یوکرین میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق اس ملک میں تین ہزار پاکستانی طلبا موجود ہیں اور اکثریت نے سفارت خانے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیا تھا۔
سفارت خانے کے مطابق چھ سے لے کر سات سو طلبا کو نکالا جارہا ہے اور اب تک 125 کو نکالا جا چکا ہے جبکہ 396 طلبا اس وقت بارڈر کے قریب موجود ہیں۔
سفارت خانے کا کہنا ہے کہ 18 طلبا لیویو کے استقبالیہ میں موجود ہیں۔ 30 بزریعہ ٹرین سے آرہے ہیں۔ 88 فیصد محفوظ مقامات پر ہیں اور باقی ماندہ بھی جلد محفوظ مقامات پر پہنچ جائیں گے۔
پولینڈ کی سرحد پر موجود پاکستانی طالب علم عدیل احمد کے مطابق وہ گذشتہ 24 گھنٹے سے اپنے دیگر پانچ ساتھیوں کے ہمراہ لائن میں کھڑے اپنے نمبر کا انتطار کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بارڈر پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو پولینڈ میں داخلے کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سخت سردی میں لائنوں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، لائن نہیں چھوڑ سکتے کہ اس طرح ہمیں پھر پچھے جانا پڑے گا۔‘
’اپنے ساتھ ہاتھ میں جو کھانے پینے کا سامان رکھا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔
اور ہمیں لگ رہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں پولینڈ کی سرحد پر مزید لوگ جمع ہوجائیں گے۔‘
صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم توقیر ناصر جو کہ پولینڈ ہی کے بارڈر پر موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھی طلبا کی اکثریت پولینڈ میں داخل ہوچکی ہے جبکہ ہم ابھی انتظار میں ہیں کہ ہمیں بھی داخلے کی اجازت مل جائے۔
’دو راتوں سے شدید سردی میں کھلے آسمان تلے کھڑے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر یہ رات بھی ہمیں کھلے آسمان تلے کھڑا ہونا پڑا تو پتا نہیں ہمارا کیا بنے گا۔‘