بورد آف پیس منصوبے کے ناکام ہونے کے کافی امکانات ہیں: شائمہ خلیل کا تجزیہ
بورد آف پیس منصوبے کے اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ بی بی سی نے حماس کے ایک سینیئر عہدیدار کے ذریعے آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ گروہ اس روڈمیپ پر راضی ہے۔ لیکن امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے نمائندوں کی بریفنگ میں دو باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہے۔ امریکی حکام نے بار بار زور دے کر کہا کہ ہر مرحلہ بعض شرائط سے مشروط ہو گا، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جائے گی اور ان کے مطابق یہ ’صفر اعتماد‘ کے اصول پر مبنی ہو گا۔ یعنی کوئی بھی فریق اس وقت تک اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہو گا جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر لے۔ اگر ماضی کی جنگ بندیوں کو سامنے رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کے تعطل کا شکار ہونے یا مکمل طور پر ناکام ہو جانے کے کئی امکانات موجود رہیں گے۔
ہم ماضی میں ایسا ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے نتیجے میں ابتدا میں اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی اور غزہ میں مزید امداد پہنچنے لگی۔ تاہم بعد میں جنگ بندی ختم ہو گئی، غزہ پر بمباری دوبارہ شروع ہو گئی، امداد کی فراہمی رک گئی اور اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔
دوسری اہم بات اس منصوبے کی غیر معمولی پیچیدگی ہے۔ معاملہ محض حماس کے غیر مسلح ہونے کا نہیں۔ روڈمیپ میں اس پورے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جسے امریکی حکام حماس کا وسیع فوجی انفراسٹرکچر قرار دیتے ہیں۔ اس میں سرنگوں کا جال، بھاری ہتھیار، اسلحہ سازی کی تنصیبات اور ہتھیاروں کے گودام شامل ہیں۔
منصوبے کے مطابق پہلے چھوٹے عسکری گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا، جبکہ بعد کے مرحلے میں حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل اور فنی اعتبار سے بہت پیچیدہ عمل ہو گا۔







