کووڈ کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے منظور شدہ ویکسینز موثر: عالمی ادارہ صحت
پاکستان میں گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملک میں چار ہزار سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ ادھر انڈیا میں گذشتہ چند روز سے مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اس ماہ کے آغاز میں جو شرح 19 فیصد سے زیادہ تھی اب 12 فیصد پر آ گئی ہے۔
لائیو کوریج
فائزر، ماڈرنا کی ویکسینز کووڈ کی انڈین قسم کے خلاف موثر: تحقیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ 19 کی دو انڈین قسموں کے خلاف فائزر اور ماڈرنا کی ویکسینز موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
نیو یارک یونیورسٹی کے گروسمین سکول آف میڈیسن اور لینگون سینٹر کی لیب پر مبنی اس تحقیق کے ابتدائی نتائج تاحال شائع نہیں کیے گئے۔
تحقیق کے مصنف نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ویکسین کی اینٹی باڈیز (کورونا کی دوسری) قسموں کے خلاف کمزور ہوتی ہیں لیکن اتنی کمزور نہیں کہ اس سے ویکسین کی حفاظتی صلاحیت پر اثر پڑے۔‘
محققین نے امریکہ میں یہ دونوں ویکسینز لگوانے والوں کے خون کے نمونے حاصل کیے جو اس ملک میں اب تک 15 کروڑ سے زیادہ افراد کو دی جاچکی ہے۔ پھر انھوں نے لیب میں اس خون میں کووڈ 19 کی انڈین اقسام (بی 1 617 اور بی 1 618) کے وائرس داخل کیے۔
اس مادے کو لیب میں پیدا کی گئی خلیات کے ساتھ ملایا گیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا وائرس انھیں متاثر کرتا ہے یا نہیں اور اس طرح محققین نے اپنے نتائج اخذ کیے۔
خیال رہے کہ اس نوعیت کی تحقیق ہمیشہ درست پیشگوئی نہیں کرسکتی کہ اصل میں کیا ہوگا۔
جعلی کورونا ٹیسٹ: 52 متاثرہ مریض دبئی اور شارجہ سے پاکستان پہنچ گئے؟, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہAirTeamImages
پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئربلیو نے مبینہ طور پر کورونا وائرس سے متاثرہ 52 مریضوں کو شارجہ سے پاکستان پہنچا دیا ہے، سول ایوی ایشن کا الزام ہے کہ جعلی منفی پی سی آر ٹیسٹ کی بنیاد پر ان متاثرہ مسافروں کو پاکستان لایا گیا ہے۔
سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئر بلیو کی پرواز 16 مئی کو 27 پازئیٹو مسافروں کو لے کر شارجہ سے پشاور ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یعنی دس مئی کو پرواز پی اے 611 چوبیس کورونا پازیٹیو مسافروں کو دبئی سے پشاور لے کر پہنچی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نجی ایئرلائن کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سول ایوی ایشن اٹھارتی نے 17 مئی کو دبئی سے پشاور کی پرواز کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ نجی ائیر لائن، وارننگ کے باوجود کورونا ایس او پیز نظر انداز کر رہی ہے اور اس عمل سے دوسرے مسافروں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
دریں اثنا سول ایوی ایشن کی جانب سے 16 مئی کو ’ان باؤنڈ ٹو ٹریول پاکستان آن فیک نیگیٹو پی سی آر ٹیسٹ رزلٹ‘ کے عنوان سے جاری کیے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کے ذریعے ان متاثرہ افراد کا پتہ لگایا گیا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دیگر فضائی کمپنیاں ایس او پیز کی پیروی کر رہی ہیں۔
دھوکہ دہی کے الزام میں دبئی سے پشاور کی پرواز کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایئربلیو کے ڈپٹی ڈائریکٹر راحیل احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سول ایوی ایشن نے علجت میں ان پر جرمانہ عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس او پیز کی پیروی کرتے ہوئے جن مسافروں نے گذشتہ 72 گھنٹوں میں پی سی آر ٹیسٹ کرائے ہوں، ان کے منفی ٹیسٹ رزلٹ دیکھنے کے بعد ہی انھیں جہاز پر سوار کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ 72 گھنٹے میں یہ افراد وائرس سے متاثر ہوجائیں۔
انھوں نے بتایا کہ اب وہ مبینہ متاثرہ افراد کے پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج متعلقہ لیبارٹریوں سے بھی چیک کرا رہے ہیں کہ کہیں یہ ٹیسٹ نتائج جعلی تو نہیں۔
ایئر بلیو کے ترجمان نے واضح کیا کہ دبئی اور شارجہ کی جن لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں وہ اعلیٰ معیار کی ہیں اور دبئی حکومت کے محکمہ صحت سے باضابطہ منظور شدہ ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ ایئربلیو کا آپریشن پاکستان کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر جاری ہے اور صرف پشاور ایئرپورٹ پر 52 مسافروں کے ٹیسٹ مثبت قرار دیے گئے ہیں۔
ایئر بلیو کمپنی کے مالک شاہد خاقان عباسی ہیں جو سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سرگرم رہنما ہیں۔
اپنے ملک میں ویکسین ملنے کی امید نہ ہو تو بیرون ملک جانا اخلاقی طور پر جائز ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اینو لینزے 'برلن سٹوری' میوزیم کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ عراق کے علاقے کردستان کا اکثر سفر کرے ہیں جہاں کورونا انفیکشن کے کیسز بہت زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی امداد کام بھی ان کے ذمے ہوتا ہے۔
اگرچہ جرمنی میں امدادی کاموں سے وابستہ لوگوں کو ویکسین لگانے کے عمل میں ترجیح دینے کا انتظام ہے، اینو لینزے کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ویکسین نہیں ملی کیونکہ وہ یہ کام ایک رضاکار کی حیثیت سے کرتے ہیں۔
اینو لینزے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’قواعد بعض اوقات بہت ہی عجیب ہوتے ہیں۔ مجھے ویکسین نہیں ملتی تھی۔‘
جب انھوں نے ماسکو کے لیے بکنگ کروائی تب تک ان کے 70 سالہ والد کو بھی یہ ویکسین نہیں مل سکی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ویکسین دینے کی ترجیحی فہرست میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس سے حفاظتی ٹیکوں کا عمل غیرمعمولی طور پر سست پڑجاتا ہے۔
تاہم ویکسین حاصل کرنے میں مبینہ 'عدم توازن' کے بارے میں دنیا بھر کے لوگوں سے شکایات ہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے ان کے پاس یہ اختیار بھی موجود ہے کہ وہ کہیں بھی جاکر ویکسین لیں۔
ایسے ممالک کی فہرست میں سربیا، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور یہاں تک کہ مالدیپ جیسے ممالک کے نام بھی شامل ہیں۔
ڈیڑھ برس میں ہم کووڈ 19 کے بارے میں مزید کیا جان پائے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ بخار اور کھانسی اس کی علامات ہیں۔ لیکن پھر جلد ہی اس بیماری میں مبتلا بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی قوت شامہ اور اور حسِ ذائقہ کھو رہے ہیں اور پھر اسے اس بیماری کے متعلق ڈبلیو ایچ او کی عام علامات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
جوں جوں وبائی مرض میں اضافہ ہوتا رہا دوسری کم عام علامات بھی سامنے آئیں جن میں میں مندرجہ ذیل علامات شامل ہیں:
گلے کی سوزش
سر درد
درد
دست
جلد پر سرخ دانے آنا یا انگلیوں اور انگوٹھوں کے رنگ کا بدلنا
سرخ دیدے یا آنکھوں میں خارش
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ جو لوگ بہت بیمار ہیں فوری طبی امداد حاصل کریں۔ سنگین علامات میں سانس لینے میں دشواری، قوت گویائی یا نقل و حرکت میں کمی، بے چینی یا سینے میں درد وغیرہ شامل ہیں۔
کورونا کی علامات کے علاج کی انڈین ساختہ دوا کی منظوری
،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا نے کووڈ 19 کی علامات کے علاج کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ دوا تقسیم کرنا شروع کردیا ہے۔
حکام نے 2-ڈی جی نامی دوا کو منظوری دی ہے اور اسے سب سے پہلے دارالحکومت دہلی کے ہسپتالوں میں استعمال کیا جائے گا۔
حکومت کے ایک بیان کے مطابق یہ دوا کووڈ 19 سے 'متاثرہ لوگوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوگی۔'
تاہم کچھ ناقدوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس دوا کے متعلق بہت زیادہ اعدادوشمار نہیں ہیں جس سے کووڈ کے علاج کے لیے اس کی ہنگامی طور پر منظوری کو تقویت مل سکے۔
ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے دواساز کمپنی ڈاکٹر ریڈی کے تعاون سے یہ 2-ڈی آکسی-ڈی گلوکوز یعنی 2-ڈی جی نامی دوا تیار کی ہے۔
حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'طبی آزمائشی نتائج میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ دوا ہسپتال میں داخل مریضوں کی تیزی سے بحالی میں مدد کرتی ہے اور مشین کی مدد سے آکسیجن پر انحصار کم کرتی ہے۔'
لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انسانوں پر کی جانے والی آزمائشوں میں دوا کی کارکردگی سے متعلق شائع شدہ اعداد و شمار کی کمی اس کی افادیت کے بارے میں سوالات پیدا کرتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی 2 اصل میں کینسر کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی اور اسی کے علاج کے لیے اس کا تجربہ بھی کیا گیا تھا لیکن طویل استعمال کے بعد بھی اس مرض کے علاج کے لیے اسے منظوری نہیں دی گئی ہے۔
بہرحال کووڈ 19 کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے اور علامات کو کم کرنے کے لیے جو دوائیں استعمال کی جاتی ہیں ان کی انڈیا میں شدید قلت دیکھی جا رہی جبکہ انڈیا تباہ کن دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے۔
کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال: بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کو کورونا وآیرس کی وبا سے متعلق اہم خبریں اور معلومات ملیں گی۔