آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. ترک علاقے ملاطیہ میں زلزلے سے تباہی

  2. ’مجھے ایسا لگا جیسے میں بچے کے جھولے میں ہوں‘

    ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب اس کی شدت کے بارے میں عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

  3. زلزلے کی شدت سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریکارڈ

    ترکی میں ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے پیر کی صبح آنے والے زلزلے کی شدت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

  4. بریکنگ, ترکی میں زلزلے سے 284 ہلاکتوں کی تصدیق

    ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 2323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یوں جنوبی ترکی اور شمالی شام میں اموات کی مجموعی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔

  5. جنوبی اٹلی میں سونامی کی وارننگ ختم

    اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں زلزلے کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں میں سونامی کی تنبیہ جاری کی گئی تھی جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔

    گذشتہ رات لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں اور انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ سونامی کی لہروں کا خطرہ موجود ہے۔

    پیر کی صبح اٹلی کے جنوبی و ساحلی علاقوں میں ٹرینوں کی سروس ایک گھنٹے کے لیے معطل کی گئی تھی جو اب بحال ہوچکی ہے۔

  6. ترکی میں ایمرجنسی نافذ، شہریوں سے موبائل فونز استعمال نہ کرنے کا مطالبہ

    ترکی نے زلزلے کی تباہی کے پیش نظر ریاستی سطح پر ایمرجنسی (یعنی ہنگامی صورتحال) نافذ کر دی ہے۔

    شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز استعمال نہ کریں تاکہ امدادی رضاکار آپس میں رابطہ قائم کر سکیں۔

  7. ترکی میں گذشتہ 80 سال کا سب سے بڑا زلزلہ

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترکی اور شام میں حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔

    امپیریکل کالج لندن کے ماہر سٹیفن ہِکس نے بتایا کہ اس سے قبل ترکی میں دسمبر 1939 کے دوران 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 30 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    حال ہی میں جنوری 2020 کے دوران مشرقی شہر العزیز میں 6.7 کی شدت کے زلزلے میں 41 افراد ہلاک اور 1600 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    شام میں زلزلوں پر نظر رکھنے والے قومی مرکز کے سربراہ رئیس احمد نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ’یہ ہمارے مرکز کی تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔‘

    یہ مرکز 1995 میں قائم کیا گیا تھا۔

  8. ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بارے میں تازہ ترین صورتحال

    • شام اور ترکی میں پیر کی صبح آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد اب تک 500 سے بڑھ چکی ہے
    • ترکی میں 284 جبکہ شام میں 237 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں
    • یہ ممکنہ طور پر ترکی کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ تھا
    • حکام کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں
    • ترکی میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کا کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکزی جھٹکے کے بعد اب تک کم اور زیادہ شدت کے 40 جھٹکے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں
    • ترکی میں جس مقام پر زلزلہ آیا اس کے گردونواح میں لاکھوں شامی پناہ گزین مقیم ہیں
  9. اسرائیل کی ترکی کو امدادی سرگرمیوں میں مدد کی پیشکش

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے پیر کو ترکی میں زلزلہ متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک مؤثر امدادی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

  10. بریکنگ, شام میں زلزلے سے 200 سے زیادہ ہلاکتیں: وزارت صحت

    شام کی وزارت صحت نے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں پر ایک اپ ڈیٹ دی ہے۔

    اس کے مطابق ملک بھر میں 237 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شام کے متاثرہ علاقوں میں حلب، لاذقیہ، حماہ اور طرطوس شامل ہیں۔

    شام کی وزارت صحت کے مطابق 600 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  11. شام اور ترکی میں زلزلے سے کم از کم 195 افراد ہلاک

    شام اور ترکی میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنان ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے کم از کم 195 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں نصف کی تعداد شام سے ہے جو کہ پہلے ہی جنگ سے متاثرہ ملک ہے۔ ادھر ترکی نے متاثرین کی مدد کرنے کے لیے عالمی مدد کی اپیل کی ہے۔

    وزارت صحت اور ایک مقامی ہسپتال نے بتایا ہے کہ شام میں حکومت کے زیر انتظام خطے اور ترک حمایتی گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں مجموعی طور پر کم از کم 119 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ادھر ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے ابتدائی طور پر 76 ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیے مگر ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    ترکی میں اموات کی تعداد اس لیے بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ وہاں موسم سرد ہے اور کئی رہائشی عمارتوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

    یہ زلزلہ پیر کی صبح اندھیرے میں آیا جس کے بعد امدادی کارکنان متاثرہ علاقوں میں پہنچنے لگے۔

  12. شام میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے بڑھ گئی: سرکاری میڈیا

    شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں زلزلے سے 100 سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔

    شام کے مغربی ساحل سے لے کر دارالحکومت دمشق تک جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

    اس سے ترک-شام سرحد پر واقع علاقوں میں بھی نقصان ہوا ہے جو اپوزیشن کے زیر کنٹرول ہیں۔ یہاں صحت کی محدود سہولیات ہیں اور اکثر لوگ خراب حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں امدادی کارروائیاں دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ حلب میں صبح کے اندھیرے میں ہی ریسکیو اہلکار متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ کئی رہائشی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کریں۔

  13. ترکی میں 7.8 شدت کے زلزلے سے کئی شہروں میں تباہی

  14. مشکل کی اس گھڑی میں برادر ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں: وزیر اعظم پاکستان

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں برادر ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔

    ’ترکیہ نے ہر مشکل میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کے بڑھتے واقعات پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ انسانیت اور کرہ ارض کی بقا کا معاملہ ہے۔ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی۔‘

  15. ’امریکہ امدادی سامان پہنچانے کے لیے تیار‘

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوون نے کہا ہے کہ امریکہ نے زلزلے سے ہونے والی تباہی پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی ہے۔ ’امریکہ ہر قسم کی مدد اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ملک کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ کیسے متاثرین کی مدد کی جاسکتی ہے۔

  16. قریبی ملکوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

    شدید نوعیت کے اس زلزلے سے نہ صرف ترکی اور شام میں نقصان ہوا ہے بلکہ اس کے جھٹکے قریب ہی لبنان، غزہ اور قبرص میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلے کے مقام سے قریب 450 کلو میٹر دور لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’میں کچھ لکھ جا رہا تھا کہ اچانک پوری عمارت کانپ اُٹھی۔

    ’مجھے لگا کہ پھر کوئی دھماکہ ہوا ہے۔ میں کھڑکی کے قریب کھڑا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ ٹوٹ جائے گی۔ زلزلے کے چھٹکے چار سے پانچ منٹ تک جاری رہے اور یہ خوفناک منظر تھا۔‘

    غزہ کی پٹی میں بی بی سی کے پروڈیوسر رشدی ابو العوف کہتے ہیں کہ جس گھر میں وہ رہ رہے تھے وہ 45 سیکنڈز تک ہلتا رہا۔

  17. بریکنگ, ’ترکی میں زلزلے سے 76 ہلاک، 440 زخمی‘

    ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کا کہنا ہے کہ زلزلے میں 76 افراد ہلاک جبکہ 440 زخمی ہوئے ہیں۔

  18. شام میں زلزلے سے کم از کم 42 ہلاک: سرکاری میڈیا

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک میں زلزلے سے 42 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

    اس نے بتایا ہے کہ شمال مغربی شہر حلب میں متعدد عمارتوں کے گِرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  19. زلزلے سے 10 ترک شہروں میں تباہی

    ترک وزیر داخلہ سليمان صويلو نے کہا ہے کہ زلزلے سے 10 شہروں میں تباہی ہوئی ہے جن میں غازی انتیپ، قہرمان مرعش، حطائے، عثمانیہ، آدیامان، مالاطیہ، شانلیعرفا، آدانا، دیار بکر اور کیلیس شامل ہیں۔

    مالاطیہ کے گورنر کے مطابق وہاں 23 افراد ہلاک، 42 زخمی اور 140 عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں۔

  20. ہم اس تباہی سے ایک ساتھ نکلیں گے: ترک صدر اردوغان

    ترک صدر طیب اردوغان نے زلزلے کے متاثرین کے لیے ہمدردی ظاہر کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’امید ہے ہم اس تباہی سے ایک ساتھ جلد از جلد اور کم نقصان کے ساتھ نکل سکیں گے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر یونٹ بھی الرٹ پر ہیں۔