اپنی کرنسی کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی کو روکنے کے لیے روس نے شرحِ سود کو دو گنا سے بھی زیادہ کر کے 20 فیصد کر دیا ہے۔
اس سے پہلے شرحِ سود 9.5 فیصد تھی۔
مغربی ممالک کی پابندیوں کے بعد روبل کی قدر میں 30 فیصد کمی ہوئی مگر بعد میں یہ کمی 20 فیصد پر رک گئی۔
کرنسی کی قدر میں کمی سے لوگوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اور اُن کی بچت کسی کام کی نہیں رہتی۔
تاہم روس نے کہا ہے کہ اس کے پاس ان پابندیوں سے نمٹنے کے لیے وسائل موجود ہیں۔
پیر کو صدر ولادیمیر پوتن اور اُن کے اقتصادی مشیروں کے درمیان ہنگامی اجلاس سے قبل پوتن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا کہ ’یہ سخت پابندیاں ہیں، یہ پریشان کُن ہیں، مگر روس کے پاس ان سے نمٹنے کے لیے درکار صلاحیت موجود ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ روس بھی جواباً پابندیاں عائد کرے گا۔
روس کے مرکزی بینک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ بینکاری نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ لوگ ماسکو میں منی ایکسچینجز اور کیش مشینوں کے باہر قطاریں بنائے کھڑے تھے۔
کئی لوگوں کو فکر تھی کہ اُن کے بینک کارڈز یا معطل ہو جائیں گے یا نقد نکلوانے پر حد مقرر کر دی جائے گی۔