یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
تازہ ترین معلومات کے یہاں لیے کلک کیجیے۔
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 2379 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ جبکہ اس وائرس سے 76 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب آج ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
تازہ ترین معلومات کے یہاں لیے کلک کیجیے۔
دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے انڈیا کے دارالحکومت نیو دہلی میں مزید ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اگرچہ 17 مئی تک تھا مگر اب ہم اسے مزید ایک ہفتے کے لیے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران دلی میں کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کے مطابق شہر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بہتری کی یہ صورتحال برقرار رہے گی۔ اس مقصد کے لیے اس لاک ڈاؤن میں توسیع کر کے اب اسے 24 مئی تک نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران میٹرو سروس بھی بند رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے پارٹی کے کارکنان سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کورونا وائرس تباہی پھیلار رہا ہے۔ لوگ بہت صدمے میں ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقت نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تنقید کریں۔ بلکہ یہ دوسرے کی حمایت کرنے کا وقت ہے۔
ان کے اس ٹویٹ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر کی جانے والی تنقید کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہge
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ابتدائی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ کی ویکسین ملک کے کچھ حصوں میں تیزی سے پھیلنے والے انڈین قسم کے وائرس کے خلاف بھی مؤثر ہے۔ برطانیہ کے وزیر صحت کے مطابق یہ ویکسین وائرس کی انڈین قسم سے شدید بیماری سے بچاتا ہے۔
برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک نے سکائی نیوز کی اینکر صوفی رج کو اتوار کو بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لیب سے جاری ہونے والے ابتدائی ڈیٹا جو کلینکل نہیں ہے مگر یہ ہمیں یہ اعتماد دلاتا ہے کہ یہ ویکسین وائرس کی اس نئی قسم کے خلاف بھی مؤثر ہے۔
ان کے مطابق انڈین وائرس تیزی سے منتقل ہوتا ہے اور یہ ویکسین نہ لگوانے والوں کو جنگل کی آگ کی طرح آ لیتا ہے۔
میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بولٹن اور بلیک برن میں تیزی سے پھیلا ہے۔
برطانوی حکومت نے ان علاقوں میں اس وائرس پر قابو پانے کے لیے ویکسین لگانے کا خصوصی پروگرام شروع کیا اور اس مقصد کے لیے ان علاقوں میں فوج بھی تعینات کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں ایک اور بحث زور پکڑ گئی ہے کہ جب انڈیا میں نئی قسم کا وائرس تیزی سے پھیل رہا تھا تو ایسے میں برطانیہ نے فوری طور پر انڈیا پر سفری پابندیاں کیوں عائد نہیں کیں اور اس وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے اپنی سرحدیں بند کیوں نہیں کیں۔
تاہم برطانیہ کے وزیر اعظم ہاؤس نے انڈیا پر جلد پابندی عائد نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
انڈیا 5 اپریل تک یومیہ ایک لاکھ سے زائد کورونا وائرس کے کیسز ریکارڈ کرتا رہا ہے تاہم برطانیہ نے 23 اپریل تک انڈیا کو ریڈ لسٹ میں شامل نہیں کیا۔
برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے سفری پابندیوں سے متعلق کچھ سخت اقدامات اٹھائے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے پیر سے برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے اصولوں میں نرمی برتنے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ وائرس کی انڈین قسم B.1.617.2 کے تیزی سے پھیلاؤ ملک میں لاک ڈاون نرمی کے پلان کو شدید متاثر کر سکتا ہے مگر انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ابھی لاک ڈاؤن میں نرمیاں شیڈول کے مطابق ہی کر دی جائیں گی۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انڈین وائرس بڑی آسانی سے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حکومت کے ایک ترجمان نے سرحدیں جلد نہ بند کرنے سے متعلق سوال پر بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے 23 اپریل سے انڈیا پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یہ پابندی اس وائرس پر تفتیش سے چھ ہفتے پہلے لگائی گئی اور جب اسے تشویشناک قرار دیا تو اس کے دو ہفتے پہلے یہ سفری پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔
انڈیا کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے سے قبل بھی جو کوئی انڈیا سے برطانیہ آتا تھا تو اس کے لیے نیگیٹو ٹیسٹ کا ساتھ ہونا ضروری ہوتا تھا اور اسے دس دن قرنطینہ میں بھی رہنا ضروری ہوتا تھا۔
جب انڈیا پر سفری پابندیاں عائد کی گئیں تو اس وقت انڈیا میں یومیہ کسیز کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت دنیا میں کورونا وائرس سے 33 لاکھ 69 ہزار 602 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کُل متاثرین کی تعداد 16 کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔
عالمی سطح پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کووڈ 19 کے تقریباً تین کروڑ 29 لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں جبکہ پانچ لاکھ 85 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ انڈیا کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن چکا ہے اور یہاں دو کروڑ 68 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 70 ہزار سے زائد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
انڈیا کے متعدد علاقوں میں لوگ اپنے عزیزوں کے لیے، ویکسین، آکسیجن اور وینٹیلیٹر کا انتظام کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان میں 30 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے نگراں ادارے این سی او سی کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس وائرس سے مزید 2379 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 76 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں اس وائرس کے پھلاؤ کی شرح 7.8 فیصد رہی۔
پاکستان میں آج این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ کو 17 مئی کی بجائے کل سے کھول دیا جائے تاہم اس دوران یہ ٹرانسپورٹ 50 فیصد گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی۔
این سی او سی کے اجلاس میں ملک میں ایس او پیز پر عمل درآمد سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے ہے ملک بھر میں مارکیٹیں 17 مئی سے رات آٹھ بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGoP

،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا ویکسینیشن مہم کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرنے والے پوسٹر چسپاں کرنے کے الزام میں دہلی پولیس نے 17 ایف آئی آر درج کرکے 15 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ان پوسٹروں نے لکھا ہے ’مودی جی نے ہمارے بچوں کی ویکسین بیرون ملک کیوں بھجوائی؟‘
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق، پولیس عہدیداروں نے بتایا ہے کہ یہ پوسٹر دہلی کے کئی علاقوں میں مصروف تھے۔ جمعرات کو پولیس کو ان پوسٹروں کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ضلع کے اعلیٰ عہدیداروں کو آگاہ کیا گیا۔
شکایات کی بنیاد پر، آئی پی سی کی دفعہ 188 (سرکاری ملازمین کے ذریعہ نافذ کردہ حکم کی نافرمانی) کے تحت 17 املاک درج کی گئی ہیں اور املاک ایکٹ کی خرابی کی روک تھام کی دفعہ 3 سمیت کچھ اور دفعات بھی شامل ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، ’اس سلسلے میں مزید ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہیں۔ فی الحال معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کے مطابق ، مزید کارروائی کی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس افسر نے بتایا کہ شمال مشرقی دہلی میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مغربی اور بیرونی دہلی میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
وسطی دہلی میں دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ روہنی میں دو ایف آئی آر ہوچکی ہیں اور دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کم اپریل کو انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں ایک اخبار کے ایڈیٹر کی اہلیہ اور بیٹی کووڈ 19 ٹیسٹ کروانے کے لیے ایک سرکاری ہسپتال گیئں۔
قطار میں انتظار کرتے ہوئے انھوں نے دو تھیلوں میں دو لاشیں لپٹی دیکھیں۔ ریاستی دارالحکومت گاندھی نگر کے ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ ان کی موت کووڈ 19 سے ہوئی ہے۔
ماں اور بیٹی نے گھر لوٹ کر راجیش پاٹھک کو بتایا کہ انھوں نے ہسپتال میں کیا دیکھا۔ راجیش پاٹھک گجراتی روزنامہ سندیش کے مقامی ایڈیشن کے مدیر ہیں۔
مسٹر پاٹھک نے اس شام اپنے نامہ نگاروں کو بلایا اور اس کے متعلق مزید تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے پریس بیانات میں گاندھی نگر میں تو ابھی تک کووڈ 19 سے ہونے والی کسی موت کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔‘ اس دن گجرات میں سرکاری طور پر کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد صرف 9 بتائی گئی تھی۔
اگلے دن نامہ نگاروں کی ایک ٹیم نے گجرات کے سات شہروں احمد آباد، سورت، راجکوٹ، وڈوڈرا (بڑودہ)، گاندھی نگر، جام نگر اور بھاؤ نگر میں کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتالوں کا دورہ اور اموات کی تعداد کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا۔
تب سے اس 98 برس سے شائع ہونے والے گجراتی زبان کے اخبار سندیش میں مرنے والوں کی تعداد روزانہ شائع کی جانے لگی، جو کہ عام طور پر سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہوتی تھی۔
مسٹر پاٹھک کہتے ہیں کہ ’ہسپتالوں میں ہمارے ذرائع موجود ہیں اور حکومت نے ہماری کسی بھی رپورٹ سے انکار نہیں کیا تاہم ہمیں اس کے لیے فرسٹ ہینڈ تصدیق کی ضرورت پڑی ہے۔‘
مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر آکسیجن سپلائی کرنے پر پابندی عائد ہے۔ وزیر اعظم مودی کی حکومت کے اس قانون کے تحت اب یہ ادارے انتہائی ضرورت مند لوگوں کی بھی مدد کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
گذشتہ برس جب اس وائرس کی لہر اپنے انتہا پر تھی تو انڈیا کی حکومت نے اپنے بیرونی امداد سے متعلق رجسٹریشن کے قانون میں ترمیم کر ڈالی۔ انڈیا میں اس قانون کو فارن کنٹریبیوشن رجسٹریشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کہلاتا ہے۔
اس قانون میں ترمیم کے بعد اب یہ این جی اوز کسی اور گروپ کو کسی بھی قسم کی بیرون مدد نہیں پہنچا سکتی ہیں۔ اس قانون میں ترامیم کے بعد اب باہر سے آنے والے تمام فنڈز پہلے دارالحکومت نیو دہلی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے ہوں گے۔
جب انڈیا کی حکومت نے اس قوانین میں ترمیم متعارف کرائی تو یہ کہا گیا تھا کہ اس سے شفافیت بڑھے گی اور بیرون ملک آئے فنڈز کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔ دی آنٹ این جی او کی شریک بانی جینیفر لیانگ کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کی ترامیم لوگوں کی زندگی بچانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ویکسین سے برطانیہ میں 11700 افراد کی جان بچی ہے اور 33 ہزار لوگوں کو ویکسین سے شدید بیماری سے محفوظ رکھا ہے۔
پبلک ہیلتھ انگلیڈ کے تجزیے کے مطابق اپریل کے اختتام تک 70 اور 80 سے زائد عمر کے افراد کی اموات میں اور ہسپتالوں میں داخلے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق زندگی میں ایک اہم بات ویکسین لگانے سے متعلق کہنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSANJAY DAS
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی کے چھوٹے بھائی عصیم بینرجی کی کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کی موت سنیچر کو کلکتہ کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔
انڈیا کے دیگر ریاستوں کے وزرا علیٰ اور سیاسی رہنماؤں نے اس موت پر ممتا بینر جی سے تعزیت کی ہے۔
خیال رہے کہ مغربی بنگال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر نئی پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔
بنگال میں 30 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع بھی کر دی گئی ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران سکول، سرکاری اور نجی دفاتر، مالز، سنیما ہالز، ریستوران اور جم بند رہیں گے۔ میٹرو سروسز اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ پرائیویٹ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد رہے گی۔
تاہم ایمرجنسی سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں کورونا کے ٹیسٹ کی تعداد پہلے سے بہت کم تھی لیکن محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق عید کے دوران ان کی تعداد میں مزید کمی آئی۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو حکام نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے 29 اضلاع میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے جن چار اضلاع میں جو ٹیسٹ ہوئے ان کی تعداد صرف 410 تھی جن میں سے 36 افراد کورونا سے متائثر پائے گئے۔ اس ٹیسٹ کی بنیاد پرگذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے متائثرہ افراد کی شرح 8.7 رہی۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید تین افراد ہلاک ہوئے۔
محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان میں رواں ماہ کے دوران کورونا سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ مئی کے مہینے کے دوران اب تک کورونا سے مجموعی طور پر 20 افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ کے جن علاقوں میں انڈین قسم کے وائرس سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں حکومت وہاں کی عوام سے یہ اپیل کر رہی ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔
وزیر صحت ایڈورڈ آرگر نے بتایا کہ ہسپتال میں مریضوں کی تعداد میں قدرے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کی بڑی وجہ بولٹن میں 35 سے 65 برس عمر کے افراد کا ویکسینیشن نہ ہونا ہے۔
درین اثنا حکومت نے بولٹن بلیک برن کے علاقوں میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان جگہوں پر لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا سکیں اور انھیں ویکسین لگوائی جا سکے۔
اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں گذشتہ ہفے انڈین قسم کے وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
پروفیسر انتھونی ہارنڈین جو حکومت کو ویکسینیشن سے متعلق مشورے دیتے ہیں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں ابھی بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔
ان کے مطابق انڈین وائرس زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اگر لوگ ہسپتال جانے سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر وہ ویکسین ضرور لگوا لیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارہِ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادھانوم غیبریسس کا کہنا ہے کہ امیر ممالک کو بچوں اور نوجوانوں کو کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کرنے سے منصوبے معطل کر کے غریب ممالک کو یہ ویکسین عطیہ کرنی چاہیے۔
جمعے کے روز ایک بیان میں انھوں نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا کہ وہ کوویکس نظام میں زیادہ ویکسینیں دیں۔
اس وقت کچھ ممالک کے پاس بہت زیادہ ویکسین موجود ہیں جبکہ کچھ ممالک اس کو پورا کرنے کی کوششوں میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس کے خلاف ویکسینز کی منظوری دسمبر میں دی جانے لگی تھی تاہم امیر ممالک نے زیادہ رسد خرید لی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی انڈیا کی قسم انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے 21 جون کے منصوبے کو 'شدید طور پر متاثر' کرسکتی ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر کووڈ 19 کی یہ قسم 'خاطر خواہ' حد تک زیادہ تیزی سے منتقل ہونے والی ہوئی تو پھر 'کچھ سخت اقدام' کرنے ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ایسی صورت میں 50 سال سے زیادہ عمر والے اور طبی طور پر کمزور افراد کے لیے ٹیکے کی دوسری خوراک کے دورانیہ کو 12 ہفتے سے کم کر کے آٹھ ہفتے کر دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں پبلک ہیلتھ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے انڈین قسم والے کووڈ 19 کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور اس اضافے کے لیے بولٹن، بلیکبرن، لندن، سیفٹن اور ناٹنگھم سمیت پورے انگلینڈ کے 15 علاقوں میں ٹیسٹنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
جمعے کے اعدادوشمار کے مطابق پورے برطانیہ میں 28 دنوں میں مزید 17 افراد کی کووڈ سے موت ہوئی ہے جبکہ دو ہزار 193 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاؤننگ سٹریٹ کی بریفنگ میں وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ کووڈ کے لیے پہلی خوراک کو ترجیح دی جائے گی کہ جنھوں نے پہلی خوراک نہیں لی ہے وہ آگے آئیں۔
برطانیہ میں ابھی 38 سال سے زیادہ عمر کے افراد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'موجودہ شواہد' کی بنیاد پر برطانیہ میں لاک ڈاؤ میں نرمی لانے کے منصوبے کو مؤخر کرنے کی ضرورت نظر نہیں آتی ہے جس کے تحت پیر سے ’پبز‘ اور ریستورانوں کے اندر گاہکوں کو خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی اور چھ افراد یا دو فیملیز کہیں ایک ساتھ مل بیٹھ سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے مزید 2517 کیسز سامنے آئے ہیں۔این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت میں 48 افراد کی کووڈ 19 سے موت ہوئی ہے۔
پاکستان میں مجموعی طور پر اب تک آٹھ لاکھ 73 ہزار سے زیادہ مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 73 ہزار 398 ایکٹو کیسز ہیں۔ حکومت کے مطابق سات لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی مجموعی تعداد 19 ہزار 384 ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے تین لاکھ 26 ہزار مزید کیسز سامنے آئے ہیں لیکن اس سے زیادہ افراد کووڈ 19 سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
انڈین خبررساں ادارے اے این آئی نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید تین ہزار 890 افراد ہلاک ہو گئے ہيں جس کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
وزرات صحت کے مطابق اب تک انڈیا میں مجموعی طور پر کووڈ 19 کے دو کروڑ 43 لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دو کروڑ سے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہسپتالوں سے رخصت کیے گئے ہیں۔ اب تک کورونا سے مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور ایکٹو کیسز کی تعداد 36 لاکھ سے زیادہ ہے۔
انڈیا میں ویکسینیشن کا سب سے بڑا پروگرام جاری ہے لیکن ریاستی حکومتیں ویکسین کی فراہمی میں کمی کی شکایات کر رہی ہیں۔ ان سب کے باوجود وزارت صحت کے مطابق اب تک 18 کروڑ سے زیادہ ویکسین کی خوراک دی جا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی جنوب مغربی ریاست گوا میں کورونا کی وبا میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔ منگل کے روز گوا میڈیکل کالج ہسپتال میں 26 مریض آکسیجن کی کمی کے باعث فوت ہوگئے۔ اسی ہسپتال میں بدھ کی صبح تک مزید 15 مریض دم توڑ گئے۔ گوا میں بدھ کے روز 75 مریضوں کی کورونا کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ریاست میں ایک دن میں اب تک کی یہ سب سے زیادہ اموات ہیں۔
حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ کووڈ ہسپتالوں کی حالت اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے یہ اموات ہوئی ہیں۔ گوا میں آکسیجن کی فراہمی سب سے بڑی تشویش ہے۔ حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے گوا کی ریاستی حکومت کی اس لیے بھی سرزنش کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ایک سرکاری پینل نے سفارش کی ہے کہ ایسٹرا زینیکا کوویشیلڈ ویکسین کی دو خوراکوں کے درمیان کے وقفہ کو 12 سے 16 ہفتوں تک بڑھایا جائے۔ اس سفارش سے پہلے کوویشیلڈ کی دو خوراکوں کے درمیان چھ سے آٹھ ہفتوں کا فرق دیا جاتا تھا۔ اس سے پہلے یہ وقفہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا۔
اس پینل نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں وہ صحتیابی کے چھ ماہ بعد ویکسین لیں۔ انڈیا میں اب تک 18 کروڑ افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے اور اب تک تقریباً 14 کروڑ افراد کو ویکسین کی ایک ہی خوراک ملی ہے جبکہ چار کروڑ افراد کو دونوں خوراکیں ملی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ نئی سفارش کا براہ راست اثر 14 کروڑ افراد پر پڑے گا۔ یہ سفارش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب بہت ساری ریاستوں میں کورونا ویکسین کی شدید قلت ہے اور لوگوں کو ویکسین نہیں مل پا رہی ہے۔
انڈیا کے پلاننگ کمیشن یعنی نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر ونود پال نے جمعرات ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ یہ سفارشات سائنس پر مبنی ہیں۔ جب کسی نے ویکسین کی کمی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا 'کیا آپ ہمارے سائنسی طریقوں پر اعتماد کرسکتے ہیں؟'
دوسری جانب سوشل میڈیا پر مرکزی حکومت کو ویکسین کی کمی کے لیے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انڈیا دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین بنانے والا ملک کہلاتا ہے۔