آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. بریکنگ, زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے تجاوز کر گئی

    ترکی میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1762 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم ایک ہزار ہے۔ یوں مجموعی طور پر گذشتہ روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 ہو چکی ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے اندیشہ ہے۔

  2. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے 2600 سے زیادہ ہلاکتیں، ترکی میں سات روزہ سوگ کا اعلان

    تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    اگر آپ اس وقت ہمارے لائیو پیج کا رخ کر رہے ہیں تو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد ہونے والے نقصان کی تازہ ترین تفصیلات کچھ یوں ہیں:

    • اب تک اس زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
    • ریسکیو اہلکار اس وقت شدید ٹھنڈ اور برفباری والے موسم میں ملبے ہٹانے اور اس میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس صورتحال کو ایک شہری نے ’قیامت‘ سے تشبیہ دی ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے کے بعد سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
  3. ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری

    ترکی کے نائب صدر کے مطابق ملک میں پیر کو آنے والے زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1541 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک کے جنوب اور جنوب مشرق میں آنے والے زلزلے میں 9700 لوگ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں کتنی تھی یا اس کے باعث ہلاکتیں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔

    دونوں زلزلوں کے بعد 145 آفٹر شاکس آ چکے ہیں جن میں سے تین کی شدت چھ سے زیادہ کی تھی۔

    نائب صدر کا کہنا تھا کہ تقریباً 3500 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

  4. ترکی میں دو بڑے زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس

    ترکی میں آج دو بڑے زلزلے رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد سے پورے خطے میں درجنوں آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اوپر دیے گئے نقشے میں ان زلزلوں کی شدت دکھائی گئی ہے اور ان کا زلزلے کے مرکز کے اعتبار سے ان کا محلِ وقوع بھی دکھایا گیا ہے۔

    جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے اکثر جھٹکے چھ سے زیادہ شدت کے ہیں جو کہ ایک شدید زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔

  5. زلزلہ زدگان سے اظہار یکجہتی: اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی

    اقوام متحدہ نے رواں برس اپنی ترجیحات کے تعین کے لیے منعقدہ اجلاس میں ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ خاموشی اختیار کی۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجنے جانے والی ٹیمیں اس وقت اس متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔

    ان کے مطابق یہ ٹیمیں وہاں متاثرین کی ضروریات کا خیال رکھ رہیں ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

  6. امریکہ کا ترکی اور شام میں ریسکیو آپریشن میں امداد کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ترکی اور شام میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن کریں گے۔

    صدر بائیڈن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ترکی کے صدر مل کر اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور جہاں اور جس طرح کی امداد کی ضرورت ہے اسے یقینی بنائیں۔

  7. پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا ترکی کے صدر طیب اردوغان سے ٹیلی فونک رابطہ، امداد کا اعلان

  8. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی کم از کم تعداد 2300 ہو گئی ہے

    ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2300 تک پہنچ چکی ہے۔

    ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1498 ہو گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شام میں ہلاکتوں کی تعداد 810 تک پہنچ گئی ہے۔

  9. ’ہمیں لگا کہ قیامت آ گئی ہے‘

    ترکی کے یکے بعد دیگرے زلزلے پر عینی شاہدین نے اپنے تاثرات شیئر کیے ہیں۔

    تولن اکایا دیاربکر کی رہائشی ہیں۔ یہ جگہ زلزلے کے مرکز سے مشرق میں کوئی 180 میل کی دوری پر واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی پہلے زلزلے کے غم سے اپنے آپ کو باہر نکالنے کی کوشش میں تھیں کہ دوسرے زلزلے نے انھیں آن لیا۔

    انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ بہت سہمی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق میں نے اسے بہت شدت سے محسوس کیا کیونکہ میں بالائی منزل پر رہتی ہوں۔

    ان کے مطابق ہم افراتفری میں باہر کی طرف بھاگے۔ ان کے مطابق میں اب اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نہیں جا سکتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب آگے کیا ہو جائے گا۔‘

    ترکی میں پہلے زلزلے کا مرکز غازی عنتیپ تھا اور اس کی شدت 7.8 تھی جبکہ دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور یہ جگہ پہلے زلزلے کے مرکز سے شمال میں 80 میل کی دوری پر کہرمان مرعش صوبے میں واقع ہے۔

    ملیسا سلمان کہرمان مرعش کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے والے زون میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اس طرح کے جھٹکے لگتے رہتے ہیں۔

    مگر ان کے مطابق آج جو ہوا یہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    ان کے مطابق ’ہمیں لگا کہ یہ قیامت ہے۔‘

    ہالس اکتیمر دیاربکر کے رہائشی ہیں۔ وہ ان پہلے لوگوں میں شامل تھے جو پہلی بڑی عمارت گرنے کے بعد اس جگہ تک پہنچے اور پھر ملبے سے لوگوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

    ان کے مطابق ہم تین لوگوں کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ مگر دو لوگ مر چکے تھے۔ ان کے مطابق دسرے زلزلے کے بعد میں کہیں نہیں جا سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب انھیں میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

  10. روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی ترکی اور شام کے لیے امداد کا اعلان

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ترکی اور شام کے نام تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور زلزلہ سے متاثرہ دونوں ممالک کے لیے امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر پوتن نے شام کے صدر بشاالاسد سے کہا کہ ہم تمام زخمیوں کے جلد صحت یابی کے دعاگو ہیں اور اس قدرتی آفت سے نمنٹے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے نام ایک پیغام میں صدر پوتن نے کہا کہ ان کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں تک ہمدردی اور مدد کا اظہار کیجیے۔ انھوں نے کہا کہ روس اس مشکل میں ہر مدد دینے کو تیار ہے۔

  11. زلزلے سے اموات کی کم از کم تعداد 1900 ہو گئی

    ترکی اور شام میں زلزلے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1900 ہو گئی ہے۔ ترکی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1121 جبکہ شام میں مرنے والوں کی تعداد 783 بتائی جا رہی ہے۔

    ابھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی میں آنے والے دوسرے زلزے میں کوئی ہلاکت یا ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔

  12. جب زلزلے سے متاثرہ عمارت نیچے آ گری

    ترکی کے علاقے شانلی اورفہ میں ریکارڈ کی جانے والی اس فوٹیج میں زلزلے کے کئی گھنٹے بعد ایک کثیر المنزلہ عمارت کو منہدم ہوتے اور لوگوں کو محفوظ مقام کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  13. ’پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے‘

  14. ترک ٹی وی کا عملہ ترکی میں دوسرے زلزلے کا عینی شاہد

    آج ترکی میں پہلے زلزلے کے بعد دوسرا زلزلہ بھی آیا ہے۔ خبررساں ادارے نے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ خوف میں جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں جبکہ عمارتیں گر رہی ہیں۔

    فوٹیچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملطیہ میں ٹی وی پر لائیو زلزلے کی تباہی سے پیدا ہونے والی آواز کو سنا جا سکتا ہے اور گرتی دیواروں سے بہت زیادہ دھول اڑتے دیکھی جا سکتی ہے۔

    ایسے میں رپورٹر یکسل ایکالان نے بعد میں بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس وقت سرچ اور ریسکیو آپریشن کی ویڈیو بنا رہے تھے جب ان کے قریب ہی ایک عمارت زمین بوس ہو گئی۔

    ویڈیو میں چیخیں سنی جا سکتی ہیں اور لوگ سڑک کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ جب کسی حد تک دھول بیٹھ گئی تو پھر ملبے کے پہاڑ نظر آنا شروع ہو گئے۔

  15. زلزلے کے بعد گیس پائپ لائن کے ساتھ آگ ہی آگ

    ترکی کے جنوبی علاقے سے آنے والی ویڈیوز میں زلزلے کے بعد گیس پائپ لائن کے ساتھ آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔

    ترکی کے وزیرِ توانائی فتح دونمیز نے پیر کی صبح بتایا تھا کہ زلزلے سے ملک میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے جن میں زلزلے کے مرکز کے قریب واقع گیس پائپ لائن شامل ہے۔

    بی بی سی نے ان ویڈیوز میں سے ایک کی تصدیق کروائی ہے اور یہ ویڈیو ہاتے نامی شہر کے نواح کی ہے جو غازی عنتیپ سے 170 کلومیٹر دور واقع ہے۔

  16. عالمی رہنماؤں نے ابھی تک زلزلہ متاثرین کے لیے کتنی امداد کا اعلان کیا ہے؟

    دنیا بھر کے رہنماؤں نے ترکی اور شام میں زلزلے کی تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن کے لیے امداد کے اعلانات کیے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی ہمددری ترکی اور شام کے لوگوں کے ساتھ ہے۔۔ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو اس وقت آگے بڑھ کر مصیبت میں پھنسے افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ جو کچھ کر سکا اس مشکل صورتحال میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوان نے ترکی اور شام سے آنے والی تصاویر کو بہت المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس ہنگامی بنیادوں پر امداد دینے کے لیے تیار ہے۔ جرمن چانسلر اولف شلز نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس زلزلے میں مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ اس غم میں برابر کا شریک ہے اور یقیناً وہ مدد بھی بھیجیں گے۔

    اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے ترکی کے عوام کے نام تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے حکام کو یہ ہدایات دے دی ہیں کہ وہ فوری طور پر میڈیکل، ریسکیو اور تمام تر معاونت کے لیے تیار ہو جائیں۔

    انڈین حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے سو سے زائد ڈیزاسٹر رسپوسنس پرسنل اور خاص تربیت یافہ کتوں کا سکواڈ جلد خصوصی پرواز سے روانہ ہو جائے گا۔ انڈیا کے مطابق میڈیکل ٹیمیں اور دیگر ضررری سامان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

    یورپی فوجی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولنبرگ نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے صدر اردوغان سے رابطے میں تھے اور وہ جلد امداد بھیجنے کے عمل کو یقینی بنا رہے ہیں۔

  17. ’اتنی سردی ہے، میرے بچے تو ملبے تلے جم جائیں گے‘, ہتیس کامر، بی بی سی ترکیڑ دیاربکر

    ایک بزرگ کرد خاتون بین کر رہی ہے اور اسے ملبے میں دبی اپنی بھابھی، بھتیجے اور بھتیجیوں کی خیریت کی خبر درکار ہے۔ اس کے کچھ پڑوسی اسے دلاسہ دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’دیکھو چند منٹ پہلے ایک شخص کو نکالا گیا ہے، تمہارے گھر والے بھی نکل آئیں گے۔‘

    ان دلاسوں کے باوجود یہ بزرگ خاتون زیادہ پرامید نہیں کیونکہ ان کا خاندان اس 12 منزلہ عمارت کی سب سے نچلی منزل پر رہتا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’وہ پہلی منزل پر سو رہے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔ اتنی سردی بھی ہے، میرے بچے تو ملبے تلے جم جائیں گے۔‘ اچانک شور ہوتا ہے۔

    لوگ ایک اور شخص کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن وہ بھی ان خاتون کا رشتہ دار نہیں لیکن وہ اس کے زندہ بچ جانے پر خوش ہیں۔

    یہاں شدید ٹھنڈ ہے، بارش ہو رہی ہے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے کوئی مکانات کے قریب بھی نہیں جا رہا باوجود اس کے کہ سب بےسروسامانی کی حالت میں ان گھروں سے نکلے تھے۔

    دیاربکر میں کم از کم سات عمارتیں منہدم ہوئی ہیں اور زلزلے سے 33 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 12 کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔

  18. تباہ شدہ عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر

    بی بی سی نیوز نے ترکی میں آنے والے پہلے زلزلے سے ہونے والی تباہی کی ویڈیو حاصل کی ہے۔ غازی عنتیپ کی اس فوٹیج میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں۔

  19. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتیں 1700 سے زیادہ

    ترکی کے جنوبی اور شام کے شمالی علاقے میں آنے والے شدید زلزلوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1700 سے بڑھ گئی ہے۔

    7.8 شدت کا پہلا زلزلہ پیر کی صبح غازی عنتیپ کے علاقے میں اس وقت آیا جب زیادہ تر لوگ سو رہے تھے۔

    اس زلزلے کے چند گھنٹے بعد 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ غازی عنتیپ سے 80 میل دور واقع آکیزنوزو کے علاقے میں بھی آیا اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی آفٹر شاک نہیں تھا۔ اس زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ترکی میں آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ کے مطابق صرف پہلے زلزلے سے اب تک 1014 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5300 سے زیادہ زخمی ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق شام میں حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 783 افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔

    اس طرح اب تک دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 1798 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سات ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔

  20. زلزلے سے محفوظ رہنے والے افراد اپنے بچوں کو ٹھنڈ سے بچا کر گرم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

    ترکی کے شہر ملطیہ میں 25 برس کے اوزگل کوناکچی نے اپنے خاندان سمیت ایک عمارت سے باہر نکلیں اور دیکھا کہ پانچ اور عمارتیں تباہ ہو چکی تھیں اور ان کے پڑوسی ان عمارتوں کے ملبے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

    وہ انھیں بچانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر برفباری کی وجہ سے بہت سردی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا کیا جائے، ہم بس انتظار کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق کچھ لوگ اپنے گھر جانا چاہتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ سردی ہے۔ مگر پھر جب سخت آفٹرشاکس کا سوچتے ہیں تو پھر باہر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

    وہ کم از کم ہمارے بچوں کے لیے بھی کچھ کپڑے وغیرہ لے کر آ سکتے ہیں۔

    اوزگل کہتی ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کے گرم کپڑے لانے کی پریشانی لاحق ہے۔