اپنے شوہروں کو ’حقِ دفاع‘ میں قتل کرنے والی خواتین کی کہانی: ’اگر مجھے گولی چلانا نہ آتی تو آج میں زندہ نہ ہوتی‘

Victims of domestic violence are often in a "permanent state of risk".

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ماریانا روزیٹی اور پاؤلا چرچل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

انتباہ: اس خبر میں موجود کُچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

38 سالہ کچن اسسٹنٹ میلین واسکونسیلوس نے ایک لمحے میں اپنی زندگی بچانے کے لیے فیصلہ کیا۔

میلین کے مطابق ان کے ساتھی رافائل نے پہلے ان کا گلا دبانے کی کوشش کی اور پھر انھیں صوفے پر پھینک دیا۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ رافائل نے اس تشدد کے دوران اُن کی ایک نہیں سُنی اور صورتحال مزید سنگین ہوتی گئی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق میلین نے اپنے ساتھی کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے دوران ہی کچن کی طرف دیکھا جہاں انھیں ایک چھری نظر آئی۔ انھوں نے رافائل کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایک مرتبہ بھی اور مارا تو وہ اپنے دفاع کے لیے کُچھ بھی کر سکتی ہیں اور کسی بھی چیز کا استعمال کر سکتی ہیں۔

تاہم رافائل نے ان کی کسی بات پر توجہ نہیں دی اور مار پیٹ کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے بعد میلین نے اپنے دفاع کے لیے ہاتھ اُٹھایا اور بس موقع ملتے ہی ایک وار کر دیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ یہ واقعہ سنہ 2024 میں ریاست ساؤ پاؤلو کے شہر سانتو آندرے میں پیش آیا، جہاں یہ جوڑا رہتا تھا۔

تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع شہر نووا ایگواسو میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا، جہاں ارسلہ ریکارڈو فرانسسکو نے سنہ 2008 میں اپنے سابق شوہر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جو پولیس اہلکار تھے۔ یہ واقعہ بھی گھر کے کچن میں پیش آیا۔

ارسلہ، جو خود بھی گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں، اب 55 سال کی ہیں اور سماجی کارکن کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب ان کے شوہر نے مبینہ طور پر انھیں یہ کہا تھا کہ ’میں تمہیں اور اپنے بیٹے کو قتل کر دوں گا، پھر خودکشی کر لوں گا۔‘

میلین اور ارسلہ دونوں کا مؤقف ہے کہ انھوں نے برسوں تک تشدد برداشت کرنے کے بعد اپنی جان بچانے کے لیے دفاعی کارروائی کی اور یہ انتہائی قدم اُٹھایا۔

میلین کے مقدمے کی تحقیقات برازیل کے پبلک پراسیکیوٹرز کے دفتر میں جاری ہیں، جو ادارے کے فیصلے کے مطابق عدالتی کارروائی کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور نہیں بھی۔

دوسری جانب ارسلہ کو عدالت نے تقریباً ایک دہائی تک مقدمے کا انتظار کرنے کے بعد بری کر دیا تھا۔

برازیل کے قانون میں حقِ دفاع اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ’اگر کسی شخص کی جان کو فوری خطرہ ہو اور وہ اپنی حفاظت کے لیے ایسا قدم اٹھائے جو خطرے کے مطابق ہو، تو اسے جرم نہیں سمجھا جاتا۔‘

تاہم ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں حقِ دفاع ثابت کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

بی بی سی برازیل سے گفتگو کرنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’جائز حقِ دفاع تسلیم کیے جانے کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جن میں وکلا کی صلاحیت، پولیس تحقیقات کا معیار اور عدالتی کارروائی کے دوران معاشرتی رویوں، خصوصاً مردانہ بالادستی کا اثر شامل ہے۔

’مجھے لگا تھا کہ شاید میں اسے بدل سکوں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

میلین نے پولیس کو بتایا کہ ’ان کی اور رافائل کی پہلی ملاقات سنہ 2017 میں فیس بک پر ہوئی تھی، لیکن چند ہی ہفتوں بعد رافائل گرفتار ہو گئے جس کے باعث ان کی بات چیت ختم ہو گئی۔

میلین کے مطابق ستمبر سنہ 2023 میں رافائل نے دوبارہ ان سے رابطہ کیا جب وہ جیل سے رہا ہوئے تھے اور ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔

میلین کہتی ہیں کہ ’مجھے لگا تھا کہ شاید میں انھیں بدل سکتی ہوں یا کسی نہ کسی طرح اُن کی مدد کر سکتی ہوں۔‘

سنہ 2024 کے آغاز میں دونوں ایک ساتھ رہنے لگے۔ میلین کے مطابق پہلی بار اُن پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ ایک دن کام سے واپس گھر پہنچیں اور رافائل کو منشیات استعمال کرتے ہوئے دیکھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے ایک چھری اٹھائی اور مجھ پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔‘ ان کے مطابق رافائل نے گھر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی یہاں تک کہ اُن سے گھر کے برقی آلات اور فرنیچر بھی نہیں بچا۔

اس روز پڑوسیوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی تو میلین زخمی حالت میں ملیں، جبکہ رافائل کو خاتون کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس سٹیشن میں میلین نے ایمرجنسی پروٹیکٹو میژر کی درخواست دی۔ یہ برازیل کے ماریا دا پینہ قانون کے تحت فراہم کیا جانے والا حفاظتی حکم ہے، جس کا مقصد متاثرہ خاتون کو تحفظ فراہم کرنا، مبینہ حملہ آور کو اس سے دور رکھنا اور تشدد کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔

تاہم دو دن بعد جب میلین نے ایک پولیس افسر کے سامنے بیان دیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ دوبارہ رافائل کے ساتھ رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

میلین کے مطابق اس پر پولیس افسر نے انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ شخص یا تو ایک دن آپ کو جان سے مار دے گا، یا پھر آپ اس کی جان لے لیں گی۔‘

اپنی والدہ، دوستوں اور یہاں تک کہ پولیس افسر کی تنبیہ کے باوجود میلین اس وقت گھریلو تشدد سے متاثرہ تھیں۔ انھوں نے حفاظتی حکم ختم کرنے کی درخواست کر دی۔

رافائل کی دوبارہ رہائی کے تقریباً ایک ماہ بعد جب میلین نے انھیں ایک بار پھر اپنے ساتھ رکھ لیا تو اسی دوران انھوں نے رافائل کو مار ڈالا۔

The history of threats and aggression in a relationship is evaluated to determine if there was legitimate self-defense.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حقِ دفاع

برازیل کے فوجداری قانون (پینل کوڈ) کی دفعہ 25 کے تحت دفاع کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی غیر قانونی، موجودہ یا فوری خطرے کے جواب میں اپنی جان یا حفاظت کے لیے ضرورت کے مطابق طاقت استعمال کرتا ہے تو اسے جرم نہیں سمجھا جاتا۔

برازیل کی ریاست سانتا کیٹرینا کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے وابستہ اور نووا یونیورسٹی آف لزبن میں جینڈر سٹڈیز کی محقق شیمیلی مارکون کہتی ہیں کہ ’غیر قانونی حملے سے مراد ایسا ہر تشدد ہے جسے قانون کا تحفظ حاصل نہ ہو۔‘

ان کے مطابق یہ ایسا حملہ ہوتا ہے جو کسی شخص کے بنیادی حقوق، جیسے زندگی، جسمانی سلامتی، آزادی یا وقار کی خلاف ورزی کرے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد نہ ہو۔

مارکون کا کہنا ہے کہ ’گھریلو تشدد کے مقدمات میں خطرہ اکثر کسی ایک اچانک حملے کی صورت میں سامنے نہیں آتا بلکہ متاثرہ شخص مسلسل خوف اور خطرے کی حالت میں رہتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’گھریلو تشدد کا سلسلہ عام طور پر سیدھا نہیں ہوتا۔ اس میں تشدد، پچھتاوا، معافی کے وعدے، جذباتی دباؤ اور انحصار جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ فرد برسوں تک اس رشتے سے نکل نہیں پاتا۔‘

ان کے مطابق ’اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تشدد کرنے والے ساتھی کے قتل کو درست قرار دیا جائے، لیکن گھریلو تشدد کی پیچیدہ اور بتدریج بڑھنے والی نوعیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

’میں نے دباؤ میں رہ کر گولی چلانا سیکھی‘

ارسلہ کا کہنا ہے کہ انھیں گولی چلانا ان کے شوہر نے سکھایا تھا، جو ایک پولیس اہلکار تھے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’وہ بیرک سے گھر آتے، اپنی پستول میز پر رکھتے، میگزین سے تمام گولیاں نکال دیتے اور مجھے کہتے کہ انھیں دوبارہ بھرو۔ اگر مجھ سے غلطی ہوتی تو وہ میرے ہاتھ پر مارتے تھے۔‘

ارسلہ کہتی ہیں کہ ’میں نے دباؤ میں رہ کر گولی چلانا سیکھی اور یہی چیز بعد میں میری جان بچانے کا سبب بنی۔ اگر مجھے گولی چلانا نہ آتی تو شاید آج میں زندہ نہ ہوتی۔‘

ان کے مطابق پہلی بار ان پر جسمانی تشدد اس وقت ہوا جب ان کی شادی کو تقریباً دس سال ہونے والے تھے۔ اسی دوران برازیل میں ماریا دا پینہ قانون پر بحث جاری تھی۔

ارسلہ کو یاد ہے کہ اس وقت ان کے شوہر انھیں دھمکی دیتے تھے کہ ’اگر تم نے میری شکایت کی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا، تمہاری لاش تھیلے میں ڈال کر دریا میں پھینک دوں گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے کبھی پولیس میں شکایت درج نہیں کرائی کیونکہ انھیں نہ صرف ان دھمکیوں کا خوف تھا بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے شوہر خود پولیس افسر تھے۔‘

خاندانی قوانین کی ماہر وکیل آنا پاؤلا دی اولیویرا انتونیس گذشتہ 25 برس سے اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آج بھی بہت سی خواتین اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی رپورٹ درج نہیں کراتیں۔‘

ان کے مطابق ’متاثرہ خواتین مدد نہیں مانگتیں کیونکہ انھیں یقین نہیں ہوتا کہ ان کی بات پر اعتبار کیا جائے گا۔ پولیس سٹیشن جانا ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہاں انھیں سب کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے ان کی بات پر شک کیا جاتا ہے اور کئی بار انھیں دوبارہ ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اسی وجہ سے تشدد کا شکار زیادہ تر خواتین مدد لینے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انھیں نظام سے تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔‘

ارسلہ بتاتی ہیں کہ شروع میں انھیں امید تھی کہ ماں بننے کے بعد ان کے شوہر کا رویہ بہتر ہو جائے گا لیکن جب ان کے بیٹے پر بھی تشدد شروع ہوا تو انھوں نے طلاق لینے کا فیصلہ کیا۔

اس پر انھیں دو جواب ملے۔

پہلا یہ کہ ’تم یہاں سے صرف لاش بن کر نکلو گی۔‘ اور دوسرا یہ کہ ’تم فریج، چولہا یا گھر کا کوئی بھی سامان لے جا سکتی ہو، لیکن میرا بیٹا نہیں لے جا سکتی۔‘

ان دھمکیوں کے باعث ارسلہ نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔

فروری سنہ 2008 میں، جس دن انھوں نے اپنے شوہر کو قتل کیا ارسلہ کے مطابق وہ ڈیوٹی سے انتہائی غصے کی حالت میں گھر واپس آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دن کی نہیں بلکہ پہلے سے جاری دھمکیوں کو دہرا رہے تھے۔

ارسلہ کہتی ہیں کہ ’اس ہفتے وہ بار بار کہنے لگے تھے کہ وہ واقعی مجھے اور میرے بیٹے کو قتل کر دیں گے پھر خودکشی کر لیں گے۔‘

ان کے مطابق ایک اور دھمکی دینے کے بعد ان کے شوہر اپنا اسلحہ لینے کے لیے بیڈروم کی طرف گئے۔

ارسلہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اُن سے پہلے ہی کچن سے بندوق اُٹھائی اور گولی چلا دی۔‘

بی بی سی برازیل نے ارسلہ کے شوہر کے اہلِ خانہ سے اس مقدمے پر مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

تحقیقات اور بریت

Before the verdict or a possible acquittal, many women in Brazil who have killed their partners remain in custody awaiting trial.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میلین کا کہنا ہے کہ جب پولیس موقع پر پہنچی اور رافائل کی موت کی تصدیق کی تو انھیں گرفتار ہونے کا خوف نہیں تھا کیونکہ ان کے خیال میں انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔

پولیس سٹیشن میں شروع ہی سے ان کے مقدمے کو حقِ دفاع کے تناظر میں دیکھا گیا، جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تاکہ وہ آزاد رہتے ہوئے قانونی کارروائی کا سامنا کر سکیں۔

برازیل میں پولیس کمشنرز کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی واقعے کو حقِ دفاع قرار دے سکتے ہیں، جیسا کہ میلین کے مقدمے میں کیا گیا۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم خود بخود بری ہو جاتا ہے۔ پولیس اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد مقدمہ ریاست کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کو بھیجتی ہے، جو فیصلہ کرتا ہے کہ مقدمہ خارج کیا جائے، مزید شواہد طلب کیے جائیں یا عدالت میں فردِ جرم عائد کی جائے۔

اس وقت میلین کا مقدمہ اسی مرحلے میں ہے اور پراسیکیوٹر کا دفتر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔

اگر فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تو عدالت مقدمے کی سماعت کرے گی اور فیصلہ کرے گی کہ آیا حقِ دفاع کا دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ حتمی فیصلہ جج کریں گے۔

میلین کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی پولیس کمشنر ویویانے کوسٹا ریوس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ میلین نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

ان کے مطابق اس سے پہلے بھی رافائل میلین پر حملے کر چکا تھا۔ ان کے خلاف ڈکیتی، چوری اور میلین کو قتل کرنے کی کوشش جیسے جرائم کا ریکارڈ موجود تھا، جبکہ شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ واقعے کے وقت وہ شراب اور منشیات کے نشے میں تھے۔

کمشنر کے مطابق میلین نے جس ہتھیار کا استعمال کیا، وہ کچن میں موجود ایک چھری تھی، جو حملے کے دوران اس کی پہنچ میں تھی۔

ویویانے کوسٹا ریوس کہتی ہیں کہ ’انھوں نے صرف ایک وار کیا، پھر خود ہی ایمرجنسی سروس کو فون کیا، رافائل کی مدد کرنے اور اس کا خون روکنے کی کوشش کی اور پولیس کے آنے تک وہیں موجود رہیں۔‘

اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کمشنر نے کہا کہ میلین اس وقت ایسی صورتحال میں تھی جہاں ان کی زندگی کو فوری اور سنگین خطرہ لاحق تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’رافائل حملہ آور ہو چُکے تھے۔ اگر میلین مدد لینے کے لیے وہاں سے نکل جاتی تو کیا وہ زندہ بچ پاتیں؟‘

پھر انھوں نے خود ہی جواب دیا، ’میرے خیال میں نہیں۔‘

ویویانے کوسٹا ریوس کا کہنا ہے کہ ’سول پولیس میں اپنی 16 سالہ ملازمت کے دوران یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں انھوں نے حقِ دفاع کی بنیاد پر کارروائی دیکھی ہے۔‘

بی بی سی برازیل نے اس مقدمے پر مؤقف جاننے کے لیے رافائل کے اہلِ خانہ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

’میں اسے بری قرار دیتا ہوں‘

جب ارسلہ کو احساس ہوا کہ ان کے شوہر اب حرکت نہیں کر رہے تو انھوں نے اپنی جان لینے کا بھی سوچا۔ لیکن اسی لمحے انھیں دروازے پر کھڑے اپنے بیٹے کی آواز سنائی دی، جس نے انھیں اس ارادے سے روک دیا۔

ارسلہ کہتی ہیں کہ ’تب مجھے ہوش آیا۔ میں نے سوچا، ’میں نے اسے مار دیا ہے، اب مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا۔‘

ان کے مطابق انھوں نے دودھ کا ایک ڈبہ اور اپنے بیٹے کا ویڈیو گیم کنسول اٹھایا اور گھر سے نکل گئیں۔

سب سے پہلے وہ اپنے بھائی کے گھر گئیں، جہاں سے انھوں نے پولیس کو فون کر کے اطلاع دی کہ ان کے شوہر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے والد کے گھر گئیں اور پھر وہاں سے ایک دوست کے گھر چلی گئیں۔

ایک ہفتے بعد وہ اپنے وکیل کے ساتھ پولیس سٹیشن پہنچیں اور اپنے شوہر کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔

پولیس کمشنر نے انھیں مقدمے کی کارروائی کے دوران آزاد رہنے کی اجازت دی، تاہم ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، یعنی ایسا قتل جس میں جرم کو سنگین بنانے والے اضافی حالات موجود نہ ہوں۔

اس مقدمے کے پہلے عدالتی فیصلے تک پہنچنے میں نو سال لگے، جسے ارسلہ ’ذہنی اذیت کا دور‘ قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر عدالتی سماعت بار بار ملتوی ہوتی رہی اور نئی تاریخیں دی جاتی رہیں۔

تاہم مقدمے کا انجام غیر معمولی تھا۔ سرکاری استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ ارسلہ کو ابتدائی طور پر ہی بری کر دیا جائے، یعنی مقدمہ مزید کارروائی کے بغیر، گواہوں کے بیانات سنے یا نئے شواہد اکٹھے کیے بغیر ختم کر دیا جائے۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی درخواست پر، پہلی عدالت کے جج نے سنہ 2017 میں ارسلہ کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔

ارسلہ کے مطابق، فیصلے کے روز جج نے ان سے کہا ’میں آپ کو تمام الزامات سے بری قرار دیتا ہوں۔ اب یہاں سے جائیں، اپنی اور اپنے بیٹے کا خیال رکھیں۔‘

Ursula's case had an unusual outcome: she was summarily acquitted.

،تصویر کا ذریعہPersonal file

اس مقدمے میں ارسلہ کی نمائندگی کرنے والی سرکاری وکیل گلاوسیا فونسیکا بھی عدالت میں موجود تھیں، جب جج نے ارسلہ کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

فونسیکا کے مطابق ارسلہ کی کہانی میں وہ تمام عناصر موجود تھے جو گھریلو تشدد کے کئی مقدمات میں دیکھے جاتے ہیں، جن میں روزانہ کی بنیاد پر تشدد، شوہر کا پولیس اہلکار ہونا، شراب نوشی کا تشدد کو مزید بڑھانا اور مسلسل تشدد کا ایک واضح سلسلہ شامل تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہر طرح کی توہین اور تضحیک ہوتی تھی۔ اس قسم کا رویہ انسان پر گہرا جذباتی اثر چھوڑتا ہے۔‘

تاہم ان کے مطابق پولیس کی تحقیقات میں گھریلو تشدد کی اس پوری تاریخ کو شامل نہیں کیا گیا۔

فونسیکا کہتی ہیں کہ ’خاتون کی کہانی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پولیس اس پہلو کی تحقیقات ہی نہیں کرتی۔‘

ان کے بقول ’اکثر خواتین کو ہی جارح مزاج، حسد کرنے والی یا جذباتی قرار دے دیا جاتا ہے۔‘

’میں نے اس کی بہت بھاری قیمت چکائی‘

ارسلہ کہتی ہیں کہ مقدمے کے نو سال تک جاری رہنے کے دوران ان کی زندگی جیسے رُک سی گئی تھی۔

شادی کے دوران وہ گھریلو خاتون تھیں، لیکن شوہر کی موت کے بعد انھوں نے اپنی اور اپنے بیٹے کی کفالت کے لیے دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

وہ بتاتی ہیں کہ مقدمے کے دوران جب بھی عدالت میں پیشی کی تاریخ مقرر ہوتی، ان کے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا کہ ’اگر مجھے گرفتار کر لیا گیا تو میرے بیٹے کا کیا ہوگا؟‘

ارسلہ کے مطابق وہ نہ تو طویل سفر کر سکتی تھیں، نہ ہی کسی دوسرے شہر منتقل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی ایسی اچھی ملازمت قبول کرنے کی ہمت کرتی تھیں جس کے لیے سفر کرنا ضروری ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت روتی تھی اور بس ہر وقت روتی ہی رہتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ میں نے خود کو سنبھال لیا اور مضبوط ہوتی گئی۔ میری ساری توجہ اب صرف میرے بیٹے کی ہی جانب تھی۔‘

اب ارسلہ کو گھریلو تشدد کا شکار خواتین کی مسلسل فون کالز موصول ہوتی ہیں جن میں وہ ان سے مدد مانگتی ہیں۔ تو وہ ایسی خواتین کی رہنمائی بھی کرتی ہیں اور گھریلو تشدد کے موضوع پر مختلف تقریبات میں لیکچر دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ہر لیکچر میں خواتین سے یہی کہتی ہوں کہ ’جو میں نے کیا، آپ ایسا نہ کریں۔‘ کیونکہ میں نے اس کی بہت بھاری قیمت چکائی۔‘