
ایک امریکی عہدیدار نے منگل کو پینٹاگون کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز
کو بتایا ہے کہ 2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ تعداد 2024 کی پینٹاگون کی رپورٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس
میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دو شہری ہلاک اور دو زخمی
ہوئے تھے۔
امریکی کانگریس کو پیش کی گئی اور
امریکی میڈیا کی جانب سے شائع کردہ پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025
میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے تمام ریکارڈ شدہ واقعات یمن میں امریکی
حملوں کے تین واقعات سے متعلق تھے۔
رپورٹ کے مطابق فروری 2026 تک امریکی
سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) یمن میں مزید 15 واقعات کا جائزہ لے رہی ہے جن کی اطلاعات
غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے موصول ہوئی تھیں۔
تاہم پینٹاگون کی رپورٹ میں بحیرہ
کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی کسی ہلاکت
یا زخمی ہونے کا ذکر شامل نہیں تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یکم فروری 2026
تک امریکی سدرن کمانڈ کے جائزے کے مطابق 2025 میں اس کے دائرۂ کار میں کوئی ایسا
واقعہ سامنے نہیں آیا ہے جس میں غالب امکان کے تحت امریکی فوجی کارروائیوں کے
نتیجے میں شہری جانی نقصان ہوا ہو۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرقی بحرالکاہل میں ایسے
جہازوں کو نشانہ بنایا تھا جن کے بارے میں اس کا الزام تھا کہ وہ منشیات کی سمگلنگ
میں ملوث تھے۔
ان حملوں کے بعد جاری کیے جانے والے ہلاکتوں کے
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 سے اب تک ایسے جہازوں پر امریکی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حملوں کو ماروائے عدالت ہلاکتیں قرار دیتی ہیں۔
پاکستان کا حکومتی قرض ایک سال میں 7.4 فیصد اضافے کے بعد 836 کھرب ہو گیا, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے مرکزی حکومت کے قرضے میں مالی سال 2025-26 کے دوران 57٫5 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور جون 2026 کے اختتام پر یہ 836.4 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے اختتام پر مرکزی حکومت کا مجموعی قرض 778.9 کھرب روپے تھا، جس میں ایک سال کے دوران 7.4 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی جون میں حکومتی قرض میں 3.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ مالی سال میں حکومتی قرض میں اضافے کی بڑی وجہ ملکی قرضوں میں اضافہ تھا۔
اس عرصے کے دوران ملکی قرض 9.1 فیصد بڑھا، جبکہ بیرونی قرض میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا۔
جون 2026 کے اختتام پر حکومت کا ملکی قرض 59440 ارب روپے تھا، جو ایک سال پہلے 54470 ارب روپے تھا۔ صرف ایک ماہ کے دوران ملکی قرض میں 3.24 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسری جانب حکومت کے بیرونی قرضوں میں بھی گذشتہ مالی سال کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران بیرونی قرض 242 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جون 2025 کے اختتام پر یہ 234.20 کھرب روپے تھا۔
کولمبیا میں زلزلے کے 36 گھنٹے بعد ملبے تلے پھنسی خاتون کو زندہ نکال لیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
بوگوٹا فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امدادی ٹیموں نے پیریرا شہر میں 36 گھنٹوں سے ملبے تلے پھنسی ایک خاتون کو زندہ نکال لیا ہے۔
کولمبیا کے وزیر داخلہ روڈریگو لارا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ 32 سالہ ڈینییلا لارگو سانچیز ایک ہوٹل کے ملبے کے نیچے سے ملیں۔
انھیں فوری طور پر ایک مقامی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
صدر ابیلارڈو دے لا ایسپرییلا کے مطابق پیریرا میں امدادی کارکن اب بھی 40 سے زیادہ لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی، 200 سے زائد تاحال لاپتا
،تصویر کا ذریعہReuters
کولمبیا میں آنے والے زلزلے کو 36 گھنٹے سے زائد کا وقت گزرچکا ہے اور امدادی کارکن اب بھی ملبے تلے اور عمارتوں میں پھنسے زندہ بچ جانے والے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اب تک 181 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زیادہ تر اموات کیلی اور پیریرا شہر میں ہوئی ہیں۔
7.4 شدت کا زلزلہ سوموار کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 34 منٹ پر آیا۔ اس کے جھٹکے مغربی کولمبیا کے وسیع علاقے میں سینکڑوں میل تک محسوس کیے گئے، جبکہ منگل کو بھی آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔
اگرچہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 181 بتائی گئی ہے، تاہم مقامی حکام سے حاصل کردہ مجموعی اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے زیادہ اور ممکنہ طور پر 240 سے تجاوز کر سکتی ہے۔
کولمبیا کے صدر ابیلارڈو دے لا ایسپرییلا نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
منگل کو شدید متاثرہ شہروں میں سے ایک، پیریرا، سے صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے صدر ایسپرییلا نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ تقریباً 2,600 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 200 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 1,100 سے زیادہ گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 8,000 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
میں ایران پر بھروسہ نہیں کرتا، انھوں نے مسلسل مجھ سے جھوٹ بولا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہx/RapidResponse4
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر بھروسہ نہیں کرتے اور آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
منگل کے روز صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر بھروسہ نہیں کرتے۔
’میں ایران پر بھروسہ کرنے والا آخری شخص ہوں گا، انھوں نے مسلسل مجھ سے جھوٹ بولا ہے۔‘
انھوں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک بحری جہاز کو روک کر ناکارہ کر دیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا مزید کہنا ہے کہ پاناما کا پرچم بردار جہاز خلیج عمان سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔‘