آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت انڈیا کو ملنے پر اسد الدین اویسی کا مطالبہ، کیا پاکستان کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں؟
- مصنف, اسماعیل شیخ اور اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’وویک اگروال پہلے انڈین ہیں جو ایف اے ٹی ایف کے نائب صدر منتخب ہوئے. مودی حکومت کو اب پاکستان کو گرے لسٹ میں واپس لانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘
یہ الفاظ ہیں انڈیا کی مذہبی، سیاسی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی نائب صدارت انڈیا کو ملنے پر پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جمعے کے روز ہونے والے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں انڈیا کے سینیئر بیورو کریٹ وویک اگروال کو جولائی 2026 سے جون 2027 کے لیے ادارے کا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔
انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق اگروال اس وقت وزارتِ ثقافت میں بطور سیکریٹری تعینات ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ انڈیا ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت سنبھالے گا۔
پریس انفارمیشن بیورو پر جاری بیان کے مطابق، انڈیا کا نائب صدارت کے منصب پر انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک نے ایف اے ٹی ایف کے عالمی نیٹ ورک میں کس قدر اعتبار اور اعتماد حاصل کیا ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق اپنی تقرری پر اگروال کا کہنا تھا کہ 'یہ تقرری انڈیا کی اجتماعی کاوشوں اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے ہمارے فریم ورک کی مضبوطی کا اعتراف ہے۔'
یہ منصب انڈیا کو ملنے کے بعد اسد الدین اویسی کی طرح انڈیا میں بعض حلقے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوانے کی بات کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسد الدین اویسی نے مزید کیا کہا؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسد الدین اویسی نے گذشتہ برس نومبر میں لال قلعہ کے باہر ہونے والے کار خود کش حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نومبر 2025 کے لال قلعہ خود کش دھماکے کو نہیں بھولنا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ 10 نومبر کی شام دہلی کے لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے اور اس دھماکے سے قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے ہریانہ اور اُتر پردیش میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔
اس دھماکے کی ذمے داری دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔
’یہ انڈیا کے لیے بڑی کامیابی ہے‘
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی اگرووال کے انتخاب کو انڈیا کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ چونکہ انڈیا دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے، یہ قائدانہ کردار عالمی دہشت گردی کی مالی اعانت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کا مقابلہ کرنے اور غیر قانونی مالیاتی نظاموں کو ختم کرنے پر ہماری انتھک توجہ کو تقویت دیتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت ملنے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اسلام آباد ماضی میں انڈیا پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔
گرے لسٹ ہوتی کیا ہے؟
منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان کے نفاذ کو انٹرنیشنل کارپوریشن ریویو گروپ نامی ایک ذیلی تنظیم دیکھتی ہے۔
نومبر 2017 میں انٹرنیشنل کارپوریشن ریوویو گروپ کا اجلاس ارجنٹائن میں ہوا جس میں پاکستان سے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی۔
اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے لشکر طیبہ، جیش محمد اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو دی جانے والی مبینہ حمایت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کی بعد میں فرانس اور جرمنی نے حمایت کی۔
جون 2018 میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ پاکستان کو اس لسٹ میں ڈالا گیا ہو۔ اس سے قبل پاکستان سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک بھی گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا تھا۔
بالآخر چار سال سے زائد عرصے کے بعد اکتوبر 2022 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نکال دیا۔
تاہم اس کے باوجود انڈیا پاکستان پر شدت پسند تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام لگاتا آیا ہے۔
گذشتہ برس اپریل کے آخر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر حملے کے بعد انڈیا نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو ایک بار پھر ایف اے ٹی کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
مئی 2025 میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انڈین حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے حوالے سے شرائط مکمل نہیں کی ہیں، اس لیے اسے دوبارہ فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔
اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے تین ممالک ایران، شمالی کوریا اور میانمار شامل ہیں۔
گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔
کیا پاکستان کے لیے واقعی مشکلات بڑھ سکتی ہیں؟
کیا انڈیا کو ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت ملنے سے پاکستان کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں، اس بارے میں ہم نے سابق وزیرِ سرمایہ کاری اور پاکستان ریجنل اکنامک فورم کے چیئرمین ہارون شریف سے بات کی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ایف اے ٹی ایف قائم کیا گیا تھا تو اس وقت یہ ایک ایڈوائزری باڈی تھی جو رکن ممالک کے فنانشل سسٹمز کا جائزہ لے کر ان کی درجہ بندی کرتی تھی اور ساتھ ہی تکنیکی معاونت فراہم کرتی تھی۔
ہارون شریف کہتے ہیں کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ادارے میں سیاسی عناصر شامل ہونا شروع ہو گئے اور اس کو لوگوں نے اپنے جیو پولیٹیکل فوائد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مظاہرہ ہم نے چند برس پہلے اس وقت دیکھا جب پاکستان کا گرے لسٹ کا معاملہ سامنے آیا۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ’اس وقت انڈیا اور امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کا فریم ورک استعمال کرتے ہوئے کوشش کی کہ کسی طرح سے پاکستان پر پابندیاں لگوائی جائیں۔ ہارون شریف کے مطابق یہ تکنیکی طور پر غلط چیز تھی۔‘
ہارون شریف کے مطابق ’انڈیا کے پاس ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت آتی ہے تو وہ پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن انڈیا کے مقابلے میں اس وقت سفارتی سطح پر پاکستان کے لیے اچھے جذبات پائے جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ باقی ممبران انڈیا کو پاکستان کو سنگل آوٹ کرنے دیں گے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اپنے سسٹم بہتر بنانا چاہیے اور غیر قانونی رقوم کی ٹرانسفرز کو کم سے کم کرنا چاہیے تاکہ بینکنگ سسٹم اور ڈیجیٹل فنانس کو مضبوط کیا جا سکے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم اپنے شہریوں کے لیے کسی قسم کی ایمنسٹی سکیم متعارف کرواتا ہے تو اس میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔
اس حوالے سے معاشی اُمور کے تجزیہ کار فرخ سلیم کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں، نائب صدر معاونت کرتے ہیں اور یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے رُکن ممالک میں چین، ترکی اور پاکستان کے دیگر دوست ممالک موجود ہیں جو پہلے ہی پاکستان کی حمایت کر چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈلوانے کے مطالبے پر سوشل میڈیا پر پاکستان اور انڈیا کے صارفین بھی آمنے سامنے ہیں۔
انڈین صارفین اسد الدین اویسی کے مطالبے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت اب بہت بڑھ چکی ہے اور انڈیا کے لیے اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
عمر غازی نامی صارف نے اسد الدین اویسی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے گذشتہ برس پہلگام واقعے کو ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوایا جائے۔
طلحہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ انڈیا پاکستان کو یکطرفہ طور پر گرے لسٹ میں نہیں ڈلوا سکتا، ایسا فیصلہ اجتماعی طور پر 39 رُکن ممالک کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ریتا پال نامی صارف نے لکھا کہ ’مجھے وہ سال یاد ہے جب پاکستان کو جب گرے لسٹ میں ڈالا گیا تو سٹاک مارکیٹ کو نقصان پہنچا۔ انڈیا نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی شرارتیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت ملنے پر خوشیاں منا رہا ہے۔‘