آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
معراج خالد: پاکستان کے وہ وزیرِاعظم جنھوں نے اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے کم عمری میں دودھ بیچا
- مصنف, وقارمصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
ڈیرہ چاہل ضلع لاہور میں بیدیاں روڈ پر آباد ہے، جو کبھی لاہور کو امرتسر سے ملانے والی اہم شاہراہ تھی۔
صدیوں پرانے اس گاؤں کو یہ نام اس میں قائم ایک گوردوارے سے ملا جو اس مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں سکھ مت کے پہلے گرو، گرو نانک دیو جی، کا ننھیال واقع تھا۔
روایت ہے کہ ان کی بڑی بہن، بے بے نانکی، اسی جگہ پیدا ہوئی تھیں، اسی نسبت سے اسے گورو دوارہ بے بے نانکی بھی کہا جاتا ہے۔
تب دو سو گھرانوں والے اسی گاؤں، جس کے عین وسط سے بلند ہوتا ہوا گورو دوارے کا سفید گنبد دور سے دکھائی دیتا ہے، میں معراج خالد 1916 میں پیدا ہوئے۔
وہ وکیل، رکنِ پارلیمان، وفاقی وزیر، پنجاب کے وزیر اعلیٰ، قومی اسمبلی کے سپیکراور پھر وزیرِ اعظم بنے۔
گو کہ سیاسی زندگی میں بھی وہ سادہ مزاج رہے لیکن ان کی زندگی ابتدا ہی سے جدوجہد سے عبارت رہی جب تعلیم اورگھر کے اخراجات کے لیےاسی گاؤں سے انھیں دودھ بھی لاکر لاہور میں بیچنا پڑا۔
’تم بڑے آدمی بنو گے‘
معراج خالد غریب کاشت کار خاندان میں چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ گاؤں سےڈیڑھ میل دورکرباٹھ سے ابتدائی تعلیم کے بعد، سات میل دور سکول سے امتیازی نمبروں سے مڈل کرنے کی وجہ سے 13 میل دورسنٹرل ماڈل سکول میں داخلہ تو مل گیا، لیکن والدین میں انھیں مزید پڑھانے کی سکت نہیں تھی۔
صحافی اصغر عبداللہ اپنے ایک مضمون ’کامریڈ ملک معراج خالد مرحوم کے نام ‘ میں لکھتے ہیں کہ معراج خالد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یوں کہ اب علی الصبح اٹھیں گے، مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کریں گے اور ریڑھے پر لاد کر شہر جا کر بیچیں گے، اور وہاں ہی سے فارغ ہو کر سکول چلے جایا کریں گے۔‘
اصغرعبداللہ معراج خالد سے اپنے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے بقول، یہاں نواب مظفر قزل باش کی حویلی میں بھی وہی دودھ پہنچاتے تھے۔
’انھوں نے بڑی مشکل سے سکول کے جوتے خریدے۔ ان کو زیادہ گِھسنے سے بچانے کے لیے ایک کپڑے میں لپیٹ کر ریڑھے پر رکھ لیا کرتے اور جب تک مختلف گھروں میں دودھ تقسیم کرتے، والد کے پرانے دیسی جوتے پہنے رکھتے اور صرف سکول کے وقت ہی میں سکول کے جوتے پہنتے تھے۔‘
افسانوی اندازمیں لکھی اپنی کتاب ’چار آدمی‘ میں سماجی ترقی کے لیے کام کرتی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے معراج خالد کے حوالے سے لکھا ہے کہ میٹرک میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی آگے ہونے کی وجہ سے انھیں رول آف آنر ملا۔
’قصہ چہاردرویش‘ کے سے اندازمیں لکھی اس کتاب میں امجد ثاقب معراج خالد کا بیان یوں لکھتے ہیں:
’سنٹرل ماڈل سکول کے پہلے مقامی ہیڈماسٹر لالا دھنی رام نے مجھے پیارکیا اور کہا: تم بڑے آدمی بنو گے۔ میں بڑا آدمی بننا چاہتا تھا لیکن پہلی بار کسی نے مجھ سے ایسا کہا۔ ان کا یقین بھرا لہجہ عمر بھرمیرے ٹوٹے حوصلوں کو جوڑتا رہا۔‘
’وہ خود مجھے گورنمنٹ کالج لاہورکے پرنسپل کے پاس لے کر گئے اور ان سے کہا کہ اس بچے کو اس کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ آپ کے کالج کی بہتری کے لیے لایا ہوں۔ میں نے چند روزگورنمنٹ کالج میں گزارے لیکن میرے قریبی دوستوں کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ ان کی دوستی کی خاطر میں نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا رخ کیا۔‘
’لوگ میرے اس فیصلے پر بہت ہنسے لیکن ایک دیہاتی لڑکے کو اپنی دوستی پہ فخرتھا۔‘
ایکسڑا اسسٹنٹ کمشنر کی ملازمت چھوڑ کر تعلیم و تربیت کی تنظیم بنائی
اصغر عبداللہ نے لکھا کہ معراج خالد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ پہنچے تو یہاں بھی دودھ بیچنے کا معمول برقرار رکھا، لیکن اس پر ان کو کبھی شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اس زمانے ہی میں وہ مارکسزم سے متاثر ہوئے، جس پر بعد میں وہ زندگی بھر قائم رہے۔
امجد ثاقب کی کتاب سے علم ہوتا ہے کہ معراج خالد کی قیادت میں مختلف کالجوں کے طلبا نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران میں دو ماہ پنجاب بھر کے دیہات میں قیام کیا اور تعلیمِ بالغاں کے علاوہ رضا کارپنچایتوں کا نظام قائم کرنے میں مدد دی۔
اصغر عبداللہ کے مطابق ’جب انھوں نے بی اے کیا تو وہ اپنے گاؤں کے پہلے گریجوایٹ تھے۔ گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے کچھ عرصہ انھوں نے ایک کمپنی میں کلرکی کی، لیکن پھر ایک نئے عزم کے ساتھ یونیورسٹی لا کالج میں داخلہ لے لیا، اورایل ایل بی کرنے کے بعد وکالت شروع کردی۔‘
امجد ثاقب لکھتے ہیں کہ ’مقابلے کا امتحان دیا اور ایکسڑا اسسٹنٹ کمشنرمنتخب ہوئے لیکن ملازمت اچھی نہ لگی۔‘
’ضلع لاہور کے دیہی علاقے کی تعلیم وتربیت کے لیے 1939 میں انجمن اخوان اسلام کی بنیاد رکھی۔ اس کے تحت مختلف تعلیمی ادارے سرگرم عمل ہیں۔‘
پاکستان بنا تو مہاجرین کی آبادکاری کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ بانی پاکستان کی قائم کردہ پاکستان نیشنل گارڈمیں بٹالین کمانڈربن کرسرحدی دیہات میں نوجوانوں کو منظّم کرتے رہے۔
’مقامی حکومتوں کے لیے کوشاں رہے لیکن یہ تحریک ایوب خان کے بنیادی جمہوری نظام کی بھینٹ چڑھ گئی۔‘
اصغر عبداللہ کے مطابق سادگی، شرافت اور غریب پروری ان کی پہچان تھی۔
’ریگل چوک کے ایک طرف عقب میں واقع لکشمی مینشن کے گراونڈ فلور پر 1964 کے بعد سے ان کا ایک سادہ سا فلیٹ تھا، جب کہ چوک کے دوسری طرف دیال سنگھ مینشن کے فرسٹ فلور پر ان کا وکالت کا دفتر تھا۔
دیال سنگھ مینشن کے اسی فلور پر لاہور پریس کلب کا پرانا دفتر تھا، روزانہ سرشام جس کی بالکونی پر سب دوستوں کی محفل سجتی تھی۔
’معراج خالد عام طورپر پیدل ہی فلیٹ سے نکلتے، سڑک پار کرکے دیال سنگھ مینشن کی نکڑ پر واقع کھوکھے سے سگریٹ خریدتے اور سیڑھیاں چڑھ کر دفتر پہنچ جاتے تھے۔‘
’سگریٹ بے تحاشا پیتے تھے۔‘
ایوب خان کی حکومت پر تنقید اور بنیادی مطالبوں پر بغاوت کا الزام
عارف آزاد نے معراج خالد پر دی گارڈین کے لیے اپنے مضمون میں لکھا کہ وہ 1965 میں اپنے علاقے میں سماجی کاموں جس میں خواندگی کے فروغ اور پنجابی زبان کے کورسز شامل تھے کی بنیاد پر وہ آزاد حیثیت میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں جنرل ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔
اصغرعبداللہ کے مطابق ایسی پارٹی ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
امجد ثاقب اس کی توضیح یوں کرتے ہیں: مسلم لیگ کا حصہ ہونے کے باوجود ان کی ہم دردی اور محبت کا محور ایوب خان نہیں، مفلس عوام تھے۔
’ضمیرکا بحران‘ نامی ایک پمفلٹ میں انھوں نے ایوب خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کئی بنیادی مطالبے پیش کیے۔ اس اقدام کو بغاوت سے تعبیر کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنراور ایوب خان کے دست راست جنرل محمد موسیٰ کو اس جرات پر تعجب ہوا، طیش بھی آیا۔ جنرل موسیٰ نے اس تحریر کے حوالے سے اخباری نمائندوں سے کہا: یہ دو ٹکے کا آدمی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے۔‘
جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو وہ لاہورمیں معراج خالد کی بنائی ہوئی ایک سامراج مخالف تنظیم ایفروایشین پیپلز سالیڈیریٹی کے پلیٹ فارم سے پہلی بار حزب مخالف کے رہنما کے طور پر عوام کے سامنے آئے۔
اصغر عبداللہ نے لکھا ہے کہ جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگا کر پیپلزپارٹی بنائی تو معراج خالد نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور1970میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر نواب مظفر قزلباش کو شکست دی، جن کی حویلی میں کبھی وہ دودھ پہنچایا کرتے تھے۔
’وہ کبھی غصے میں نہیں آتے تھے‘
بائیں بازو کی سیاست کے پُرجوش حامی معراج خالد جلد ہی بھٹو کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔ انھیں 2 مئی 1972 کو پنجاب کا وزیرِاعلیٰ بنایا گیا، لیکن وہ زیادہ عرصہ اس منصب پر برقرار نہ رہ سکے اور طاقت ور سیاسی شخصیت ملک غلام مصطفیٰ کھر کے سامنے پس منظر میں چلے گئے۔
ڈاکٹر مبشر حسن پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے جن کے ہاں پارٹی کا تاسیسی اجلاس بھی ہوا۔
وہ اپنی کتاب ’دی میراج آف پاور‘ میں لکھتے ہیں کہ مصطفیٰ کھر پنجاب کے گورنر تھے اور ایک نجی انتظام کے تحت (جس کے یہ مصنف خود گواہ ہیں) صوبے میں اختیار وزیراعلیٰ ملک معراج خالد کے بجائے گورنر کے پاس تھا۔
’چارآدمی‘ میں لکھا ہے کہ دونوں کے مزاج میں تضاد بھی تھا اور طبقاتی کش مکش بھی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قیوم نظامی اپنی کتاب ’جو دیکھا جو سُنا‘ میں لکھتے ہیں کہ معراج خالد جب پنجاب کے وزیراعلیٰ نامزد ہوئے تو لاہور کے پارٹی کارکنوں نے ان کے اعزاز میں شالامار باغ میں استقبالیہ دیا۔
’(مخالف) افتخار تاری کے کارکنوں نے استقبالیہ میں شور و غل کیا اور دیگیں اٹھا کر لے گئے۔‘
’میں بھی استقبالیے میں موجود تھا مجھے جوش آیا اور میں نے میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا ’ملک صاحب بہتر ہے ہم سب چوڑیاں پہن لیں‘۔ ملک صاحب نے معمولی ردعمل کا اظہار بھی نہ کیا۔ شاید یہی ان کی کامیابی کا راز تھا کہ وہ کبھی غصے میں نہیں آتے تھے۔‘
ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم اپنے مضمون ’ملک معراج خالد: درویش صفت شخصیت‘ میں لکھتے ہیں کہ جب معراج خالد وزیر اعلیٰ تھے تو انھیں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جانا تھا۔
’ہال روڈ ہی پر رہائش تھی، ڈرائیور گاڑی کہیں لے کر گیا ہوا تھا۔ دیر تک واپس نہ آیا تو وہ ریگل چوک سے ایک رکشے پر سوار ہوکرگورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گئے۔‘
’چارآدمی‘ میں لکھا ہے کہ ’کبڈی ان کا پسندیدہ کھیل تھا۔ وزارت اعلیٰ کے دور میں اس کھیل کی خوب سرپرستی کی۔ ان دنوں ایک شعر مشہورہوا:
چلو چل کے معراج خالد سے پوچھیں
کبڈی کہاں آج کل ہورہی ہے
وہ والد کے چھ ایکڑ رقبے میں اضافہ نہ کرسکے۔ نام کے ساتھ ’ملک‘ لکھا جاتا تو اچھا نہ لگتا کہ ایسے لاحقوں سے تکبرکی بو آتی۔‘
معراج تمھارا مقام صرف میں پہچانتا ہوں: بھٹو
سٹینلے وولپرٹ اپنی کتاب ’ذلفی بھٹو آف پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ معراج خالد، جو ایک نہایت زیرک سیاسی رہنما اور بھٹو کے دوست بھی تھے، کو گورنر نے بغیر کسی شکریے یا معذرت کے عہدے سے ہٹا دیا۔
معراج خالد 12 نومبر 1973 تک اس منصب پر رہے۔
پنجاب اسمبلی میں الوداعی تقریرکے موقع پر ارکان اسمبلی کی آنکھوں میں آنسوتھے۔
اپنی تقریرمعراج خالد نے اس شعرپر ختم کی۔۔۔
تم بھی اچھے رقیب بھی اچھا
میں برا تھا مرا نبھا نہ ہوا
اشارہ بھٹو اور کھر دونوں کی طرف تھا۔
عارف آزاد لکھتے ہیں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مختصر ذمہ داری ادا کرنے کے بعد وہ بھٹو حکومت میں وفاقی وزیرِ زراعت بنے۔ دو جولائی، 1972 میں شملہ معاہدہ ہوا تو وہ بھٹو کے ساتھ تھے۔ مختصر عرصے کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے، یہاں تک کہ جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے اسمبلی تحلیل کر دی اور اقتدارسنبھال لیا۔
معراج خالد تحریک بحالی جمہوریت میں بہت متحرک رہے اور انھوں نے کئی بار جیل کاٹی۔
عارف آزاد نے لکھا ہے کہ ’مارشل لا کے اس دور میں وہ نسبتاً خاموش رہے، مگر پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن رہے اور دیگر کئی رہنماؤں کے برعکس پاکستان ہی میں مقیم رہے۔‘
’سنہ 1988 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد وہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں دوبارہ قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے اور غیر جانبداری کے باعث حکومت اور اپوزیشن دونوں میں عزت حاصل کی۔ تاہم بعد میں بے نظیر بھٹو کی قیادت سے ان کی بڑھتی ہوئی بے چینی نے انھیں پیپلز پارٹی کے پرانے اور اختلاف رکھنے والے رہنماؤں کے قریب کر دیا۔‘
’چارآدمی‘ کے مطابق ان کے لیے ڈھارس بھٹو کا ایک خط تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا : معراج میرے بعد کوئی نہیں جو تمھارے مقام کو پہچان سکے۔ تمھارا مقام صرف میں پہچانتا ہوں۔‘
اصغر عبداللہ نے لکھا ہے کہ معراج خالد اور بے نظیر بھٹو کے درمیاں دراڑیں پڑچکی تھیں۔
’محترمہ کے حامی ان کو ان ’'انکلوں‘' میں شمار کرتے تھے، جن کی اب پیپلزپارٹی کو ضرورت نہیں تھی۔ لیکن حقیقی وجہ یہ تھی کہ معراج خالد جیسے لوگوں نے جس طرح کی سوچ کے تحت پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ سوچ اب پیپلزپارٹی کو بوجھ محسوس ہوتی تھی۔ وہ سوشلسٹ اکانومی سے تائب ہو چکی تھی اور مارکیٹ اکانومی اب اس کا بھی منشور تھا۔‘
عارف آزاد لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1990میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد وہ دوبارہ سماجی اور فلاحی کاموں کی طرف لوٹ گئے، اور پھر 1996 میں نگران وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔‘
سرکاری مراعات سے گریز
بطور وزیراعظم وہ اپنی سادہ زندگی پر قائم رہے اور ان کی لاہور میں رہائش گاہ بھی حسبِ سابق عام لوگوں کے لیے کھلی اور قابلِ رسائی رہی۔
اصغر عبداللہ نے لکھا ہے کہ ایک روز وہ انٹرویو کے لیے ان کے فلیٹ پر پہنچے۔
’ملک صاحب نے خود ہی دروازہ کھولا، بڑی شفقت سے ملے۔ اندر ڈرائنگ روم، جس کو بیٹھک کہنا زیادہ موزوں ہو گا، اس کی حالت بھی واجبی سی تھی۔‘
’کھڑکیاں باہر کی طرف کھل رہی تھیں۔ فرنیچر پرانا اور بوسیدہ۔ میں نے ساری زندگی میں کسی سیاست دان کا اس طرح کا سادہ گھر اور سادہ رہن سہن نہیں دیکھا۔
’ملک صاحب بیٹھک میں آئے ان کے ایک ہاتھ میں سگریٹ کی ڈبیا اور دوسرے ہاتھ میں وہ پمفلٹ تھا، جس میں سوشلسٹ اصولوں کے تحت پاکستان کے معاشی مسائل کا حل تجویز کیا گیاتھا۔‘
کتاب ’چار آدمی‘ سے علم ہوتا ہے کہ ’معراج خالد کی اہلیہ محمودہ سکول میں پڑھاتی تھیں۔ گھرمیں مہمان آتے تو خود چائے بناتیں۔ انھوں نے ہمیشہ سرکاری مراعات سے گریز کیا۔ اگر اپنی گاڑی نہ ہوتی تو رکشا، ٹیکسی یا بس میں سفر کرتیں۔‘
’معراج خالد وزیر اعظم بنے تو ان کی اہلیہ نے وزیراعظم ہاؤس میں رہنا پسند نہ کیا۔‘
نگران وزیرِاعظم کی حیثیت سے ملک معراج خالد نے سادگی اور کفایت شعاری کی ایک نئی مثال قائم کی۔ وہ اکثر بغیر پروٹوکول سفر کرتے تھے اور لاہور کے مال روڈ پر انھیں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
وزارت عظمیٰ ہی کے دوران معراج خالد کے احکامات پرگورودوارہ بے بے نانکی کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا گیا۔ بعد ازاں اسے سکھ یاتریوں کے لیے کھول دیا گیا۔
سنہ 1997 میں سیاست سے علیحدگی کے بعد انھیں اسلامی یونیورسٹی کا ریکٹر مقرر کیا گیا، جو تعلیم اور خواندگی سے ان کی وابستگی کا اعتراف تھا۔
عارف آزاد کے مطابق معراج خالد غالباً وہ پاکستانی سیاستدان تھے جو اقتدار کے اعلیٰ مناصب پر رہتے ہوئے بھی سماجی خدمت سے مسلسل جڑے رہے، اور جب بھی اقتدار سے باہر یا اپنی جماعت کی ناراضی کا سامنا ہوا، وہ دوبارہ عوامی سطح کے کاموں کی طرف لوٹ آئے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم معراج خالد کے بنائے اخوان سائنس کالج برکی میں دوسال پرنسپل رہے۔
وہ ایک مضمون میں ایک سابق پرنسپل کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ معراج خالد کو جب بھی کالج آنا ہوتا تو فون کرکے پوچھتے پرنسپل صاحب مجھے آپ کے کالج آنے کی اجازت ہے۔
’وہ کبھی کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ کالج میں پھول پودے، خصوصاً پھل دار پودے آم ، کھجور، امرود، جامن، لیموں اور دیگر کئی ایک پودے لگانے کی تلقین کرتے تاکہ طلباء ان کی چھاﺅں میں بیٹھیں اور پھل بھی کھائیں۔
کالج کے لیے ماٹو ’حریت، اخوت اور مساوات‘ دیا اور ساتھ ہی یہ نعرہ بھی متعارف کرایا کہ ’اپنا تیشہ اپنا راستہ‘ یعنی خود محنت کرو اور اپنی قسمت خود بناؤ۔'
لاہور سے سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ
ان کی وفات 13 جون 2003 کوہوئی۔ پسندیدہ باغ لارنس گارڈن یا باغ جناح تھا جہاں ہر روزاپنی صبح کا آغازکرتے۔نمازجنازہ یہیں پڑھائی گئی۔ آبائی گاؤں ڈیرا چاہل میں دفن ہیں۔
عارف آزاد لکھتے ہیں کہ معراج خالد ’سیاسی انتہاپسندی اور آمرانہ رجحانات کے درمیان اعتدال اور توازن کی ایک مثال سمجھے جاتے تھے‘۔
اسد رحیم خان نے اپنے ایک مضمون ’معراج سے مرزا تک، جماعت کا انجام‘ میں لکھا ہے کہ ’معراج خالد اس تصور کا نام تھے کہ لبرل ازم اپنی خالص ترین شکل میں کیسا ہو سکتا ہے: مسلسل فلاحی کام، نرم دل طبیعت، اور ایک گہری، بنیادی انسانی دیانت۔‘
’اور ان لوگوں کے لیے جو سیاست میں نیکی کو کمزوری سمجھتے ہیں، معراج خالد نے 1970 میں لاہور سے سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔‘
’ان کی مختصر وزارتِ عظمیٰ کی پہچان غریبوں کے لیے بے پناہ ہمدردی اور سکیورٹی کے تقریباً غیر معمولی فقدان سے تھی۔ یہ بات معروف ہے کہ وہ اکانومی کلاس میں سفر کرتے اور دیہی غریبوں کے لیے تعلیمی مہمات کو فروغ دیتے تھے۔
’پرانے سیاسی طبقے سے تعلق رکھنے والےمعراج خالد وہ شخصیت تھے جنہوں نے 1974 میں افسوس کے ساتھ اپنی ہی جماعت کے راستہ بھٹکنے کا ذکر کیا۔‘
’سادہ پس منظر سے اٹھنے والے معراج خالد اسی سادگی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ایک ایسی خوبی جو ان لوگوں میں بھی نایاب ہے جنہوں نے آدھی بھی ان کی سی بلندی حاصل کی ہو۔‘