ڈرون، کتے اور سینکڑوں اہلکار دو سالہ بچی کی تلاش میں، ساتھ جانے والے کتے کی پراسرار موت بھی معمہ

    • مصنف, لکّوجو سری نواس
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

دو سالہ گیانیشوری کی تلاش تاحال جاری ہے، جو آندھرا پردیش کے کاکیناڈا ضلع میں پام آئل کے باغ میں اپنے والد کو تلاش کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئی۔

کئی دن گزر چکے ہیں اور اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف کی ٹیمیں، ڈرون آپریٹ کرنے والی ٹیمیں، پولیس اور مقامی لوگ 40 ایکڑ پر پھیلے پام آئل کے باغات اور 500 ایکڑ کے پہاڑی علاقے میں بچی کی تلاش کر رہے ہیں۔ خراب موسم کے باوجود تلاش کا عمل جاری ہے۔

پام آئل کے باغات، جھاڑیاں، نہریں، تالاب، کنویں، خالی مکانات، ہر اس جگہ کی تلاشی لی جا رہی ہے جہاں کسی بچے کے ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔

عام لاپتا افراد کے کیسز کے برعکس اس معاملے میں پولیس کی طرف سے بڑے پیمانے پر تلاش کے باوجود بچی کا کوئی سراغ کیوں نہیں ملا؟

اس دن کیا ہوا تھا؟

دو سالہ گیانیشوری 6 جون کو لاپتا ہوئی تھی۔ اس کے والد سنکارا گنیش، کاکیناڑا ضلع کے ڈونڈاوکا پنچایت سی ایچ اگرہارم میں پام آئل کے باغ میں نگران کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا خاندان وہیں رہتا ہے۔

گنیش، ان کی اہلیہ بھوانی، ان کی بیٹی گیانیشوری اور ان کی چھ ماہ کی بیٹی 40 ایکڑ کے باغ میں رہتے ہیں۔ گنیش کے والدین بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ سب باغ کے درمیان واقع تقریباً 80 مربع گز پر مشتمل دو منزلہ کنکریٹ کی عمارت میں رہتے ہیں۔

بچی کے والدین، بھوانی اور گنیش نے بی بی سی کو بتایا کہ 6 جون کو کیا ہوا تھا۔

گیانیشوری کی والدہ سنکارا بھوانی نے کہا: 'ہفتہ کی صبح بچی ہمارے ساتھ تھی۔ اس کے والد باغ میں کچھ کام کرنے گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد بچی تھوڑی دور تک ان کے پیچھے آم کے درخت تک گئی۔ پھر وہ اسے واپس لے آئے۔ جب میں اپنی چھوٹی بیٹی کو نہلا رہی تھی تو انھوں نے گیانیشوری کو دیوار کے پاس چھوڑ دیا اور کہا کہ وہ باغ میں کام کرنے جا رہے ہیں، تب تک اس پر نظر رکھنا۔'

'میں نے گیانیشوری کو گود میں لیا۔ وہ رونے لگی کیونکہ اس کے والد جا رہے تھے۔ اسی وقت میری چھوٹی بیٹی گھر کے اندر زور زور سے رونے لگی۔ میں اسے دودھ پلانے کے لیے اندر چلی گئی کیونکہ بڑی بیٹی عام طور پر کھیلتی رہتی ہے یا اپنے والد کے ساتھ رہتی ہے۔'

والدین نے بتایا کہ بچی اپنے والد کے پیچھے گئی اور باغ کے درمیان سے گزرنے والے راستے سے غائب ہو گئی۔

6 جون سے تلاش جاری ہے

وزیر داخلہ ونگالاپوڈی انیتا نے بتایا: 'بچی کے لاپتا ہونے کا وقت تقریباً 11 بج کر 50 منٹ تھا۔ اس وقت اسے آخری بار گھر سے باہر جاتے دیکھا گیا اور پھر وہ واپس نہیں آئی۔ ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ہم نے ضلع کے تمام علاقوں کے پولیس اہلکاروں کو تلاش میں شامل کیا ہے۔'

'ہم نے پہاڑی علاقے سے تلاش شروع کر دی ہے۔ ہم نے جنگلی حیات کے ماہرین کو بھی شامل کیا ہے، جنھیں 'ہنومان ٹیم' کہا جاتا ہے۔ ایس پی کا کہنا ہے کہ اس جنگل میں نیچے جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔'

ایک بھی سراغ نہیں ملا

وزیر داخلہ نے کہا کہ بچی کو تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا: 'ہم مختلف لوگوں کی طرف سے دی گئی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ گھر گھر تلاشی لینے سے بہت سے دیہاتیوں کو پریشانی ہوئی ہے اور کچھ نے ہماری اور محکمے کی تنقید بھی کی۔ اس کے باوجود ہم اردگرد کے تمام دیہات کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں۔'

وزیر نے مزید کہا کہ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا بچی کو کسی جنگلی جانور نے اٹھایا یا اسے اغوا کیا گیا ہے۔

عام طور پر لاپتا افراد کے معاملات میں چند گھنٹوں کے اندر کوئی نہ کوئی سراغ مل جاتا ہے، مگر کئی دن بعد بھی کوئی ثبوت نہ ملنے سے تفتیش کاروں کے لیے یہ ایک چیلنج بن گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تونی قصبے کے آس پاس اس پیمانے کی تلاش مہم پہلے کبھی نہیں چلائی گئی اور نہ ہی یہاں بچوں کے اغوا کا کوئی واقعہ درج ہونے کی انھیں معلومات ہیں۔

باڑ سے بندھی گڑیاں

پولیس یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیا کوئی جانور بچی کو اٹھا کر لے گیا، کیونکہ یہ جنگلاتی علاقہ ہے اور واقعہ پام آئل کے باغ میں پیش آیا۔

پولیس نے جانوروں کی ممکنہ نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے کچھ کھلونے نصب کیے ہیں اور انھیں باغ کی باڑ کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ تاہم، باڑ سے لٹکی ان گڑیوں کی موجودگی نے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔

گیانیشوری کی والدہ سنکارا بھوانی نے کہا کہ پولیس نے انھیں بتایا کہ یہ کھلونے جانوروں کی آمد کی جانچ کے لیے لگائے گئے ہیں۔

پولیس قریبی علاقوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور مشتبہ افراد اور گاڑیوں کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھ رہی ہے۔ موبائل ڈیٹا، کال ریکارڈ اور مقامی معلومات کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

چنّا راؤ نامی ایک مقامی رہائشی نے کہا: 'یہاں صرف مقامی لوگ رہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ 10 کلومیٹر کے دائرے سے آتے ہیں۔ ایک طرف کے دیہات سے تقریباً دس لوگ اور دوسری طرف سے دس لوگ آتے ہیں۔ اس علاقے کے باہر سے کوئی یہاں نہیں آتا۔'

کتے کی موت سے معمہ مزید گہرا ہو گیا

اس معاملے میں بچی کے ساتھ واپس آنے والے پالتو کتے کی موت ایک نیا راز بن گئی ہے۔

گیانیشوری کی والدہ نے کہا: 'کتے کی اچانک موت نے میری تشویش بڑھا دی ہے کہ آیا بچی واپس آئے گی یا نہیں، اور یہ کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔'

انھوں نے کہا: 'مجھے کسی پر شک نہیں ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آس پاس کے کسی فرد کو نہیں جانتیں اور اس دن کیا ہوا ہوگا، وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔

وزیر داخلہ انیتا نے کہا: 'چھ ماہ سے جس پالتو کتے کو وہ پال رہے تھے، گھر واپس آنے کے بعد اس کا رویہ غیر معمولی ہو گیا۔ بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ ہم کتے کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم نے لاش کو فرانزک جانچ کے لیے بھی بھیج دیا ہے۔ ڈاکٹروں سے پوچھا گیا کہ کیا اسے سانپ نے ڈسا تھا مگر ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایسا نہیں ہے۔'

تکنیکی شواہد کا تجزیہ

ان تمام کوششوں کے باوجود گیانیشوری کا ابھی تک پتا نہ چلنا اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں، خاندان کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

سینکڑوں اہلکار، ڈرون، تلاش ٹیمیں، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں، تکنیکی تحقیقات، پولیس نے تقریباً تمام دستیاب وسائل استعمال کر لیے ہیں، مگر اس کے باوجود گیانیشوری کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

پیداپورم کے ڈی ایس پی اے بی جی تلک نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے لیے آگے بڑھنے کا بنیادی طریقہ تلاش کے دائرے کو مزید وسیع کرنا اور تکنیکی شواہد کا گہرائی سے تجزیہ کرنا ہے۔