افغانستان: شادی کی تقریب میں موسیقی روکنے کے لیے فائرنگ، دو ہلاک، 10 زخمی

وقت اشاعت

مشرقی افغانستان میں حکام کے مطابق ایک شادی کی تقریب میں حملہ کرنے والے افراد نے خود کو طالبان ظاہر کیا اور وہاں چلنے والی موسیقی کو بند کرنے کا کہا۔ اس دوران حملہ آوروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ تین حملہ آوروں میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے ایسا نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کہنے پر کیا تھا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک طالبان کے پہلے دور کے دوران موسیقی پر پابندی عائد تھی۔

اس موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعے کو صوبہ ننگر ہار کے سرخ راڈ ڈسٹرکٹ میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں چار جوڑوں کی شادی ہو رہی تھی۔

انھوں نے طالبان کے مقامی رہنما سے ریکارڈنگ کی صورت میں موجود میوزک کو چلانے کی اجازت لی تھی اور وہاں صرف خواتین موجود تھیں۔

لیکن رات گئے وہاں اسلحہ بردار افراد زبردستی گھس آئے اور لاؤڈ سپیکر توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن جب وہاں موجود مہمانوں نے مزاحمت کی تو انھوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔

مزید پڑھیے

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

صوبہ ننگر ہار میں طالبان کا مخالف گروہ دولت اسلامیہ موجود ہے اور وہ وہاں کافی متحرک ہے اور ماضی میں بھی ان پر وہاں اس قسم کے واقعات کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔

افغانستان پر طالبان نے رواں برس اگست میں قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد امریکہ نے وہاں سے اپنے باقی ماندہ فوجی دستوں کو بھی نکال لیا تھا۔

طالبان کے پہلے دور کے دوران انھوں نے اسلامی قانون کی انتہائی سخت تشریح کو نافذ کیا تھا۔ لیکن اس بار بین الاقوامی طور پر خود کو تسلیم کروانے کے لیے وہ قدرے اعتدال پسندانہ تاثر ظاہر کرنے کی کوشش کرہے ہیں۔

اب جبکہ طالبان اقتدار میں دوبارہ سے واپس آ گئے ہیں ان پر ایک لوک فنکار کو قتل کرنے اور موسیقی کے آلات کو توڑنے کا الزام عائد ہے، بہت سے گلوکار اور موسیقار ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔