لائیو, ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبے کا اعلان، حماس غیر مسلح ہونے پر راضی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ’مکمل طور پر غیر مسلح‘ ہونے کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ان کا گروہ غیر مسلح ہونے پر راضی ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبے کا اعلان، حماس غیر مسلح ہونے پر راضی
  • کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں حادثے کے بعد 34 لاشیں نکال لی گئیں: مینیجر آپریشنز پی ڈی ایم اے
  • سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان، پاکستان اور ترکی سمیت 14 ممالک حمایت کرنے والوں میں شامل
  • کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں حادثے کے بعد 18 لاشیں نکال لی گئیں: مینیجر آپریشنز پی ڈی ایم اے
  • بلغاریہ میں امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی 'ناقابلِ قبول' ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

لائیو کوریج

  1. بورد آف پیس منصوبے کے ناکام ہونے کے کافی امکانات ہیں: شائمہ خلیل کا تجزیہ

    بورد آف پیس منصوبے کے اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ بی بی سی نے حماس کے ایک سینیئر عہدیدار کے ذریعے آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ گروہ اس روڈمیپ پر راضی ہے۔ لیکن امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے نمائندوں کی بریفنگ میں دو باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔

    پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہے۔ امریکی حکام نے بار بار زور دے کر کہا کہ ہر مرحلہ بعض شرائط سے مشروط ہو گا، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جائے گی اور ان کے مطابق یہ ’صفر اعتماد‘ کے اصول پر مبنی ہو گا۔ یعنی کوئی بھی فریق اس وقت تک اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہو گا جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر لے۔ اگر ماضی کی جنگ بندیوں کو سامنے رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کے تعطل کا شکار ہونے یا مکمل طور پر ناکام ہو جانے کے کئی امکانات موجود رہیں گے۔

    ہم ماضی میں ایسا ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے نتیجے میں ابتدا میں اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی اور غزہ میں مزید امداد پہنچنے لگی۔ تاہم بعد میں جنگ بندی ختم ہو گئی، غزہ پر بمباری دوبارہ شروع ہو گئی، امداد کی فراہمی رک گئی اور اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔

    دوسری اہم بات اس منصوبے کی غیر معمولی پیچیدگی ہے۔ معاملہ محض حماس کے غیر مسلح ہونے کا نہیں۔ روڈمیپ میں اس پورے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جسے امریکی حکام حماس کا وسیع فوجی انفراسٹرکچر قرار دیتے ہیں۔ اس میں سرنگوں کا جال، بھاری ہتھیار، اسلحہ سازی کی تنصیبات اور ہتھیاروں کے گودام شامل ہیں۔

    منصوبے کے مطابق پہلے چھوٹے عسکری گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جبکہ بعد کے مرحلے میں حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل اور فنی اعتبار سے بہت پیچیدہ عمل ہو گا۔

  2. تجزیہ: غزہ میں عسکری گروہوں کے غیر مسلح ہونے سے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گی, رشدی ابو العوف، بی بی سی نیوز کے نامہ نگار برائے غزہ

    کئی مہینوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد حماس نے پہلی بار بورڈ آف پیس کے اس فریم ورک کو قبول کر لیا ہے جس کے تحت غزہ میں موجود عسکری گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

    اس منصوبے کے مطابق حماس کے پاس موجود بھاری ہتھیاروں کی فہرست تیار کر کے انھیں فلسطینی نگرانی میں محفوظ کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو غزہ کے لیے ٹرمپ کی حمایت یافتہ امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کی قیادت کے انتخابات مکمل ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں غزہ میں موجود رہنما خلیل الحیہ تحریک کے سربراہ بن گئے ہیں۔

    مذاکرات میں شامل فلسطینی عہدیداروں کے بقول نئی قیادت ’حماس کی تاریخ کے سب سے اہم سیاسی فیصلے‘ کے لیے تیار تھی جسے انھوں نے قرار دیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو درپیش تباہ کن انسانی حالات ایک اہم محرک تھے۔

  3. اگر اسرائیل غزہ سے نہیں نکلا تو ٹرمپ کو ’بہت مایوسی‘ ہو گی: امریکی عہدیدار

    trump netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حال ہی میں صحافیوں کے ساتھ ایک بریفنگ کال کے دوران امریکی حکام سے پوچھا گیا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُرامید ہیں کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل غزہ سے انخلا پر رضامند ہو جائے گا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے جواب میں کہا: ’ہم اسرائیل سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اسی 20 نکاتی منصوبے پر عمل کرے جس سے وہ ابتدائی طور پر اتفاق کر چکا ہے۔ اس لیے ہمیں پورا اعتماد ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے گا۔‘

    امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ سے اپنی فوج نہیں نکالی تو صدر ٹرمپ ’بہت مایوس‘ ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل آئندہ بھی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرتا رہے گا۔

  4. ’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا فلسطینی گروہوں کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کا منصوبہ کیا ہے؟, شائمہ خلیل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    hamas

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی کو چار صفحات پر مشتمل ایک روڈمیپ حاصل ہوا ہے، جس میں غزہ میں موجود مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کے مرحلہ وار عمل کی تفصیلات موجود ہیں۔

    اس منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کو اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا اور ایک نئی عبوری فلسطینی اتھارٹی کے قیام سے جوڑا گیا ہے، جسے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہو گی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو جان بوجھ کر ’صفر اعتماد‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں تصدیق کے طریقۂ کار شامل ہیں، یعنی نہ حماس اور نہ ہی اسرائیل اگلے مرحلے میں اس وقت تک داخل ہوں گے جب تک مخالف فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر لیتا۔

    ان حکام کے مطابق، پہلے غزہ میں موجود نسبتاً چھوٹے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جس کے بعد حماس اپنی اس عسکری ساخت کو ختم کرنا شروع کرے گی جسے امریکی حکام نے ایک ’ریاست نما فوجی ڈھانچہ‘ قرار دیا ہے۔ اس میں سرنگیں، اسلحہ گودام اور ہتھیار سازی کی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

    روڈمیپ کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک نئی فلسطینی اتھارٹی غزہ میں تمام ہتھیاروں پر مکمل اختیار رکھے گی۔ اسرائیل نے تاحال اس منصوبے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  5. ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبہ، اسرائیلی مؤقف تاحال واضح نہیں

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا تھا کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ثالثوں اور حماس رہنماؤں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے گئے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ مجوزہ شرائط اطمینان بخش نہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس منصوبے کے اعلان کے بعد ٹائمز آف اسرائیل نے ایک گمنام ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے یہ معاہدہ حماس کے مذاکرات کاروں، بورڈ اور ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں کے درمیان طے پایا ہے۔

    تاہم رپورٹ کے مطابق ’ایک اسرائیلی دفتر‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلح ہونے کی تجویز یروشلم کے مطالبات پر پوری نہیں اترتی۔

    اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کی مخالفت کر رہا ہے۔

  6. جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ 20 نکاتی ٹرمپ منصوبے پر عمل درآمد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس معاہدے پر محتاط انداز میں مرتب کیے گئے مختلف مراحل کے تحت عمل کیا جائے گا۔

    ’جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ غزہ کو اس کے رہائشیوں اور پڑوسیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ذمہ داری سنبھالی جا سکے۔‘

    انھوں نے ثالثی کے کردار پر مصر، قطر اور ترکی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، جس نے مصری سرکاری ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیا ہے، قاہرہ میں غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ثالثوں کا ایک اجلاس منعقد ہو گا۔

  7. ٹرمپ کا بورڈ آف پیس منصوبے کا اعلان، حماس غیر مسلح ہونے پر راضی

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ’غیر مسلح ہونے‘ کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔

    حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی تنظیم غزہ میں مکمل غیر مسلح ہونے کے بورڈ آف پیس کے منصوبے سے متفق ہے اور اس بارے میں جلد ایک باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان تنظیموں کے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہونے پر غزہ سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔ انھوں نے اس معاہدے کو ’غزہ کے بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے تحت انتظام چلائے جانے کی جانب ایک اہم قدم‘ قرار دیا۔

    امریکہ کی ثالثی میں تیار کیے گئے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس کا غیر مسلحی ہونا شامل ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔

  8. کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں حادثے کے بعد 34 لاشیں نکال لی گئیں: مینیجر آپریشنز پی ڈی ایم اے

    Coal mine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے کے باعث مارے جانے والے 34 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    گذشتہ روز اس علاقے میں پیش آنے والا حادثہ جانی نقصان کے حوالے سے بلوچستان میں رواں سال کے دوران کوئلہ کانوں میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے جمعہ کی صبح بتایا کہ مزید دو کانکنوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف انکوائری کر کے اس حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق کانکنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

    سورینج کہاں واقع ہے؟

    سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔

    سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

    دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اور مزدور وابستہ ہیں۔

    سینئر مزدور رہنما لالا سلطان کا کہنا ہے کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے اور ٹھیکیداری کے نظام کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کانوں حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے ان حادثات میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔

  9. ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے معاونتی نیٹ ورک پر امریکی پابندیاں

    Mahan air

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزارتِ خزانہ نے جمعرات کے روز چھ افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں جن کا تعلق فضائی کمپنی ’ماہان ایئر‘ سے ہے۔ واشنگٹن اس ایئرلائن پر پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے۔

    نئی پابندیوں کا نشانہ ایک چینی شہری کے علاوہ چین، روس، ایران اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم کمپنیاں بھی بنی ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا: ’جو افراد پاسدارانِ انقلاب یا ماہان ایئر کو مالی، لاجسٹک یا تجارتی خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ ایک شدت پسند تنظیم کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ ایسے افراد کی نشان دہی اور انھیں بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی ختم کرنے کا عمل جاری رکھے گی۔‘

    ماہان ایئر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سویلین فضائی کمپنی کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی پروازیں چلاتی ہے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنی پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو سفری خدمات فراہم کرتی ہے اور ان کے لیے اسلحے کی منتقلی میں کردار ادا کرتی ہے۔

    تہران مسلسل ماہان ایئر اور سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرتے رہے ہیں۔

  10. سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان

    saudi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق جمعرات کو سعودی عرب نے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ ہے۔

    یہ اقدام یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک میں خلل پیدا کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی، جس میں مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنانے، جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی راہداریوں کو محفوظ بنانے اور باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔

    سعودی عرب کی وزارت وزارت کے مطابق ترکی، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ اتحاد کی حمایت کی ہے۔ خلیج کے چھ عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس بیان کی حمایت کی۔

  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔