کووڈ کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے منظور شدہ ویکسینز موثر: عالمی ادارہ صحت

پاکستان میں گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملک میں چار ہزار سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ ادھر انڈیا میں گذشتہ چند روز سے مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اس ماہ کے آغاز میں جو شرح 19 فیصد سے زیادہ تھی اب 12 فیصد پر آ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیا پاکستان کووڈ کی انڈین قسم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

  2. کورونا کا پھیلاؤ: لاطینی امریکہ میں اموات کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ گئی

  3. بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق خبروں کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر آئیں۔

  4. انڈیا میں کورونا کے مریضوں کو نابینا کرنے والا ’بلیک فنگس‘ کتنا خطرناک ہے؟

  5. عالمی ادارہ صحت: کووڈ کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے منظور شدہ ویکسینز موثر, یورپ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا بیان

    ویکسین، کووڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کووڈ سے بچاؤ کے لیے تمام منظور شدہ ویکسینز کورونا کی اقسام کے خلاف بھی موثر ثابت ہوئی ہیں۔

    جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈبلیو ایچ او کے یورپ ڈائریکٹر نے واضح طور پر کہا ہے کہ انڈین قسم سمیت کووڈ کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے منظور شدہ ویکسینز موثر ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ تاحال بین الاقوامی سفر کی مکمل بحالی محفوظ عمل نہیں۔ ’کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف پیشرفت کافی کمزور ہے، اس لیے بین الاقوامی سفر سے اجتناب کیا جائے۔‘

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن کی سختیوں میں نرمی لائی جارہی ہے، سیاحت کے لیے بین الاقوامی سفر کو فروغ دیا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ کووڈ کی نئی اقسام کے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔

  6. پاکستان: بیرون ملک طلبہ اور ملازمین کو بھی اب ویکسین مل سکے گی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں 18 سال سے زیادہ عمر کے ان شہریوں کو بھی اب ویکسین دی جاسکے گی جو بیرون ملک طلبہ ہیں، ملازمت کے ویزا پر بیرون ملک کام کرتے ہیں یا رجسٹرڈ سی فیررز ہیں اور اپنی چھٹیوں پر ملک واپس آئے ہیں۔

    این سی او سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ افراد کسی بھی ویکسینیشن سینٹر میں واک اِن کر کے اپنا ورک یا سٹڈی ویزا، پاسپورٹ اور اقامہ دکھا کر ویکسین حاصل کر سکتے ہیں۔

    سی فیررز کو ویکسین کے لیے بحری امور کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ دکھانا ہوگا۔

    بیان کے مطابق ان افراد کو نادرا کی طرف سے ایک ویب سائٹ کے ذریعے ویکسین سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا۔

  7. باچا خان ایئر پورٹ پر خلیجی ممالک سے آنے والے 41 مسافروں میں کورونا کی تشخیص، حکام کو تشویش

    pesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پشاور کے باچا خان ایئر پورٹ پر خلیجی ممالک سے پہنچنے والی دو پروازں میں 41 ایسے مسافر بھی سامنے آئے ہیں جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    ہمارے نامہ عزیز اللہ خان کے مطابق ایئر پورٹ پر قائم فوری نوعیت کے کووڈ ٹیسٹ کروانے کے بعد متاثرہ مسافروں کو قرنطینہ کر دیا جائے گا۔

    خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق یہ ایک تشویش ناک پیش رفت ہے۔

    صوبائی سیکرٹری صحت امتیاز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تمام افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں، جبکہ ان تمام افراد کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ مثبت مریضوں میں وائرس کی کون سی قسم موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ مرکزی سطح پر این سی او سی کے اجلاس میں اس پر بات ہوئی ہے اور ایک جامع پالیسی تشکیل دینے کا کہا گیا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ صوبے میں ان پروازوں کے ذریعے وائرس پھیل جائے۔

    ان پالیسیوں میں سے ایک تو مسافروں سے ایئرلائن میں بیٹھنے سے قبل کسی مصدقہ لیبارٹری سے ٹیسٹ رپورٹ دکھانے کی شرط شامل ہے اور ایئر لائن حکام کو صحیح جانچ پڑتال کرنے اور ایس او پیز کے تحت مسافروں کو بٹھانے کا پابند کرنا شامل ہے۔

    باچا خان ائیر پورٹ پر چند روز پہلے بھی دو ایسی پروازیں خلیجی ممالک سے پہنچی تھیں جن میں سے ایک میں 27 اور دوسری میں 25 مسافرمیں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور انھیں قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔

    باچا خان ایئر پورٹ کے حکام نے بتایا ہے کہ ان مسافروں کے دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں تصدیق ہوئی ہے کہ ایک پرواز میں 38 اور دوسری پرواز میں تین افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایئر پورٹ پر اس سال جنوری سے فرنٹ لائن پر تعینات عملے کے 20 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر اب صحتیاب ہو گئے ہیں۔

  8. انڈیا کے ’مقدس ترین‘ دریائے گنگا میں تیرتی لاشیں جنھیں ’دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے‘

  9. بریکنگ, انڈیا میں مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج کمی، مزید 3800 ہلاکتیں

    انڈیا میں گذشتہ چند روز سے مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اس ماہ کے آغاز میں جو شرح 19 فیصد سے زیادہ تھی اب گر کر 12 فیصد پر آ گئی ہے۔

    تاہم ملک میں کووڈ 19 کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد اوسطاً اتنی ہی ہے، اور گذشتہ روز بھی ملک میں 3800 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

    گذشتہ روز ملک میں 22 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ بھی کیے گئے جبکہ 11 لاکھ 50 ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, پاکستان میں یومیہ متاثرین میں اضافہ: چار ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 131 اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر یومیہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملک میں چار ہزار سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے۔ گذشتہ روز پچھلے تقریباً ایک ماہ بعد پہلی مرتبہ یومیہ ٹیسٹوں کی تعداد بھی 50 ہزار سے زیادہ رہی۔

    ملک میں مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہے جو رمضان کے آخری 10 دنوں میں نو فیصد سے زیادہ تھی۔ اب تک ملک میں 47 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور گذشتہ روز یہ تعداد ایک دن دو لاکھ سے زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔

  11. برطانیہ کو یقین ہے کہ ’ویکسین کووڈ کی تمام قسموں کے خلاف موثر‘

    برطانیہ، کورونا، ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ پُر اعتماد ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسینز انڈین قسم کے خلاف بھی موثر ہیں۔

    تاہم بورس جانسن نے متنبہ کیا ہے کہ کووڈ کی انڈین قسم کے پھیلاؤ کے باعث 21 جون کو انگلینڈ میں لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر کھولنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے برطانوی پارلیمان کو اپنے بیان میں کہا کہ ’ہمارا اعتماد بڑھ رہا ہے کہ ویکسینز (وائرس کی) تمام قسموں کے خلاف موثر ہیں جس میں انڈین قسم بھی شامل ہے۔‘

  12. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 9ویں سے 12ویں جماعت تک تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

    کشمیر تعلیم

    ،تصویر کا ذریعہKashmir Education Dept

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ تعلیم نے 24 مئی سے سرکاری و نجی سطح پر نویں سے بارہویں جماعت تک درس و تدرس کا عمل بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تھا۔

  13. دہلی پولیس والے کی وائرل ویڈیو: ’اگر خاکی پہنی ہے تو ڈیوٹی ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے‘

  14. پاکستان میں 24 مئی سے سیاحتی مقامات، آوٹ ڈور ریستوران کھولنے کا فیصلہ

    پاکستان میں 24 مئی سے سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہKP TOURISM DEPARTMENT

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی نے وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت اجلاس میں زیادہ متاثرہ شہروں میں پابندیوں میں نرمی سے متعلق کچھ فیصلے کیے ہیں۔

    ان میں مندرجہ ذیل فیصلے شامل ہیں:

    • 24 مئی سے ایس او پیز کے ساتھ سیاحتی مقامات اور آوٹ ڈور ریستوران کھولنے کی اجازت ہوگی
    • ریستوران رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے مگر ٹیک آوے کی اجازت 24 گھنٹے کے لیے ہوگی
    • ایسے اضلاع جہاں کورونا متاثرین کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے وہاں 24 مئی سے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جائیں گے
    • دیگر اضلاع میں تعلیمی ادارے 7 جون سے کھولے جائیں گے
    • مزارات، سینما ہال، ان ڈور ڈائننگ، ان ڈور جم اور پارکس بند رہیں گے
    • یکم جون سے ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ اوپن ایئر میرج ہال میں شادی کی تقریبات کی اجازت ہوگی
    • 27 مئی کو ان فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا
    • مذہبی، ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں والے اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی
    • تمام امتحانات 20 جون کے بعد ہوں گے
    • مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے تک کھولے جا سکیں گے
    پاکستان، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہNCOC

  15. بریکنگ, انڈین حکومت نے ریاست پنجاب کی جانب سے پاکستانی آکسیجن منگوانے کی درخواست رد کر دی, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو، نئی دہلی

    India

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں آکسیجن کی شدید قلت کے دوران انڈیا کی مرکزی حکومت نے ریاست پنجاب کی جانب سے پاکستان سے آکسیجن درآمد کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

    اس بحران کے دوران انڈین ریاست پنجاب کی حکومت نے انڈین حکومت کو خط لکھا کہ انھیں پاکستانی پنجاب سے آکسیجن درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن حکومت پنجاب کی چار مئی کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مرکزی حکومت نے اس درخواست کو رد کردیا۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں آکسیجن والے بستروں کی کمی ہے لیکن ’ انڈین حکومت نے واگاہ، اٹاری بارڈر، جو کہ جغرافیائی اعتبار سے (انڈین پنجاب سے) قریب ہے، کے ذریعے پنجاب کی مقامی صنعت کو ایل ایم او (آکسیجن) کی تجارتی درآمدگی کی اجازت دینے میں ناکامی کا اظہار کیا ہے۔‘

    آکسیجن کی مناسب سپلائی کی عدم موجودگی میں ریاست کو دارالحکومت چندی گڑھ سے 1500 کلومیٹر دور جھارکھنڈ کے شہر رانچی یا بوکارو سے آکسیجن منگوانی پڑی ہے۔

    India

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سرحدی ضلع امرتسر کے پارلیمانی رکن گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے کئی دیگر سینیئر عہدیداروں کو متعدد بار خط لکھے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    گرجیت سنگھ اوجلا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ دوسرے مسلم ممالک سے مدد لے سکتے ہیں تو پاکستان سے کیوں نہیں لے سکتے؟ جب آپ چین سے مدد لے سکتے ہیں، تو پاکستان سے کیوں نہیں؟‘

    گرجیت سنگھ اوجلا نے مزید کہا کہ ’ہمیں بوکارو سے آکسیجن درآمد کرنی پڑتی ہے اور اس سے تاخیر ہوتی ہے۔ اگر ہمیں پاکستان سے درآمد کرنے کی اجازت مل جاتی جو ہمارے قریب ہے، تو باقی آکسیجن انڈیا میں استعمال کی جا سکتی تھی۔‘

    واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر میں آکسیجن کی قلت کے باعث ملک میں بہت بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین میں کمی واقع ضرور ہوئی ہے لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4500 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جو کہ وبائی مرض کے آغاز کے بعد یومیہ اموات کا ریکارڈ ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے 25 اپریل کو انڈیا میں کورونا وائرس کے بحران کے تناظر میں باضابطہ طور پر امداد کی پیش کش کی تھی۔

  16. بریکنگ, یورپی یونین کی جانب سے غیر یورپی سیاحوں کے لیے سفری پابندیوں میں نرمی کا اعلان

    EU

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی سفیروں نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کے انفیکشن کا زور کم ہے، ان کے شہریوں کو یورپی ممالک میں سیاحت کے لیے سفر کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

    اس حوالے سے اُن ’محفوظ ممالک کی فہرست‘ یعنی سیف لسٹ اسی ہفتے مرتب کی جائے گی اور جمعے کو اسے بنایا جائے گا۔

    بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ای یو حکام کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں کووڈ 19 کے نئے متاثرین کا تناسب ہر لاکھ میں سے 75 نئے متاثرین ہوگا صرف ان ممالک کے شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    برطانیہ میں اس وقت گذشتہ سات روز کی اوسط ہر لاکھ میں سے 22 متاثرین ہے تاہم نئے انڈین قسم کی وجہ سے کچھ خدشات ہیں۔

    ای یو کے سفارتکاروں کی تجویز ہے کہ ای یو سے باہر ممالک کے شہریوں کو غیر ضروری سفر کی اجازت صرف اس صورت میں ملے گی اگر انھیں ویکسین کی دونوں خوراکیں مل چکی ہوں گی۔

    ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممبر ممالک کا یہ اپنا فیصلہ ہوگا کہ وہ مسافروں پر سفر کرنے کے لیے مزید کیا شرائط عائد کرنا چاہتے ہیں۔

  17. افریقی ملک ملاوی میں ایسٹرازینیکا کی ہزاروں خوراکیں معیاد ختم ہونے پر جلا دی گئیں

    malawi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افریقی ملک ملاوی میں صحت حکام نے کورونا وائرس کی آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کی 19610 خوراکیں معیاد پوری ہو جانے کے باعث جلا کر تلف کردیں۔

    محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ ملک کی عوام کو صرف محفوظ ویکسین ہی دی جائیں گی۔

    ملاوی پہلا افریقی ملک ہے جہاں ایسا قدم لیا گیا ہو۔

    عالمی ادارہ صحت نے ابتدا میں کہا تھا کہ معیاد پوری ہو جانے والی خوراکوں کو تلف نہ کریں لیکن بعد میں انھوں نے اپنی تجویز میں تبدیلی کر لی۔

    ملاوی میں ویکسین دینے کا عمل سست روی کا شکار ہے اور صحت کے شعبے سے منسلک افراد کو امید ہے کہ ایسا کرنے سے شاید عوام میں ویکسین میں اعتماد بڑھ جائے گا۔

    ایک کروڑ 8 لاکھ کی آبادی والے ملک میں اب تک 34 ہزار سے زیادہ مصدقہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اب تک 1153 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ملاوی کو ایسٹرازینیکا کی ایک لاکھ دو ہزار خوراکیں افریقن یونین کی جانب سے مارچ میں دی گئیں تھیں اور ان میں سے دی گئی 80 فیصد ویکسین کی خوراکیں استعمال ہو چکی ہیں۔

    لیکن کچھ ویکسین خوراکوں کی مدت استعمال 13 اپریل کو ختم ہو گئی جس کے بعد انھیں استعمال سے نکال دیا گیا۔

    ملاوی کے پرنسپل سیکریٹری صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کافی بدقسمتی کی بات ہے کہ انھیں یہ ویکسین تلف کرنی پڑی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے میں نقصان کے بجائے زیادہ فائدہ تھا۔

    malawi
  18. برطانوی سکول میں کورونا وائرس کے انڈین قسم کے متاثرین کی تشخیص

    UK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ میں شروپشائر کے ایک سکول میں کورونا وائرس کی انڈین قسم کے پانچ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    برٹن بوروہ سکول میں اس قسم کے متاثرین کی تشخیص کے بعد نیوپورٹ کے علاقے میں وہ خاندان جن میں سکول جانے والے بچے ہیں، انھیں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر اپنا کووڈ ٹیسٹ کرائیں۔

    سکول میں شناخت ہونے والے تمام متاثرین اس وقت قرنطینہ میں ہیں اور ان سے رابطہ رکھنے والوں کو بھی ڈھونڈا جا رہا ہے اور قرنطینہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وائرس کی انڈین قسم برطانیہ کے 21 جون سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے فیصلے کے لیے ’خطرہ بن سکتی ہے۔‘

  19. برطانوی سیاحوں کے لیے یورپی یونین کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کا امکان

    EU

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بیلجئیم کے شہر برسلز میں بدھ کو یورپی یونین کے سفارت کاروں کی ملاقات ہونی ہے جس میں یہ موضوع زیر بحث آئے گا کہ آیا ان برطانوی سیاحوں کو بلا رکاوٹ سفر کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں جنھوں ویکسین کی دونوں خوراکیں مل چکی ہیں۔

    اس بات کا قوی امکان ہے کہ برطانوی شہریوں پر غیر ضروری سفر کرنے پر عائد پابندی کا فیصلہ اٹھا لیا جائے۔

    تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے بیشتر یورپی یونین کے ممالک ’امبر‘ یعنی زرد فہرست میں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سیاحوں کو برطانیہ آنے کے بعد دس روز کے لیے قرنطینہ کرنا ہوگا اور دو کووڈ ٹیسٹس کرانے ہوں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے گذشتہ روز وضاحت کی تھی کہ برطانوی شہری زرد فہرست والے ممالک میں چھٹیاں منانے نہ جائیں، تاہم ان کی اپنی حکومت کے وزیر نے خود کہا تھا کہ ان ممالک میں سیاحت کے لیے سفر کرنا مناسب ہے۔

  20. انڈیا میں ’بلیک فنگس‘ کے علاج کے لیے درکار دوا کی دستیابی میں کمی

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں حالیہ دنوں میں ایک انتہائی نایاب قسم کے انفیکشن میوکورمائیکوسز (جسے بلیک فنگس بھی کہا جاتا ہے) کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور انڈیا کی مختلف ریاستوں میں اس بیماری کا علاج کرنے والی دوا ’ایمفوٹیریسین بی‘ کی قلت پڑ گئی ہے۔

    یہ دوا کئی انڈین دوا ساز ادارے بناتے ہیں اور قلت کے باعث اب یہ بلیک مارکیٹ میں مل رہی ہے۔

    جیسے جیسے اس بیماری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگ اس دوا کو حاصل کرنے کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں۔

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن ان مریضوں کو متاثر کر سکتا ہے جو کووڈ کی وجہ سے شدید بیمار ہو گئے تھے اور انھیں علاج کی غرض سے سٹیررائڈز دی جا رہی تھیں۔

    میوکورمائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی، پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپپوندی سے پھیلتا ہے۔

    یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images