آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: کانگریس کا آر ایس ایس کی قانونی حیثیت اور مالی شفافیت پر سوال، یہ کھلا خط کتنا اہم ہے؟
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
گذشتہ ہفتے کانگریس لیڈر اور انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ پِریانک کھڑگے نے انڈیا کی قوم پرست جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو ایک کھلا خط لکھ کر تنظیم کی قانونی حیثیت، ڈھانچے سے متعلق معلومات، ٹیکس ادائیگی کی صورتحال اور آمدنی کے ذرائع کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے کی درخواست کی تھی۔
پِریانک کھڑگے نے پیر (15جون) کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر 13 جون کو بھاگوت کو لکھا گیا خط شیئر کیا۔
انھوں نے کہا کہ اپنی صد سالہ تقریبات کے موقع پر آر ایس ایس کو ذمہ داری کے ساتھ آئین کی پاسداری کرنی چاہیے اور رجسٹریشن کرانا چاہیے، مطلوبہ معلومات عام کرنا چاہیئیں، واجب الادا ٹیکس ادا کرنا چاہیے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے شفافیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
آر ایس ایس نے ان سوالات کے جواب میں ایسے بیانات کو سیاسی چالیں قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ کھڑگے نے اپنے خط میں بہت بنیادی اور اہم سوالات اٹھائے ہیں اور آر ایس ایس کی جانب سے جان بوجھ کر ان کا جواب نہ دینا ان کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ آر ایس ایس انڈیا کی ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم ہے، جو کہ کسی بھی قانونی دائرے میں نہیں آتی اور وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں۔
کھڑگے کے خط میں کیا لکھا ہے؟
اپنے خط میں کھڑگے نے آر ایس ایس کو اس کے 100 سال پورے ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک اور بیرون ملک ساٹھ ہزار سے زائد تنظیمی دفاتر اور کروڑوں سویم سیوکوں (کارکن) کا دعویٰ کرنے والی یہ تنظیم یقینی طورپر عوامی زندگی اور معاشرے میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
آر ایس ایس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی اکِھل بھارتیہ پرتیندھی سبھا (اے بی پی ایس) کی جانب سے جاری کی گئی 2025/26 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کھڑگے نے مزید لکھا کہ کرناٹک میں تنظیم کی نمایاں موجودگی ہے، جہاں یومیہ 4127 میٹنگز، 1389 ہفتہ وار اجلاس اور 60 ماہانہ اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط میں انھوں نے لکھا کہ ’آر ایس ایس کی عوامی رابطہ مہم اور عوامی تنظیم سازی کی صلاحیت بھی اتنی ہی وسیع ہے۔ آپ کی رپورٹ کے مطابق تنظیم نے 2194 سماجی تقریبات منعقد کیے جن میں 19 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔‘
خط میں کہا گیا کہ ’آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست بھر میں 562 پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جن کی لمبائی عموماً ڈھائی سے تین کلومیٹر تھی اور ان میں دو لاکھ 21 ہزار سے زائد وردی پوش شرکا شامل تھے۔‘
’ان اعداد و شمار کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرناٹک میں ایک بہت بڑا، منظم اور جڑوں تک پھیلا ہوا نیٹ ورک کام کر رہا ہے، جو روزانہ تنظیم سازی، ہفتہ وار اور ماہانہ عوامی رابطہ پروگراموں، بڑے عوامی اجتماعات اور وردی پوش پریڈ کے ذریعے کام کر رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لہٰذا ہم آر ایس ایس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے عہدیداروں کو بھیج کر یہ واضح کرے کہ اتنی بڑی تنظیم کس قانونی بنیاد پر اپنی شناخت کو باضابطہ طور پر درج کرائے بغیر، اور کسی قانونی ادارے یا قوانین کے تحت ’اشخاص کے مجموعہ‘ کے طور پر رجسٹر ہوئے بغیر، مسلسل کام کرتی رہی ہے۔‘
کھڑگے نے کہا کہ ’ہر مذہبی ادارے اور مذہبی ٹرسٹ کا آڈٹ کیا جاتا ہے، اور خیراتی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او)، ٹرسٹ، سوسائٹیوں، کمپنیوں اور دیگر اداروں کے لیے اپنی ساخت، سرگرمیوں، مالی حیثیت اور آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘
آر ایس ایس کے سربراہ کا جواب
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کھڑگے کے خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی ہے اور اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
بھاگوت نے کھڑگے کی درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’مجھے اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت سی غیر رجسٹرڈ چیزیں ہو رہی ہیں اور ہم خفیہ نہیں ہیں۔ ہم کھلے عام کام کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو بلا کر انھیں سنگھ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہ سیاست ہے اور یہ سب چالیں آزمائی جا رہی ہیں۔ ہم اس کے عادی ہیں۔ سنگھ کے قیام کے دس پندرہ سال بعد سے ہمیں یہ سب چیزیں جھیلنی پڑیں۔ ہم اس کے عادی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کئی ادارے اور روایات بغیر رسمی رجسٹریشن کے موجود ہیں۔ ہندو دھرم رجسٹرڈ نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ حکومت نے ہم پر دو بار پابندی لگائی ہے اور یہ پابندیاں ایک بار عدالت کے حکم سے اور ایک بار ستیہ گرہ کے ذریعے ختم کی گئیں۔ تو حکومت جانتی ہے کہ آر ایس ایس موجود ہے۔ اگر انھوں نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے اس کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔‘
بھاگوت نے الزام لگایا کہ، ’یہ سب سیاست ہے، کچھ سنجیدہ نہیں۔ وہ ایک طرف سنگھ کے کام میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں کیونکہ لوگ ہمیں جانتے ہیں۔‘
انھوں نے آر ایس ایس کو خفیہ طور پر کام کرنے والی تنظیم قرار دینے کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔
بھاگوت نے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ ہم خفیہ ہیں۔ ہمارے کارکن ہر محلے میں رہتے ہیں۔ لوگ انھیں ہر روز دیکھتے ہیں۔ ہماری شاخیں کھلے میدانوں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ لوگ انھیں روز دیکھتے ہیں۔ ہمارے عوامی پروگرام بھی ہوتے ہیں۔‘
’آر ایس ایس جان بوجھ کر چیزوں کو ریکارڈ پر نہیں لانا چاہتی‘
تاہم ماہرین کا خیال یہ ہے کہ کھڑگے نے اپنے خط میں بہت بنیادی اور اہم سوالات اٹھائے ہیں جس کا آر ایس ایس جان بوجھ کر جواب دینا نہیں چاہتی۔ ماہرین کے مطابق یہ آر ایس ایس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آر ایس ایس کے نظریہ اور ان کے طریقہ کار پر کئی کتابوں کے مصنف اور سینیئر صحافی دھیریندر جھا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کھڑگے نے اپنے خط میں جو باتیں لکھی ہیں اور جن کا مطالبہ کیا ہے وہ بہت بنیادی اور اہم ہیں۔ لیکن آر ایس ایس کے رہنما اس کا جواب اس لیے نہیں دینا چاہتے کیوں کہ یہ ان کی حکمت علمی کے خلاف ہے۔
دھیریندر جھا کے مطابق آر ایس ایس بنیادی طور پر ایک پرائیویٹ ملیشیا ہے اور کسی بھی جمہوری نظام میں اس کے رجسٹریشن کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
پرائیویٹ ملیشیا کو قانونی حیثیت صرف ہٹلر کے جرمنی اور موسولینی کے اٹلی میں حاصل تھا۔ آر ایس ایس کا پورا طریقہ کار وہی ہے، بلکہ ان نظریہ بھی ان سے ملتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب ہم آر ایس ایس کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جن تحریکوں اور شخصیات نے اس تنظیم کے نظریات کو سب سے زیادہ متاثر کیا اس میں ہٹلر اور موسولینی کی تحریکیں اور شخصیات سب سے اہم ہیں۔
اس سلسلے میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروآنند کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اس لیے رجسٹریشن نہیں کروانا نہیں چاہتی ہے کیوں کہ ایسا کرنے سے وہ قانون کے دائرے میں آ جائے گی اور پھر انھیں تمام تر کارکردگیوں کا جواب دینا پڑ سکتا ہے جو کہ ان کی تنظیمی حکمت عملی کے خلاف ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رجسٹریشن نہ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ نہ صرف انھیں ٹیکس نہیں دینا پڑتا بلکہ جب بھی ان کا کوئی رکن یا ان سے جڑی تنظیم کوئی گڑبڑی کرتی ہے تو وہ اس سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال ناتھو رام گوڈسے کی ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا تھا۔ وہ آر ایس ایس کا ممبر تھا لیکن تنظیم نے اس سے یہ کہتے ہوئے قطع تعلق کر لیا تھا کہ ان کا نام ہمارے کسی رجسٹر میں نہیں۔
پروفیسر اپوروآنند کے مطابق ایسا اس لیے ممکن ہو پایا کیوں کہ آر ایس ایس کے پاس اپنے ممبران کا کوئی رجسٹر نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ اسے ظاہر نہیں کرتی۔
ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس جان بوجھ کر چیزوں کو ریکارڈ پر نہیں لانا چاہتی ہے کیوں کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انھیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔