کووڈ کی تمام اقسام سے بچاؤ کے لیے منظور شدہ ویکسینز موثر: عالمی ادارہ صحت

پاکستان میں گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملک میں چار ہزار سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ ادھر انڈیا میں گذشتہ چند روز سے مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اس ماہ کے آغاز میں جو شرح 19 فیصد سے زیادہ تھی اب 12 فیصد پر آ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. فرانس میں لاک ڈاؤن میں کمی، شراب خانے اور ریستوران کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے کی اجازت

    france

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس میں لاک ڈاؤن میں کمی کے بعد شراب خانے، دکانیں اور ثقافتی مراکز کو دوبارہ کھول دینے کی اجازت مل گئی ہے۔

    بدھ (19 مئی) سے زیادہ سے زیادہ چھ افراد پر مشتمل گروپ کو ریستوران میں کھانا کھانے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ بند کمروں میں نہ ہوں۔

    اس کے علاوہ فرانس میں ملک بھر میں لگائے گئے کرفیو کی اوقات کار میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے اور اسے شام سات بجے سے بڑھا کر رات نو بجے کر دیا گیا ہے۔

    تاہم دوسری جانب ملک میں صحت کے ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ نئے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ اب اوسطاً یومیہ 13 ہزار ہے۔

    یہ تعداد اس عروج سے کہیں کم ہے جب یومیہ 40 ہزار نئے متاثرین کی تشخیص ہو رہی تھی۔

    حالیہ دنوں میں فرانس کی ویکیسنیشن کا عمل بھی تیزی پکڑ رہا ہے اور اب ملک میں دو کروڑ سے زیادہ افراد کو ویکسین کی ایک خوراک مل گئی ہے جبکہ نوے لاکھ افراد کو دونوں خوراکیں مل چکی ہیں۔

    حکومت نے اابتدائی طور پر یہ ہدف رکھا تھا کہ وہ مئی کے وسط تک دو کروڑ افراد کو کم از کم ایک خوراک ضرور دے دی جائے۔

  2. بریکنگ, انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 4529 افراد کی ہلاکت

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 4529 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جو کہ اب تک کا یومیہ ریکارڈ ہے۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں 267334 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    انڈیا میں مجموعی طور پر کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد 25 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

    12 مئی کے بعد یہ ساتواں موقع ہے جب انڈیا میں کوڈ کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یومیہ اموات 4000 سے زیادہ ہوئی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. انڈیا میں کووڈ بحران کے دوران ہندو لاشیں کیوں دفن کر رہے ہیں؟, شکیل اختر، بی بی سی نامہ نگار، دلی

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور ملک میں روزانہ لاکھوں نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

    ایسے میں انڈیا کی ریاست اتر پریش کے مختلف شہروں کانپور، اناؤ اور رائے بریلی میں گنگا کے کئی گھاٹوں پر سینکڑوں قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ قبریں ابھی تازہ ہیں اور ریت میں بنی ہوئی یہ سبھی قبریں ہندوؤں کی ہیں۔

    حکام اتنی بڑی تعداد میں دریا کے کنارے جلانے کے بجائے مردوں کو دفن کرنے کے واقعات کی تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ قبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ابھی چند دنوں قبل دریائے گنگا میں سینکڑوں ادھ جلی لاشیں تیرتی ہوئی ملی تھی۔

    اناؤ، رائے بریلی اور کانپور کے کئی گھاٹوں پر دریا کے کنارے سینکڑوں قبریں دکھائی دے رہی ہیں۔ کئی گھاٹوں پر اتنی قبریں بن گئی ہیں کہ وہاں جگہ نہیں بچی ہے۔

    لیکن انڈیا میں اس بحران کے دوران ہندو اپنے پیاروں کی لاشیں کیوں دفن کر رہے ہیں، اس کے لیے مزید جاننے کے لیے ہمارے ساتھی شکیل اخترکا مضمون پڑھیے۔

  4. ’سنگاپور میں کووڈ 19 کی کوئی نئی قسم دریافت نہیں ہوئی ہے،, سنگاپور کے انڈیا میں قائم ڈپلومیٹک مشن کی اروند کیجریوال کے الزامات کی تردید

    India

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سنگاپور کے انڈیا میں قائم ڈپلومیٹک مشن نے ٹویٹ کے ذریعے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ سنگاپور میں کووڈ 19 وائرس کی کوئی نئی قسم دریافت ہوئی ہے۔

    ڈپلومیٹک مشن کے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں کہا گیا کہ یہ قطعی سچ نہیں ہے کہ سنگاپور میں کووڈ کی کوئی نئی قسم سامنے آئی ہے۔ ٹیسٹنگ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ سنگاپور میں سامنے آنے والے نئے متاثرین وائرس کی B.1.617.2قسم سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ منگل کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹوئٹر پر پیغام میں لکھا تھا کہ سنگاپورمیں ’کووڈ وائرس کی نئی قسم دریافت ہونے‘ کے بعد نئی دہلی اور سنگاپور کے درمیان ہوائی خدمات کو بند کیا جائے۔

    اروند کیجریوال نے اپنی ٹویٹ میں بغیر کسی ثبوت کے لکھا کہ سنگاپور سے آنے والی کورونا کی نئی شکل بچوں کے لیے بہت خطرناک ہے اور انڈیا میں یہ تیسری لہر کی شکل میں آسکتی ہے۔

    وزیر اعلی کجریوال نے اپنے ٹویٹ میں اپیل کی کہ اس خدشہ کے سبب سنگاپور کے ساتھ ہوائی سفر کو فور طور پر معطل کیا جائے اور بچوں کے لیے ویکسین کے آپشنوں کو ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

    حال ہی میں انڈین میڈیا میں کووڈ کی نئی قسم کے بارے میں ایک رپورٹ حال ہی میں شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ وہ بچوں کے لیے خطرناک ہے۔

    البتہ سنگاپور کی وزارت صحت نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے ۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. افغان پناہ گزین نہیں جانتے کہ انھیں ویکسین ملے گی یا نہیں

  6. ملک میں کورونا کے 3256 نئے مریض، 104 مزید ہلاکتیں

    ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے متاثرہ 3256 نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ وائرس سے ہلاک ہونے والی کی تعداد 104 ہے۔

    پاکستان میں کورونا وبا کے نگران ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 41771 کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    ملک میں کورونا کیسز کی شرح 7.79 فیصد ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ’پنجاب میں کورونا ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

    ’پنجاب میں کورونا ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان محکمہ صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ صوبے بھرمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک لاکھ شہریوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔

    ’پنجاب کی عوام کے لیے وافر مقدارمیں ویکسین دستیاب ہے۔ ایسٹرا زینیکا ویکسین کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں ویکسین کی تعداد کو بڑھا دیا جائے گا۔

  8. انڈیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا میں وزارت صحت کے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے مزید 263533 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر متاثرین کی تعداد ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں کورونا سے 4329 اموات ہوئی ہیں جبکہ کل اموات کی تعداد 278719 ہے۔

  9. بلوچستان میں انٹر کے امتحانات ملتوی

    بلوچستان میں انٹر کے امتحانات ملتوی

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt

    بلوچستان میں کورونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر انٹرمیڈیٹ (ایف اے اور ایف ایس سی) کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق امتحانات کو 25 مئی سے شروع ہونا تھا تاہم اب بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق کورونا کے باعث امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق اب یہ امتحانات جون میں متوقع ہیں جن کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

  10. پاکستان کی فوج سپتنک وی ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں درآمد کرے گی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کی فوج نے ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے روسی ویکسین سپتنک وی کی 20 لاکھ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اس کی پہلی کھیپ دو لاکھ خوراکوں پر مشتمل ہوگی اور اسے پاکستان ایئر فورس کے ایک خصوصی طیارے میں ابو ظہبی سے جلد پاکستان لایا جائے گا۔

  11. پاکستان میں ’سائنو فارم ویکسین کا استعمال روکنے کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے واضح کیا ہے کہ سائنو فارم کا استعمال روکنے کی خبریں بے بنیاد ہیں اور عوام سوشل میڈیا پر گردش کرتی بے بنیاد خبروں پر دھیان نہ دیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’جن افراد کو سائنو فارم کی پہلی خوراک لگی ہے تو ان کو دوسری خوراک بھی سائنو فارم کی ہی لگے گی۔‘

    فیصل سلطان نے مزید بتایا کہ ملک میں 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو 12 مئی سے کورونا ویکسین دی جا رہی ہے۔

  12. پشاور میں صحافیوں کے لیے ویکسین فراہم کرنے کا حکم

    پشاور میں صحافیوں کے لیے ویکسین فراہم کرنے کا حکم

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات پر پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی کورونا ویکسین دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کورونا ویکسینیشن کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’وزیراعلی محمود خان نے پشاور پریس کلب کی قیادت کی درخواست پر احکامات جاری کیے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پشاور کے صحافیوں کے لیے پشاور پریس کلب میں ویکسینیشن سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی ویکسینیشن کے انتظامات کر رہے ہیں۔

    ’صحافی اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر عوام کو آگاہی اور معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ سردست تیس سال کی عمر تک کے صحافیوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔‘

    کامران بنگش کے مطابق ایک دو روز میں پشاور پریس کلب میں ویکسینیشن سنٹر کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

  13. کورونا وائرس: کشمیر کے بیشتر اضلاع میں ویکسین کی کمی، ویکسین مہم کس طرح مکمل ہوگی؟, عامر پیرزادہ، بی بی سی نامہ نگار

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی متعدد ریاستوں کی طرح اس وقت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ویکسینیشن کی مہم رک گئی ہے۔ اتوار کے روز کشمیر کے بیشتر اضلاع میں کورونا ویکسین کا ذخیرہ ختم ہوگیا جس کے بعد ویکسینیشن مہم کو روکنا پڑا۔

    کشمیر کے دس اضلاع میں پیر کے روز صرف 390 افراد کو کورونا ویکسین دی گئی اور ان میں سے پانچ اضلاع ایسے تھے جہاں ایک بھی شخص کو ویکسین نہیں مل سکتی تھی۔

    انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ویکسینیشن آفیسر ڈاکٹر شاہد حسین کا کہنا ہے کہ ضلع شوپیاں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی چھ دن قبل ویکسین کا ذخیرہ ختم ہوگیا تھا۔ ضلع شوپیاں میں اب بھی تقریبا دو ہزار خوراکوں کا ذخیرہ ہے لیکن دوسری جگہوں پر کوئی ویکسین نہیں ہے۔

    ویکسین کی کمی کی وجہ سے کشمیر میں بیشتر ویکسین سینٹرز بھی بند کردیئے گئے ہیں۔ ویکسین کی بکنگ کرنے والے بھی اس قلت کی وجہ سے اپنا نمبر حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے پہلے ہی نمبر بک کروائے ہیں ان کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    خطے میں چند مراکز کے سوا زیادہ تر مراکز نے ابھی 18 سے 44 سال کے درمیان لوگوں کو ویکسین شروع نہیں کی ہے۔

    کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں بھی اس عمر گروپ کے صرف چند افراد کو علامتی طور پر ویکسین دی گئی تھی۔

    ابھی تک پورے جموں و کشمیر میں 28 لاکھ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں اور ان میں سے صرف پانچ لاکھ 32 ہزار افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک مل سکی تھی۔

    واضح رہے کہ کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے خطے میں 29 اپریل سے مکمل لاک ڈاؤن ہوا ہے۔

  14. بی جے پی رکن پارلیمان کا دعوی کہ وہ روزانہ گئو موتر لیتی ہیں

    cow

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مرنے والوں کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہے، وہیںحکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما، اور بھوپال سے رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ نے کہا ہے کہ گو موتر یعنی گائے کا پیشاب پینے سے کورونا نہیں ہوتا ہے۔

    انھوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اس کے پینے سے کورونا انفیکشن بھی ٹھیک ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑے کو صاف کرتا ہے۔

    انھیں ایک وائرل ویڈیو میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ خود روزانہ گو موتر پیتی ہیں اس لیے وہ ابھی تک کورونا سے محفوظ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ گئو موتر 'زندگی بچانے والی ’چیز‘ ہے۔ وہ زعفرانی رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں اور خود کو سادھوی یا سنت کہتی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق دسمبر سنہ 2020 میں انھیں کووڈ کی علامات کے لیے دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سائنسدانوں کا بار بار کہنا ہے کہ گئو موتر یا گائے کے گوبر میں کووڈ کے علاج کی کوئی مصدقہ صلاحیت نہیں ہے۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر جے اے جئے لال نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب کووڈ 19 کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔'

    اس سے قبل سادھوی پرگیہ نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ انھوں نے اپنے کینسر کا علاج بھی گوموتر سے کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے ان کا ویڈیو وائرل ہے اور لوگ اس پر طرح طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں جن میں کوئی جہالت کو کوس رہا ہے تو کوئی ان کو منتخب کرنے والی عوام کو تو کوئی کہہ رہا ہے کہ جب گائے کا گوشت کھانے والے پر سوال نہیں تو اس کے گوبر کھانے اور پیشاب پینے والوں سے سوال کیوں۔

  15. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 135 اموات

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہCovid.org.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29801 ٹیسٹس کیے گئے جس کے بعد ملک میں تشخیص ہونے والے نئے کیسز کی تعداد 2566 تھی جو کہ 8.61 فیصد مثبت شرح بنتا ہے۔

    اسی اثنا میں ملک بھر میں 135 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 19752 ہو چکی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ملک میں 2989 افراد صحتیاب بھی ہو گئے جس کے بعد اب پاکستان میں فعال مریضوں کی تعداد 67665 رہ گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. انڈیا کے سوشل میڈیا پر لینسیٹ کے دوبارہ چرچے کیوں ہو رہے ہیں؟

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں موقر سائنسی جریدہ لینسیٹ اپنے اداریے کے لیے ایک بار پھر ٹرینڈ کر رہا ہے جو کہ درحقیقت آٹھ مئی کو شائع ہوا تھا۔

    در اصل انڈیا کے ایک ڈاکٹر نے اس اداریہ کا جواب اپنے بلاگ پر لکھا ہے جسے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے ٹویٹ کیا ہے اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا واقعی وزیر صحت اس جواب کے حامی ہیں۔

    ڈاکٹر ہرش وردھن نے اس بلاگ کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'آٹھ مئی کو 'انڈیاز کووڈ 19 ایمرجنسی' کے عنوان سے لینسیٹ میں شائع ہونے والے اداریہ کا مناسب جواب۔ اگر چہ انڈیا میں کووڈ کے بحران نے خطرناک صورت حال اختیار کر رکھی ہے لیکن ایک معتبر جرنل کو چاہیے کہ وہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہے۔'

    اس جواب کے ساتھ ایک بلی کا چہرہ بھی ڈالا گیا ہے جس پر لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔

    ٹاٹا میموریل سینٹر کے پروفیسر پنکج چترویدی نے اپنے مضمون کی ابتدا لینسیٹ کے اس جملے سے کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'یکم اگست تک انڈیا میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد دس لاکھ ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مودی حکومت اس خود ساختہ قومی تباہی کی ذمہ دار ہوگی۔'

    اس کے جواب میں انھوں نے مختلف ممالک کی آبادی اور موت کے تناسب کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کیا ہے اور آخر میں لینسیٹ کے تبصرے کہ 'حکومت وبا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے بجائے ٹوئٹر پر اپنی تنقید کو ہٹانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے' کا ذکر کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

    بہر حال ڈاکٹر ہرش وردھن کے ٹویٹ کے بعد لینسیٹ ایک بار پھر ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ نہ صرف اس جواب کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ہرش وردھن سے سوال بھی کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. فائزر کووڈ ویکسین کو فریج میں زیادہ عرصے کے لیے رکھا جا سکتا ہے: ای ایم اے

    EMA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یورپی یونین میں ادویات کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ فائزر کی کووڈ ویکسین کو ماضی میں دی گئی تجویز کے برعکس معمول کے فریج میں بھی زیادہ لمبے دورانیے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

    یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کا کہنا ہے کہ جب جمی ہوئی ویکسین پگھل کر اپنی مائع حالت میں آ جائے تو بند ویکسین کو فریج میں ایک ماہ تک کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

    موجودہ مدت پانچ دن کی ہے۔

    سٹور کرنے کے دورانیے میں اضافے کی تجویز یورپ بھر میں ویکسین کی فراہمی کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    فائزر کی ویکسین کی منتقلی اور اس کی بہت کم درجہ حرارت پر محفوظ سٹوریج کرنا اس ویکسین کے زیادہ استعمال میں رکاوٹ تھی۔

    فروری میں امریکہ نے فیصلہ دیا تھا کہ فائزر کی ویکسین کو عام فریج کے درجہ حرارت یعنی منفی 15 سے منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ پر زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔

    اس کے بر عکس ماضی میں کہا جاتا رہا ہے کہ فائزر کی ویکسین کو سٹور کرنے کے لیے منفی 80 سے منفی 60 ڈگری تک کا درجہ حرارت ضروری ہے۔

  18. بریکنگ, انڈیا کے صف اول کے وائرولوجسٹ شاہد جمیل کے استعفے کی وجہ کیا مودی حکومت پر تنقید تھی؟

    india

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    انڈیا کے سینیئر وائرولوجسٹ ڈاکٹر شاہد جمیل نے کورونا وائرس کی مختلف اقسام کا پتہ لگانے کے لیے سائنسی مشیروں کے سرکاری فورم 'انڈین سارس-سی او سی ٹو 2 جینومکس کونسورٹیا' (انساکوگ) کے صدر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

    ڈاکٹر شاہد جمیل نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے اپنے استعفیٰ کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے واضح طور پر اس کی وجہ نہیں بتائی ہے۔

    ڈاکٹر شاہد جمیل نے کہا: 'میں وجوہات بتانے کے لیے پابند نہیں ہوں۔'

    ڈاکٹر جمیل نے روئٹرز کو یہ ضرور بتایا کہ مختلف اتھارٹی شواہد پر اس طرح توجہ نہیں دے رہے ہیں جو ان کی پالیسی رہی ہے۔

    تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ نیویارک ٹائمز میں مضمون کی اشاعت کے بعد 'حکومتی دباؤ' ان کے استعفے کا سبب ہو سکتا ہے۔

    انساکوگ کی نگرانی کرنے والے بائیوٹیکنالوجی شعبے کے سیکریٹری رینو سوروپ نے ان کے استعفے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    روئٹرز نے ان کے استعفے پر مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سے بھی رابطہ کیا لیکن انھوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

    اسی دوران انساکوگ کے ایک رکن نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ حکومت اور جمیل کے مابین کسی براہ راست اختلاف رائے سے آگاہ نہیں ہیں۔

    اس فورم میں ایک اعلیٰ سرکاری سائنس دان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان کے خیال سے جمیل کے جانے سے وائرس کی مختلف اقسام پر جاری کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیو یارک ٹائمز میں تنقید

    ڈاکٹر شاہد جمیل نے حال ہی میں معروف اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں انڈیا میں کووڈ 19 کی مینجمنٹ پر سخت تبصرے کیے تھے۔

    اپنے مضمون میں انھوں نے کم جانچ، ویکسینیشن کی سست رفتاری، ویکسین کی عدم دستیابی کو اجاگر کیا اور صحت کے شعبے میں بڑے عملے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    انھوں نے لکھا: 'انڈیا میں میرے سائنسداں ساتھی ان تمام طریقوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن انھیں شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔'

    ملک میں ڈیٹا اکٹھا کرنے میں فرق پر انھوں نے کہا: '30 اپریل کو 800انڈین سائنس دانوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ انھیں دیٹا دیے جائیں تاکہ ان کی بنیاد پر وائرس کی تحقیق، پیش گوئی اور روک تھام میں انھیں مدد مل سکے۔'

  19. کورونا کی دوسری لہر: انڈیا میں ہندو لاشیں کیوں دفن کر رہے ہیں؟

  20. مودی کی ڈاکٹروں سے بلیک فنگس انفیکشن سے متعلق آگاہی پھیلانے کی اپیل

    وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ملک بھر کے ڈاکٹروں کے ساتھ ان کے کووڈ 19 کے تجربات پر بات کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ وہ بلیک فنگس انفیکشن سے متعلق آگاہی پھیلائیں۔

    وزیرِ اعظم مودی نے ٹویٹ میں کہا کہ ’ایسے وقت میں ہمارے ڈاکٹروں کا عزم قابل ذکر ہے۔‘

    ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے طبی اور نیم طبی عملے کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ، ادویات کی فراہمی اور ریکارڈ وقت میں نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر قابلِ تعریف ہے۔ انھوں نے کہا کہ آکسیجن کی تیاری میں بہت سارے چیلنجز تھے لیکن ان کا مقابلہ کیا گیا۔

    وزیر اعظم مودی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ فرنٹ لائن ورکرز کے ویکسینیشن پروگرام کی حکمت عملی کی وجہ سے دوسری لہر کے دوران زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک میں صحت کے 90 فیصد کارکنوں نے اس ویکسین کی پہلی خوراک لی ہے۔ ویکسین نے زیادہ تر ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انھوں نے کہا کہ ’ویکسین حفاظت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تیزی سے یہ ویکسین فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

    اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے بلیک فنگس انفیکشن کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو ضروری اقدامات کرنے اور اس کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے اضافی محنت کرنا ہوگی۔

    انھوں نے طبی عملے کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس لڑائی میں عام شہریوں کا اعتماد ایک بڑی طاقت ہے۔