نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, ’ہم یہ انتخاب جیتنے والے ہیں‘ جو بائیڈن
،تصویر کا ذریعہReuters
جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ابھی تک مکمل نتائج نہیں ملے لیکن ہم واضح اکثریت سے اس ریس (انتخاب) کو جیتنے والے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم 300 سے زیادہ الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔‘
بائیڈن کا کہنا تھا ’ہم نے 74 ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں، اور امریکہ کی تاریخ میں آج تک کسی صدارتی امیدوار کو اتنے ووٹ نہیں ملے۔‘
پینسلوینیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کو 27 ہزار ووٹوں کی برتری، بائیڈن کا خطاب متوقع
ریاست پنسلوینیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کو ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر 27 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہو گئی ہے جس کے تناظر میں ویلیمٹن، ڈیلویئر سے ان کا خطاب متوقع ہے۔
الیگینی کاؤنٹی میں بذریعہ ڈاک موصول ہونے ووٹوں کی گنتی کے بعد جو بائیڈن اس ریاست سے 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے بعد وہ امریکی صدر بن سکتے ہیں۔
ریاست ایریزونا نے صدر ٹرمپ کے ’انتخابی فراڈ‘ کے دعوے مسترد کر دیے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کے حامی ایریزونا کے شہر فینکس میں انتخابی مرکز کے باہر کئی دن سے موجود ہیں
ریاست ایریزونا کی اعلیٰ ترین انتخابی عہدیدار کیٹی ہوبز نے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ کئی ووٹوں کی گنتی ہفتے کے اختتام تک نہیں ہو سکے گی تاہم کاؤنٹیز جلد سے جلد اور مستند ترین نتائج دینے کے لیے انتھک کام کر رہی ہیں۔
یہ بات انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں کہی۔
یاد رہے کہ ایریزونا پر صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج کے حوالے سے نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔
جب اُن سے صدر ٹرمپ کی جانب سے ’انتخابی فراڈ‘ کے دعووں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’بالکل کسی بھی طرح کی بے ضابطگیاں‘ نہیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے سی این این کو بتایا: ’اگر کوئی بھی اس کے برخلاف دعویٰ کرتا ہے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔‘
جارجیا میں بائیڈن کو حاصل برتری میں اضافہ ہوگیا
،تصویر کا ذریعہEPA
جارجیا سے آنے والے نئے نتائج کے مطابق بائیڈن اب اس ریاست میں ٹرمپ سے 4200 ووٹ سے بھی زیادہ مارجن کی برتری رکھتے ہیں۔
لیکن ہم ابھی بھی جارجیا میں حتمی نتیجے کے قریب نہیں پہنچے ہیں کیونکہ ہزاروں فوجی ووٹوں کو اب بھی گنا جا سکتا ہے اگر وہ جمعے کے اختتام سے پہلے پہلے تک حکام کو موصول ہوجائیں اور اُن پر ڈاک خانے کی تین نومبر کی مہر لگی ہو۔
ریاستی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 16 الیکٹورل ووٹوں کی حامل اس ریاست میں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے عملے کے اہلکار ’کام پر نہیں آ رہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ انتظامیہ کے کئی افسران نے بی بی سی نیوز کے امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں آج فضا بوجھل سی ہے۔
سی بی ایس نیوز کا کہنا ہے کہ صدر کے عملے کے کئی اہلکار آج کام پر نہیں آئے ہیں اور ماحول ’کافی خالی خالی‘ سا ہے۔
وہاں موجود ہماری اپنی رپورٹر ٹارا میک کیلوی کا تجربہ بھی کچھ مختلف نہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’زیادہ تر ڈیسکس خالی ہیں۔ کافی بھیانک سا محسوس ہو رہا ہے۔ عملے کے کچھ ارکان وائٹ ہاؤس کے باہر ہیں، اور اپنے موبائل فونز پر باتیں کرتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔
لیکن دن کے کچھ حصے تک صدر اوول آفس میں ضرور تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ویسٹ ونگ کے باہر امریکی میرین کا گارڈ موجود تھا۔
چنانچہ صدر ٹرمپ خود کام پر آئے ہیں۔
ویسے تو وہ حالیہ دنوں میں ٹویٹس کیے جا رہے ہیں اور اپنا دوبارہ انتخاب یقینی بنانے کے لیے قانونی چیلنجز کا عزم دہرا رہے ہیں، مگر ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ شاید آج قوم سے ایک اور خطاب کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اگر آج بائیڈن نے خطاب کیا تو وہ بھی خطاب کریں گے۔
یاد رہے کہ بائیڈن کی انتخابی ٹیم نے عندیہ دیا ہے کہ بائیڈن آج رات خطاب کریں گے۔
کیا جارجیا میں امریکی فوج ٹرمپ کو بچا پائے گی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جارجیا میں فوجی اہلکاروں کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجنے کی ڈیڈلائن جمعے کے اختتام (اب سے کچھ گھنٹے بعد) تک کی ہے اور کچھ ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکی سپاہیوں کے ووٹ اس ریاست میں پانسہ پلٹ سکتے ہیں؟
بی بی سی کے پاس موجود ڈیٹا کے مطابق بائیڈن اس وقت جارجیا میں ٹرمپ پر صرف 1603 ووٹوں کی برتری رکھتے ہیں۔
جارجیا کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کے 8890 پوسٹل ووٹ اب بھی موصول ہونے باقی ہیں۔
اگر انھیں تین نومبر کو ڈاک کے حوالے کیا گیا تھا مگر وہ جلد نہیں پہنچے تو انھیں نہیں گنا جائے گا۔
انتخابی ماہرین کے مطابق فوجی ووٹ روایتی طور پر رپبلیکنز کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں مگر ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوجی قیادت کے ساتھ تصادم نے افسران اور اہلکاروں میں سے ہوسکتا ہے کہ کچھ کو مایوس کیا ہو۔
اپنے سابق ساتھیوں اور جنرلوں جم میٹِس اور جون کیلی، اور جان مک کین پر ٹرمپ کے حملے انھیں کچھ فوجی ووٹوں سے دور کر سکتے ہیں۔
کئی خواتین اور اقلیتیں بھی حالیہ سالوں میں فوج میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں اور اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ وہ کسی رپبلیکن امیدوار کی حمایت کریں گے۔
لیکن کچھ بھی ہو، ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ گنتی کروائیں گے کیونکہ ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان مارجن بہت کم ہے۔
اس موقع پر ایک بات تو واضح ہے کہ ریاست جارجیا اگلے کئی ہفتوں تک کڑے مقابلے کا مرکز رہے گی۔
رکیں، کیا جو بائیڈن انتخاب جیت چکے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ اس حوالے سے الجھن کے شکار ہیں تو یہ قابلِ فہم ہے۔
امریکہ میں کوئی قومی انتخابی ادارہ نہیں ہے جو انتخابی نتائج کا اعلان کرے اور یاد رکھیں کہ امریکی صدارتی انتخاب ایسے ہے جیسے پورے ملک میں 50 مختلف انتخابات ہو رہے ہوں۔
ہر امیدوار کو فتح کے لیے 270 الیکٹورل کالج ووٹ درکار ہیں جو کہ ریاستیں جیتنے سے حاصل ہوتے ہیں، زیادہ تعداد میں عوامی ووٹ حاصل کرنے سے نہیں۔
کسی قومی انتخابی نظام کی عدم موجودگی میں امریکی عام طور پر بڑے میڈیا اداروں کی ’ڈیسیژن ڈیسک‘ یعنی فیصلہ سنانے والی ڈیسک کی جانب سے کسی ریاست میں کسی مخصوص امیدوار کی فتح کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں۔
میڈیا ادارے یہ فیصلہ ووٹ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سناتے ہیں اور اس لیے ہر کسی کا انتخابی نقشہ مختلف نظر آتا ہے۔
آج ایک انتخابی تجزیاتی گروپ ڈیسیژن ڈیسک ایچ کیو نے جو بائیڈن کی پینسلوینیا میں فتح متوقع قرار دے کر انھیں فاتح قرار دے دیا۔
اس تجزیاتی گروپ کی معلومات کا استعمال کرنے والے میڈیا ادارے مثلاً ووکس اور بزنس انسائیڈر نے اپنی خبروں کی بنیاد اسی پر رکھی ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس اور فاکس نیوز نے پہلے ہی جو بائیڈن کی ایریزونا میں فتح متوقع قرار دے دی ہے جس کی وجہ سے یہ میڈیا ادارے بائیڈن کو 264 الیکٹورل ووٹس کا حامل قرار دے رہے ہیں جبکہ بی بی سی اب بھی بائیڈن کے لیے 253 کا عدد رپورٹ کر رہا ہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
بی بی سی میں ہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے ذریعے ایڈیسن ریسرچ کا ڈیٹا استعمال کر رہے ہیں اور امریکہ میں ہمارا پارٹنر سی بی ایس نیوز بھی یہی کر رہا ہے۔
ہم نے اب تک پینسلوینیا اور ایریزونا میں کسی کو متوقع فاتح قرار نہیں دیا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک ایسا کرنا بہت قبل از وقت ہوگا۔
ایک چیز بہرحال واضح ہے، اور وہ یہ کہ بائیڈن فی الوقت اچھی پوزیشن میں ہیں اور ٹرمپ پر ان کی برتری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مگر کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
اس وقت ہم آپ سے صرف یہی کہہ سکتے ہیں: انتظار فرمائیے۔
یہ ایک الیکشن نہیں، پورے انتخابی عمل کی ساکھ کا سوال ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ ’امریکی عوام کا حق ہے کہ انھیں ووٹوں کی گنتی اور ان کی تصدیق کے عمل کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ ایک الیکشن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہمارے پورے انتخابی نظام کی ساکھ کا سوال ہے۔‘
بیان میں ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس ’بنیادی اصول‘ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ تمام قانونی بیلٹ گنے جانے چاہییں اور کوئی غیر قانونی بیلٹ نہیں گنا جانا چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے صدر ٹرمپ ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
’میں آپ کے لیے اور ہماری قوم کے لیے لڑائی جاری رکھوں گا۔‘
صدر ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کے دن کے بعد وصول ہونے والے بیلٹ کو گننا غیر قانونی ہے۔
لیکن امریکہ کی آدھی سے زیادہ ریاستوں میں دیر سے وصول ہونے والے بیلٹ جو تین نومبر (الیکشن کے دن) سے پہلے بھیجے گئے تھے، گنے جا سکتے ہیں۔ ان میں پنسلوینیا، نیواڈا اور شمالی کیرولائنا کی انتخابی طور پر اہم ریاستیں شامل ہیں۔
امریکی صدر نے انتخابی فراڈ کے کئی الزام لگائے ہیں جنھیں مقامی انتخابی اہلکار مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان الزامات کے حق میں صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
ٹرمپ کے دھاندلی کے الزام پر مٹ رومنی کی تنقید
ریاست یوٹا کے سینیٹر مٹ رومنی بھی اب ان ریپبلکن لیڈروں میں شامل ہو گیے ہیں جنھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ رات الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر تنقید کی ہے۔
مٹ رومنی جو کہ خود بھی ایک مرتبہ صدارتی امیدوار تھے اور براک اوباما کے خلاف الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ امریکی صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے الزامات لگانے سے دنیا بھر میں آزادی کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, بائیڈن آج شام امریکی عوام سے خطاب کریں گے
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جو بائیڈن آج شام امریکی عوام سے خطاب کریں گے جو کہ مقامی طور پر پرائم ٹائم میں ہوگا۔ یہ اب سے تقریباً پانچ گھنٹے بعد کا وقت ہے۔ تاہم اس کا فیصلہ نتائج کے اس وقت تک اعلان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
کس کو جیتنے کے لیے کون کون سی ریاستیں درکار ہیں؟
بریکنگ, نواڈا میں بھی بائیڈن کی برتری میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست نواڈا میں بائیڈن کی ٹرمپ پر برتری تقریباً 22000 ووٹوں کی ہے۔
اب تک تقریباً 91 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور کل ووٹوں میں سے تقریباً76 فیصد ڈاک کے ذریعے آئے تھے۔
نواڈا ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے جس نے ہر اندراج شدہ ووٹر کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے بیلٹ پیپر بھیجے تھے۔
انتخاب سے پہلے صدر ٹرمپ نے اس اقدام پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس دھاندلی کا امکان بڑھ جائے گا۔
محققین کو اب تک کسی بڑے پیمانے پر دھاندلی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: کیا نئے صدر کا تعین عدالتیں کریں گی؟
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن بظاہر انتخابات میں کامیابی کی راہ پر ہیں لیکن ان کے حریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ چار ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کیا ہو سکتا ہے؟ پڑھیے اس تحریر میں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images/EPA
بریکنگ, ایریزونا میں جو بائیڈن کی برتری میں کمی
گذشتہ روز کے مقابلے میں ریاست ایریزونا میں صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ووٹوں کی تعداد میں قرق کم ہوا ہے اور بائیڈن کی برتری میں کمی آئی ہے۔
اس وقت ان کی برتری 43570 ووٹوں کی ہے جبکہ کل تک یہ برتری 47000 سے زیادہ ووٹوں کی تھی۔
ریاست کی سب سے بڑی کاؤنٹی ماریکوپا کاؤنٹی میں ابھی بھی گنتی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں 20 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گیے جو کہ کاؤنٹی کی کل آبادی کا 75 فیصد ہے۔ کاؤنٹی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی بھی 142000 ووٹوں کو گننا ہے۔
دیگر خبر رساں اداروں نے ایریزونا میں بائیڈن کی کامیابی کی پیش گوئی کر دی ہے تاہم بی بی سی کی رائے میں ایسا کرنا قبل از وقت ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, امریکی ریاست جارجیا میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہو گی
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی ریاست جارجیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں امریکی صدارتی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے گی۔
براڈ ریفنزبرگر کا کہنا تھا کہ ریاست میں 4169 ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے جبکہ فوجی افسران کی طرف سے بذریعہ ڈاک بھیجے گئے تقریباً آٹھ ہزار ووٹ اب بھی ڈاک میں ہیں اور انھیں صرف اس صورت میں گنا جائے گا اگر وہ آج دن کے اختتام سے قبل موصول ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جارجیا میں دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ چل رہا ہے اور برتری کا فرق بہت معمولی ہے اور ’اس معمولی فرق کے باعث ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہو گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بے شک صدارتی انتخاب میں ہماری ریاست کے نتائج میں دلچپسی ریاست سے باہر کے عوام میں بھی ہے اور ایسے وقت میں ووٹوں کی حتمی گنتی پورے ملک پر بہت اثرات مرتب کرے گی۔‘
ریفنزبرگر کے معاون گیبریل سٹرلنگ کا کہنا تھا کہ ہم ایک ہائی سکول میں ہونے والے انتخاب سے بھی کم برتری دیکھ رہے ہیں۔
سٹرلنگ جنھوں نے ریاست میں ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کی تھی کا مزید کہنا تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی وجہ انتہائی معمولی برتری ہے اور انھوں نے ووٹنگ کے عمل اور گنتی کے دوران بڑی پیمانے پر ایسی کوئی بے ضابطگیاں نہیں دیکھی ہیں جو دھاندلی کی جانب اشارہ کریں۔
امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: جیتنے والے کو کن مسائل کا سامنا ہوگا؟
امریکی صدارتی انتخاب جو کوئی بھی جیتے، انھیں اپنی صدارت کے دوران کن مسئلوں کا سامنا ہوگا؟ جاننے کے لیے یہ رپورٹ دیکھیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, ”الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا!‘‘
ریاست پینسلوینیا میں جو بائیڈن کی بڑھتی ہویی برتری سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا!‘
اگر جو بائیڈن پنسلوینیا جیت جاتے ہیں تو وہ صدارتی انتخاب میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے جیتنے کی ”غلط‘‘ پیش گوئی ان چار ریاستوں کے نتائج کی بنیاد پر کی جا رہی ہے جو کہ ابھی فائنل ہونے سے بہت دور ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, پنسلوینا میں جو بائیڈن کی برتری بڑھنے لگی
ریاست پنسلوینا کے حکام نے ابھی تازہ ترین گنتی کا اعلان کیا ہے اور جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر 5587 ووٹوں کی برتری ہے جبکہ 95 فیصد حلقوں سے نتائج آئے ہیں۔
اگر جو بائیڈن یہ ریاست جیت جاتے ہیں تو انھیں صدارت کے لیے درکار 270 ووٹ مل جائیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکہ کا صدارتی انتخاب 2020: ایک موچی کا بیٹا جو امریکہ کا صدر بنا
اگرچہ ابھی امریکہ کے 46ویں صدر کا انتخاب ہونا باقی ہے تاہم کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ آج سے ٹھیک 160 سال قبل یعنی چھ نومبر 1860 کو ابراہم لنکن امریکہ کے 16ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔ ابراہم لنکن کو امریکہ کے غریب ترین صدور میں سے ایک مانا جاتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ماہرین اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی ریاستوں جارجیہ اور ایریزونا میں پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت جو بائیڈن دونوں ریاستوں میں برتری رکھتے ہیں تاہم ابھی دونوں ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں گذشتہ چند انتخابات میں ریپبلکن امیدوار کامیاب رہے تھے۔
ٹرمپ نے کئی بار ایریزونا کے مرحوم سینیٹر جان مکین پر تنقید کی تھی اور اس بات پر سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا انھیں ایک جنگی ہیرو تصور کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ ویتنام کی جنگ میں جنگی قیشی بنے تھے۔
ادھر ٹرمپ نے جارجیا میں مرحوم کانگریس مین اور امریکہ میں شہری حقوق کے لیے کئی دہائیوں کی محنت کرنے والے جان لوئس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ 2017 میں جب جان لوئس نے ٹرمپ کی صدارتی وراثت کے بارے میں بات کی تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ جان لوئس کو اپنے ووٹروں کی فکر کرنی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔