کشمیر الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ ختم مگر مظفرآباد میں کشیدگی برقرار: پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ایک دوسرے پر الزامات

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو 
    • مقام, مظفر آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث پولنگ موخر کی گئی تھی، جبکہ اس مرحلے کے دوران مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر چار لاکھ سے زیادہ ووٹرز نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

مظفرآباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔

جمعے کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مظفر آباد شہر کے لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر دیے تھے۔

ادھر الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق مظفرآباد میں الیکشن کے پُرامن انعقاد کے لیے 18 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں پولیس اور رینجرز شامل ہیں۔ جبکہ مظفرآباد کے حلقوں ایل اے 5 کھاوڑہ اور ایل اے 3 لجرہ کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

مظفر آباد شہر کے گنجان آباد علاقوں میں رکاوٹیں لگا کر راستے بند
،تصویر کا کیپشنکئی مقامی لوگوں نے اپنی ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے

’امکان ہے کہ ہم نتائج مسترد کر دیں گے‘

اُدھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بی بی سی کی تابندہ کوکب کو بتایا کہ ’ہم پہلے دن سے اس حق میں نہیں تھے کہ یہ الیکشن ہوں اور اس کے نتائج ممکنہ طور پر ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گے اور امکان ہے کہ ہم ان نتائج کو مسترد کر دیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’شام کو نتائج آنے کے بعد ہم حتمی فیصلہ کریں گے کہ آیا ہم ان نتائج کو قبول کرتے ہیں یا انھیں مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

انتخابی نتائج کے بعد ممکنہ طور پر کسی سیاسی اتحاد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر فیصل راٹھور کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن سمیت کسی بھی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

دوسری جانب ن لیگ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ پنجاب میں سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’جو جماعت شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے، اسے سمجھنا چاہیے کہ الیکشن دھمکیوں یا الزام تراشی سے نہیں جیتے جاتے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 جولائی کو میر پور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

ان انتخابات میں مسلم لیگ ن کو 13 میں سے نو جبکہ پیپلز پارٹی کے اُمیدوار چار نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔

اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کشمیر کے عوام کے ووٹ پر ڈاکا مار رہی ہے۔‘

ووٹروں کی تعداد کم اور سکیورٹی کے سخت انتظامات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مظفرآباد میں موجود بی بی سی اردو کی نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق شہر کے صدر مقام پر اہم سرکاری عمارتوں اور نسبتاً محفوظ علاقوں میں قائم پولنگ سٹیشنز پر گہما گہمی تو دکھائی دی لیکن ووٹ ڈالنے والوں کے مقابلے میں پنجاب پولیس کے اہلکار کہیں زیادہ نظر آئے۔

ان کے مطابق دوپہر 12 بجے تک بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کی تعداد نہایت کم تھی۔ انتخابی عملے نے اس کی وجہ اتوار کی چھٹی اور بارش بتائی۔ ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر امجد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات پولنگ کے اوقات سے متعلق پھیلنے والی افواہوں نے بھی ووٹر ٹرن آؤٹ کو متاثر کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جن علاقوں میں ماحول کشیدہ تھا، وہاں عملے کو بھی سکیورٹی کلیئرنس کے باعث علی الصبح پولنگ سٹیشنز پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دور دراز علاقوں کے بعض پولنگ سٹیشنز تک خراب موسم اور احتجاج کے باعث بند راستوں کی وجہ سے عملہ دوپہر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔‘

جن پولنگ سٹیشنز کا بی بی سی نے دورہ کیا، وہاں پولنگ مجموعی طور پر پُرامن مگر انتہائی سست رفتار تھی۔ گذشتہ رات احتجاج اور جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں میں بھی ووٹنگ جاری تھی تاہم ایک مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوا اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد بی بی سی کی ٹیم کو وہاں سے فوری طور پر نکلنا پڑا۔

کشیدگی کے باعث اس پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ روک دی گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔

مظفر آباد میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں
،تصویر کا کیپشنایک شخص نے میڈیا سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہماری خبر دیتے ہیں اور نہ ہمارا موقف بتاتے ہیں، انھیں ہم اپنے علاقے میں کِس لیے جانے دیں؟‘

’ماضی سے مختلف الیکشن:‘ بی بی سی نے پولنگ ڈے پر کیا دیکھا؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یہ انتخابات احتجاج کے سائے میں ہو رہے ہیں اور انتخابی عمل کے حوالے سے لوگوں کی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

خدشات کے عین مطابق مظفر آباد ڈویژن میں پولنگ سے دو دن قبل ہی کشیدگی شروع ہو گئی تھی۔ مظاہرین کسی ایک جگہ جمع ہونے کے بجائے اپنے اپنے گلی محلوں میں نکلے اور سڑکیں بند کر دیں۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے انھیں منشتر کرنے کے لیے کارروائی بھی کی گئی۔

پولنگ شروع ہوئی تو بی بی سی کی ٹیم نے شہر کے نسبتاً محفوظ اور زیادہ سکیورٹی والے علاقوں میں موجود پولنگ سٹیشنز کا رخ کیا۔

اپر چھتر کے علاقے میں موجود ایک مردوں کے پولنگ سٹینشز پر دور سے گہما گہمی نظر آئی تو ایسا لگا ووٹرز ہیں پولنگ سٹیشن کے اندر جا کر معلوم ہوا کہ یہ سب پنجاب پولیس کے اہلکار ہیں، جن میں کچھ سادہ کپڑوں میں اور زیادہ تر وردیوں میں تھے۔

ایک سکول کی عمارت میں بنے پولنگ سٹیشن کی پہلی منزل اور گراؤنڈ میں قریباً ڈیڑھ سو اہلکار با آسانی دیکھے جا سکتے تھے۔

اس پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر امجد اعوان نے بتایا کہ ان کا گاؤں مظفر آباد سے لگ بھگ دو گھنٹے کے مسافت پر ہے اور انھیں رات تین بجے تک پولنگ سٹیشن آنے کے لیے سکیورٹی کلیئرنس ہی نہیں ملی۔

لوئر چھتر کے ایک پولنگ سٹیشن پر 10 کے قریب خواتین ووٹرز موجود تھیں۔ ان سے جب پوچھا کہ اس ماحول میں الیکشن ہو رہا ہے آپ مطمئن ہیں؟ تو عظمی بی بی نامی خاتون نے کہا ’ہمیں تو گھر کے سربراہ نے کہا ووٹ ڈالو تو ہم آ گئے۔‘

لوئر چھتر کے ہی ایک پولنگ سٹیشن پر جو مرکزی شاہراہ اور مظاہرین سے کافی دور تھا، وہاں مردوں کی بھی ایک محدود تعداد موجود تھی۔ وہیں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ووٹ تو نہیں ڈالنا چاہتے تھے تاہم وہ وہاں کا ماحول دیکھ رہے تھے۔

وہاں موجود ایک معمر شخص گلزار کاظمی نے کہا کہ ’ووٹ ڈالنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اگر اپنی مرضی نہیں کریں گے تو یہ اپنی مرضی کر لیں گے۔ اگر ہم بائیکاٹ کریں تو فیصلہ یکطرفہ ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ ہم ان (مظاہرین) کے مطالبات کے ساتھ ہیں لیکن آئین کی عزت کریں۔‘

قریب کھڑے ایک شخص نے لقمہ دیا ’جو بھی ہو سلیکٹ نہ ہو الیکٹ ہو۔‘

گوجرہ کے علاقے میں بھی مرکزی شاہراہ پر مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے رات بھر احتجاج کیا تھا، تاہم صبح یہاں خاموشی تھی۔ مرکزی شاہراہ سے دور گوجرہ کے ایک پولنگ سٹیشن میں قریباً دو درجن خواتین موجود تھیں۔

ان ہی میں ایک نوجوان ووٹر میرب بھی تھیں، جو پہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں موجود لوگ کشمیریوں کے مطالبات کو سمجھ نہیں سکے۔

انھوں نے بتایا ’وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ کشمیری چھوٹی چھوٹی باتوں پر باہر نکل آتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا یہ چھوٹی باتیں نہیں ہیں۔‘

میرب مظفرآباد میں ایک ایسے سیاستدان کی حامی تھیں جو پہلے بھی اس علاقے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت کو موقع ملنا چاہیے۔ ہم اپنے نمائندے کو اسی وعدے پر ووٹ دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ ہمارے لیے کچھ کریں گے۔ اور جہاں تک ان کے ماضی کا تعلق ہے تو انسان کا خیال کسی بھی وقت بدل سکتا ہے اس لیے ہم اپنے نمائندے سے کافی پُر اُمید ہیں۔‘

مظفر آباد کی ہی ایک معمر ووٹر رفعت گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ امانت ہے، ہم ووٹ اس لیے دے رہے ہیں کہ ہمارے حلقے کا امیدوار آئے گا تو ہماری بہتری کے لیے کام کرے گا۔‘

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عمومی طور پر جن پولنگ سٹیشنز پر 600 سے 700 ووٹ تھے وہاں آدھا دن گزر جانے کے بعد بھی صرف 15 یا 20 ہی ووٹ کاسٹ ہو پائے تھے۔

ہم نے مظفر آباد کے نسبتاً کشیدہ علاقوں لوئر اور سینٹر پلیٹ جانے کی کوشش کی تو لوئر پلیٹ، سماں بانڈی اور چیلہ بانڈی سے جھڑپوں کی اطلاعات آنے لگیں۔ سینٹر پلیٹ میں موجودگی کے دوران ہم نے لوئر پلیٹ کی جانب سے گولیاں چلنے کی آواز سنیں۔

سینٹر پلیٹ کے پولنگ سٹشن کے باہر مقامی افراد موجود تھے جو ووٹ نہیں ڈال رہے تھے اور راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھیں تھیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کل تک آپ پولنگ سٹیشن نہ کھلنے کی بات کر رہے تھے تو کیا انتظامیہ کے جانب سے کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہے جو پولنگ ہو رہی ہے؟

اس پر ایک مقامی شخص اعجاز راٹھور نے کہا ’ہم نے رکاوٹیں اس لیے کھڑی کی ہیں کہ یہاں پولیس اور فورسز کی گاڑیاں نہیں آنے دیں گے۔ باقی محلے کے سیاسی کارکنوں نے کہا کہ پولنگ ہو گی تو ہم نے منع نہیں کیا۔ ہم کسی کو ووٹ دینے سے نہیں روک رہے۔ ہم نے اپنے محلے داروں کے سیاسی حق کا احترام کیا ہے۔ یہ ہمارا آپس کا فیصلہ ہے۔‘

اسی علاقے میں موجود ایک پولنگ سٹیشن میں عملے میں شامل خاتون راحیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کی ڈیوٹی اس کشیدہ علاقے میں تھی اس لیے وہ اپنے علاقے سے یہاں آتے ہوئے گھبرا رہی تھیں۔

’میں اپنی گاڑی پر آئی، راستے میں نوجوان مظاہرین تھے۔ میں گھبرا گئی کہ یہ پتھر نہ مار دیں۔ گاڑی کا شیشہ نہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ نہ ہمیں کسی نے روکا۔‘

سینٹر پلیٹ کا ہی دوسرا پولنگ سٹیشن، جو لڑکیوں کے سکول میں قائم تھا، وہاں مردوں اور عقب میں خواتین کا پولنگ بوتھ تھا۔

خواتین کے پولنگ سٹیشن میں داخل ہوتے وقت میں نے ایک بار پھر گولیوں کی آواز سنیں جو لوئر پلیٹ میں قدرے فاصلے پر سنائی دیں۔ اس وقت پولنگ سٹیشن میں صرف دو خواتین ووٹرز موجود تھیں۔

میں نے الیکشن عملے سے پوچھا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال میں اگر مظاہرین جو بظاہر الیکشن عمل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے لیکن کسی بھی وجہ سے ناراض ہو جاتے ہیں یا باہر احتجاج ہوتا ہے تو آپ ووٹوں کو کیسے محفوظ بنائیں گے؟

وہاں موجود پریزائیڈنگ آفیسر خواجہ اویس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں الیکشن کمیشن سے تربیت ملی ہے اور ہمارے پاس پلان موجود ہے کہ ہم کیا کریں گے۔‘

ان سے یہ بات میں نے متعدد بار فائرنگ کی آوازیں سننے کے بعد ہی پوچھی تھی۔ یہ بات کہہ کر میں پولنگ سٹیشن سے باہر نکلنے والی تھی کے باہر سے کچھ نوجوانوں کی بلند آوازیں سنائی دیں جیسے وہ کسی کو وہاں آنے سے خبردار کر رہے ہوں اور اس کے فورا بعد کافی قریب سے فائرنگ کی آواز آئی۔

پولنگ سٹیشن کے اندر موجود دو افراد مجھے فوراً واپس سٹیشن کے اندر لے گئے۔ باہر مظاہرین کا شور بہت زیادہ ہو گیا تھا۔

لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ کسی کو گولی لگی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے ایک شخص کو لڑکھراتے ہوئے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا۔

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل سنیچر کے روز پولنگ کے عملے کو سخت سکیورٹی میں پولنگ سٹیشنز کی طرف روانہ کیا گیا۔ ہر گاڑی کے ساتھ فوجی اہلکار تعینات تھے۔

مظفر آباد میں مقامی پولیس کے علاوہ الیکشن کے دوران سکیورٹی فرائض ادا کرنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی شہر میں موجود ہے۔

مگر مظفرآباد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد شہر کے حالات کشیدہ تھے۔ لگ بھگ تمام گنجان آباد علاقوں گوجرہ، طارق آباد، اپر پلیٹ، سینٹر پلیٹ، لوئر پلیٹ، سماں بانڈی اور چیلہ بانڈی میں مظاہرین نے رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر رکھے ہیں۔

ایک مقام پر مظاہرین گاڑیوں میں سوار افراد سے دوٹوک لہجے میں کہہ رہے تھے کہ ’گاڑی واپس گھما لیں، بس اس سے زیادہ ہم بات نہیں کریں گے!‘

مظاہرین میڈیا سے بھی ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ کپڑے سے اپنا چہرہ چھپائے ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ ہماری خبر دیتے ہیں اور نہ ہمارا موقف بتاتے ہیں، انھیں ہم اپنے علاقے میں کِس لیے جانے دیں؟‘

مظاہرین نے بی بی سی کی ٹیم کو شہر کے مختلف حصوں تک جانے کی اجازت دی اور ہمارے لیے بند راستے کھولے گئے۔

جب میں نے ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اس علاقے میں ان کا پولنگ سٹیشن کون سا ہے تو انھوں نے قدرے سخت لہجے میں کہا ’کون سا پولنگ سٹیشن؟ ہم یہاں کوئی پولنگ سٹیشن نہیں بننے دیں گے۔ نہ یہاں پولنگ سٹیشن بنے گا نہ کوئی ووٹ ڈالے گا۔‘

انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا ’اگر ایک بھی پولنگ سٹیشن بنا تو ان (حکومت) کے پاس بہانہ ہوگا کہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔‘

ناراضی کا ماحول اور ووٹرز کے شکوے

مظفر آباد شہر کے گنجان آباد علاقوں میں  رکاوٹیں لگا کر راستے بند
،تصویر کا کیپشنکئی سڑکوں کو پتھر لگا کر بند کیا گیا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور چہرہ چھپائے شخص نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے مطالبات ماننے کے بجائے ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ وہ لوگ بھی مر رہے ہیں جن کا احتجاج یا ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں۔‘

خیال رہے کہ جمعے کے احتجاج کے بعد ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والا ایک شخص راہگیر تھا۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن سردار تنویر کا دعویٰ تھا کہ وہ تنظیم کا رکن تھا جو فائرنگ سے ہلاک ہوا اور پولیس کی شیلنگ کے نتیجے میں تنظیم کے تین کارکن زخمی ہوئے تھے۔

دوسری طرف پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مظفرآباد میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن پر اس کے بقول 'شرپسند عناصر' نے حملہ کیا تھا۔

سنیچر کے روز ہم نے گلی محلوں میں جا کر نوجوانوں اور خواتین کی رائے جاننے کی کوشش کی تو ہر طرف ناراضی نظر آئی۔

جو لوگ الیکشن کے انعقاد کے حق میں تھے، وہ بھی سیاسی رہنماؤں کی ’بے رخی‘ سے ناراض تھے اور جو لوگ موجودہ حالات میں الیکشن نہیں چاہتے، وہ کشیدگی کی وجہ سے ناراض تھے۔

حجاب النسا ابھی سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں اس الیکشن میں پہلی مرتبہ ووٹ دینے والی تھی اور کافی پرجوش تھی۔ امید تھی کہ میرا ووٹ کسی مثبت اقدام کے کام آسکے گا۔

’لیکن اب حالات کی وجہ سے مشکل ہے کہ میں ووٹ دوں۔ ہمارے سیاسی رہنما تو ہمیں ہی تحفظ نہیں دے پا رہے۔‘

جمیلہ اسلم کہنا تھا کہ ’آپ کو شاید یہاں ووٹ دینے والا کوئی نہ ملے، یہ لیڈر تو الیکشن کے بعد بھول ہی جاتے ہیں کہ انھیں کس نے ووٹ دیا تھا۔ ان کے لیے ووٹ کی اہمیت تب تک ہے جب تک یہ اپنے بندوں کی نوکریاں لگوا لیتے ہیں۔‘

شازیہ بی بی بھی ان خواتین میں سے ہیں جو اپنے مقامی سیاستدانوں سے ناراض ہو کر ووٹ نہیں دینا چاہتیں۔ حالانکہ انھوں نے اپنے مقامی رہنما کے لیے باقاعدہ الیکشن مہم چلائی۔ ناراضی بھرے لہجے میں انھوں نے کہا ’یہ سیاستدان اپنے لوگوں کے لیے نہیں نکلے، یہ عوامی نمائندے ہیں ہی نہیں، یہ ہمارے حق کے لیے نہیں بول رہے، بے شک وہ صرف 400 ووٹ لے کر اسمبلی میں چلے جائیں کم سے کم ہمارا ضمیر مطمئن ہے کہ ہم نے اس حکومت کو ووٹ نہیں دیا۔‘

کوثر بی بی کی شکایت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر بار سیاسی جماعتیں بدل بدل کر سامنے آ جاتے ہیں۔‘

مظفر آباد میں انتخابی مہم
،تصویر کا کیپشنمتعدد مقامیوں کے مطابق ’لوگوں میں الیکشن سے مایوسی کی وجہ یہی سیاستدان ہیں‘

’جو ہمارے حق میں بولے گا، ووٹ اسے دیں گے‘

سیاسی رہنماؤں سے ناراضی میں مرد و خواتین کے خیالات تقریباً ایک جیسے نظر آئے۔

شکیل راٹھور نامی شہری نے کہا ’لوگوں میں الیکشن سے مایوسی کی وجہ یہی سیاستدان ہیں۔ جب مشکل میں ہم انھیں فون کرتے ہیں تو سب اپنے فون بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

شکیل کا کہنا تھا کہ ’ہم ووٹ نہیں دیں گے تو ہمیں کم از کم یہ اطمینان ہوگا کہ ہم اس ’کالے راج‘ کا حصہ نہیں۔‘

سنیچر کی شب مظفر آباد کے موجودہ حالات میں ایسے لوگوں کو تلاش کرنا بہت ہی مشکل تھا جو سرِ عام یہ کہہ سکیں کہ وہ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں یا ووٹ ڈالیں گے۔

راجہ حماد ان نوجوانوں میں شامل ہیں جنھوں نے اپنے پسند کے امیدوار کے لیے مہم چلائی اور وہ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ میری سیاسی جماعت یہاں بھی ترقیاتی کام کروائے گی۔‘

جبکہ ثوبیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ ’میں ووٹ دینے ضرور جاؤں گی۔ ووٹ تو حق ہوتا ہے۔ جب تک پُرامن طریقے سے بات نہیں ہوگی، کسی مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔‘

ان کی رائے میں لوگ ’ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے علاقے کے لوگ ہیں اور یہاں کے ترقیاتی منصوبوں میں یہی ہمارے کام آئیں گے۔‘

لیکن مظفر آباد کے ایک گنجان آباد علاقے کے رہائشی موسیٰ، جو پہلی بار ووٹ دینا چاہتے تھے، کہتے ہیں کہ ’اس وقت مجھے ایسا کوئی سیاستدان نظر نہیں آتا جسے ووٹ دیں۔ جو حالات ہیں کوئی سیاستدان اس بارے میں بات نہیں کر رہا۔‘

صبا نامی خاتون کا کہنا ہے کہ ’روایتی سیاسی جماعتیں ووٹ لینے کے لیے بہت متحرک ہوتی ہیں لیکن جب حقوق کی باری آتی ہے تو غائب ہو جاتی ہیں۔ انھیں ووٹ نہیں دیں گے۔ البتہ جو ہمارا خیال کرے گا اور ہمارے حق میں بولتا ہے تو ہم اسے ووٹ دیں گے۔‘

اسی طرح حیدر کیانی نامی نوجوان کو امید ہے کہ ان کے امیدوار کے جیتنے سے شہر میں ’حالات بہتر ہوں گے۔'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور آئینی کشمکش اور احتجاج نے ایسے لوگوں کو بھی جھنجھوڑا ہے جنھیں اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔

انھی میں ایک میمونہ ارشد بھی ہیں جو کہتی ہیں کہ اگرچہ انھوں نے 42 سال کی عمر میں آج تک کبھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے وہ ووٹ ضرور دیں گی۔

وہ کہتی ہیں ’میں حکمرانوں کو اپنا ذہنی دباؤ بتانا چاہتی ہوں۔ میں اسی وجہ سے ووٹ دینا چاہتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہم ووٹرز کی لاج رکھیں گے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفر آباد ڈویژن

الیکشن کے پہلے مرحلے کے نتائج

سنیچر کے روز الیکشن کمیشن کے سیکریٹری راجہ محمد شکیل نے بتایا تھا کہ الیکشن کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے نو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق میرپور ڈویژن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 46 فیصد رہا۔

انتخابات کا تیسرا مرحلہ پونجھ ڈویژن میں 10 اگست کو ہو گا۔