جنوبی ترکی میں بھاری بھرکم مشینری کے ذریعے رات بھر کام جاری رہا جہاں عمارت کے منہدم ڈھانچے میں شامل کنکریٹ کی بڑی سلیبز ہٹائی جا رہی تھیں۔
امدادی کام میں اس وقت وقفہ آتا جب کسی جگہ سے ’اللہ اکبر‘ کی آواز لگائی جاتی۔ یہ اس وقت کہا جاتا تھا جب ملبے میں سے کسی شخص کو زندہ یا مردہ نکالا جاتا۔
ترک حکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
میرے طیارے نے لبنان سے اُڑان بھری۔ یہ فائر فائٹرز اور طبی عملے سے بھرا ہوا تھا۔ آدانا ایئرپورٹ پر سوئٹزر لینڈ اور رومانیہ کے ریسکیو ورکرز سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔
یہ شہر بے گھر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ جن کے گھر چھِن گئے وہ آفٹر شاکس کے ڈر سے کسی جگہ پناہ لینے کو تیار نہیں۔
پہلا زلزلہ صبح سویرے آیا جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور عمارتیں 90 سیکنڈوں تک ہلتی رہیں، عینی شاہدین کے لیے یہ ایک نہ تھمنے والا مرحلہ تھا۔
کچھ لوگ فوری طور پر اپنی قیمتی اشیا اور قریبی لوگوں کے ساتھ محفوظ رہنے میں کامیاب رہے۔ کچھ لوگ بغیر جوتوں، کوٹ اور فون چارجرز کے گھروں سے نکلے تھے۔
رواں ہفتے کچھ مقامات پر درجہ حرارت کم ہوسکتا ہے۔
ترکی کے لیے ایک آفت ہے مگر شمالی شام میں صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ سرحد پر کڑی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ شام کو عالمی مدد حاصل نہیں اور اس کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے جدید مشینری بھی نہیں۔
سرحد کے پاس 17 لاکھ شامی پناہ گزینوں نے قیام کر رکھا ہے جن کی زندگیاں زلزلے سے قبل بھی مشکلات کا شکار تھیں۔ وہ کئی برسوں سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور تھے اور اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن کر زندگی گزار رہے تھے۔
حلب، ادلب، بانیاس اور جندیرس میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کی مدد کی پکار پر کوئی ردعمل نہیں دے رہا۔
شمالی شام گذشتہ ایک دہائی سے جنگ سے متاثرہ ہے اور اس تباہ کن زلزلے نے شہریوں کی زندگی اور بھی مشکل بنا دی ہے۔