یوکرین میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانی طلبا کی مدد کے لیے لیوو میں قائم کیا گیا ڈیسک بند کردیا گیا ہے اور اب یہ سہولت صرف ترنوپل شہر میں دستیاب ہے۔
اطلاعات کے مطابق یوکرین کے مختلف شہروں سے طالب علموں کی بڑی تعداد پولینڈ، ہنگری اور دیگر ممالک میں داخل ہو چکی ہے یا سرحد پر لمبی لائنوں میں موجود ہے۔ تاہم خرخیو شہر میں موجود پاکستانی طلبا کی اکثریت شہر ے نکل نہیں پا رہے۔
خرخیو میں موجود پاکستانی طلبا کے مطابق خرخیو میں شدید لڑائی جارہ ہے اور ہر تھوڑی دیر بعد بڑے دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستانی طلبا کے علاوہ انڈین، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ اس شدید لڑائی میں باہر نکلنے سے گرییز کریں۔
خرخیو میں مقیم پاکستانی طالب علم امجد نصیر کے مطابق ’دوسرا دن ہے ہم کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح خرخیو کو چھوڑ سکیں مگر یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ یونیورسٹی اور احکام کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ جس کے بعد ہم اپنے اپنے ٹھکانوں سے باہر نہیں نکلے ہیں۔‘
خرخیو ہی میں مقیم چوہدری موسی کا کہنا تھا کہ ’ان کے خیال میں کافی تعداد میں طالب علم یہاں سے نکل گئے ہیں مگر اس کے باوجود ابھی بھی خرخیو میں100 یا اس سے کچھ زیادہ پاکستانی طالب علم ہوسکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’انڈین طالب علموں کے علاوہ بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے طالبعلموں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے اور ایسے لگتا ہے کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی یا جنگ میں تھوڑا وقفہ نہ ہوا تو طالب علموں کا نکلنا مشکل ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ روس خرخیو پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا رہا ہے جبکہ یوکرین کی فوج بھی بھرپور مقابلہ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ عوام بھی پوری طرح فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہم پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیش کے طالب علم بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔