آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. سرد موسم سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں, سائمن کنگ، ماہر موسمیات

    جنوبی ترکی اور شمالی شام میں بارش اور برفباری کے بعد رواں ہفتے موسم خشک اور گرم رہے گا۔

    تاہم منگل کو کچھ مقامات پر برفباری ہوسکتی ہے اور اس کے بعد سرد ہوا سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

    غازی عنتیپ، جو کہ 7.8 شدت کے زلزلے کا مقام تھا، میں درجہ حرارت منفی چھ سے چار تک رہ سکتا ہے مگر رات کے اوقات میں یہ گِر کر منفی سات تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ پہاڑی علاقوں کی طرف یہ منفی 15 تک بھی گِر سکتا ہے۔

    ادھر شام میں موسم اس قدر سرد نہیں۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت 10 سے 11 ڈگری سیلیئس ہے تو رات میں منفی تین۔

    امدادی سرگرمیوں میں سرد موسم ایک بڑی مشکل ہے۔ اکثر مقامات پر رات کے اوقات میں لوگ باہر کسی جگہ آگ جلا کر جمع ہوتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ ہیں کہ ایک اور زلزلہ نہ آجائے۔

  2. بریکنگ, ترکی اور شام میں 4800 سے زیادہ مجموعی ہلاکتیں

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے 3381 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ 20426 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5775 عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    زلزلے کے بعد 285 آفٹر شاکس بھی آئے ہیں۔

    دوسری طرف شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے سے 1500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    یوں اموات کی مجموعی تعداد 4800 سے بڑھ گئی ہے۔

  3. انڈیا کی ریسکیو ٹیموں کی تربیت یافتہ کتوں اور ڈرلنگ آلات کے ساتھ ترکی آمد

    امدادی کارروائیوں کے لیے انڈیا کی ٹیمیں اور ضروری سامان ترکی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان اندرم باغچی کا کہنا ہے کہ دلی نے ابتدائی طور پر اپنی ٹیمیں، تربیت یافتہ کتے، ڈرلنگ مشینیں اور دیگر ضروری سامان ترکی بھجوا دیا ہے۔

    وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ انڈیا ترکی میں متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترکی میں انڈیا کے سفیر نے کہا کہ ’اصل دوست وہی ہے جو ضرورت میں کام آئے۔‘

  4. ترکی اور شام میں کتنا نقصان ہوا ہے؟

    • ترکی اور شام میں زلزلے سے 4300 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
    • عالمی ادارۂ صحت کو 20 ہزار کے قریب اموات کا خدشہ ہے
    • ترکی میں 14 ہزار جبکہ شام میں کم از کم 3411 افراد زخمی ہوئے ہیں
    • امدادی ٹیموں نے دونوں ملکوں میں 5600 سے زیادہ عمارتیں گِرنے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں کئی شہروں میں قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں شامل ہیں جہاں لوگ سو رہے تھے جب زلزلہ آیا
    • یونیسکو کو خدشہ ہے کہ دیاربکر (ترکی) اور حلب (شام) میں متعدد تاریخی تعمیرات کو زلزلے سے نقصان پہنچا ہے
    • شمال مغربی شام کے ایک قید خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے قیدی اس کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کم از کم 20 قیدی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
  5. زلزلے کے بعد ریسکیو آپریشن: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں
    • مصدقہ ہلاکتوں کی تعداد 4300 سے زیادہ ہے تاہم جیسے جیسے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں ویسے ویسے اس میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
    • ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 65 ملکوں سے 2600 سے زیادہ امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں
    • اب تک تین لاکھ کمبل اور 4100 ٹینٹ متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جاچکے ہیں
    • پیر کے زلزلے میں ہزاروں عمارتیں گِر کر تباہ ہوگئی ہے جبکہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں
  6. استنبول نے 13 ہزار کارکنان پر مشتمل ریسکیو ٹیم متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی

    استنبول کے گورنر نے بتایا ہے کہ منگل کی صبح 13 ہزار امدادی کارکنوں پر مشتمل ٹیم زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔

    اس میں امدادی عملہ اور رضاکار شامل ہیں جنھیں خاص طور پر ہاتائی صوبے کے متاثرین کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

    پیر کے زلزلے کے ہاتائی پر تباہ کن اثرات ہوئے ہیں۔ اس کے ایئرپورٹ کا رن وے دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔

  7. شامی قصبے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی

    شام کے شمال مغرب میں واقع دیہی علاقے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کو ڈرون کیمرے سے محفوظ کیا گیا ہے۔

  8. ’ملبے میں پھنسے لوگوں کو فوراً بچانے کی ضرورت، وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ پائیں گے‘

    ترکی اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

    ایک طبی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جیسے سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور تباہی کی شدت۔

    ڈیوک یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ ایڈورڈ مون کا کہنا ہے کہ پانی اور آکسیجن کی قلت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو زندہ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

    ہر بالغ فرد کو روزانہ 1.2 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر مون نے بتایا کہ ’پیشاب، سانس باہر نکالنے، پانی کے بخارات بننے اور پسینے سے انسانی جسم میں سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ناسازگار حالات میں ایک شخص کے جسم سے آٹھ لیٹر پانی خارج ہوجائے۔‘

    اس وقت ترکی اور شام کا موسم سرد ہے۔ اوسط شخص آسانی سے 21 ڈگری سیلیئس درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔ زیادہ سردی کی صورت میں جسم خود گرم رہنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

    ڈاکٹر مون کے مطابق ’ایک موقع پر جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کی پیروی کرنے لگتا ہے۔۔۔ اگر گرم رہنے کے لیے مناسب انتظام نہ ہو تو اس کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اگر مسلسل ایسی صورتحال رہے تو بدقسمتی سے لوگ ہائپو تھرمیا سے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔‘

    ’میں زلزلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ہمدردی ظاہر کرتا ہوں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو انھیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  9. زلزلے کے مرکز تک پہنچنے میں ریسکیو ٹیموں کو ٹریفک کا سامنا, نامہ نگار اینا فاسٹر، عثمانیہ، ترکی

    صبح کے وقت ہم مرعش پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

    تاہم مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بالکل رُکی ہوئی ہے۔ گاڑیاں آہستہ آہستہ چل پا رہی ہیں۔ گیلی سڑکیں گاڑیوں کی بریک لائٹس کی روشنی سے سُرخ ہوچکی ہیں۔

    جنوبی ترکی کے اس مقام تک بہت کم لوگ پہنچ پائے ہیں۔ سب کی کوشش ہے کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں اور ضروری مدد فراہم کر سکیں۔

    شہر جاتے ہوئے میری ملاقات ایک امدادی ٹیم سے ہوئی جن کی گاڑی سامان سے بھری ہوئی تھی۔

    وہ وہاں پہنچنے کی جلدی میں ہیں تاکہ زندہ بچنے والوں کی سانسیں بحال رکھ سکیں۔ تاہم انھیں اس کا اندازہ نہیں کہ کس قدر زیادہ نقصان ہوا ہے۔

  10. بریکنگ, مرکزی ترکی کے قریب ایک اور زلزلہ

    کچھ دیر قبل مرکزی ترکی میں ایک اور زلزلے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

    امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5.5 تھی جبکہ 10 کلومیٹر گہرائی کا یہ زلزلہ مقامی وقت تین بج کر 13 منٹ پر انقرہ کے قریب ایک گاؤں گولباشی میں آیا۔

    ادھر فرانس میں قائم ای ایم ایس سی کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 کلومیٹر اور گہرائی دو کلومیٹر تھی۔

  11. ’پی آئی اے کی استنبول، دمشق جانے والی پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت‘

    پاکستان کی سرکاری ایئرلائن پی آئی اے کے مطابق حکومت پاکستان کی ہدایات پر ان کا طیارہ 51 رکنی ریسکیو ٹیم کو لے کر آج دوپہر استنبول پہنچے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی کے 707 پاکستانی ریسکیو ٹیم اور ان کے سات ٹن وزنی خصوصی آلات کو لے کر لاہور سے استنبول روانہ ہوگی۔

    اس میں بتایا گیا ہے کہ ’پرواز پر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے بھی اقدامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پروازیں ہیں جو کہ حکومتی امدادی اقدامات کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوں گی۔

    ’پی آئی اے انتظامیہ نے انسانی ہمدردی بنیادوں پر ریلیف سامان کی ترسیل بھی بلامعاوضہ کر دی ہے۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) اور دمشق (شام) جانے والی تمام پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت کر دی گئی ہے۔‘

    پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سامان این ڈی ایم اے کے ذریعے پی آئی اے کے کارگو ٹرمینل پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ ’کسی بھی امدادی کام یا زخمی ہم وطنوں کو وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔‘

  12. جاپان نے امدادی ٹیمیں ترکی روانہ کر دیں

    ترکی میں سرچ اینڈ ریسکیو کی کوششوں کے لیے جاپان نے اپنی امدادی ٹیمیں متاثرہ ملک روانہ کر دی ہیں۔

    یہ ٹیم پیر کی شب روانہ ہوئی ہیں۔

    جاپانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترک حکومت کی درخواست، انسانی ہمدردی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے پیش نظر جاپان نے ترکی کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

  13. ترکی میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کی ڈرون فوٹیج

  14. جھولتی عمارتوں کے دل دہلا دینے والے مناظر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے

    گذشتہ روز شام اور ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین اس بارے میں بات بھی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اس دوران کیا ہوا تھا تاہم بی بی سی نیوز نے ان معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہے۔

    زلزلے کے جھٹکے صبح چار بج کر 17 منٹ پر محسوس ہوئے اور یہ مرکز سے کئی سو میل تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    شہری بتاتے ہیں کہ کیسے وہ نیند سے جاگے اور بھاگ کر اپنی گاڑی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    ایردیم نام ایک شہری نے کہا کہ ’اپنی 40 سالہ زندگی میں میں نے کبھی ایسے محسوس نہیں کیا۔ ہم تین مرتبہ بہت بری طرح جھنجھوڑے گئے، جیسے کسی بچے کو جھولے میں ہلایا جاتا ہے۔

    بی بی سی نیوز کی جانب سے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ہونے والی تباہی کے حوالے سے معلومات کو جوڑا گیا ہے۔ اس میں عینی شاہدین کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کا سہارا بھی لیا گیا ہے۔

  15. رضاکاروں کو گاڑیوں میں متاثرہ علاقوں تک نہ جانے کی ہدایت

    ترک ہلال احمر نے رضاکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ امدادی سامان لے جانے کے لیے گاڑیوں پر متاثرہ علاقوں کا رُخ نہ کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’گاڑیاں سڑکوں پر 50 میٹر گہری کھائی میں گِری ہیں۔ سڑکوں پر برف بھی ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہلال احمر کو کھانا اور گرم رہنے کے لیے دیگر سامان جیسے کمبل، کوٹ اور بوٹ عطیہ کریں تاکہ ایسی چیزوں کو آگے پہنچا کر تقسیم کیا جاسکے۔

    ہلال احمر نے اس سے قبل خون کے عطیہ کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ زخمیوں کو بچایا جائے۔

  16. زلزلوں کی شدت کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے؟, پال گوش، بی بی سی سائنس

    زلزلوں کی پیمائش جس پیمانے پر کی جاتی ہے اسے مومنٹ میگنیٹیوڈ سکیل کہتے ہیں۔

    انسان 2.5 شدت کا زلزلہ محسوس نہیں کر پاتے مگر آلات کی مدد سے ان کی تصدیق ہوسکتی ہے۔ پانچ کی شدت کے زلزلے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔

    ترکی اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے کو کافی زیادہ نقصان دہ خیال کیا جا رہا ہے۔

    آٹھ کی شدت کے زلزلے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنے اردگرد کی تعمیرات کو منہدم کرسکتے ہیں۔

  17. آسٹریلیا متاثرین کی بحالی کے لیے ایک کروڑ ڈالر دے گا

    آسٹریلوی وزیر اعظم نے منگل کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ابتدائی طور پر فلاحی تنظیموں کو ایک کروڑ ڈالر امداد دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا کی مدد ان لوگوں کے لیے ہوگی جنھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘ انھوں نے متاثرین کے لیے اپنی ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔

    ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم، جو آسٹریلیا کے دورے پر موجود ہیں، نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت متاثرین کی امداد کے لیے 15 لاکھ ڈالر مختص کرے گی۔

  18. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتیں 4300 سے بڑھ گئیں

    ترکی اور شام میں جہاں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب تک 4300 سے زیادہ اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں زلزلے سے اب تک 2921 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 15834 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔

    مجموعی طور پر اب تک زلزلے سے 4365 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

  19. بریکنگ, ہلاکتوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر گئی، شدید سردی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات

    ترکی کے نائب صدر نے بتایا ہے کہ ترکی میں اب ہلاک ہونے والے کی تعداد 2379 ہو گئی ہے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

    ان کے مطابق اب تک ملبے سے 7840 افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ 4748 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔ یوں اس ہلاکت خیز زلزلے کے باعث 3500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ترکی اور شام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس دوران موسم ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور جگہ جگہ بارش اور شدید ٹھنڈ کے باعث امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  20. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تین ہزار سے تجاوز کر گئی

    اب تک ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کی اندیشہ ہے کہ یہ ہلاکتوں کی اصل تعداد موجودہ تعداد کا آٹھ گنا ہو سکتی ہے۔

    ملک میں آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے مطابق اب تک ترکی میں 2316 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہمسایہ ملک شام میں حکومت اور ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1293 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔