پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی
پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دوسری جانب انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈھائی لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں مزید چار ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
لائیو کوریج
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گھر کو روشن اور ہوا دار رکھیں: سائنسدان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین حکومت کی ایک ایڈوائزری کے مطابق ایرسولز ہوا میں دس میٹر تک سفر کر سکتے ہیں لہٰذا قدرتی روشنی کو اندر آنے کا موقع دیجئے تا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس ایڈوائزری کے مطابق کمروں کی مناسب وینٹی لیشن ضروری ہے۔
ہوا دار اور روشن کمروں میں اس وائرس کے جگہ بنانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ ایڈوائزری انڈین حکومت کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے آفس سے جاری کی گئی ہے۔ اس ایڈوائزری کے مطابق اس وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کو آپ کچھ عام اقدامات اٹھا کر بھی کم کر سکتے ہیں۔
اس سائنسی ایڈوائزری کے مطابق اگر کمرے میں ہوا کے داخلے کا اچھا اور مناسب انتظام کیا گیا ہو تو اس سے وائرس کے ایک سے دوسرے شخص تک پھیلاؤ کے امکانات انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔
کمروں کو کھلے رکھنے سے کھڑکیاں اور دروازوں کو بھی کھلا رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا میں کورونا وائرس سے کم از کم ایک ہزار ڈاکٹرز ہلاک ہوئے: انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن
،تصویر کا ذریعہDr Sandeep Dogra
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نامی ڈاکٹروں کی ایک قومی سطح کی جماعت نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے دوران کم از کم ایک ہزار ڈاکٹرز ہلاک ہوئے ہیں۔ انڈیا میں ڈاکٹرز کی تنظیم کے مطابق کم از کم 329 ڈاکٹروں کی موت وبا کی دوسری لہر کے دوران ہوئی ہے۔
اس کے مطابق سب سے زیادہ اموات مشرقی ریاست بہار میں ہوئی ہے جن کی تعداد 80 بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد دارالحکومت نیو دہلی ہے جہاں کل 73 ڈاکٹرز اس وائرس سے ہلاک ہوئے۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جے اے جئےلال نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اموات کی ایک بڑی وجہ مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہے، جس سے ہسپتال کے ’وائرل لوڈ‘ میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں کام کرنے والے اس کے منفی اثرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ ڈاکٹروں کو ’فرنٹ لائن ورکرز‘ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر جئےلال کے مطابق ان میں سے تقریبا 25-30 فیصد کو ابھی تک ویکسین کی دونوں خوراکیں نہیں ملی ہے۔
تاہم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے صرف چند ڈاکٹرز کو ہی ویکسین کے دونوں خوراکیں ملی تھی۔
ڈاکٹر جئےلال نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ اموات انڈیا میں صحت کے حلقے میں کام کرنے والے افراد کی کمی کے وجہ سے بھی ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اضافی گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
انڈیا میں ڈاکٹرز اس وبا سے بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعد 20,089 ہو گئی ہے۔ ملک میں اس وقت کورونا کسیز کی فعال تک 63 ہزار سے زائد ہے۔
پاکستان میں 893,461 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ 810,143 افراد اس وائرس سے مکمل طور پر صحتیاب ہوئے ہیں۔ اس وقت تشویشناک حالت میں مریضوں کی تعداد 4,424 بنتی ہے۔
پاکستان میں 30 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا کل سے آغاز
پاکستان کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے سے متعلق ادارے این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کل سے 30 سال اور اس کے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اسد عمر نے اپنے ایک ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ کل یعنی سنیچر سے ویکسینیشن کے شیڈول سے متعلق میسیجز موصول ہونا شروع ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں 40 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا عمل جاری تھا۔
پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح چھ فیصد سے کم ہو گئی, پاکستان میں ایس او پیز میں نرمی کا اعلان، ماہرین صحت کی مخالفت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں مزید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا کی تشخیص کے لیے 51528 ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 3070 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ یعنی مثبت آنے کی شرح 5.95 فیصد ہو گئی ہے۔ ملک میں اس وائرس سے ایک دن میں مزید 102 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت اس وائرس کے متاثر ہونے والوں کی فعال تعداد 63229 بنتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں ایس او پیز میں نرمی کا اعلان
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کے تجارتی سرگرمیوں، اسکولوں، دفاتر اور دیگر کام کی جگہوں پر کووڈ 19 سے متعلقہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کی مخالفت کردی۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلقہ پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ 'عجلت کا فیصلہ عید کی تعطیلات کے بعد بڑھتے ہوئے کیسز تعداد کے پیش نظر کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کی طرف لے جاسکتا ہے'۔
برطانیہ کیسے انڈین قسم کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہا؟
بی بی سی کو ایک ایسی رپورٹ تک رسائی ملی ہے جس کے مطابق برطانیہ میں ٹیسٹ اور ٹریس سسٹم میں جزوی طور پر ناکامی سے ملک کے ایک انتہائی متاثرہ علاقے میں کورونا وائرس کی انڈین قسم پھیلی۔
اپریل اور مئی کے تین ہفتوں تک برطانیہ میں آٹھ مقامی اتھارٹیز کو اپنے علاقوں میں اس وائرس کے متاثرین کا مکمل ڈیٹا تک رسائی ہی حاصل نہیں کر سکیں۔
بلیک بران، ڈارون اور لنکا شائر میں ایسے متاثرین کی تعداد زیادہ تھی جو ریکارڈ پر نہیں تھی۔
ان علاقوں میں وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو انڈین وائرس کی لہر سے جوڑا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے سافٹ ویئر میں کچھ مسائل کی وجہ سے کچھ محدود جگہیں متاثر ہوئیں مگر اس مسئلے کو جلد ہی حل بھی کر دیا گیا تھا۔
برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں کس قسم کی نرمی لائی گئی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی ہے۔ اب لوگ باہر 30 تک کے گروپ میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ اب چھ لوگ یا دو خاندان ایک دوسرے سے کسی بھی جگہ اندر مل سکتے ہیں اور وہ کسی ایک جگہ پر رات بھی بسر کر سکتے ہیں۔
اب 30 تک افراد کو شادی سمیت ہر قسم کی تقریب میں شرکت کی اجازت ہو گی۔
اب مرنے والوں کی آخری رسومات میں زیادہ لوگوں کی شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ مگر جگہ کے حساب سے لوگ ایسی رسومات میں شرکت کر سکیں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے کے بعد سماجی فاصلے سے متعلق بھی سختی ختم کر دی گئی ہے۔ اب دوستوں اور خاندان والوں سے ملتے ہوئے خود ہی سماجی فاصلے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا۔ تاہم حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ لوگ قریبی میل جول کرتے ہوئے محتاط رہیں اور خاص طور پر گلے وغیرہ ملنے سے گریز کریں تو بہتر ہے۔
تفریح بھی کر سکتے ہیں
پب، بار، کیفے اور ریستوران کو اب لوگوں کو اندر بھی بٹھانے کی اجازت مل گئی ہے۔ اب میوزیم، سینما اور بچوں کے کھیل کی جگہ بھی کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔
تھیٹر، کنسرٹ ہالز، کانفرنس سینٹرز اور کھیل کے سٹیڈیمز بھی کھلے رہیں گے۔
بلیک فنگس کو وبائی مرض کا درجہ دیا جائے: انڈین وزارت صحت کا ریاستوں کو خط, انڈیا میں سامنے آنے والا انفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کو کیسے اپاہج بنا رہا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر صحت نے تمام ریاستوں پر زور دیا ہے کہ بلیک فنگس
انفیکشن کو وبائی امراض سے متعلق ایک قانون کے تحت باقاعدہ ایک مرض قرار دیا جائے۔
وزارت صحت نے وفاق کے زیر انتظام تمام علاقوں کو اپنے ایک حالیہ خط میں لکھا ہے کہ انڈیا کی کئی
ریاستوں میں میوکورمائیکوسز کا فنگس انفیکشن کی شکل میں ایک نیا چیلنج
ابھر کر سامنے آیا ہے۔
اس کی تشخیص ایسے مریضوں میں زیادہ ہو رہی ہے جنھیں دوران علاج
سٹیروائزڈ دیے گئے اور ان کا شوگر لیول بھی کنٹرول سے باہر رہا ہو۔
وزارت صحت کے مطابق اس انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے
اضافہ ہو رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی کے دوسرے ہفتے کی ایک صبح ممبئی میں مقیم آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر
اکشے نائر ایک 25 سالہ خاتون کا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ خاتون تین
ہفتے قبل ہی کووڈ 19 سے صحتیاب ہوئی تھیں۔
میوکورمائیکوسز ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے۔ یہ
انفیکشن ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
انڈیا میں جہاں کووڈ 19 کی تباہ کُن دوسری لہر جاری ہے، وہیں
ڈاکٹروں کی جانب سے اس نایاب فنگس جسے 'بلیک فنگس' بھی کہا جاتا ہے کے کیسز کووڈ
کے مریضوں یا اس سے صحتیاب ہونے والوں میں تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔
رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔
ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق کیسز کی تعداد سرکاری سطح پر بتائے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو انڈیا میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے پیش نظر اتنی حیران کن بات نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میوکورمائیکوسز کیا ہے؟
میوکورمائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی،
پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپپوندی سے پھیلتا
ہے۔
ممبئی میں آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر کہتے ہیں کہ ’یہ ہر جگہ
پایا جاتا ہے، مٹی میں، ہوا میں یہاں تک کہ صحت مند لوگوں کے ناک میں بھی ہوتا ہے۔‘
یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور
ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ
ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ میوکورمائیکوسز کے کیسز میں تیزی اس لیے آ
رہی ہے کیوںکہ کووڈ کے مریضوں میں سٹیرائڈز کا بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
میوکورمائیکوسز انفیکشن میں مبتلا تقریباً 50 فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
سٹیرائڈز پھیپھڑوں میں سوجن کم کرتے ہیں اور کووڈ کی وجہ سے مریض
کا مدافعاتی نظام کیونکہ بہت تیزی سے چل رہا ہوتا ہے اور آپ کو نقصان پہنچانے لگتا
ہے تو وہ اسے نظام کو بھی روکتے ہیں۔
مگر سٹیرائڈز کی وجہ سے قوتِ مدافعت کم ہونے لگتی ہے اور مریضوں کے
خون میں شوگر کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ قوتِ مدافعت میں یہ کمی
میوکورمائیکوسز کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں 102 اموات، انڈیا میں چار ہزار سے زائد ہلاک
،تصویر کا ذریعہChandan Chaudhry
پاکستان میں گذشتہ 24 گھپنٹوں میں کورونا وائرس سے 102 افراد ہلاک
ہوئے ہیں جبکہ 3070 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 4208
افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید دو لاکھ 59 ہزار 135 افراد میں اس وائرس کی تشخیص
ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو کے کووڈ 19 کی خبروں سے متعلق خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی اردو کے کووڈ 19 کی خبروں سے متعلق خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔ اس پیج پر آپ پاکستان سمیت دنیا بھر سے کورونا وائرس سے متعلق خبریں دیکھ سکیں گے۔
اس حوالے سے اس سے قبل سامنے آنے والی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔