سستی ایئرلائنز کو بچانے کا منصوبہ: ’بغیر بیت الخلا کے جہاز اور کھڑے ہو کر جانے والے مسافروں کے لیے الگ کیبن‘

Airlines

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بی بی سی منڈو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سستا ہوائی سفر فراہم کرنے والی فضائی کمپنیاں اپنی تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں، ایک ایسا بحران جسے بعض ماہرین کورونا وبا کے دوران درپیش مشکلات سے بھی زیادہ سنگین قرار دیتے ہیں۔

سستا ہوائی سفر فراہم کرنے والی انڈسٹری کو ایک دھچکہ رواں برس مئی میں اس وقت لگا جب امریکی ایئرلائن سپرٹ گذشتہ 25 برسوں میں ختم ہونے والی ملک کی پہلی بڑی فضائی کمپنی بن گئی۔

ماہرین کا اتفاق ہے کہ تیل کی موجودہ قیمتوں کے سبب مزید کئی کمپنیاں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر سکتی ہیں۔

بریگزٹ کے بعد اپنا ہیڈکوارٹر آسٹریا منتقل کرنے والی برطانوی فضائی کمپنی ایزی جیٹ کو ایک امریکی سرمایہ کاری فنڈ کی جانب سے ممکنہ خریداری کا سامنا ہے۔ یہ فنڈ مالی مشکلات کا شکار ایئرلائنز کے حصول میں مہارت رکھتا ہے، حالانکہ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایزی جیٹ کا کنٹرول صرف یورپی شہریوں کے پاس ہی رہ سکتا ہے۔

ملائیشیا کی فضائی کمپنی ایئرایشیا کے بانی ٹونی فرنینڈس نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام بزنس ڈیلی کو بتایا ’کووڈ ایشیا میں ہمارے لیے تباہ کن ثابت ہوا اور مجھے تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہوا۔‘

انہوں نے کہا: ’وبا کے پھیلاؤ کے دوران لوگ پرواز کرنے کی توقع نہیں رکھ رہے تھے، لیکن اب وہ ایسا چاہتے ہیں۔ اورہمارے قرض دہندگان اب اپنی رقوم کی واپسی چاہتے ہیں۔ ہر شخص حالات کو ایسے دیکھ رہا ہے جیسے یہ معمول کا وقت ہو، اس لیے موجودہ صورتحال کچھ زیادہ مشکل ہے۔‘

اپنے کاروباری ماڈل کی وجہ سے یہ فضائی کمپنیاں اپنے آپریٹنگ اخراجات میں ہونے والے کسی بھی اضافے کے لیے خاص طور پر حساس ہوتی ہیں۔

ایران کے تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے ان کے منافع کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر کے رکھ دیا ہے۔

ڈبلن یونیورسٹی میں ایوی ایشن مینجمنٹ کی پروفیسر مارینا افتھیمیو نے بزنس ڈیلی کو بتایا کہ ’حتیٰ کہ آئی اے ٹی اے (انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن) نے بھی کہا ہے کہ سپرٹ کے دیوالیہ ہونے کی اہم وجوہات میں سے ایک ایران کی جنگ تھی۔‘

Spirit Airline

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ صورتحال متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے: کم لاگت والی فضائی کمپنیاں اتنے مسائل کا شکار کیوں ہیں؟ جنگ کے اثرات ان پر روایتی فضائی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں پڑ رہے ہیں؟

اور شاید ہم سب کے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ان مشکلات کا مجموعی طور پر ہوائی سفر کے کرایوں پر کیا اثر پڑے گا؟

زیادہ مسافر، کم سہولیات

سستا ہوائی سفر فراہم کرنے والی فضائی کمپنیوں کی تاریخ کا آغاز 1977 میں لیکر ایئرویز کی سکائی ٹرین سروس سے ہوا، جس نے لندن اور نیویارک کے درمیان روایتی فضائی کمپنیوں جیسے پین ایم اور ٹی ڈبلیو اے کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی قیمت پر سفر کی سہولت فراہم کی۔

اگرچہ یہ کمپنی 1982 میں دیوالیہ ہو گئی، تاہم اس نے ایک ایسا کاروباری ماڈل متعارف کرایا جسے بعد میں بہت سی دیگر کمپنیوں نے اختیار کیا: یعنی روایتی فضائی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی اضافی سہولیات کو ختم کرنا۔

بزنس ڈیلی کے میزبان راہُل ٹنڈن کہتے ہیں کہ ’ان ایئرلائنز میں نہ مفت کوکا کولا ملتی تھی اور ٹانگیں پھیلانے کے لیے زیادہ جگہ بھی نہیں ہوتی تھی۔‘

’خیال یہ تھا کہ آپ کو آپ کی منزل تک پہنچایا جائے، اس اصول کے تحت کہ اصل اہمیت صرف وہاں پہنچنے کی ہے، اور وہ بھی جتنا ممکن ہو کم خرچ میں۔‘

راہل ٹنڈن کے بقول کے مطابق ایک طرح سے یہ ’فضائی سفر کو عام لوگوں کی دسترس میں لانے‘ کا عمل تھا۔

یہ ماڈل اتنا مؤثر اور مقبول ثابت ہوا کہ پوری دنیا میں پھیل گیا اور یورپ میں رائن ایئر اور ایزی جیٹ، امریکہ میں ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز، جیٹ بلو اور سپرٹ، جبکہ لاطینی امریکہ میں وولاریس، جیٹ اسمارٹ اور سکائی ایئرلائن جیسی معروف کمپنیاں اسی طرز پر قائم ہوئیں۔

تاہم اپنی فطرت کے اعتبار سے کم لاگت والی فضائی کمپنیاں عالمی حالات و واقعات کے اثرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ حساس ثابت ہوئیں۔

مشکلات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کورونا کی وبا نے بہت سی فضائی کمپنیوں کو انتہائی نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بعض کمپنیوں کے لیے آخری کاری ضرب ثابت ہو رہا ہے۔

پروفیسر افتھیمیو کے مطابق ’منافع کا مارجن مسلسل کم ہو رہا ہے، خاص طور پر کم لاگت والی فضائی کمپنیوں کے لیے، جن کا ڈھانچہ اور آپریشن پہلے ہی بہت محدود اخراجات پر مبنی ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف اقسام کے اخراجات کو پہلے ہی ممکنہ حد تک کم کر رکھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’چونکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بار پھر ان کے آپریٹنگ اخراجات کا بڑا حصہ بن گئی ہیں، اس لیے قیمت کے حوالے سے حساس صارفین سے واسطہ پڑنے پر ان کے لیے اس اضافی خرچ کو کرایوں میں منتقل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

یہ بات خاص طور پر ان فضائی کمپنیوں کے لیے درست ہے، جو بڑی ایئرلائنز کی طرح فیوچر معاہدوں کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں پہلے سے طے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔

بزنس ڈیلی کے شریک میزبان ول بیئر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں آپ ایندھن کی قیمت بہت پہلے ادا کر دیتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ممکن ہے آپ کو مارکیٹ میں دستیاب سب سے بہترین معاہدہ نہ ملے، لیکن آپ ایک یقینی اور مقررہ قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس لیے اگر قیمتیں کم بھی ہو جائیں تو آپ تیل کی سستی قیمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، تاہم آپ کو ایک طے شدہ قیمت کا اطمینان حاصل رہے گا۔‘

’رائن ایئر کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اولیری نے اس ہفتے کمپنی کے مالی نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کے پورے سال کے لیے انہوں نے اپنے ایندھن کے اخراجات کا 80 فیصد حصہ فی بیرل 67 امریکی ڈالر کی قیمت پر محفوظ کر لیا ہے۔‘

’یہ قیمت تیل کی موجودہ قیمت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے اور زیادہ تر ایران کے تنازع سے قبل کی سطح کے قریب ہے۔‘

Ryan Air

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پروفیسر افتھیمیو نے وضاحت کی کہ سپرٹ جیسی کمپنیوں کے معاملے میں مستقبل کی قیمتوں کو پہلے سے طے کرنا ہمیشہ ان کے مفاد میں نہیں ہوتا، حالانکہ تیل کی عالمی قیمتوں پر انحصار کرنے کا خطرہ دیوالیہ پن تک لے جا سکتا ہے، جیسا کہ زرد رنگ کے طیاروں والی اس فضائی کمپنی کے ساتھ ہوا۔

کم لاگت والی فضائی کمپنیوں کے لیے ایک اور پیچیدگی روایتی فضائی کمپنیوں کے ساتھ بڑھتا ہوا مقابلہ ہے، جنہوں نے اپنے مجموعی کاروباری ماڈل میں مختصر فاصلے کے سفر کے لیے کم لاگت طرز کی خدمات بھی شامل کر لی ہیں۔

اس کے نتیجے میں بہت سے مسافروں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آج کل کم لاگت والی فضائی کمپنی کا ٹکٹ خریدنے پر جتنی رقم خرچ ہوتی ہے، وہ روایتی فضائی کمپنی کے ٹکٹ کی قیمت سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔

سستے ہوائی سفر کا مستقبل

اس پس منظر میں اور ایسے وقت میں جب مسافر کرایوں میں اضافے کے حوالے سے حساس ہیں، کئی فضائی کمپنیاں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں پر غور کر رہی ہیں۔

رائن ایئر کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اولیری نے اس حوالے سے کچھ تصورات پیش کیے ہیں کہ مستقبل میں انتہائی کم لاگت والی فضائی کمپنیاں کیسی دکھائی دے سکتی ہیں، حتیٰ کہ بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتوں کو بھی ختم کر کے۔

اولیری نے آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کو بتایا ’ہمارے طیاروں میں تین بیت الخلا ہیں۔‘

’اگر میں طیاروں کے پچھلے حصے میں موجود دو بیت الخلا ہٹا دوں تو میں چھ اضافی نشستیں لگا سکتا ہوں۔ ان چھ اضافی نشستوں کی بدولت میں پورے سال کے دوران ہر مسافر کے لیے ہوائی کرایہ مزید 5 فیصد کم کر سکتا ہوں۔‘

’اگر آپ آخری 10 قطاروں کی نشستیں ہٹا دیں تو ہمارے پاس ایک کیبن کھڑے ہو کر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اور دوسرا بیٹھنے والے مسافروں کے لیے ہو گا۔ بیٹھنے والے مسافروں کے لیے کرایہ 27 امریکی ڈالر اور کھڑے ہو کر سفر کرنے کی جگہ کے لیے صرف ایک امریکی ڈالر ہو گا۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ ہم سب سے پہلے کھڑے ہونے والی جگہ بھر لیں گے۔‘

پروفیسر افتھیمیو کا خیال ہے کہ کم لاگت والی فضائی کمپنیوں کی مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، خاص طور پر ایران کا تنازع مزید شدت اختیار کرنے کی صورت میں۔

’یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہم فضائی صنعت میں مزید انضمام اور خریداریوں، بعض ایئرلائنز کے دیوالیہ ہونے اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے مارکیٹ میں پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوششیں دیکھیں گے۔‘

’اگر یہ بحران جاری رہا تو کم منافع کمانے والی اور بہت محدود پیمانے پر کام کرنے والی فضائی کمپنیاں اپنی سرگرمیاں بند کر سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایئرلائن گروپس کے معاملے میں بھی، جیسے آئرلینڈ کی ایئر لنگس کو درپیش افسوسناک صورتحال جس میں 500 افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے، ایسے حالات رکاوٹیں پیدا کریں گے جو مسافروں کے لیے دستیاب انتخاب کے مواقع کو مزید متاثر کریں گی۔‘

Ryan Air

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی ایک مثال سپرٹ کے بند ہونے کے بعد کی متوقع صورتحال ہے، جس کی وضاحت ول بیئر نے دی: ’یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے نے ایک تحقیق کی جسے انہوں نے ’سپرٹ ایفیکٹ‘ کا نام دیا۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ مارکیٹ میں اس ایئرلائن کی محض موجودگی ہی امریکہ میں مجموعی ہوائی کرایوں کو 10 فیصد تک کم رکھنے کا باعث بن رہی تھی۔‘

یہ انڈسٹری مستقبل میں کیا رخ اختیار کرے گا، اس بارے میں فی الحال کچھ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم راہل ٹنڈن کا خیال ہے کہ مستقبل میں مارکیٹ میں انتخاب کے مواقع کم ہوں گے اور بالآخر اس کا اثر مسافروں کی جیبوں پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ اگر اس شعبے میں مزید انضمام ہوتے ہیں تو اس کا مطلب کم مقابلہ ہو گا اور عمومی طور پر کم مقابلے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ قیمتیں بڑھ جائیں گی۔‘